دہشت گردی اور باہمی رشتوں پر پاکستان کی حقیقت منکشف



نیت اگر اچھی ہو، موقف اگر واضح ہو تو پھر قول و عمل میں تضاد نہیں ہوتا، اقتصادی کامیابیوں کے حصول میں دشواری پیش نہیں آتی، رشتوں کا استحکام خدشات کی نذر نہیں ہوتا لیکن پاک لیڈروں نے قول و عمل کے تضاد پر کبھی توجہ نہیں دی۔ بات دہشت گردی مخالف جنگ کی ہو یا کسی ملک سے رشتوں کے نباہ کی، پاک لیڈروں کا رویہ ہمیشہ ہی بہلانے والا رہا۔ یہ سمجھنے کے لیے وہ کبھی تیار نہیں ہوئے کہ جھوٹ کی بنیاد پر بہلانے کا کھیل زیادہ دنوں تک نہیں چلتا۔ ایک نہ ایک دن سچ کی روشنی جھوٹ کو عیاں کر دیتی ہے۔ دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کا دوہرا معیارعالمی برادری کے سامنے آ چکا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری پاکستان پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ ممالک جو ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا کرتے تھے، دہشت گردی پر دوہری پالیسی اور رشتوں کے تئیں پر خلوص نہ ہونے کی وجہ سے اس سے خوش نہیں ہیں۔ امریکہ کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دوری اختیار کرنے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی اقتصادیات کا پٹری پر آنا مشکل ہو گیا ہے۔

پاک حکومت بظاہر سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرد مہری ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے مگر یہ ممالک پاکستان کی حقیقت سمجھ چکے ہیں، چنانچہ سعودی عرب کو یہ اندازہ ہے کہ پاکستان مالی مشکلات سے دوچار ہے، اس کے باوجود قرض واپسی کے لیے اس نے زور دیا۔ سعودی عرب کا قرض ادا کرنے کے لیے پاکستان کو چین سے قرض لینا پڑا۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے دہشت گردی سے متاثرہ اور سعودی مخالف جن 13 ممالک کے لوگوں کو نیا ویزا جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ واضح انتباہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی معاونت سے توبہ کرے اور رشتوں کا نباہ پرخلوص طریقے سے کرے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس حقیقت کا اقرار کیا ہے کہ ’سعودی عرب سے ہمارے تعلقات پٹری پر نہیں ہیں۔ تناؤ کی صورت حال ہے۔ ہمیں اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔ ہمارے سب سے قریبی رشتے تو سعودی عرب اور متحدہ امارات سے ہی ہیں۔‘ لیکن ایسا لگتا نہیں کہ پاک حکومت حالات تبدیل کرنے کی عملی کوشش کرے گی۔

پاک حکومت کو اگر واقعی پاکستان کی مثبت امیج عزیز ہوتی تو وہ رشتوں کے نباہ کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی، دہشت گردی سے ناطہ توڑ لیتی لیکن وہ ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکنہ کارروائی کر رہی ہے تو دوسری طرف طالبان کے سابق کمانڈر احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد اس کی حقیقت آشکارا کر دیتے ہیں۔ احسان اللہ احسان نے اپنے ایک بیان میں یہ بات بتائی ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے کیسے ہندوستانی اور امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف دہشت گرد گروپوں کی مدد کی، پاکستان کے سیاست دانوں اور دہشت گردوں کے ساز باز کو بھی احسان اللہ احسان نے منکشف کیا ہے۔ ان حقائق کے مدنظر ہی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نہیں نکل پا رہا ہے۔ اسے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا اس کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ دہشت گردی نے امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ان ملکوں کو بھی پاکستان سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جنہوں نے اس کے بدلنے کا بہت انتظار کیا۔

نو گیارہ کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ یہ جنگ انسانوں کے تحفظ کے لیے تھی، اس لیے دنیا بھر کے ملکوں کا امریکہ کو ساتھ ملا۔ بظاہر پاکستان بھی اس کے ساتھ آیا لیکن جلد ہی امریکیوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ دہشت گردی پر پاکستان کا دوہرا معیار ہے۔ اسی لیے وہ اپنی زمین کو دہشت گردی سے پاک نہیں کرتا، چنانچہ امریکہ نے اسی مناسبت سے تیاری کی، ایک خفیہ آپریشن میں امریکی فورسز نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مار ڈالا۔ اس کے بعد پاکستان یہ کہنے کی پوزیشن میں کبھی نہیں رہا کہ دہشت گردی پر اس کا دوہرا معیار نہیں ہے، وہ دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ خود پاکستان کے امن پسند لوگ دہشت گردی کی نذر ہوتے رہے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج حتمی کارروائی نہیں کر پاتی تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، کیونکہ دہشت گردی کو پاکستان نے ایک مستقل پالیسی کی طرح اپنا لیا ہے۔ اسے چھوڑنا اس کے لیے ناممکن سا ہے مگر یہ صورت حال ان پاکستانیوں کے لیے باعث تشویش ہے جو امن کی اہمیت سے واقف ہیں، جو جانتے ہیں، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں، انہیں پناہ دے کر کوئی ملک آباد نہیں رہ سکتا!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ