موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

وزیر خارجہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جنوب مشرقی ایشیاء کے دو ملکوں ، انڈونیشیاء اور سنگاپور کا دورہ کیا۔ جنوب مشرقی ایشیاء کے اپنے دورے کے پہلے مرحلہ کے دوران انہوں نے انڈونیشیاء کے اپنے ہم منصب ریٹنو مرسودی سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحری معاملات کے کوآرڈینٹنگ وزیر جنرل لوہوت بنسار پنجیتان سے بھی ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران دونوں وزراء نے بھارت کے انڈمان اینڈ نکوبار جزیرے اور انڈونیشیاء کے آسے جزیرے کے درمیان مزید تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ انڈونیشیاء بھارت کا ایک قریبی بحری پڑوسی ہے۔ بھارت کے جنوب کا آخری حصہ شمالی انڈونیشیاء کے آخری پوائنٹ سے صرف 90 میل دور ہے۔ بھارت اور انڈونیشیاء کے درمیان بحری تعاون کافی اہمیت کا حامل ہے۔

بھارت کی ‘‘ ایکٹ ایسٹ پالیسی’’ اور انڈونیشیا کی گلوبل میری ٹائم فلکرم فطری طور پر ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ دونوں ممالک آسیان کی مرکزیت اور اس کے اتحاد کی نہ صرف قدر کرتے ہیں بلکہ انھیں فروغ دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر ہند-بحرالکاہل کے مقاصد اور ویژن کو فروغ دینے کی ضمن میں کافی اہم ہے کیونکہ اس علاقے میں دونوں ممالک کے سیاسی، معاشی اور کنیکٹویٹی کے مقاصد ایک جیسے ہیں۔ ہند-بحرالکاہل کے بارے میں آسیان کا نظریہ سامنے آنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ علاقے کے ممالک ہند-بحرالکاہل کو آزاد، شفاف، پرامن، خوشحال اور سب کی شمولیت والاد یکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا علاقہ جو کسی مخصوص ملک سے وابستہ نہ ہو۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے انڈونیشیاء کے سلامتی، سیاسی اور قانونی امور کے کوآرڈینٹنگ وزیر جنرل ایچ ویرانتو سے بھی ملاقات کی اور دفاع اور سلامتی کے شعبہ میں تعاون کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزراء نے دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے بارے میں بھی بات چیت کی۔ جناب جے شنکر نے نائب صدر یوسف کلّا سے بھی ملاقا ت کی۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا جناب ایس جے شنکر کے اس دورے کا بنیادی مقصد تھا۔ بھارت کی لمبی مدت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے یہ ایک منطقی قدم تھا۔ علاقہ میں سنگاپور کے بعد انڈونیشیاء وہ ملک ہے جس کے ساتھ بھارت کی تجارت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ 19-2018 میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت 21 اعشاریہ ایک دو ارب امریکی ڈالر مالیت کی تھی۔ 2018 میں وزیراعظم نریندرمودی کے انڈونیشیاء دورے کے دوران دفاع اور خلاء کے شعبوں میں جو معاہدے ہوئے ان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں کافی مدد ملی ہے۔ بھارت اور انڈونیشیاء اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہیں جو 2017 سے بحری تعاون کے بارے میں مشترکہ بیان دیتے رہتے ہیں۔ بحرہند کی ان دو طاقتوں نے انڈونیشیاء کے سورابایا میں پچھلے سال نومبر میں پہلی بحری مشق کی جسے ‘‘سمدر شکتی’’ کا نام دیا گیا۔ بھارت آسے میں سابانگ کے مقام پر ایک بندرگاہ کی تعمیروترقی کیلئے انڈونیشیاء کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیاء اور اس سے آگے جانے کیلئے سابانگ بھارت کیلئے اہم بحری گزرگاہ ہے۔ سنگاپور کے اپنے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے اپنے ہم منصب ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے ساتھ ہند-سنگاپور مشترکہ وزارتی کمیٹی کی چھٹی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ کے دوران ہند-سنگاپور اسٹریٹجک پارٹنر شپ کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے سنگاپور کے وزیراعظم لی ہین لونگ ، نائب وزیراعظم ہینگ سوی کیٹ او روزیردفاع اینگ ہین سے بھی ملاقات کی۔ جناب جے شنکر نے ہند-سنگاپور بزنس اینڈ انوویشن سمٹ میں بھی شرکت کی۔ جیسا کہ ڈاکٹر جے شنکر نے کہا،سنگاپور آسیان ملکوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھارت کیلئے ایک وسیلہ ہے۔ بھارت نے اسمارٹ سٹی بنانے کی جو پہل کی ہے سنگاپور اسکا کلیدی پارٹنر ہے۔ اس کے علاوہ تجارت، اقتصادیات اور کامرس کے ذیلی شعبوں میں بھی وہ بھارت کا اہم شراکت دار ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کی دوسری مدت میں بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی میں زبردست تسلسل دیکھنے کو ملا۔ اب اس بات کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت ہند-بحرالکاہ کے ملکوں اور بھارت کے رہنماؤں کے درمیان زیادہ سے زیادہ دوروں کا تبادلہ ہو تاکہ جنوب مشرقی ایشیاء اور نئی دہلی کے درمیان رشتے اور مضبوط ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ