موضوع: پاکستان کے سیاسی افق پر قیاس آرائیوں ،کنفیوزن اور شکوک کا مینا بازار
پاکستان میں اقتدار کا جو ڈھانچہ ہے اور سیویلین قیادت اور فوج کے آپسی تعلقات کی جو نوعیت رہی ہے اس میں کنفیوزن اور قیاس آرائیوں کا موحول تو اکثر قائم رہتا ہے، لیکن عمران خان کے دور اقتدار میں قیاس آرائیوں اورسسپینس کی کئی جہتیں نظر آتی ہیں۔ یہ بات تو سبھی کے علم میں ہے کہ فوج اور عمران حکومت کے رشتے بہت اچھے رہے ہیں اور عام تاثر یہ تھا کہ فوج ہر حال میں یہ رشتہ نبھائے گی اور شاید عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہونگے جو پانچ سال کی مدت پوری کرلیں گے۔ یہ قیاس آرائی اس لئے تھی کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو بر سر اقتدار لانے میں فوج نے انتہائی اہم رول ادا کیا تھا۔ لیکن حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ نہ صرف حکومت اور فوج کے رشتوں پر سوال اٹھنے لگے بلکہ فوج اور عدالت نیز فوج اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان کئی طرح کی ڈیل کی باتوں پر بھی بحث ہونے لگی۔ایسا ہونا پاکستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اکثر فوج اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان ڈیل یا درپردہ سمجھوتہ بازی کی چیزیں عام ہوتی رہی ہیں۔ بہر حال حالیہ دنوں میں کئی باتیں ایسی بھی ہو ئیں جن سے ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان ڈیل کی باتیں آئیں ۔ ان میں سے ایک بات تو یہی ہے کہ نواز شریف کو عدالت سے بغرض علاج ملک سے باہر جانے کی جو اجازت ملی اس سے وزیراعظم عمران خان کو دھچکا لگا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت ملے ۔ لیکن جب ان کا جانا یقینی ہو گیا تو عمران خان کے دل میں قدرتی طور پر یہ خیال آیا کہ لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طور پر فوج اور عدالت کے درمیان اس سلسلے میں کوئی ڈیل ہوئی ہوگی۔ سیاسی حلقوں میں بلکہ عوامی سطح پر بھی یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں کہ عمران خان کی حکومت کے دن اب گنتی کے رہ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں تو قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا ہی کہ ایک دوسرا اور بڑا معاملہ سامنے آ گیا یہ معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت ملازمت میں توسیع کا ہے ۔ وہ گذشتہ مہینہ کی29تاریخ کو ریٹائر ہونے والے تھے لیکن اس سے کئی ماہ قبل ہی وزیراعظم عمران خان نے انہیں تین سال کا ایکسٹینشن دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے سوال کھڑا کر دیا ۔ اس میں ایک ٹیکنیکل خامی تو تھی ہی کہ یہ آرڈر صدر مملکت کی جانب سے جاری ہونا چاہئے تھا لیکن اسے جاری وزیراعظم نے کیا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہوئی کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو یہ ہدایت دی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں وہ قانون میں ترمیم کر کے اس کا کوئی واضح ضابطہ مرتب کرے ،فی الحال سپریم کورٹ نے 6 ماہ کا ایکسٹینشن دے دیا ہے۔اب اس معاملہ نے ایک سنگین رخ اس لئے اختیار کر لیا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کیسے ہوا۔ حکومت اور اپوزیشن کے رشتوں میں جو تلخی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے لئے اس الجھن سے نکلنا آسان نہ ہوگا۔ ایک طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے ۔ معمولی اکثریت سے پارلیمنٹ سے یہ ترمیم منظور کرالی جائے ، دوسرا یہ کہ دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جائے لیکن موجودہ حالات میں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے رشتے بے حد خراب ہیں ،ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ عدالت کے فیصلے کی ابھی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عدالت معمولی اکثریت کو کافی سمجھتی ہے یا دو تہائی اکثریت لازمی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کا معاملہ بے یقینی کا شکار رہے گا۔
دوسری طرف حکومت تو یہی چاہتی ہے کہ اپوزیشن کی حمایت یا اس کی حمایت کے بغیر بھی آرمی ایکٹ میں ترمیم کرالے۔ لیکن دوسری طرف اس نے تین ممبران پرمشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو نہ صرف اپنے اتحادیوں بلکہ اپوزیشن سے بھی حمایت حاصل کرنے کے لئے رابطہ قائم کرے گی۔ اس کمیٹی کے دو ممبران اسعد عمر اور شاہ محمود قریشی فوج کے بہت قریب بتائے جاتے ہیں اس لئے یہ تاثر بھی پیدا ہو رہاہے کہ یہ پیش رفت خود فوج کے اشارے پر ہوئی ہے۔ فوج چاہتی ہے کہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن سے متعلق ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہو۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے دل میں یہ خیال تیزی سے جڑ پکڑ گیا ہے کہ نواز شریف کو عدالت سے جو راحت ملی تھی وہ فوج اور چیف جسٹس کے درمیان ہونے والی کسی خفیہ ڈیل کا نتیجہ تھی بلکہ وہ یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ فوج اور اپوزیشن کے درمیان بھی کسی نہ کسی سطح پر قربت بڑھی ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر پاکستان کے سیاسی حلقوں میں یہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوریاں بڑھی ہیں تو دوسری طرف حکومت اور فوجی ٹولے کے درمیان بھی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ یہ بھی قیاس ہے کہ عمران حکومت اب زیادہ دن نہیں ٹک پائے گی اور ہو سکتا ہے کہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن کا معاملہ اب نئی حکومت کو نمٹانا پڑے۔ گویا ہر طرف قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے اور ایسا پاکستان میں کوئی پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔
Comments
Post a Comment