جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ چند ماہ قبل میڈیا کی سرخیوں میں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت پاکستان نے ان کے خلاف ایک ریفرنس پیش کیا تھا کہ انہوں نے اپنی فیملی کی غیرممالک میں املاک کی اطلاع حکومت کو نہیں دی تھی، اس پر خود سپریم کورٹ کے حلقوں میں شدید ردّ عمل ہوا تھا اور بعض اعلیٰ عہدیداروں نے بطور احتجاج استعفیٰ بھی دے دیاتھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جسٹس فائز عیسیٰ ایک انتہائی دیانت دار جج کے طور پر جانے جاتے ہیں اس کے باوجود ان کی دیانتداری پر اس لئے شک کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک مقدمہ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ بعض فوجی افسران، اپنے حلف کا پاس نہیں کرتے اور سیاسی امور میں بیجا مداخلت کرکے غیرآئینی فعل کے مرتکب ہوتے ہیں چونکہ یہ فیصلہ فوجی افسران کے خلاف تھا اس لئے فوج یہ برداشت نہ کرسکی کہ کوئی جج اس کے افسران کے خلاف کوئی فیصلہ سنائے۔ اسی لئے جج کی شخصیت کو داغدار بنانے کیلئے ان کےخلاف ریفرنس لایا گیا تھا۔ بہرحال! جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو عدالت عظمیٰ کی بنچ نے اسے ردّ کردیا تھا اور حکومت کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔

بہرحال اب وہی جسٹس فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کی ایک ایسی بنچ کے رکن تھے جس کے سامنے اسلام آباد کی وفاقی حکومت کی ہاؤسنگ اسکیم کا ایک مقدمہ زیرسماعت تھا۔ اس بنچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم تھے۔ پہلے اس مقدمہ کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9ستمبر 2018 کوسنایا تھا۔ بہرحال سپریم کورٹ کی چار رکنی بنچ نے کھلی عدالت میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور وفاقی حکومت کے ملازمین کے فاؤنڈیشن نے جو زمین حاصل کی تھی وہ قانونی طور پر حاصل کی گئی زمین تھی لیکن اس بنچ میں شامل جسٹس فائز عیسیٰ نے ا یک اضافی نوٹ بھی لکھا تھا جس میں یہ وضاحت کی گئی تھی کہ آئین اور قانون کی رو سے چیف جسٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان پلاٹ یا قطعہ آراضی کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ تنخواہوں اور پنشن سے متعلق جو ضابطے اور نوٹیفکیشن صدارتی حکم کے تحت جاری کئے جاتے ہیں، ان میں کہیں بھی یہ بات درج نہیں ہے کہ چیف جسٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے صاحبان کو ایسی مراعات ملنی چاہئیں جن کے تحت وہ زمین یا پلاٹ کے حقدار مانے جائیں۔ ساتھ ہی اپنے نوٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ نے یہ بھی لکھا کہ عوام کی نظروں میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا لازمی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کا وقار اور اعتبار بحال رہے۔ اگر حکومت کی طرف سے جج صاحبان کو زمین یا پلاٹ دینے کا معاملہ سامنے آئے گا تو اس سے عدلیہ کا اعتبار مجروح ہوگا۔ ان کے مطابق آئین اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی ملازمت سے متعلق ضابطے اور شرائط طے کرتا ہے لہٰذا ان ضابطوں اور شرائط میں نہ کوئی چیز جوڑی جاسکتی ہے اور نہ ان میں سے گھٹائی جاسکتی ہے۔ ان ضابطوں اور شرائط کی رو سے جج صاحبان الگ سے کسی طرح کی رعایت کے حقدار نہیں قرار دیئے جاسکتے۔ ورنہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی یہ رعایت مشکوک ہوسکتی ہے۔

اپنے نوٹ میں جسٹس عیسیٰ نے مسلح افواج کے بارے میں کہا کہ فوج کے سینئر افسران کو پلاٹ اور زرعی زمین دی جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں، جیسے جیسے ان کے عہدے بڑھتے ہیں انہیں اضافی پلاٹ اور زرعی زمینیں بھی دی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے بعض پاکستانی مصنفین کی کتابوں کا حوالہ بھی دیا جن میں مسلح افواج کو دی جانے والی رعایتوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان بیجا مراعات کو بدقسمتی سے معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے اور پاکستانی سماج اسے معمول کی بات سمجھ کر نظرانداز کردیتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے جنرل ایوب خان کے بارے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف بننے سے پہلے وہ برطانوی فوجی جنرلوں کے ماتحت کام کرچکے تھے۔ ویسے ہی ایک انگریزی آرمی چیف سے جب انہوں نے اپنے لئے ایک پلاٹ کے لئے گزارش کی تھی تو اسے مسترد کردیا گیا تھا۔ لیکن پاکستانی فوج میں رفتہ رفتہ فوجی افسران کو زمین اور پلاٹ کے علاوہ متعدد دوسری رعایتیں ملنے لگیں، جنہیں وہ اپناحق تصور کرنے لگے۔

انہوں نے اپنے نوٹ میں یہ بھی کہا کہ سول سروس ا ور مسلح افواج میں کام کرنے والے افسران، سبھی پاکستان کی خدمت کرتے ہیں اور آئین ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اس لئے اگر صرف فوجی افسران کو مراعات حاصل ہوں اور سول افسران کو محروم رکھا جائے تو یہ آئین کی رو سے بددیانتی ہوگی۔

جسٹس عیسیٰ کا ایک فیصلے میں لکھا گیا یہ اضافی نوٹ پاکستانی میڈیا میں اس وقت بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن نے سیاسی معاملات میں فوج کی بے جا مداخلت کے خلاف ایک تحریک شروع کررکھی ہے۔ ایک طرف جہاں اپوزیشن پارٹیاں، فوج کے سیاسی رول کے خلاف جگہ جگہ احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام کررہی ہیں وہیں دوسری طرف وزیراعظم عمران خان فوج کا دفاع کرنے میں زمین آسمان ایک کررہے ہیں۔ قیاس یہی ہے کہ ایسے مرحلے میں جسٹس عیسیٰ کا یہ اضافی اور وضاحتی نوٹ ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اس پرحکومت اور فوج کاکیا ردعمل ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات