Posts

Showing posts from December, 2020

پاکستان مذہبی تعصب اور تنگ نظری کا شکار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایک ہندو سنت کی سمادھی کو نذر آتش کر دینے کا واقع محض ایک واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی سماج میں بڑھ رہی مذہبی تنگ نظری، تعصب اور منافرت کی ایک مثال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قائدین کی مفاد پرستی اور نفرت پر مبنی پالیسیوں نے پاکستان کو غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ایک جہنّم بنا دیا ہے۔ پاکستان اس وقت کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے جو پاکستانی فوج یا پھر وہاں کی سیاسی قیادت کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کی کیا شبیہ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔حالات یہ ہیں کہ عالمی برادری میں پاکستان اپنی وقعت اور وقار گنوا چکا ہے۔امریکہ جیسا پاکستان کا دوست پاکستان سے آنکھیں پھیر چکا ہے۔افغانستان اپنے یہاں کے حالات کے لیے بجا طور پر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔بھارت سے پاکستان کے تلخ اور کشیدہ رشتوں کے لیے بھی پاکستان کے دہشت گرد عناصر ہی ذمہ دار ہیں اور یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ان عناصر کی پشت پناہی پاکستان کی حکومت اور فوج کرتی رہی ہے۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔سابق امریکی صدر براک اوبامہ اپنی حال ہی میں شائع ایک کتاب میں اس کا ذک...

طالبان کو بدستور اپنے مفاد کےلئے استعمال کر رہا ہے پاکستان

افغانستان کے داخلی معاملات میں پاکستان کی دخل اندازیاں جاری ہیں جن کی وجہ سے افغان مذاکرات کے ذریعہ وہاں امن بحال کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں اور وہاں کی سیاسی اور سماجی زندگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان سے بدستور نالاں ہے اور پاکستان سے مانگ کر رہی ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔ افغان معاملوں میں پاکستان کی بے جا مداخلت کا تازہ ترین ثبوت طالبان کے ڈپٹی پولیٹیکل لیڈر عبد الغنی برادر کا دورۂ پاکستان ہے جو انہوں نے قطر میں جاری امن مذاکرات کے دوران دیے گئے وقفے کے بیچ گزشتہ ہفتے کیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو فوٹیج میں وہ زخمی طالبان جنگجوؤں سے ملتےہوئے نظر آرہے ہیں جن کا علاج کراچی میں چل رہا ہے۔ اسی ویڈیو میں برادر یہ کہتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں کہ ان کی طرف سےامن مذاکرات میں ہونے والے تمام فیصلے پاکستان میں موجود طالبان کی شوریٰ اور علماء کونسل سے صلاح و مشورے کے بعد ہی طے پائیں گے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مزید ایک ویڈیو میں امن مذاکرات میں حصّہ لے رہے ایک دیگر طالبان لیڈر ملا فضل اخوند پاکستانی ٹریننگ کیمپ میں تربی...

د امریکا متحده ایالاتو ولسمشر ډونالډ ټرمپ د کورونا ویروس د مرستې او مصرف کڅوړه قانون کې لاسلیک کړ: 

نئے سال کی آمد آمد ہے اور دنیا اپنی تمام تر توانائی اور زندگی کے ساتھ نئے سال میں قدم رکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔انفرادی اور اجتماعی سطح پر وبا کے اثرات سے محفوظ رہنے کےلئے سب اپنے اپنے طور پر کوشاں ہیں۔ کئی ممالک ویکسین حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ مسئلہ تیسری دنیا کے ممالک کا ہے جہاں وسائل اس حد تک میسر نہیں جتنی ضرورت اس وقت ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ عالمی ادارے اور تنظیمیں اس آفت سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لئے متحد ہو کر کوئی لائحہ عمل تیار کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گی۔ قدرتی آفات اور وبا کی لائی ہوئی تباہی ایک طرف تو دوسری طرف وہ بربادی ہے جو خود پاکستان اپنے لئے طے کر رہا ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ لاہور جلسے پر تمام ہو چکا ہے۔ کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے روکنے کی تمام تر کوششیں کی گئیں۔ میڈیا مالکان کو سخت ہدایت تھی کہ جلسہ کو ناکام دکھایا جائے۔ میر شکیل الرحمان کی طویل حراست اور صحافیوں کی لگاتار گمشدگی کے واقعات اور دھمکیوں نے اپنا اثر دکھایا۔ اب حکومت کو اکتیس جنوری تک عہدہ چھوڑنے کا الٹی میٹم تحریک کی جانب سے دیا جا چکا ہے۔...

اپوزیشن کے حملوں سے ناراض فوج کا بچاؤ کرنے میں عمران پیش پیش

پاکستان میں گیارہ سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نے فوج اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپنی مہم تیز کردی ہے۔ مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی ریلیوں اور جلسوں میں بڑے پیمانے پر عوام کی شرکت نے نہ صرف فوج کو گھبراہٹ میں مبتلا کردیا ہے بلکہ عمران خان بھی پریشان ہواٹھے ہیں۔ فوج پر لگاتار یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے جمہوریت کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے تو دوسری طرف موجودہ وزیراعظم، اپوزیشن کے حملوں کی زد میں اس لئے آرہے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعہ فوج نے عمران خان کو پلانٹ کیا ہے۔ اپوزیشن کےجلسوں میں اس الزام کو کلیدی نقطے کے طور پر اٹھایا جارہا ہے۔ یہ صورتحال اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ فوج کی مداخلت کا ذکر تو ضرور ہوتا تھا لیکن عوامی سطح پر کبھی اس طرح کی تحریک نہیں چلائی گئی تھی۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کا ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ اب عمران خان باقاعدہ فوج کی مدافعت میں اس طور پر سامنے آئے ہیں کہ وہ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اپوزیشن کا الزام غلط ہے اور یہ کہ فوج ریاست کے ایک اہم ادارے کے ط...

نیپال میں سیاسی اتھل پتھل

نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے پارلیمنٹ کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے تقریباً دو سال قبل ہی اسے تحلیل کرنے کی سفارش کردی۔ ان کے اس اقدام سے ملک میں سیاسی بحران سا پیدا ہوگیا ہے۔ دراصل حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کا ناراض گروپ جس کی قیادت پارٹی کے ایگزیکٹیو چیئرمین اور سابق وزیراعظم پشپ کمل دہل کررہے ہیں، وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہا تھا۔ اس کا الزام ہے کہ جناب اولی کا کام کرنے کا انداز آمرانہ ہے۔ وہ ایک ڈکٹیٹر کی طرح سے کام کرتے ہیں۔ ان کی قیادت میں بدانتظامی اور بدعنوانی اپنے شباب پر ہے۔ وہ کووڈ-19 جیسی عالمی وبا کا بھی مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کرسکے۔ اپنی کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ کے بعد جناب اولی نے صدر بدیادیوی بھنڈاری سے ایوان نمائندگان کو تحلیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے آئندہ سال 30 اپریل اور دس مئی کو تازہ پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ صدر بدیادیوی نے بھی اس سفارش اور تازہ انتخابات کی تجویز کو منظوری دیدی ہے۔ کابینہ کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دہل اور مادھو نیپال دھڑے سے تعلق رکھنے والے سات وزراء نے استعفیٰ دےدیا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے...

موضوع: ہندوستان کا خلائی پروگرام نئی بلندیوں کی جانب گامزن

ہندوستان کی خلائی تحقیق تنظیم اِسرو نے حال ہی میں اپنا مواصلاتی سیارچہ سی ایم ایس زیرو ون خلاءمیں چھوڑا تھا، جو اب آخری مدار میں پہنچ چکا ہے ۔یہ سیارچہ ہندوستان کا 42واں مواصلاتی سیارچہ ہے، جو 2011میں چھوڑے گئے جی سیٹ۔ بارہ کی جگہ لے گا۔ یہ سات سال سے زیادہ مدار میں رہے گا، جہاں سے وہ ای لرننگ (e-learning)، ٹیلی ہیلتھ اور ڈیزازسٹر(Disaster) مینجمنٹ خدمات کیلئے کنیکٹویٹی فراہم کرے گا۔ اس سیارچہ کو پولرسٹیلائٹ لانچ وہیکل کے ذریعہ مدار میں قائم کیا گیا ہے، جسے اِسرو نے حال ہی میں آندھرا پردیش میں سری ہری کوٹہ سے دوسرے لانچ پیڈ سے خلاءمیں چھوڑا تھا۔ پی ایس ایل وی کی اُڑان کے تقریباً بیس منٹ بعد ہی سیارچہ کو آخری مدار میں پہنچا دیا گیا ۔ انسیٹ (INSAT) اور جی سیٹ(GSAT) سیریز کے بعد سی ایم ایس۔ زیرو ون ہندوستان کی نئی سیریز کے سیارچوں کا پہلا سیارچہ ہے۔ اِسرو کیلئے اس سال یہ تیسری لانچ تھی ۔ کووڈ انیس عالمی وبا کے باعث گگن یان، کی پہلی پرواز سمیت زیادہ تر مشنوں میں تاخیر ہوئی۔ وبا پھیلنے سے پہلے بھارت صرف جی سیٹ۔30کا مشن ہی مکمل کرسکا تھا۔ اسے اس سال جنوری میں فرنچ گویانہ (French Guiana) کے ...

طالبان اور جنوبی ایشیا کی سلامتی

سنہ 2020آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چند دنوں میں ہم 2021 کا سورج دیکھیں گے جس کا پوری دنیا کو بڑی بے چینی سے انتظار ہے۔ کورونا کی وبا نے ہماری زندگی سے ایک سال جیسے چھین ہی لیا ہے۔ امید کیجیے کہ یہ دنیا اگلے برس خوشی کے گیت گائے گی لیکن آگے کے سال جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لئے کیسے ہوں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں لی جا سکتی۔ پڑوسی ملک افغانستان جو ایک طویل عرصے سے تخریب و تشدد کا شکار رہا ہے وہاں کے حالات پر سلامتی امور کے ماہرین کو ایک بڑی فکر لا حق ہے اور یہ بے وجہ نہیں۔ افغانستان میں جاری قتل و خون کے ذمہ دار طالبان اور امریکہ کے درمیان فروری 2020میں دوحہ (قطر) میں جوامن معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق جنوری 2021 یعنی بس اگلے مہینے تک افغانستان میں امریکہ اپنے فوجیوں کی تعداد 4500 سے گھٹا کر 2500 کر دے گا۔ یہ ایک طرف ۔ دوسری طرف حکومت افغانستان نے طالبان سے امن بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے پانچ ہزار طالبانی قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے جس میں چار سو ایسے خطرناک طالبانی بھی شامل ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں اور جن کی رہائی سے اول اول حکومت افغانستان کترا ر...

دہشت گردی اور باہمی رشتوں پر پاکستان کی حقیقت منکشف

نیت اگر اچھی ہو، موقف اگر واضح ہو تو پھر قول و عمل میں تضاد نہیں ہوتا، اقتصادی کامیابیوں کے حصول میں دشواری پیش نہیں آتی، رشتوں کا استحکام خدشات کی نذر نہیں ہوتا لیکن پاک لیڈروں نے قول و عمل کے تضاد پر کبھی توجہ نہیں دی۔ بات دہشت گردی مخالف جنگ کی ہو یا کسی ملک سے رشتوں کے نباہ کی، پاک لیڈروں کا رویہ ہمیشہ ہی بہلانے والا رہا۔ یہ سمجھنے کے لیے وہ کبھی تیار نہیں ہوئے کہ جھوٹ کی بنیاد پر بہلانے کا کھیل زیادہ دنوں تک نہیں چلتا۔ ایک نہ ایک دن سچ کی روشنی جھوٹ کو عیاں کر دیتی ہے۔ دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کا دوہرا معیارعالمی برادری کے سامنے آ چکا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری پاکستان پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ ممالک جو ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا کرتے تھے، دہشت گردی پر دوہری پالیسی اور رشتوں کے تئیں پر خلوص نہ ہونے کی وجہ سے اس سے خوش نہیں ہیں۔ امریکہ کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دوری اختیار کرنے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی اقتصادیات کا پٹری پر آنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاک حکومت بظاہر سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرد مہری ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے ...

پاکستانی ایجنسیوں کی بیرون ملک تخریبی سرگرمیاں

پاکستانی فوج کا منفی وجوہات سے سرخیوں میں رہنا کوئی نئی بات نہیں۔ سابق امریکی صدر اوبامہ کی کتاب میں ان کا ذکر ہو یا خود اُن کے اپنے ، یعنی آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درّانی کی کتاب ، ہر جگہ یہ تاثر قائم ہوتا اور مستحکم ہوتا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت کسی کے ہاتھوں میں ہے تو وہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک یہ بات ڈھکے چھپے لفظوں میں کہی جاتی تھی لیکن پی ڈی ایم نے اپنی ریلیوں میں جس طرح اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، اس سے وہاں کا سیاسی منظرنامہ ہی تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ لوگوں میں فوج اور ایجنسیوں سے سوال کرنے کی جرأت بھی پیدا ہوتی جا رہی ہے خواہ اس کے لئے علی وزیر جیسے اور بھی کئی لوگوں کو قید وبند کی صعوبتیں ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔ بہت عرصہ نہیں گزرا جب پرویز مشرف نہایت فخر کے ساتھ فرماتے ہوئے پائے گئے تھے کہ غداروں کو ملک کے باہر بھی جینے نہیں دیا جائے گا۔ اب یہ غدار کون ہیں شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولتا یا لکھتا ہے وہ غدار، جو بنیادی انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھاتا ہے وہ غدار، یعنی جو بھی فوج کے بیانیے سے مختلف...

قرض کے بوجھ میں دبا پاکستان

پاکستان کی موجودہ حکومت کا طریقہ کار اور پالیسیاں اب پاکستانی عوام کے لئے مضر رساں ثابت ہو رہی ہیں۔پاکستانی عوام نے پچھلی حکومتوں کی بد عنوانیوں اور غلط پالیسیوں سے عاجز آ کر عمران خان کو موقع دیا تھا، لیکن عمران خان نے عوام کو مایوس ہی کیا ہے۔ پاکستانی عوام کو امید تھی کہ عمران خان ملک میں بدعنوانی ، مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے ، لیکن ایسا ہوانہیں ۔ بلکہ صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے۔پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہوگئی ہے اورملکی و غیر ملی قرضوں کے بوجھ کے سبب وہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیاہے۔در اصل پاکستان کا بیرونی قرض بدستور بڑھتا رہتا ہے اور اسے اپنے پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان در حقیقت قرض کے جال میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ پاکستان پر یوں تو بیرونی قرضوں کا بوجھ ہمیشہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیاہے۔ پچھلے دنوں پاکستانی میڈیا نے سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا تھا کہ موجودہ حکومت کے سوا 2 سال میں ملکی قرضہ 14 ہزار 922 ارب روپے بڑھ گیا، یہ مالی بوجھ جی ڈی پی کا...

پاکستان کے قومی مفادات پر فوج کا منفی اثر

پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت کا علم ہر کسی کو ہے۔ پاکستان کے عوام شاید اسے درست بھی سمجھتے رہے ہیں یا پھر انھیں یقین تھا کہ فوج عوامی اور قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ افواج پاکستان کو قریب سے جاننے والے لوگ فوجی قیادت کی ذہنیت سے واقف رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستانی عوام کے گلے میں محرومی کا طوق ڈالنے والی قوت کوئی اور نہیں بلکہ افواج پاکستان ہی ہے۔ تمام حقائق کے باوجود کچھ لوگ یہ بھی مانتے رہے ہیں کہ دنیا کی دیگر افواج کی طرح افواج پاکستان کے اندر بھی داخلی احتساب کا عمل ہوتا ہوگا۔ لیکن اب یہ حقیقت طشت از بام ہے کہ افواج پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص اعلی فوجی قیادت کو ان حقائق سے آگاہ کرنا بھی چاہے تو اسے ناپسندیدہ بلکہ اکثر اوقات مجرمانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے بیانات اور ان بیانات کے رد عمل میں انھیں ہراساں کیے جانے کے عمل کو اس معاملے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسد درانی کو یہ درد تب محسوس نہیں ہوا جب حسین حقانی اور ان جیسے لاتعداد لوگوں...

طالبان کی ٹیم پاکستان پہنچی، حکومت پاکستان سے قیام امن سے متعلق بات چیت

دوحہ میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا سلسلہ تو چل رہا ہے لیکن اندرون افغانستان بین افغان مذاکرات کے تعلق سے کنفیوژن کا ماحول برقرار ہے۔ ہفتہ دس روز پہلے یہ بات سننے میں آئی تھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے پر اتفاق رائے ہوا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ سیز فائر جیسے اہم معاملے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس بات کا خاصا چرچہ بھی تھا اور امریکی وزیر خارجہ تک نے افغانستان کے دونوں فریقوں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی تھی کہ افغانستان میں پائیدار نوعیت کے قیام امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا تھا۔ بہرحال اس بات کا چرچہ تو ہواتھا اور امیدیں بھی پیدا ہوئی تھیں لیکن افغانستان کی اندرونی صورت حال میں کسی بھی خوشگوار تبدیلی کے آثار نہیں نظر آے، بلکہ اس کے برعکس تشدد کے واقعات کے باعث تشویش اور زیادہ بڑھ گئی۔ اعلی سرکاری حکام اور سکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار نشانہ بند ہلاکتوں کے زد میں آرہے ہیں۔ دو ہی تین روز قبل کی بات ہے کہ عین کابل میں صوبۂ کابل کے ایک ڈپٹی گورنر اور ان کے ایک معاون بم کے ذریعہ ہلاک کرد...

چین کے سنکیانگ میں جبری مزدوری کی اسکیم

یہ امر ارتقا کے موجودہ مر حلے میں افسوسناک ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں آج بھی ا نسانی آزادی سلب اورغصب کرنےوالی قوتوںکا غلبہ نظر آتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے قومی، علاقائی اور عالمی ادارے اس صورتحال کو بدلنے کیلئے بساط بھر کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن ان کوششوں کو ابتک ایسی کامیابی نہیں ملی جو صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے ادراک و احساس کے باوجود یہ دنیا ظالم و مظلوم میں بٹی ہوئی ہے۔ اس میں معاشرتی طور پر رائج فرسودہ روایات و نظریات کے علاوہ بعض ایسی حکومتوں کا بھی عمل دخل ہے جو بظاہر طبقاتی نظام ختم کرنے کی زبانی دہائی تودیتی ہیں لیکن عملاً ان کا دامن داغدار ہے۔  دنیا ایسی ہی ایک نظیر چین کے صوبہ سنکیانگ میں دیکھ رہی ہے جہاں نسلی اقلیتی گروپ کے پچاس لاکھ سے زیادہ ایغور لوگ کپاس کے پھول چننے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔ ایغور اور دیگر ترک اقلیت کے لوگوں کے ساتھ وہاںجبری مشقت کی یہ زیادتی سابقہ اندازے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے ۔ امریکہ نے ابھی اسی مہینے میں اس کا نوٹس لیتے ہوئے ...

موضوع  : پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی غالب نے کہا تھا!

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے ،دہن بگڑا یہ شعر آج کی پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اخلاقی گراوٹ کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ عمران خان کی حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف نہ صرف نازیبا حملے کر رہی ہے ، بلکہ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر کردار کشی کی کوششیں مسلسل تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور مریم نواز شریف کے خلاف تازہ مقدمے کے اندراج کے بعد پاکستان میں کئی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے خلاف کس حد تک جا سکتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حزب اختلاف کے لیے سختیاں بڑھیں گی اور پھر یہ حزب اختلاف کا امتحان ہوگا کہ وہ ان سختیوں کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔ پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے۔ اس کشیدہ صورت حال نے ملک کی جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو تار تار کر دیا ہے ۔ سماجی و سیاسی طبقہ کو گالیاں دینے کا کام 14 اگست 1947 کو خان عبدالغفار خان، ان کے خاندان اور جماعت کی کردار کشی سے شروع ہو گیا تھا اور وقت کے ساتھ رویے م...

پاکستان میں جبراً گمشدہ ہزاروں افراد کی حالت زار

پاکستان کی صورت حال جتنی پیچیدہ اتنی ہی سنگین ہے ۔1947میں آزادی کے بعد جمہوریت کومستحکم ہونے کاموقع نہیں ملا اور وقتا فوقتا ملک آمریت کے شکنجہ میں رہا ۔جب بھی وہاں جمہوری طریقہ سے کوئی منتخب پارٹی برسراقتدارآئی تو اسے ملک وسماج کےلیے کام کرنے کی آزادی نہیں ملی اور اسے فوج کے ماتحت ہی کام کرنا پڑا۔پاکستان میں 2008سے سول حکومتیں اقتدارمیں ہیں لیکن آج بھی صورتحال کم وبیش ویسی ہی ہے ۔ دہشت گردی کی حمایت کرنے اور دہشت گردوں کوپناہ دینے کے معاملے میں تو پاکستان دنیابھرمیں بدنام ہے اور اس کی انھیں حرکتوں کی وجہ سے اسے کئی طرح کی پابندیوں کاسامنا ہے ۔اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے میں بھی دشواریوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔کوئی بھی مالی ادارہ پاکستان کو اس لیے رقم نہیں دینا چاہتا کیوں کہ اس سے دہشت گردوں کی اعانت ہوتی ہے ۔ پاکستان نے ابتدا سے ہی دہشت گردی کو ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کیا ہے ۔ پاکستان کی شہ پردنیا کے کئی ملکوں میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ پڑوسی ممالک متاثر ہوئے ہیں ۔لیکن بدنیتی پر مبنی کسی بھی کام کے مثبت نتائج برآمدنہیں ہوتے ۔ پاک...

طالبان کے مقتول سربراہ کا پاکستان میں لائف انشورنس

اکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔اس مملکت خداداد میں ایسے ایسے نادر واقعات دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن پر یقین کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ اب پچھلے دنوں ہی یہ انکشاف ہوا کہ طالبان کے ایک دہشت گرد رہنما نے پاکستان میں زندگی کا بیمہ یعنی لائف انشورنس کرارکھا تھا۔ یہ کوئی معمولی دہشت گرد نہیں تھا بلکہ طالبان کا رہنما ملّا اختر منصور تھا جو سن 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا جاچکا ہے۔ ملّا اختر منصور کی حیثیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے طالبان کے روحانی سربراہ ملا محمد عمر کی موت کے بعد اس دہشت گرد تنظیم کا رہنما مقرر کیا گیا تھا۔ ملا منصور کے لائف انشورنس پالیسی کا انکشاف اس وقت ہوا جب کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت، منصور اور اس کے مفرور ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔سماعت کے دوران پتہ چلا کہ ملّا منصور نے نہ صرف اپنی زندگی کا بیمہ کرا رکھا تھا بلکہ بیمہ کمپنی کو تین لاکھ پاکستانی روپے ادا بھی کرچکا تھا۔اس نے یہ بیمہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے کرایا تھا جس کے لیے اسے سن 2005میں پاکستان کا قومی شناختی کارڈ جار...

پاکستان میں اپوزیشن قانون سازوں کا اجتماعی استعفیٰ متوقع

پاکستان میں اپوزیشن پارٹیوں اور حکومت کے درمیان ہونے والی رسہ کشی تھمتی نظر نہیں آتی۔ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول اول دن سے ہی چلا آرہا ہے کیونکہ 2018میں جو عام انتخابات ہوئے تھے ان میں ہر طرف یہ محسوس کیا گیاتھا کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان کے حق میں کام کیا تھا اور اس بات کی کوشش کی تھی کہ دوسری مین اسٹریم پارٹیوں کو نقصان پہنچے۔ یہ بات الیکشن کے دوران پاکستانی میڈیا، پاکستان انسانی حقوق کمیشن اور غیر ملکی مشاہدین نے بھی کہی تھی۔ بلکہ میڈیا پر تو اسٹیبلشمنٹ کا زبردست دباؤ تھا اور دیانتدار صحافیوں کو پریشان بھی کیا گیا اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ چونکہ فوج اور نواز شریف اور ان کی پارٹی کے درمیان محاذ آرائی کا ماحول تھا اور یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ فوج انہیں ہر حال میں اقتدار سےدور رکھنا چاہتی ہے اس لئے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے وہ ہر طرح کے جتن کر رہی تھی۔ بہر حال نتائج کچھ ایسے ہی آئے، جن کے سہارے عمران خان وزیراعظم تو بن گئے لیکن انہیں اتنی سیٹیں ان کی پارٹی نے نہیں جیتی تھیں کہ یہ کہا جاسکے کہ انہیں زبردست مینڈیٹ ملا ہے۔ عمر...

موضوع:اپوزیشن کی ریلیوں اور عمران خان کی بیان بازیوں کے درمیان پھنسا پاکستان

پاکستان میں گیارہ پارٹیوں کی پاکستان جمہوری تحریک نے زور پکڑنا شروع کردیا ہے۔ اس نے آئندہ سال جنوری میں اسلام آباد میں حکومت مخالف ایک بڑی ریلی کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اس منصوبے سے عمران خان حکومت کافی پریشان نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی ریلیاں اکتوبر سے برابر ہورہی ہیں اور ان ریلیوں کے جواب میں حکومت پاکستان کا جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کافی پریشان و فکر مند ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان نے استعفیٰ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جس سے پاکستان تحریک انصاف حکومت مزید گھبرائی ہوئی ہے۔ عمران خان حکومت کی گھبراہٹ کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس کے ایک سینئر وزیر نے یہ الزام لگانا شروع کردیاہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو ریلیوں کے انعقاد کیلئے دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہے ہیں۔ دوسرے وزراء بھی ٹی وی ٹاک شوز کے دوران اس وقت غیر ارادی طور پر اس گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جب وہ اپوزیشن لیڈروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ بد عنوان ہیں اور وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے ہی کام کرتے ہیں اور ا...

عمران حکومت اور پاکستان میں سیاسی گفتگو کا پست ہوتا معیار

جمہوریت ایک طرف جہاں دنیا کے لئے نعمت ثابت ہوئی ہے وہیں دوسری طرف جن ممالک نے اس کی روح کو اپنے اندر انگیز نہیں کیا ان کے لئے یہ مصیبت بھی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال پاکستان ہے جہاں جمہوریت آمریت کے سائے میں پروان چڑھی یا یوں کہیں کہ جمہوری طرز فکر کو وہاں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع نہیں ملا اور یہاں تک کہ اس کے فقدان کے سبب پاکستان کو اپنا ایک حصہ بھی گنوانا پڑا۔ فی الوقت پاکستان ایک سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔ حزب مخالف نے پے در پے وار سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی نیند اڑا رکھی ہے۔ حالات اسقدر تیزی سے کروٹ بدل رہے ہیں کہ حکمراں طبقے کی بوکھلاہٹ نے ان کی فیصلہ لینے کی صلاحیت تک کو سلب کر لیا ہے۔ حریفوں کو زیر کرنے کے لئے ایسے ہتھکنڈوں کا استعمال عام ہو چلا ہے جن کی اجازت ایک مہذب سماج ہر گز نہیں دیتا۔ دراصل عمران خان کا سیاسی وجود فوج کی پرداخت کا ہی نتیجہ ہے یہی سبب ہے کہ فوج پر نکیل کسنے یا اسے کٹگھرے میں کھڑا کرنے کی جب بھی کوشش ہوتی ہے، حکمراں طبقہ چراغ پا ہو جاتا ہے۔ اسے یہ بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں فوج حاکم اعلیٰ کے رول میں نہیں ہوتی۔...

پاکستان کی دہشت گرد پالیسی: شکار کون؟

اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے اور ان ممالک میں دراندازی کرنے والے ممالک کی فہرست مرتب کی جائے تو پاکستان کا نام سرفہرست ہوگا۔ اپنے ہمسایہ ممالک میں پاکستان کے ذریعہ در اندازی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ایران ہو، افغانستان ہو، چین ہو یا ہندوستان ، پاکستان کا کوئی بھی ہمسایہ ملک اس کی شر انگیزیوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی مداخلت سے کون واقف نہیں ہے۔ آج افغانستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے بیشتر مسائل کے لیے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی ذمہ دار ہے۔ ایران میں دہشت گرد تنظیموں کو بھی پاکستان ہی کی شہ حاصل ہے۔ چین جسے پاکستان اپنا دیرینہ دوست کہتے نہیں تھکتا ہے وہ بھی دبی زبان سے پاکستان سے مطالبہ کرتا رہتا ہے کہ پاکستان اس کے ملک میں شدت پسندوں کی حمایت بند کرے۔ بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا اور اب ایک آزاد ملک ہے، اسے بھی ایک عرصے تک پاکستان کی شر انگیزیوں کا سامنا رہا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو ہندوستان میں دہشت گردی کے جو بھی واقعات ہوتے ہیں پاکستان کا ان سے بالواسطہ یا براہ راست تعلق ضرور...

بھارت اورخلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے اس وقت متحدہ عرب امارات کی راجدھانی ابو ظہبی میں ہیں۔ جنرل نروانے آج اور کل ابو ظہبی میں قیام کریں گے اس کے بعد وہ 13 اور 14 دسمبر کو سعودی عرب کے دارالسلطنت ریاض جائیں گے ۔ اس دورے میں جنرل نروانے دونوں ممالک کے اپنے ہم منصب اور دیگر اعلی فوجی عہدےداران سے ملاقات کریں گے اور دفاعی تعلقات کو بڑھانے پر غور وخوض کریں گے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا جنرل نروانے کا دورہ اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ بھارتی فوج کا کوئی سربراہ پہلی بار ان ممالک کا دورہ کر رہا ہے۔  بھارتی فوج کے سربراہ کے اس پہلے دورہ سے ان دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے۔امید قوی ہے کہ بھارت اور دونوں خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشق، زمینی جنگ کی تربیت اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے جیسے معاملات میں قریبی باہمی تعاون کی راہ مزید ہموار ہوگی۔ دفاعی تعاون کا یہ نیا دور دراصل بر صغیر اورخلیجی ممالک کے ما بین نئی سیاسی اور تجارتی سچائیوں کو سامنے لاتا ہے۔ دنیا کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ اب یہی دیکھئے ک...

حکمراں جماعت کی طرف سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر بندشیں

پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو لے کر پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں ، لیکن اب معاملہ گرم ہے اور پاکستانی حکومت ایسے صحافیوں کو مسلسل ٹرول کر رہی ہے ، جو حکومت کی حکمت عملی کے خلاف اپنے دل کی بات لکھ رہے ہیں، اس لئے یہ بنیادی بحث ان دنوں زوروں پر ہے کہ کیا میڈیا کی آزادی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے ؟ پاکستان کے بیشتر انفرادی صحافی ان دنوں حکومت کے مطلق العنان رویہ سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ ابھی حال میں پاکستانی حکمران طبقے کی طرف سے سوشل میڈیا پر جو حملے ہوئے، اس کو دیکھتے ہوئے کچھ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسّی کی دہائی میں جو شخص ہمارا حقیقی ہیرو تھا ، اب وہ ہمارا ہیرو نہیں رہا۔ پاکستان کی حکمران پارٹی اس وقت بد عنوانیوں کے الزامات میں بری طرح گھری ہوئی ہے ۔ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ خاتون صحافیوں کے ساتھ بھی حکمران طبقے کا سلوک بہتر نہیں ہے ۔ نیا دور میڈیا نے اپنا موقف صاف کیا ہے کہ اب وہ سیاسی حملوں پر خاموش نہیں رہے گا۔ نیا دور میڈیا (این ڈی ایم) ایک دو لسانی ترقی پسند ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا اور تعلیم دینا ہے...

موضوع :ہند چین تعلقات میں پیش رفت کے لئے امن و آشتی کی فضابے حد ضروری

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کہا کرتے تھے، ’دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں۔‘پڑوسی سے رشتہ استوار کرنے کے لیے ہی وہ 21 فروری 1999 کو لاہور گئے تھے مگر دو مہینے بعد ہی پاکستان کے فوجیوں نے کارگل کی جنگ چھیڑ دی۔ ہندوستان کو ’آپریشن وجے‘کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ حکومت ہند کے لیے یہ ایک تلخ تجربہ تھا لیکن ماضی کی تلخیوں میں مقید رہنا اس نے پسند نہیں کیا۔ پڑوسی سے بہتر تعلقات کے لیے حکومت ہند نے آگرہ اجلاس کا انقاد کیا۔ یہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ اور پھر پی ایم مودی نے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی، کامیابی نہیں ملی۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ ہندوستان نے بار بار پاکستان کو موقع دیا مگر اپنی زمین سے دہشت گردی ختم کرنے میں وہ ناکام رہا۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنوں کا خون بہتے ہوئے دیکھنا ہندوستان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا تو اسے جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ جوابی کارروائی یہ اشارہ تھی کہ ہندوستان کمزور نہیں ہے، وہ جواب دینے کا اہل ہے، البتہ مسئلوں کے حل کے لیے مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہر ملک مستحکم سے مستحکم تر بننا چاہتا ہے۔ ایسا چاہنا غلط نہیں، غلط ہے استحکام ...

افغان حکومت اور طالبان نمائندوں کے مابین ابتدائی نوعیت کا ایک سمجھوتہ؟

افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے قطر کی راجدھانی دوحہ میں مذاکرات کا جو سلسلہ چل رہا ہے، وہ بین افغان مذاکرات کا ایک اہم حصہ ہے لیکن ابھی تک ان مذاکرات کے تعلق سے کسی خاص پیشرفت کی خبر سننے کو نہیں ملی تھی۔ اس سے قبل اسی سال کے فروری مہینہ میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کی رو سے امریکی فوجیں افغانسان سے ایک خاص مدت کے دوران واپس چلی جائیں گی لیکن یہ فیصلہ تو طالبان اور امریکہ کے مابین ہوا تھا لیکن خود افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کی غرض سے بین افغان مذاکرات کو بھی ضروری سمجھا گیا تھا تاکہ وہاں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوسکے۔ لیکن اس معاملے میں بہت سارے شبہات بھی پیدا ہوتے رہے ۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ طالبان نے کبھی تشدد کا راستہ ترک نہیں کیا۔ ایک اور بات یہ ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان نظام سیاست کے سوال پر شدید قسم کے اختلافات ہیں۔ موجودہ حکومت آئینی طور پر ایک منتخب حکومت ہے اور آئین کی رو سے یہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے جبکہ طالبان کا اصرار ایک ایسے نظام حکومت کے قیام پر ہے جسے اسلامی امارات کا نام دیا جاسکے یہ کم و ب...

لاک ڈاون کے بعد معیشت بہتری کی راہ پر

اس سال لگا تار دوسرے مہینے یعنی نومبر میں جی ایس ٹی سے تقریبا ایک لاکھ کروڑ روپے اکٹھا ہوئے۔ اس کے علاوہ نہ صرف کاروں کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا بلکہ مال گاڑی سے جو سامان ڈھوئے گئے اور ان سے جو کرایہ حاصل ہوا وہ بھی کافی بہتر تھا۔ سروسز کے شعبہ میں بھی کافی بہتری دیکھنے کو ملی۔ یہ تمام باتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ مالی سال 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار منفی 24فیصد تھی جو دوسری سہ ماہی یعنی جولائی اور ستمبر کے درمیان بہتر ہو کر منفی سات اعشاریہ پانچ فیصد ہو گئی۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہےکہ پہلی سہ ماہی کے دوران لاک ڈاون کے اثرات تمام ملک میں نمایاں تھے ،جی ڈی پی کی تازہ ترین شرح سے لوگوں کو امید ہے کہ سال کے باقی ماندہ مہینوں میں معیشت تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی ۔ یہ بات وزارت خزانہ کے معاشی معاملات کے تازہ ترین جائزے میں بھی کہی گئی ہے۔ سال کی دوسری سہ ماہی میں پیداوار میں بھی کافی بہتری آئی اور اگر پچھلےسال کی اسی مدت سے مقابلہ کیا جائے توصرف سات اعشاریہ پانچ فیصد کی ہی گراوٹ درج کی گئی۔ اس سال کی پہلی سہ...