موضوع: پاکستان دوراہے پر
پاکستان میں بنیاد پرستوں کے لیڈر کے روپ میں تصور کیے جانے والے مولانا فضل الرحمن نے راجدھانی اسلام آباد پر طمطراق کے ساتھ گھیرا ڈالا تھا ، اس کی ہوا نکل چکی ہے اوراب ان کے حامی صرف اس تاک میں ہیں کہ کارروائی کا یہ پروگرام کچھ اس طرح اختتام کو پہنچے کہ مولانا اور ان کی پارٹی کی ساکھ رہ جائے۔ غورطلب ہے کہ عمران خان کو حکومت سے برطرف کرنے کے ارادے سے شروع کیے گئے اس نرغہ کو نہ تو مسلم لیگ (نواز) کی تائید حاصل ہوئی اور نہ پاکستان پیپلز پارٹی کی، حالانکہ بقول صحافی نجم سیٹھی، لوگ یہی توقع کررہے تھے کہ مولانا کی کارروائی سے یہ دونوں پارٹیاں مستفید ہوسکتی ہیں۔
دوسری طرف کچھ عرصہ قبل عمران خان نے مقبوضہ کشمیر جاکر کشمیری عوام کے نام پر جو شوشہ چھوڑا تھا، اس میں اب لگتا ہے ایک نئی جہت کا اضافہ ہونے والا ہے یا ہوچکا ہے۔ گزشتہ اگست میں وسیع پیمانے پر یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان نے ملک کی بدسے بدتر ہورہی اقتصادی صورت حال اور معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کشمیر کا راگ الاپنا شروع کیا ہے، لیکن اس حقیقت کے ساتھ اب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ملک کے حقیقی حکمرانوں، یعنی کہ اعلی فوجی جنرلوں کے ساتھ عمران خان سے تعلقات میں قدرے تلخی پیدا ہوچکی ہے اور اس لیے غالبا موصوف کا خیال یہ ہے کہ کشمیر کا راگ فوج کے لیے مددگار ومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔غورطلب ہے کہ یہ وہی عمران خان ہیں جن کو وسیع پیمانے پر فوج کی پہلی پسند تصور کیا جاتا تھا اور ساتھ ہی طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کا بھی۔ لیکن پاکستان کی سیاست میں فوج کا اگلا قدم کیا ہوگا، اس بابت فی الوقت یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا اورقیاس آرائیوں کا دور جاری ہے۔ فوج کے سربراہ قمرجاوید باجوہ اس مہینے کے آخر میں سبکدوش ہورہے ہیں اور 30 نومبر کے بعد ان کی حیثیت کیا ہوگی، یہ بات پردۂ راز میں ہے یا رکھی گئی ہے۔بعض کا خیال ہے کہ عمران سرکار ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کرچکی ہے، لیکن دوسری طرف اسے سرکاری گزٹ میں شائع نہیں کیا گیا ہے اور یہ بات بھی الجھن کا سبب بنی ہوئی ہے۔ لہذاعام خیال یہی ہے کہ عین اسی لایقینی کے سبب پاکستان میں حزب اختلاف کی دونوں بڑی پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کے متعلق کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا ہے۔ کیوں کہ پانساالٹ پڑنے کی حالت میں دونوں کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔ مسلم لیگ(نواز)کے سربراہ نواز شریف کو لے کر عمران سرکار نے جو رویہ اختیار کررکھا ہے اس میں فوج کا کوئی دخل تو ظاہری طور پرمعلوم نہیں ہوتا، لیکن اگر میاں نواز کی بیماری کی صورت بگڑتی ہے تو عمران خان اور ان کی پارٹی غالبا گھاٹے میں رہیں گے، لیکن فوج یقینا فائدہ میں رہے گی اور وہ سیدھے سیدھے عمران خان کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراسکتی ہے۔
لہذا اب پاکستان میں بہت کچھ فوج کے رویہ پر منحصرہے جب کہ فوج نے ابھی اپنے پتے نہیں کھولے ہیں اور وہاں کی صورت کیا کروٹ لے گی، اس سے متعلق قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اگر ماہ نومبر کے اختتام سے پہلے عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے تو ان کا منشا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم کی روانگی کا کریڈٹ ان کو حاصل ہو۔
اس درمیان پاکستان کے عوام کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ تمام ضروریات زندگی کے دام آسمان چھورہے ہیں جب کہ آئی ایم ایف کی شرطوں کے مطابق مختلف سبسڈیوں میں جو کٹوتیاں کی گئی ہے ان کے سبب مہنگائی میں اضافے کا عمل مزید تیز ہوا ہے اور کمرتوڑ ثابت ہورہا ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپیہ کی حالت خستہ ہے اور آج ایک ڈالر تقریبا 150 روپے کے برابر ہے جب کہ دو ماہ پہلے ہی یہ 140 روپے کے آس پاس تھا۔ اس کے سبب پاکستان کو درآمدات پر پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑرہا ہے۔جب کہ اس کو اس کی درآمدات کے پہلے سے کم دام مل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستانی معیشت کی موجودہ صورتحال کا قیاس اس بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو جہاں مالی سال 2018 میں 175اعشاریہ 673 ارب روپے کا فائدہ ہوا تھا وہیں مالی سال 2019 میں (یعنی جون 2019 کے آخر تک) اسے ایک اعشاریہ صفر چار تین ارب روپے کا گھاٹا ہوا ہے جس سے پوری معیشت کا متاثر ہونا قدرتی ہے۔لیکن اس صورت میں جہاں عام آدمی کا پریشان ہونا قدرتی ہے وہیں پاکستانی سیاست کے تمام فریقین عوام کے دکھ درد سے بے خبر ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی گوٹیاں چل رہے ہیں اور سیاست میں لایقینی کا دور جاری ہے۔
بہرکیف!اتنی بات طے ہے کہ آئندہ کچھ دنوں یا ہفتوں میں فوج کیا رخ اختیارکرتی ہے، اس سے پورے ملک کی تقدیر متاثر ہوگی اور ٹھیک یہی چیز ابھی صیغۂ راز میں ہے۔
****
Comments
Post a Comment