Posts

Showing posts from December, 2019

سیاسی مخالفین کے خلاف عمران خان کی انتقامی کارروائیاں

عمران خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے اصل بحران اور پریشانیوں سے نمٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش تو ابھی تک نظر نہیں آئی البتہ ایک بات کا ہر طرف چرچہ ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی حریفوں سے چن چن کر انتقام لے رہے ہیں اور اس کے لئے ریاست کے مختلف اداروں کو بے دریغ استعمال بھی کر رہے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کو انجام دینے میں پاکستانی فوج تو قدرتی طور پر ان کا ساتھ دے ہی رہی ہے لیکن قومی احتساب بیورو ایف آئی اے اور اے این ایف جیسے ادارے اور ایجنسیاں بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ محض الزام نہیں ہے بلکہ صاف نظر بھی آ رہا ہے۔ اس صورت حال کے باعث وہ حلقے بھی عمران خان سے خاصے بد دل اور ناراض ہوئے ہیں جو ان کی کھل کر حمایت کر رہے تھے اور جو یہ امید کر رہے تھے کہ واقعی عمران خان پاکستان میں ایک شفاف اور منصفانہ نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جس میں بد عنوانی کا سلسلہ یقینی طور پر رکے گا یا کم از کم سرکاری اداروں میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ لیکن قریب ڈیڑھ سال کے عرصہ کے بعد لوگ عمران خان کی حکومت کی کار کردگی سے کچھ اتنے زیادہ مایوس نظر آتے ہیں کہ عوام کے بیشتر حلقے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ...

افغانستان کے صدارتی انتخابات

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اس جنگ زدہ ملک نے نوآموز جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اور سنگ میل طے کر لیا ہے۔ افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ صدر اشرف غنی کل ووٹوں کا 50؍ اعشاریہ چار چھ فیصد ووٹ حاصل کرکے انتخابات جیت گئے ہیں جبکہ صدر غنی کے قریبی حریف اور سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ووٹوں سے شکست کھاگئے۔  ایک ایسے ملک کے لئے جو طالبان کی جانب سے برپا تشدد کے درمیان سولین حکومت کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو، وہاں کا آزاد انتخابی کمیشن انتخابی دھاندلیوں کے امکانات کے بارے میں کافی محتاط رہا ہے اور اس کی پوری کوشش رہی ہے کہ انتخابات صاف وشفاف ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں ووٹر بایو میٹرک ٹسٹ میں فیل ہوگئے جس کے سبب انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود دھاندلیوں کی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں جن پر الیکشن کمیشن نے غور کرنے کاوعدہ کیا ہے۔ ان شکایات کو دور کرنے میں ہفتوں کیا مہینوں لگ سکتے ہیں۔ تمام شکایات پر غور کرنے کے بعد اگر یہ پایا گیا کہ ...

توہین مذہب کے نام پر پاکستان میں ظلم وزیادتی

اخوت، رواداری اور ہم آہنگی نہ صرف سبھی مذاہب کے بنیادی اصول ہیں بلکہ حقوق انسانی کے بھی اہم جزو ہیں۔ کسی بھی ملک کے سماج کی تشکیل اگر ان بنیادوں پر ہوتی ہے تو وہ صحیح سمت میں ترقی کرتا ہے۔ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کو قطعی برداشت نہ کرنا اور اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنے سے سماجی تانا بانا کمزور ہوتا ہے اور اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ پاکستان کا سماج انہی مشکلات سےدوچارہے۔ پاکستانی سماج میں رجعت پسندی عام ہے اور روشن خیالی کا فقدان ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی عقل ودانش کی بات کرتا ہے، اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے، تو اسے نشانہ بنایاجاتا ہے، یہاں تک کہ اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کا معاملہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں خاص طور سے اقلیتی اور عام طور پر اکثریتی فرقہ کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے انجام سے کون واقف نہیں ہے۔ وہ صرف توہین رسالت کے نام پر ہونے والے تشدد پر روک لگانے کے لیے قانون می...

پاکستان امریکہ کی مذہبی تفریق کی فہرست میں شامل

امریکہ نے پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں دوبارہ شامل کرلیا ہے جن کے یہاں مذہبی تفریق رائج ہے۔ اس فہرست میں میانما، چین، اییرٹیریا (Eritrea)، ایران، شمالی کوریا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اورترکمانستان کے نام شامل ہیں۔ امریکی وزارت کارجہ ایسے ملکوں کو جہاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں یاہورہی ہیں 1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی تحت اس فہرست میں شامل کرتا ہے ‘‘جسے کنٹریز آف پارٹیکولرکنسرن’’ (Countries of Particular concern ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس زمرہ میں جو ممالک آتے ہیں امریکہ ان کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو اس فہرست میں دوبارہ شامل کیاجانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کچھ چنیدہ ملکوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس اقدام سے مذہبی آزادی کو فروغ دینے میں مدد نہیں ملے گی۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں آئین کے تحت مختلف ثقافتی اقلیتوں کو اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کے تمام شعبوں نے، خواہ وہ انتظامیہ ہو، مق...

ایغورمسلمانوں کی صورتحال پر پاکستان کا منافقانہ رویہ

ہانگ کانگ میں چین کے صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے ایغور مسلمانوں کے حق میں مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ سات ماہ سے ان مظاہروں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں وہاں جو مظاہرے ہوئے ان میں پولیس نے طاقت کا بے محابہ استعمال کیا ہے۔ مظاہرین میں نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بھی شامل تھے۔ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ انھوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ایغور کو آزاد کرو، ہانک کانگ کو آزاد کرو اور چین میں جعلی خود مختاری کا نتیجہ نسل کشی ہے۔ ایغور مسلمانوں کے حق میں یہ مظاہرہ برطانیہ کی فٹ بال ٹیم آرسینل کے کھلاڑی مسعود اوزِل کی چین کی پالیسیوں پر تنقید کے بعد کیا گیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر ایغوروں کے حق میں بیانات جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ چین کے جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ میں مسلم اقلیت سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ مسعود اوزِل ترک نژاد جرمن مسلمان ہیں۔ انھوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ایغور جنگجو ہیں اور وہ جبر واستبداد کی مزاحمت کررہے ہیں۔ انھوں نے سنکیانگ میں چین کی سخت کارروائیوں اور ان پر دوسرے ممالک کے مسلمانوں کی خاموش...

افغان الیکشن کے نتیجہ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال

افغانستان میں صدارتی الیکشن کوئی تین ماہ قبل منعقد ہوا تھا اور وہ بھی کافی تاخیر سے ہوا تھا۔ یکے بعد دیگرے کئی بار تاخیر کے مرحلوں سے گزرنے کے بعد بالآخر 28 ستمبر کو انتخابات منعقد ہوسکے تھے۔ اس ضمن میں ایک بات اور ہے جسے جمہوریت اور انتخابات کے حوالے سے کوئی اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا۔ ووٹروں کی بہت معمولی تعداد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ اگرچہ افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے 20 لاکھ سے بھی کم ووٹروں کی شمولیت ہوپائی ہے۔ بہرحال جن حالات اور جس ماحول سے انتخابی عمل گزر رہا تھا، وہ کچھ زیادہ موافق نہیں تھا۔ توقع کے عین مطابق طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی تخریبی سرگرمیاں نہ صرف جاری تھیں بلکہ ان میں شدت بھی آگئی تھی۔ طالبان کے لیڈر قدم قدم پر افغان حکومت کے ہر کام میں رکاوٹ ڈال رہے تھے اور باوجودیکہ امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات بھی چل رہے تھے، طالبان کے نہ صرف حملے جاری تھے بلکہ انتخابی ریلیوں اور امیدواروں کو بھی نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ایک صدارتی امیدوار تو ایک حملے میں بال بال بچے لیکن شدید طور پر زخمی ہوگ...

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے سوال پرمزید وضاحت کامطالبہ

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، کے مصداق کافی لمبے انتظار کے بعد ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے خلاف مقدمہ لاہور کی دہشت گردی مخالف عدالت میں چند روز قبل شروع ہوا۔ حافظ سعید کے خلاف کئی طرح کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے فنڈ فراہم کرنے کامعاملہ بھی شامل ہے ۔ یاد رہے کہ حافظ سعید اور ان کے گروپ کو اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اورایک لمبے عرصہ سے عالمی برادری کی طرف سے پاکستان پر زبر دست دباؤ پڑتا رہا ہے کہ حافظ سعید اور ان کی مشتبہ اور ممنوعہ جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے اور قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید اور ان کے کئی اہم معاونین ۔ عبد السلام بن محمد ، محمد اشرف ا ور ظفر اقبال کے خلاف دہشت گردی کے لئے فنڈ فراہم کرنے کے معاملے میں فرد جرم 11 دسمبر کو عائد کی ۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے عدالت میں ایک گواہ پیش کیا ۔ سماعت کے بعد عدالت کے ایک افسر نے پریس والوں کوبتایا کہ گواہ نے حافظ سعید...

ہندوستان اورچین کے خصوصی نمائندں کے درمیان بات چیت میں پیش رفت

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات چیت کرنےکے لئے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران جناب یی نے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو سے بھی ملاقات کی ۔ دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان اس بار کی بات چیت بعض عوامل کی وجہ سے کافی اہم تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جنپنگ نے اس سال اکتوبر میں چنئی کے نزدیک ملا پورم میں غیر رسمی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ سرحدوں کو پر امن رکھنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی جذبے کے تحت قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کہا کہ طرفین کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور سرحدی تنازعہ کے حل کے لئے ایک نیا ویژن پیش کیا ہے ۔ چین کےنمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ بات چیت کے بعد دونوں ممالک مینجمنٹ رولس وضع کرنے اور مواصلات کو مضبوط بنانے کےلئے رضامند ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طرفین نے سرحدی فوجوں کے تبادلے اور سرحدی میٹنگ پوائنٹس میں اضافہ کرنے سے بھی اتفاق کر لیا ہے۔ اس لئے اس ب...

پاک عدلیہ کی، فوج اور حکومت کی جانب سے تنقید:بلی تھیلے سے باہر 

پاداش بخیر! یہ دو دہائی سے بھی کچھ اوپر کی بات ہے ۔1999 میں جنرل پرویز مشرف نے جب نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور جب بہت سی سیاسی پارٹیوں نے مل کر بحالیٔ جمہوریت کے لئے ایک نئی تحریک کی داغ بیل ڈالی تھی تو اس وقت ایک بزرگ اور منجھے ہوئے پاکستانی سیاست داں نصر اللہ خان نے کہا تھا کہ جنرل مشرف پاکستان کے آخری فوجی ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے اور پہلے غاصب فوجی جنرل جن پر کھلی ہوئی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ کم از کم مرحوم نصر اللہ خان کی اتنی بات تو درست ثابت ہوئی کہ جنرل مشرف پر ایک سیول عدالت میں غداری کے مقدمے کی سماعت ہوئی اور سزا بھی ہوئی اگرچہ یہ سزا ان کے غاصبانہ قبضے یا فوجی بغاوت کی پاداش میں نہیں ہوئی بلکہ 2007میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین کو معطل کرنے کی بنا پر ہوئی۔ بہرحال سزا تو ہوئی او رپاکستانی عدالت کی طرف سے یہ پہلی مثال ہے کہ کسی غاصب ڈکٹیٹر کو سزا سنائی گئی ورنہ اس سے پہلے فوجی جنرلوں کے ہاتھوں سیویلین حکمرانوں کو معزول، ذلیل ، جلا وطن اور پھانسی تک دئیے جانے کی مثالیں یکے بعد دیگرے آتی رہیں جن پر پاکستانی عدلیہ ہمیشہ خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ بہرح...

سعودی-قطر تعلقات میں گرم جوشی کے اشارے

خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کی 40 ویں سربراہ میٹنگ کے بعد سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے کچھ کم ہونے کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں جو سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ ان چاروں ملکوں نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاکر اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ ریاض میں خلیج تعاون کونسل کی سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو ذاتی دعوت نامہ بھیجا تھا۔ اس کے جواب میں قطر نے سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے اپنے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر الثانی کو ریاض روانہ کیا۔ قطر کی جانب سے سنہ 2017 کے بعد سے یہ سب سے اعلی نمائندگی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اسی سال قطر سے ملی 61 کلو میٹر لمبی سرحد پر سعودی عرب نے 200میٹر چوڑی نہر کھود کر قطر کو عرب جزیرۂ نماسے علاحدہ کرکے ایک جزیرہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کی جانب سے مثبت اقدام...

موضوع: دہشت گردی آمریت اور عدلیہ کی رسہ کشی

پاکستان کے ایک مقتدر ماہر قانون اور دانش ور نے چند روز قبل ایک خدا لگتی بات کہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مذہب کے نام پر جنگ جو ئی کرنا بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہی ہے۔ یہ ماہرِ قانون اور دانش ور کوئی اورنہیں بلکہ پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس آصف سعید ہیں جو حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان کی فیڈرل جوڈیشیل اکیڈمی کے ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ جلسہ سابق فاٹا اور پاٹا میں عدالتی نظام پر جنگ جوئی کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور جنگ جوئی کے قہروعذاب کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کئی پہلوؤں والی حکمت عملی اختیار کی جائے۔انھوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگجو رویّوں اور دہشت گردانہ حرکتوں کی پوری ایک تاریخ اس جلسے میں بیان کی اور کہا کہ جنگ جوئی، دہشت گردی کی ہی دوسری شکل ہے جو مذہبی تشدد اور سیاست کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں کسی نہ کسی صورت میں زمانۂ قدیم سے چلی آرہی ہے اور عام لوگوں کو اپنا شکار بناتی رہی ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹس نے جو کچھ اپنی تقریر میں کہا اسے اگر خود پاکستان کی فوجی یا غیر فوجی حکومت...

موضوع: عمران خان کی مشکلات، ہنگامی میٹنگ کا انعقاد

ایک سویلین خصوصی عدالت کے ذریعہ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مشکلات کافی بڑھ گئی ہیں کیونکہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلائے جانے اور سزا دلوانے کی پرزور حمایت کرتے تھے اور اس معامے میں قطعی کسی سمجھوتےبازی کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن موجودہ صورت ھال میں ان کے ذہنی تناؤ کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے کیوں کہ وہ بہر حال فوج کے حامی ہیں اور فوج کے احسانات بھی ان پر بے حساب ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی وزارتِ عظمی کی کرسی فوج کی خصوصی کوششوں ہی کی مرہون منت ہے اس وقت ان کی پریشانی اور بڑھ گئی جب مشرف کے خلاف عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان آیا کہ اسے مشرف کو سزا دینے کا شدید غم اور غصہ ہے۔ فوجی ترجمان نے ایک طرح عدالت کے فیصلے کو ہی مسترد کردیا۔ جب اس نے یہ کہا کہ جنرل جیسا لمبی خدمات پیش کرنے والا پاکستانی سپاہی غدار ہوہی نہیں سکتا۔ فوج کا یہ فوری رد عمل سامنے نہ آتا تو شاید عمران خان کو اتنی پریشانی نہ ہوتی۔ سب سے زیادہ فکر کی بات ان...

پاکستان میں ایک سابق فوجی ڈکٹیٹر کو سزائے موت 

پاکستان کی 72 سال کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی فوجی ڈکٹیٹر کو ایک خصوصی عدالت کی جانب سے آئین پاکستان سے غداری کرنے کے جرم میں سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ حالانکہ پاکستان میں متعدد بار فوجی بغاوتیں ہوئیں اور فوجی جنرلوں نے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وہاں کی آئینی طور پر قائم ہونے والی حکومتوں کو گرا کر اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور لمبی لمبی مدت تک عوام کو جمہوریت سے محروم رکھا۔ جنرل مشرف آخری فوجی ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے 1999 میں اس وقت کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے محروم کر دیا تھا۔صرف اتنا ہی نہیں ان پر دہشت گردی سمیت کئی طرح کے الزام لگا کر جیل میں بھی ڈال دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں سیاست اور پاکستان سے دور رکھنے کےلئے خاندان سمیت جلا وطن بھی کر دیا تھا۔ بہرحال جنرل مشرف کا جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد بطور صدر مواخذہ ہونے والا تھا تو وہ مستعفی ہو گئے۔ ان کے زوال کے بعد 2008 سے پاکستان میں کوئی فوجی بغاوت تو نہیں ہوئی اگر چہ فوج کی طاقت اور بالا دستی بدستور قائم ہے۔ جنرل مشرف سے پہلے بھی تین فوجی جنرل اقتدار پر قابض رہ چکے تھے اور مجموعی طور پر پاکستان کا تین د...

آب و ہوا سے متعلق کانفرنس بغیر اتفاق رائے کے اختتام پذیر

اسپین کی راجدھانی میڈرڈ میں آب و ہوا سے متعلق جو کانفرنس ہوئی وہ کم وبیش دو ہفتہ پر محیط تھی۔ اقوام متحدہ کے اہتمام میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں اور توقع کی جا رہی تھی کہ 2015 میں پیرس کانفرنس میں جو سمجھوتہ ہوا تھا اس پر عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے مزید اقدامات کئے جائیں گے تاکہ ماحولیات کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے مزید موثر پروگرام ترتیب دیئے جا سکیں ۔ لیکن وہاں سے اقوام عالم کو جو پیغام گیا وہ خاصا مایوس کن تھا۔ اس بار کانفرنس کو کاپ 25 کا نام دیا گیا تھا۔ اس پروگرام کی کار کردگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتاہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے ممبر ممالک کو اس بات پر مائل کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ اسکانرنس کے توسط سے اونچے نشانے طے کئے جائیں گے تاکہ پیرس سمجھوتے کی اسپرٹ کے مطابق کام آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے بڑی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘‘میں کاپ 25 کے نتیجہ سے مایوس ہوا ہوں کیونکہ بین الاقوامی برادری نے اتنا اہم موقع گنوا دیا‘‘۔کم و بیش200 ملکوں میں سے صرف73 نے قدم آگے بڑھائے اور اس بات کا رسمی طور پر عزم کیا کہ ...

ایغور مسلمانوں سے متعلق حقائق لیک ہونے کے بعد چین کی جانب سے رکارڈ تباہ کرنے کی کوشش 

گزشتہ ماہ نیو یارک ٹائمز نے ایغور مسلمانوں پر ہونے والی زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالی پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دستاویزی ثبوت کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ چین کے صوبۂ شی جیانگ میں جہاں ایغور مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے اور جہاں ان پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ لمبے عرصے جاری ہے وہاں کے حقائق کی پردہ پوشی کے لئے اعلیٰ چینی حکام نے کچھ ایسی ہدایات مقامی انتظامیہ کے نام جاری کی تھیں جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ حقائق کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ دراصل صوبۂ شی جیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف ایک لمبے عرصے سے سخت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر کے میڈیا میں اس بات کا چرچہ رہا کہ حکومت چین نے دس لاکھ سے زیادہ ایغور اور بعض دوسری نسل کے مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔ اس پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوئے اور اقوا م متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا اور اس کی مذمت کی ۔ چین کی جانب سے ہمیشہ حقائق کو جھٹلانے کی کوشش ہوتی رہی لیکن گزشتہ ماہ کچھ ایسے ثبوت سامنے آئے، جسے جھٹلانا چینی حکام کے لئے آسان نہیں تھا۔ نیو یارک...

ہندوستان اور مالدیپ کے مشترکہ کمیشن کی چھٹی میٹنگ

ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان مشترکہ کمیشن کی چھٹی میٹنگ حال ہی میں نئی دہلی میں ہوئی۔ اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت مالدیپ کے وزیر خارجہ عبد اللہ شاہد اور ان کے ہندوستانی ہم منصب ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کی۔ میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ صالح حکومت کی تشکیل کے بعد گزشتہ ایک برس کے دوران مالدیپ میں جمہوری عمل مضبوط ہوا ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ ترقیاتی امداد کے ذریعے مالدیپ کے سماجی شعبہ کی ترقی کے علاوہ دونوں ملک بحری سیکورٹی اور دفاع کے شعبہ میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ مالدیپ میں صدارتی انتخابات کے بعد ہندوستان نے مالے کے لئے ایک اعشاریہ چار ارب امریکی ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ نئی دہلی نے بنیادی ڈھانچہ کے پروجیکٹوں کے لئے آٹھ سو ملین ڈالر کے قرض کا بھی اعلان کیا۔ اس امداد سے مالدیپ کے مختلف جزیروں کے درمیان موجود ترقیاتی نابرابری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کی اس سال کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں...

امریکہ-طالبان امن مذاکرات سے متعلق شکوک وشبہات

ایک بار پھر یہ خبر گرم ہے کہ دوحہ میں امریکی اور طالبان کے نمائندوں کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ہفتہ شروع ہوگیا ہے۔ جہاں تک افغانستان میں قیام امن کی بات ہے تو کون ہے جونہیں چاہتا کہ اس شورش اور جنگ زدہ ملک میں پائیدار نوعیت کا امن قائم ہونا چاہئے ۔ کیونکہ قریب چار دہائیوں سے وہاں کے عوام امن کے انتظار میں ہیں۔ لمبے عرصہ تک انہوں نے صرف موت کا ناچ ، خلفشار، کشت وخون اور کوڑے برسائے جانے کے واقعات کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔ 11/9 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد وہاں امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تھی۔ القاعدہ کے خلاف کارروائیاں تو ہوئیں لیکن انہیں پناہ دینے والی طالبان انتظامیہ بھی زمیں بوس ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد وہاں آئینی حکومت کا سلسلہ بھی شروع ہوا لیکن افغانستان کے امن کے متلاشی امن پسند شہریوں کو چین کے لمحات کم ہی نصیب ہوئے۔ چند سال قبل امریکہ کی قیادت والی فوجوں کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس چلی گئی لیکن اس کے بعد افغانستان میں تشدد اور طالبان کے حملوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ہر روز انسانی جسموں کے چیتھڑے فضا میں اڑتے نظر آئے۔ اس میں امریکی فوجیں بھی نشانہ...

موضوع: میڈرڈ تبدیلی آب وہوا کانفرنس:ہندوستان کی کارکردگی کی ستائش

اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں دنیا کے 196ملکوں کے رہنما اور ماہرین ماحولیات،عالم انسانیت کے لئے خطرہ بن چکے ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات اور اس کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار پر غور و خوض کررہے ہیں۔ کاپ (coop) 25کے نام سے اس عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بالکل درست کہا کہ انسان کئی دہائیوں سے کرۂ ارض کے خلاف جنگ کی حالت میں ہے اور اس سیارے نے انسان کے خلاف لڑائی کا آغاز کردیا ہے۔عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ہمیں عالمی ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اوریہ عالمی بحران ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔گوٹیرس کے مطابق ماحولیات سے متعلق سنگین بحران پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور تباہ کن ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسانی صحت اور غذائی امن خطرات سے دوچار ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مربوط فضائی آلودگی سالانہ 70 لاکھ افراد کی موت کا سبب بن رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ترقی یافتہ اور بڑے اقتصادی ملکوں کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر روک لگانے کے واسطے ک...

حافظ سعید کے خلاف فرد جرم حقیقت یا دکھاوا؟

لاہور ہائی کورٹ نے اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار، جماعت الدعوہ کے سرغنہ اور ممبئی حملوں کے ماسٹرمائنڈ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں ماخوذ کیا ہے۔ اس سال جولائی میں پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمہ نے سعید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 23 ایف آئی آر درج کی تھیں جس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سعید کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے 11 دسمبر کی تاریخ طے کی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرد جرم اب کیوں طے کی گئی ؟ کیا اب عدالت سعید کے خلاف مقدمہ کی سماعت سنجیدگی کے ساتھ کرے گی؟ وہ تمام لوگ یہی سوال کررہے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ پاکستانی نظام کیسے کام کرتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان پر فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا زبردست دباؤ تھا۔ نہ صرف ایف اے ٹی ایف بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں پاکستان پرکافی دباؤ تھا۔ سلامتی کونسل کے دباؤ کے بعد اسلام آباد کو سعید کے بینک کھاتوں سمیت تمام مالی اثاثوں کو م...

موضوع: پاکستان کے سیاسی افق پر قیاس آرائیوں ،کنفیوزن اور شکوک کا مینا بازار

پاکستان میں اقتدار کا جو ڈھانچہ ہے اور سیویلین قیادت اور فوج کے آپسی تعلقات کی جو نوعیت رہی ہے اس میں کنفیوزن اور قیاس آرائیوں کا موحول تو اکثر قائم رہتا ہے، لیکن عمران خان کے دور اقتدار میں قیاس آرائیوں اورسسپینس کی کئی جہتیں نظر آتی ہیں۔ یہ بات تو سبھی کے علم میں ہے کہ فوج اور عمران حکومت کے رشتے بہت اچھے رہے ہیں اور عام تاثر یہ تھا کہ فوج ہر حال میں یہ رشتہ نبھائے گی اور شاید عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہونگے جو پانچ سال کی مدت پوری کرلیں گے۔ یہ قیاس آرائی اس لئے تھی کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو بر سر اقتدار لانے میں فوج نے انتہائی اہم رول ادا کیا تھا۔ لیکن حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ نہ صرف حکومت اور فوج کے رشتوں پر سوال اٹھنے لگے بلکہ فوج اور عدالت نیز فوج اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان کئی طرح کی ڈیل کی باتوں پر بھی بحث ہونے لگی۔ایسا ہونا پاکستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اکثر فوج اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان ڈیل یا درپردہ سمجھوتہ بازی کی چیزیں عام ہوتی رہی ہیں۔ بہر حال حالیہ دنوں میں کئی باتیں ایسی بھی ہو ئیں جن سے ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان ڈیل کی باتیں آ...

 شہریت  ترمیمی بل کا مقصد پڑوسی ممالک کے اقلیتی پناہ گزینوں کو شہریت دینا ہے

پڑوسی ممالک کے ستائے ہوئے اقلیتی پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دینے سے متعلق شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں منظور کرلیا گیا ہے۔ اب اسے ایوان بالا میں پیش کیا جائیگا۔ اسی دوران پاکستان نے اس اقدام کے خلاف ایک بیان جاری کیا ہے ۔ ایک ایسا ملک جس نے اپنی اقلیتوں پر ہمیشہ ظلم ڈھائے اور ان کا صفایا کرنے میں لگی رہی، اس معاملہ پر بولنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ قابل ذکر ہے کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی 23 اعشاریہ 5فیصد تھی جو اب پاکستان کے ظلم و ستم کے باعث کم ہوکر محض تین اعشاریہ 5فیصد رہ گئی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت جواہر لعل نہرو اور لیاقت علی خاں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس میں دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے کے باوجود پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی میں کافی کمی واقع ہورہی ہے اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ظلم وستم سے پریشان ہوکر ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی اقلیتی آبادی میں کافی کمی آئی ہے۔ 1971 میں اس کے قیام کے وقت وہاں اقلیتوں کی آبادی 21 اعشاریہ تین فیصد تھی جو اب گھٹ کر م...

ماریشس کے وزیراعظم کا دورۂ ہند 

ماریشس کے نو منتخب وزیراعظم پروند جگناتھ نے گزشتہ ہفتہ ہندوستان کا دورہ کیا۔اس دورےسے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ رشتوں کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ ماریشس کی اس وقت کل آبادی ایک اعشاریہ تین ملین ہے۔ اس میں سے دوتہائی سے بھی زیادہ آبادی ہند نژاد ہے۔ اس لئے اپنی سلامتی، معاشی اور ترقیاتی تشویشات کو دور کرنے کے لئےہندوستان اور ماریشس کا ایک دوسرے کی جانب جھکنا فطری امر ہے۔ نئی دہلی کے سفارتی حلقوں میں جناب جگناتھ کے اس دورے کو اگرچہ نجی قرار دیا گیا ہے تاہم وزیراعظم نریندرمودی نے حیدرآبادہاؤس میں ان کی میزبانی کی،جہاں عام طور پر غیر ملکی اہم شخصیات کی میزبانی کی جاتی ہے۔ اپنی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عہد کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم مودی نے ماریشس کو ایک خوشحال اور مستحکم ملک بنانے میں ہندوستان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان ماریشس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اس کی خوشحالی اور ترقی میں ہر طرح کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے اور حکومت ماریشس اور وہاں کے عوام کو اس بارے میں کوئی شک نہ...

چین میں ایغور مسلمانوں کی حالت زار

مبہم پالیسی کسی ملک کی واضح، شفاف اور مثبت شبیہ نہیں بنا سکتی مگر چین کی پالیسی بھی واضح نہیں اور اس کے دوست پاکستان کی پالیسی بھی غیر واضح ہے۔ پاکستان ایک طرف تو کشمیریوں کے حقوق کی باتیں کرتا ہے مگر اپنے علاقے کے لوگوں کے حقوق کا اسے پاس نہیں ہے۔ جبری گمشدگی کے واقعات پر بلوچستان کے لوگ آئے دن احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ پاک لیڈران ہندوستانی مسلمانوں کو ورغلانے والے بیانات دیتے رہتے ہیں لیکن سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کی حالت زار پر ہمدردی کے دو بول بولنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی پاکستانی تاجروں کے ایغوروں سے رشتے ہیں۔ ایغور نسل کی ان کی بیویوں کو چین نے ڈٹینشن کیمپوں میں قید کر رکھا ہے، وہ اس کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں لیکن پاک حکومت اپنے شہریوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے خاموش رہنے میں ہی بہتری سمجھتی ہے، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اس کا دوست چین ناراض ہو جائے گا۔ اس خاموشی کا صلہ چین یہ دیتا ہے کہ برے عمل میں بھی وہ پاکستان کا حامی و مددگار رہتا ہے۔ اقوام متحدہ میں دہشت گرد سرغنہ مسعود اظہر پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو چین نے بار بار ویٹو کیا۔ اس کا موقف ایسا تھا جیسے...