Posts

Showing posts from November, 2019

موضوع: پاکستان کو جہاد اور دہشت گردی سے الگ اپنی شناخت قائم کرنے کی ضرورت: یوکے پینل کی رائے

آج پاکستان کی شبیہ پوری دنیا میں بہت خراب ہو گئی ہے۔ وہ ایک دہشت گرد ملک یا دہشت گردی حامی ملک کی حیثیت سے جانا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوری طور پر لوگوں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ اور جب چھان بین ہوتی ہے تو اس واقعہ کا کسی نہ کسی طرح پاکستان سے تعلق نکل آتا ہے۔ پاکستان میں جس قسم کے لوگ اقتدار پر قابض رہے ہیں ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے کہ جو خود شدت پسندانہ نظریات کے حامل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے قیام کے نام پر شدت پسندانہ رجحانات کو آگے بڑھایا گیا اور مذہبی و مسلکی تعصب کو بری طرح ہوا دی گئی۔ دوسرے ایسے عوامل بھی رہے ہیں جنھوں نے اس کے مزاج میں شدت پسندی پیدا کی۔ دہائیوں میں قائم ہونے والے مزاج نے پاکستان کو دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں الگ قسم کے ملک میں تبدیل کر دیا۔ نہ تو کوئی ملک اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی کوئی عالمی ادارہ۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کی فنڈنگ او رمنی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے قائم ہونے والا ادارہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ...

موضوع: جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع پر تنازعہ

پاکستان کے سپریم کورٹ نے منگل کے روز اس سمری کو معطل کردیا جسے وزیر اعظم عمران خان نے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کے لیے 19 اگست کو جاری کیا تھا۔ 59 سالہ جنرل کو اس ماہ کی 28 تاریخ کی آدھی رات کو ملازمت سے سبکدوش ہونا تھا لیکن عدالت عظمی نے ان کی مدت کار میں توسیع سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے انہیں صرف 6 ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ پارلیمنٹ اس سلسلہ میں جلد ہی ایک قانون بنائے گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قیادت میں ایک تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ قانونی اور انتظامی بنیادوں پر سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ میں پورے عمل کو تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ عدالت عظمی کے اس ریمارک کے باعث وزیراعظم عمران خان اور صدرعارف علوی کو زبردست خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع سے متعلق تجویز پہلے کابینہ میں منظور ہونی چاہیے تھی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ہی وزیراعظم اور صدر مملکت اس پر مزید کارروائی کرسکتے تھے۔میڈیا کی خبروں کے مطابق 25 وزیروں میں سے صرف...

ہانگ کانگ میں جمہوریت کی لہر

حال ہی میں ہانگ کانگ میں ضلع کونسل کے انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب گزشتہ کوئی چھ ماہ سے سٹی اسٹیٹ اجتحاج اور مظاہروں کی زد میں ہے۔ ہر طرف سڑکوں پر احتجاج اور ہنگامہ آرائیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ان مظاہروں کے پیچھے کئی طرح کی کہانیاں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ ہانگ کانگ میں مجموعی طور پر 18 ضلع کونسل ہیں جن کے لئے انتخابات ہوئے۔ اگرچہ اقتدار کے ڈھانچے میں یہ کوئی اعلی یا بڑی اہمیت کے حامل ادارے نہیں ہیں بلکہ نچلی سطح کے ادارے ہیں اور ان کی ذمہ داریاں بھی بڑی محدود نوعیت کی ہیں جن میں عام شہریوں کی بعض بنیادی نوعیت کی سہولیات اور ٹریفک لائٹس وغیرہ کا خیال رکھنا ہوتا ہے لیکن بہرحال ضلع کونسل کے انتخابات کی اپنی اہمیت ضرور ہوتی ہے اور چونکہ یہ جمہوری ادارے ہیں، اس لئے جمہوریت کے تئیں عام لوگوں کے رجحان کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک لمبے عرصے سے وہاں ہنگامہ آرائیوں کا دور چل رہا ہے، جس میں ہانگ کانگ کا نوجوان طبقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ احتجاج اور مظاہروں کے دوران کہیں کہیں پرتشدد کارروائیاں بھی ہوئی ہیں۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ کشیدگی کے اس ماحول ...

موضوع: برطانیہ میں وقت سے پہلے انتخابات: ایک جائزہ 

اپنے بریگزٹ منصوبے کو نافذ کرنے کی غرض سے پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کیلئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے وقت سے پہلے 12 دسمبر کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتخابات گذشتہ پانچ برسوں میں چوتھی بار ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات بقول بورس جانسن ، اس تعطل سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے جو 2016 میں بریگزٹ ریفرینڈم کے بعدسے جاری ہے۔ وقت سے پہلے پچھلے انتخابات 2017میں ہوئے تھے جب ٹیریسا مےملک کی وزیراعظم تھیں۔ ان انتخابات میں کنزر ویٹیو پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث اسے اقتدار میں برقرار رہنے کیلے ڈیموکریٹک یونینیسٹ پارٹی کی حمایت لینی پڑی۔ اس وقت انتخابی مہم تیسرے ہفتہ میں داخل ہو چکی ہے اور انتخابات کے سلسلہ میں جو اوپینئن پول کرائے گئے ہیں ان کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی کو لیبر پارٹی پر 19 پوائنٹ کی سبقت حاصل ہے۔ اس وقت کل ووٹوں کا 47فیصد حصہ کنزرویٹیو پارٹی کے حق میں ہے جبکہ لیبر پارٹی کو 28 لیبرل ڈیمو کریٹس کو 12 اور بریگزٹ پارٹی کو صرف تین فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ملک کی تمام بڑی پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشور میں اس وقت کے سب سے اہم موضوع بریگزٹ کو شامل کیا ہے ...

چین- پاکستان اقتصادی راہداری کی کامیابی اور کار کردگی پر اٹھتے سوال

چین -پاکستان اقتصادی راہداری کا پروجیکٹ بلا شبہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے جس پر چین نے پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں اس پروجیکٹ کےتعلق سے جو امیدیں جگائی گئی ہیں ،اس کے بارے میں البتہ سنجیدہ حلقوں میں طرح طرح کےسوال پیدا ہو رہے ہیں۔ ان سنجیدہ حلقوں میں خود پاکستان کے بعض ماہرین اقتصادیات ،سیاست داں اور پروجیکٹ کے ٹکنیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر نظر رکھنے والے افراد نیز بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے بہت بڑے سیاسی حلقے اور حکومت کی طرف سے اتنی زیادہ امیدیں بڑھائی گئی ہیں کہ ان میں مبالغہ آرائی زیادہ نظر آنے لگی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ پروجیکٹ اپنی کارکردگی اور ہمہ گیریت کے باعث پاکستان کی اقتصادی طور پر کایا پلٹ کر رکھ دے گا اور ہر طرف خوشحالی نظرا ٓئے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے بڑی بات او رکیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی جو موجودہ اقتصادی صورت حال ہے وہ حد درجہ تشویشناک ہے اور ایسے میں ایک حلقے نے اگر اقتصادی راہداری کے تعلق سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں تو یہ ایک قدرتی امر ہے۔ لیکن اس پروجیکٹ کے حوالے سے ک...

جاپان میں جی۔20ملکوں کے وزراء خارجہ کی میٹنگ 

جی۔20ایک ایسا فورم ہے جس میں دنیا کے20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک شامل ہیں۔جس کا یوروپی یونین بھی ایک رکن ہے۔ اوساکا میں اس سال جون کے اواخر میں گروپ کی 14ویں سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرنے کے بعد جاپان نے حال ہی میں ناگویاشہر میں گروپ کے وزراء خارجہ کی میٹنگ کی میزبانی کی۔ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس میٹنگ میں موجودہ بین الاقوامی صورتحال اور عالمی کساد بازاری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔  میٹنگ کے بعد جاپان کے وزیرخارجہ توشے متسو موتیگی نے جو میٹنگ کے چیئرمین بھی تھے، نامہ نگاروں کو بتایا کہ جی۔20کے وزراء خارجہ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاکہ یہ بہت سے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرسکے۔ رکن ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ تنظیم نے تنازعات کے حل کے لئے جو میکینزم وضع کر رکھا ہے اس میں بھی بہتری لائی جائے ۔ اس موضوع کو اوساکا میں سربراہ کانفرنس کے دوران بھی اٹھایا گیا تھا۔ جناب موتیگی نے اعلان کیا کہ مجوزہ ایشیا بحر الکاہل آزاد تجارتی معاہدہ پر بات چیت کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاتاکہ اسے حتمی...

موضوع: لیبر پارٹی کا جلیاں والا باغ واقعہ پر معافی مانگنے کا وعدہ

جلیاں والا باغ کا واقعہ پوری دنیا اور خاص طور سے ہندوستان کی تاریخ میں لہو کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ اس خوں ریز اور المناک واقعہ کے 100 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اس کی دردناک یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ 13 اپریل 1919 کو پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع جلیاں والا باغ میں بیساکھی منانے کے لیے جمع ہوئے لوگوں کو برطانوی حکومت کے ایک سرپھرے افسر جنرل ڈائر کے حکم پر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا۔ یہ ایسا قتل عام تھا جس سے پوری دنیا ششدر رہ گئی تھی۔ یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا جسے فراموش کردیا جاتا۔ اس کی یا دیں باقی رکھنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ لوگ اس گھناؤنی حرکت سے نفرت کریں اور مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی عمل کی مخالفت کریں۔ سو سال بعد بھی لوگ اس سفاکانہ واقعہ کے مذمت کررہے ہیں۔ برطانیہ کی اپوزیشن لیبرپارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو جلیاں والا باغ قتل عام پر حکومت ہند سے معافی مانگے گی۔ابھی تک برطانوی حکومت اس واقعہ پر معافی مانگنے سے گریز کرتی رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم تھریسامئے نے برطانوی ہند کی تاریخ پر ایک ‘شرمناک بدنماداغ’...

موضوع: عمران خان کی سیاسی الجھنیں

عمران خان گزشتہ سال ریاست کے بعض طاقتور اداروں کے تعاون اور حمایت سے برسراقتدار تو آگئے، لیکن انہوں نے جس طمطراق سے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوان طبقوں سے وعدے اوردعوے کیے تھے۔ اس کے باعث ہرطرف امیدیں جاگی تھیں اور بہت سے لوگ، جو سیاست کے داؤپیچ اور سیاست دانوں کے وعدوں اور دعوؤں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتےیہ یقین کرنے لگے تھے کہ واقعی پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی ہونے والی ہے۔ سب سے زیادہ امید معاشی صورت حال کے بارے میں پیدا ہوئی تھی کہ عمران خان کی حکومت پاکستان کو موجودہ اقتصادی بحران سے باہر نکالنے میں یقینا کامیاب ہوگی۔ پھر شفافیت لانے اور بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی لمبے چوڑے دعوے کیے گئے تھے لیکن تھوڑے ہی دنوں میں پتہ چلا کہ عمران حکومت ہر محاذپر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی ماحول میں بھی کافی پیچیدگیاں نظر آنے لگی ہیں۔ بہت جلد لوگوں کو یہ لگنے لگا کہ عمران حکومت سیاسی سطح پر مصالحتی رویہ اختیار کرنے کی بجائے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کررہی ہے، بلکہ انتقامی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ عمران خان کو اس بات کا زعم تھا کہ انہیں ف...

موضوع: کالا پانی کامسئلہ

ریاست جموں وکشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرکے ہندوستان نے ایک نیانقشہ جاری کیا۔ اس نقشہ کے اجراء کے بعد ہمالیائی علاقہ میں ریاست اتراکھنڈ کے پتھوراگڑھ ضلع میں ہندوستان، نیپال اور چین کے تراہے پر واقع کالاپانی علاقہ پر کنٹرول کا تنازعہ ایک بار پھر ابھرکر سامنے آیاہے۔نیپال کادعوی ہے کہ کالاپانی کاایک حصہ اور اس سے ملحقہ علاقے اس کے ہیں جب کہ نئی دہلی نے نئے نقشہ میں انہیں اپنا علاقہ بتایا ہے۔ کالا پانی کا تنازعہ کافی پرانا ہے۔ یہ اس وقت سے چلا آرہا ہے جب 1816 میں نیپال کے راجہ اور اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے درمیان تاریخی سگولی (Sagauli) معاہدہ ہو ا تھا۔ معاہدے میں مہاکالی ندی کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک باؤنڈری قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ندی کہاں سے نکلتی ہے یا یہ کہ اس کی شاخوں میں سے کون سی شاخ اصل مہاکالی ندی ہے۔ لیکن بعد میں سروئیر جنرل آف برٹش انڈیا کی جانب سے جو نقشہ جاری کیا گیا اس میں بڑے واضح طورپرکالاپانی، لیپو لیکھ (Lipu Lekh) اور لمپیا دھرا (Limpiyadhura )علاقوں کو ہندوستانی علاقے بتائے گئے جب کہ نیپال مہاکالی ندی کے نقطۂ آغ...

موضوع: سری لنکا میں نئی حکومت اور ہند- سری لنکا تعلقات

حال ہی میں پڑوسی ملک سری لنکا میں صدارتی انتخابات ہوئے اور گوت بایا راج پکشے نئے صدر منتخب ہوئے۔ وہ غالب اکثریت سے اقتدار میں آئے ہیں اور نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنوبی علاقوں کی سنہالی اکثریت نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیئے ہیں جبکہ شمال اور مشرق کے علاقوں میں تمل اور مسلم اقلیت کی بھاری اکثریت نے ان کے خلاف اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے لیکن جمہوریت میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور ہر ملک اور سماج کا یہ اندرونی معاملہ ہوتا ہے۔ تاہم برسراقتدار آنے والی حکومت ان باتوں سے بلند ہوکر مجموعی طور پر اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر توجہ دیتی ہے۔ موجودہ قیادت نے سری لنکا کے عوام کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ تمام نسلی گروپوں کی بہتری اور فلاح کے لئے کام کرے گی۔ ہندوستان نے پڑوسی ہونے کے ناتے سری لنکا میں ہونے والی حکومت کی پر امن منتقلی اور نئی حکومت کا استقبال کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات حسب معمول بہتر رہیں گے اور آپسی اشتراک و تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔ سری لنکا ایک لمبے عرصہ تک خانہ جنگی میں الجھا رہا۔ جب وہاں کی حکومت لبریشن ٹائیگرز آف تمل ایلم یعنی ایل ٹی ٹی ای سے ...

موضوع: چین میں ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کی حالت زار

ویسے تو ایک زمانے سے عالمی برادری اور عالمی میڈیا میں اس بات کا چرچہ ہے کہ چین کے صوبۂ شن جیانگ میں بڑے پیمانے پر ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپ میں رکھا جا رہا ہے اور نہ صرف ان کی مذہبی آزادی کو سلب کر لیا گیا ہے بلکہ ان کی برین واشنگ کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ان کیمپوں کے مکینوں کے انسانی حقوق بھی بے دردی سے پامال کئے جا رہے ہیں۔ یہ بات بھی سنی جاتی ہے کہ نہ صرف ایغور مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے بلکہ چین کے دوسرے علاقوں میں رہنے والی مسلم اقلیتوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ شن جیانگ کے ڈٹینشن کیمپس میں قریب قریب دس لاکھ افراد کو رکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزی کا نوٹس نہ صرف اقوام متحدہ نے لیا ہے بلکہ متعدد ملکوں میں بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ بعض ملکوں نے تو چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے رویہ پر بھی انگلی اٹھائی ہے کہ پاکستان ، ہندوستان کے ایک علاقے جموں و کشمیر کے نام پر تو خوب اشتعال انگیزی کرتا ہے اور ہندوستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا ...

وزیراعظم پاکستان کو کچھ صائب مشورے

پاکستان کے موجودہ منظرنامے میں کافی کشیدگی اور مایوسی کا ماحول نظر آتا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ لگاتار گر رہی ہے اور اپنے بعض منفی رویوں کے باعث عالمی برادری میں اس کی ساکھ مزید گرتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی اندرونی صورت حال کچھ اتنی پریشان کن نظر آتی ہے کہ لوگ موجودہ حکومت سے، جسے اقتدار میں آئے ہوئے بہ مشکل سوا سال کا عرصہ ہوا ہے، حد درجہ ناراض اور ناخوش ہیں۔ موجودہ اقتصادی بحران نے تشویشناک شکل اختیار کر لی ہے اور عام شہری مہنگائی، ضروری اشیاء کی عدم دستیابی اور ٹیکس کے بوجھ سے پریشان ہیں۔ پھر ہند۔پاک کشیدگی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ادھر سیاسی محاذ پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنا شروع کیا ہے اور عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس سے قطع نظر سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں شدید طور پر علیل ہوگئے تھے اور ان کی حالت انتہائی نازک ہوگئی ہے۔ عدالت نے تو ان کی خرابیٔ صحت کو دیکھتے ہوئے علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت پہلے ہی دے دی تھی لیکن حکومت ...

گوت بایا راجپکسے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

اپوزیشن رہنما گوت بایا راجپکسے سری لنکا کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں 52اعشاریہ دو پانچ فیصد ووٹ حاصل کرکے انہوں نے حکمراں پارٹی کے امیدوارساجتھ پریما داسا کو شکست دی۔ نومنتخب صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ انورادھا پورہ میں اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت عالمی رہنماؤں نے جناب گوت بایا راجپکسے کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ جناب مودی نے نومنتخب صدر کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہندوستان کے عوام نیز خود اپنی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ جناب راجپکسے کی قیادت میں سری لنکا کے عوام مزید ترقی کریں گے اور ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان برادرانہ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ جناب راجپکسے نے بھی ترقی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان سری لنکا کو ترقی اور سلامتی سے متعلق معاملات میں امداد فراہم کرکے اس کا ...

موضوع: کشمیر سے متعلق پاکستانی پروپگنڈہ فلاپ

جموں و کشمیر کے دفعہ 370 سے آزاد ہوجانے کے بعد اس خطۂ بے نظیر میں جیسے جیسے زندگی معمول پر آرہی ہے، خصوصی مفادات رکھنے والی طاقتوں کی بوکھلاہٹ بھی بڑھنے لگی ہے جن میں پاکستان کی حکومت اور اپنی سیاست کی دوکان بند ہوجانے سے پریشانی میں آئے ہوئے سیاست داں پیش پیش ہیں۔ اُن کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ پوری دنیا میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو انسانی حقوق سے جوڑ کر سامنے رکھا جائے اور سب کو یقین دلا دیا جائے کہ بھارتی حکومت وہاں دن رات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی پراپیگنڈہ مشینری نے طرح طرح کی گمراہ کن خبریں پھیلائی ہیں۔اِن جھوٹی خبروں میں کہا گیا کہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں،کشمیری عوام کے مواصلاتی رابطے بند کردیے گئے ہیں، پوری وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے، لوگ گھروں میں بند ہیں، سڑکیں ویران ہیں،کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں، پورے خطے کا رابطہ بھارت سے ہی نہیں بلکہ باقی دنیا بھر سے کٹ گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا نے تویہ افواہیں بھی پھیلائیں کہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوگیا اور فوج وہاں قتل و غارت گری کابازار گرم رکھے ہوئے ...

موضوع: پاکستان دوراہے پر

پاکستان میں بنیاد پرستوں کے لیڈر کے روپ میں تصور کیے جانے والے مولانا فضل الرحمن نے راجدھانی اسلام آباد پر طمطراق کے ساتھ گھیرا ڈالا تھا ، اس کی ہوا نکل چکی ہے اوراب ان کے حامی صرف اس تاک میں ہیں کہ کارروائی کا یہ پروگرام کچھ اس طرح اختتام کو پہنچے کہ مولانا اور ان کی پارٹی کی ساکھ رہ جائے۔ غورطلب ہے کہ عمران خان کو حکومت سے برطرف کرنے کے ارادے سے شروع کیے گئے اس نرغہ کو نہ تو مسلم لیگ (نواز) کی تائید حاصل ہوئی اور نہ پاکستان پیپلز پارٹی کی، حالانکہ بقول صحافی نجم سیٹھی، لوگ یہی توقع کررہے تھے کہ مولانا کی کارروائی سے یہ دونوں پارٹیاں مستفید ہوسکتی ہیں۔ دوسری طرف کچھ عرصہ قبل عمران خان نے مقبوضہ کشمیر جاکر کشمیری عوام کے نام پر جو شوشہ چھوڑا تھا، اس میں اب لگتا ہے ایک نئی جہت کا اضافہ ہونے والا ہے یا ہوچکا ہے۔ گزشتہ اگست میں وسیع پیمانے پر یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان نے ملک کی بدسے بدتر ہورہی اقتصادی صورت حال اور معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کشمیر کا راگ الاپنا شروع کیا ہے، لیکن اس حقیقت کے ساتھ اب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ملک کے حقیقی حکمرانوں، یعنی کہ اعلی...

موضوع: براسیلیا میں گیارہویں برکس سربراہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد 

براسیلیا میں گیارہویں برکس سربراہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس کے کامیاب انعقاد سے اس گروپ کی فعالیت اور روز افزوں مقبولیت کااظہار ہوتا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی میں برکس ممالک نے عالمی نمو میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ برکس سربراہ کانفرنس کے انعقاد، نئے ابھرتے ہوئے عالمی معاشی نظام میں بدلتے ہوئے رجحانات کاعکاس ہے۔ برکس نے نہ صرف مغربی ممالک پر سوال اٹھایا ہے بلکہ یہ نئی فکر اور نئے عالمی نظریے کو تشکیل دینے کی بھی کوشش کررہی ہے۔ اس موجودہ کانفرنس کاموضوع تھا ‘‘متنوع مستقبل کیلئے معاشی نمو’’۔ بلاشبہ تنوع مستقبل کی ضرورت ہے۔ تنوع کی تاریخ تخیلاتی کہانیوں سے عبارت ہے۔ اگر ہمارے اندر تنوع نہیں ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم پر فراموشی کی کیفیت طاری ہے۔ توقع کے مطابق برکس رہنماؤں کے ذریعے جاری بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم اور بین الاقوامی مالیاتی تنظیم سمیت دیگر ہمہ جہت تنظیموں کو مستحکم کرنے اور ان میں اصلاحات لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہمہ جہتی مختلف بین الاقوامی حلقوں کے نشانے...

موضوع: افغانستان سے موصول ہونے والی تشویشناک خبریں

یہ عجیب بدقسمتی کی بات ہے کہ جنگ زدہ اور خستہ حال ملک افغانستان سے اکثر پریشان کن خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں اس وقت آئینی طور پر ایک منتخب حکومت قائم ہے اور وہ کام بھی کررہی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حکومت پورے طور پر مستحکم ہے اور باوجود کچھ رکاوٹوں اور ناہمواریوں کے مجموعی طور پر سب کچھ ٹھیک ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے عرصے سے افغانستان میں امن و آشتی کی آمد سے مستقلاً گریزاں رہا ہے۔ کبھی غیر ملکی فوجوں کی آمد سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اور مزاحمت، کبھی خانہ جنگی، کبھی اقتدار کی رسہ کشی اور کبھی طالبان کا سخت گیر اور خود ساختہ ‘‘شرعی نظام’’ نفاذ لیکن ان تمام مرحلوں میں ایک ہی چیز مشترک نظر آتی ہے۔ خون خرابے اور قتل و غارت گری کا ماحول۔ اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ صدارتی انتخاب تو ہوچکا ہے اور یہ مرحلہ ستمبر کے اواخر میں ہی طے ہوا لیکن ابھی تک نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس لئے نئی حکومت کی تشکیل بھی نہ ہوسکی۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ سننے میں آرہا ہے کہ مزید تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ سنیچر کو افغانستان کے انڈیپینڈنٹ الیکشن کمیشن نے یہ کہا ہے کہ وہ 800 پولنگ اسٹیشنو...

پاکستانی انتہائی پستی کا شکار

اپنے صدر سے لے کر وزیر خارجہ تک پاکستانی حکومت نے ایسے معاملے پر رائے زنی کی ہے جو خالصتاً ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمٹ کے ذریعے یہ ایسا اقدام ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ 9 نومبر 2019 کو ہندوستان کی عدالت عظمی کی پانچ رکنی بنچ نے اترپردیش کے صدیوں پرانے اراضی تنازعے کا اتفاقِ رائے سے فیصلہ دیا تھا جس کے بعد رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ ہندوستانی معاشرے کے تمام طبقات نے اس فیصلے کا خوش دلی سے خیرمقدم کیا ہے۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں اجودھیا کے نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ اراضی مختص کرنے کے بھی احکامات صادر کئے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتوں کو اس اراضی کی نشاندہی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فیصلے کے مطابق متنازعہ اراضی ایک ٹرسٹ کی تحویل میں رہے گی، جس کی تشکیل تین ماہ کے اندر مرکزی حکومت کرے گی۔ اجودھیا میں اراضی کی ملکیت سے متعلق فیصلے کا مقدمے میں شامل تمام فریقین نے خیرمقدم کیا ہے۔ اسی شام وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا اور اس فیصلے پر بھرپور اطمینا ن کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان معاشرے کے ہر طبقے، برادری، ہر مذہب ک...

کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح

گزشتہ 9نومبر اس اعتبار سے ایک بڑا مبارک دن تھا کہ اسی دن کرتارپور صاحب کاریڈور کا افتتاح ہوا۔ یہ مبارک کام اس وقت انجام پایا جب سکھ مت کے بانی باباگرونانک دیو کا 550 واں جشن ولادت منایا جانے والا تھا۔ اور آج یہ جشن بڑے دھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ انفرادی سطح پر بھی بہت سے لوگ اس مقدس موقع پر گرونانک دیو کا جشن پیدائش منا رہے ہیں۔ برصغیر کے اردو کے ممتاز شاعر علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ‘‘ہندوستانی بچوں کا قومی گیت’’ میں ہندوستان کی عظمت کا گیت گاتے ہوئے ایک شعر میں کہا تھا۔ چشتی نے جس زمین پر پیغام حق سنایا نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا یہ انہی بابا نانک کا ذکر ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان اور پاکستان دو آزاد اور خودمختار ملک وجود میں آئے تو یہ بھی ہوا کہ ان دونوں کے درمیان زمین ہی نہیں بنٹی بلکہ مختلف عبادت گاہیں اور مقدس مذہبی مقامات بھی بٹ گئے۔ انہی میں کرتارپور صاحب کا وہ تاریخی گرودوارہ دربار صاحب بھی ہے جو پاکستانی پنجاب میں واقع ہے لیکن اب اسی سے چند میل کی دوری پر ڈیرا بابا نانک ہے جو ہندوستانی پنجاب کے ضلع گرداس پور میں واقع ہے۔ 9نومبر کو وزیراعظم نریند...

کرتارپور صاحب کی اہمیت

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے ان مقدس مقامات کے درشن کیلئے ہرروز دعا کرتے ہیں جو ملک کی تقسیم کے باعث ان کی رسائی سے دور ہوچکے ہیں۔ ایسے ہی مقدس مقامات میں گورودوارہ کرتارپورصاحب ہے جسے سب سے زیادہ مقدس مانا جاتا ہے۔ یہ گورودوارہ راوی ندی کے کنارے بنا ہوا ہے جہاں گورونانک نے اپنی عمر کی آخری 18 سال گزارے تھے۔ یہ بین الاقوامی سرحد سے محض چار کلو میٹر دور ہے اور جسے ہندوستان سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اب کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد ہزاروں یاتری روزانہ اس گورودوارے کا درشن کرسکیں گے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کو جذباتی اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔ وزیراعظم نریندرمودی نے گوروداس پور میں ڈیرہ بابا نانک میں ہندوستان کی جانب کرتارپور راہداری کے چیک پوسٹ کا سنیچر کے روز افتتاح کیا۔ اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب جبکہ راہداری کا افتتاح ہوچکا ہے عقیدتمندوں کیلئے دربار صاحب گورودوارے کا درشن آسان ہوجائے گا۔ دربار صاحب کے درشن کیلئے یاتریوں کے پہلے جتھے میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور مرکزی وزراء ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ سنگھ پوری شامل تھے۔ گورونانک کا 550واں ی...

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے خالصتانی علیحدگی پسندی کے احیاء کی ناپاک کوشش

اس میں کوئی شک نہیں کہ کرتارپور کاریڈور کو سکھ عقیدتمندوں کے لیے کھول کر پاکستان نے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے،لیکن سکھ زائرین کی کرتارپور آمد سے ٹھیک پہلے جس طرح اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں سکھ علیحدگی پسندوں خصوصاً جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کے پوسٹر نظر آرہے ہیں اس سے پاکستان کی بد نیتی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ گرو نانک دیو کے مقام پیدائش کرتارپور کو سکھوں میں بیحد عقیدت سے دیکھا جاتا ہے اور وہاں تک ہندوستانی سکھ زائرین کی رسائی میں سہولتیں پیدا کرنے کا مطالبہ بھی دو دہائی سے زیادہ پرانا ہے۔کچھ عرصہ قبل ہندوستانی سرحد سے کرتار پور تک ایک کاریڈور بنانے کا اعلان پاکستان نے کیا تھا۔یہ کاریڈور اب گرونانک دیو کی 550 ویں جینتی یا سالگرہ کے موقع پر ہندوستان سے کرتارپور آنے والے زائرین کے لیے باقاعدہ کھولا جا رہا ہے۔9 نومبر کو576 سے زیادہ سکھ زائرین کے کرتار پور گرودوارہ آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔سکھ زائرین میں اس موقع پر بجا طور پر کافی جوش بھی ہے،لیکن جس طرح پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں خالصتان علیحدگی پسندوں کے پوسٹر اس موقع پر نظر آرہے ہیں اس سے پاکستان کی ب...

پاکستان میں خاتون صحافیوں کی آن لائن ہراسانی کے واقعات

ان دنوں پاکستان میں یوں تو کسی بھی لحاظ سے حالات درست نہیں ہیں۔ کہیں حکومت کے خلاف دھرنا چل رہا ہے تو کہیں ناراض عوام جلسے اور جلوس نکال رہے ہیں۔ اور کسی کے بھی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ نیا پاکستان کیسا ہے، جس کے وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا اور کیا یہی وہ ریاست مدینہ ہے جس کا خواب پاکستانی عوام کو دکھایا جارہا ہے۔ ان سب کے درمیان ایک رضاکار تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت کا اہم ستون‘صحافت اوراس سے وابستہ بالخصوص خاتون صحافیوں کی پاکستان میں حالت کتنی تشویش ناک ہے۔رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں مرد ساتھیوں کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کو زیادہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس سے تنگ آکر وہ یا تو خود اپنے آپ پر سیلف سنسرشپ عائد کرلیتی ہیں، یا پھر میڈیا انڈسٹری ہی چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر وہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھنا چاہیں تو ان کے اہل خانہ یا معاشرے کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی ایسی خاتون صحافیوں کی تعداد 77فیصد ہے۔اور ہر 10میں سے تین خاتون صحافی ...