موضوع: پاکستان کو جہاد اور دہشت گردی سے الگ اپنی شناخت قائم کرنے کی ضرورت: یوکے پینل کی رائے
آج پاکستان کی شبیہ پوری دنیا میں بہت خراب ہو گئی ہے۔ وہ ایک دہشت گرد ملک یا دہشت گردی حامی ملک کی حیثیت سے جانا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوری طور پر لوگوں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ اور جب چھان بین ہوتی ہے تو اس واقعہ کا کسی نہ کسی طرح پاکستان سے تعلق نکل آتا ہے۔ پاکستان میں جس قسم کے لوگ اقتدار پر قابض رہے ہیں ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے کہ جو خود شدت پسندانہ نظریات کے حامل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے قیام کے نام پر شدت پسندانہ رجحانات کو آگے بڑھایا گیا اور مذہبی و مسلکی تعصب کو بری طرح ہوا دی گئی۔ دوسرے ایسے عوامل بھی رہے ہیں جنھوں نے اس کے مزاج میں شدت پسندی پیدا کی۔ دہائیوں میں قائم ہونے والے مزاج نے پاکستان کو دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں الگ قسم کے ملک میں تبدیل کر دیا۔ نہ تو کوئی ملک اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی کوئی عالمی ادارہ۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کی فنڈنگ او رمنی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے قائم ہونے والا ادارہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ...