Posts

Showing posts from April, 2019

موضوع:کوریائی جزیرہ نما پر پوتن-کم مذاکرات

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے روس کے مشرقی شہر ولادیووسٹک میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس میٹنگ کو کافی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ روس اور شمالی کوریا سرد جنگ کے زمانے کے اتحادی ہیں نیز یہ کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس علاقہ میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ماضی میں جو مذاکرات ہوئے ان سے ایسا لگتا تھا کہ روس پس منظر میں چلا گیا تھا لیکن اب پوتن اور کِم کی ملاقات سے لگتا ہے کہ روس ایک بار پھر علاقہ میں اپنے اثرات قائم کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک طرف صدر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کِم کے درمیان میٹنگ چل رہی تھی تو دوسری جانب امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ فوجی مشق بھی جاری تھی۔ اگرچہ یہ مشق بہت بڑی نہیں تھی پھر بھی شمالی کوریا نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ہنوئی میں ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی جس کے بعد واشنگٹن نے پیانگ یانگ پر تازہ پابندیاں عائد کردیں۔ ان تازہ پابندیوں کے بعد شم...

جنوبی ایشیا میں داعش کی سرگرمیاں گہری تشویش کا باعث

جیسا کہ پہلے بھی اندازہ کیا جارہا تھا کہ سری لنکا میں ہونے والے سیریل دھماکوں کے پیچھے کسی منظم عالمی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ لیکن اب تو پورے طور پر اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس تباہی میں داعش ہی نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ فوری طور پر تو اس بدنام زمانہ تنظیم نے کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی لیکن دوسرے ہی دن اس نے اپنے ترجمان عمق کے توسط سے ’’اپنی کارستانیوں‘‘ کا کریڈٹ لیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک تنظیم ہے اور صرف چند سال قبل اس نے عراق اور سیریا کی سرحد پر نام نہاد خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ خلافت ابوبکر بغدادی نے قائم کی تھی جس نے عراق اور سیریا کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی جمالیا تھا لیکن بہرحال اب اس علاقے سے اس کے قدم اکھڑ چکے ہیں۔ حال ہی میں سیریا میں امریکہ اور کرد باغیوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ داعش کا پورے طور پر صفایا ہوچکا ہے اور اب بچے کھچے علاقے بھی اس کے قبضے سے آزاد کرالئے گئے۔ بہرحال داعش کے قدم بھلے ہی اس علاقے سے اکھڑ چکے لیکن اس کے خطرناک ارادوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور اس کا احساس بھی عالمی برادری کو پہلے ہی سے تھا۔ امریکی اور کرد باغیوں کی جانب سے داعش کی ...

موضوع: جنوبی ایشیا میں بنیاد پرستی کا خطرہ

سری لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر خودکش حملہ آوروں نے کولمبو، نیگومبو اور بٹی کالووا میں گرجا گھروں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں میں آٹھ دھماکے کئے جن میں 38 غیر ملکی شہری سمیت 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ ایک ویڈیو کے ذریعہ ان حملوں کی ذمہ داری دو دن بعد داعش نے قبول کی جس میں سات حملہ آوروں کو دکھایا گیا جس کی قیادت ظہران ہاشم کررہا تھا اور جو داعش سربراہ ابوبکر البغدادی کی وفاداری کا حلف لے رہے تھے۔ ان خونی حملوں کے بعد سری لنکا کے حکام نے 70 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کولمبو میں چھاپوں کے دوران ایک عورت نے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کی اہلیہ تھی، اپنے دو بچوں کے ساتھ خود کو بم سے اڑالیا۔ دو دوسرے مقامات پر بموں کو ناکارہ بنادیا گیا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ آور مزید حملوں کا منصوبہ بنارہے تھے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ ظہران ہاشم تھا جس کا تعلق بٹی کلوا کے کٹن کڈی سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور جوانی کے دنوں سے ہی اس میں بنیاد پرستی کا رجحان پیدا ہوگیا تھا جس کی...

چابہار پروجیکٹ امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ

بین الاقوامی سیاست میں کئی طرح کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ سو، ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے سوال پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑے لمبے عرصے تک کشیدگی کا ماحول رہا۔ اس کی بنیاد پر کشیدگی صرف انہی دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بین اقوامی پیمانے پر بھی اس کے اثرات محسوس کئے جاتے تھے۔ امریکہ کا اصل اعتراض اور الزام یہ تھا کہ ایران غلط ڈھنگ سے اپنے نیوکلیائی پروگرام کو فروغ دے رہا ہے اور نیوکلیائی اسلحے بنانے کی تیاری کررہا ہے جس سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ دوسری طرف ایران ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا تھا۔ ایران پر کئی طرح کی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں میں کچھ تو ایسی تھیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے نافذ کی گئی تھیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ذریعہ عائد کی گئی تھیں۔ اقوا م متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی تو ممبر ممالک پاسداری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بعض ملکوں کی طرف سے انفرادی طور پر جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں، ان کے تعلق سے کوئی ایسی مجبوری تو نہیں ہوتی لیکن ان کی پاسداری نہ کرے سے پابندیاں عائد کرنے والے ملک اور اس...

موضوع: یوکرین کی تاریخ کا نیا باب

یوکرین میں مزاحیہ اداکار ولودومیر زیلینسکی نے صدارتی انتخابات جیت کر ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیا۔ زیلینسکی کی یہ کوئی معمولی جیت نہیں تھی بلکہ انتخابات میں انہوں نے 73 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ وہ روسی زبان بولتے ہیں اور ان کا سلسلہ نسب یہودیوں سے ملتا ہے۔ وہ یوکرین کے سب سے کم عمر صدر ہوں گے۔ ایک ہردلعزیز اور مشہور ٹی وی سیریز میں زیلینسکی نے ایک معرکہ آرا صدر کا کردار ادا کیا تھا لیکن اب انہوں نے اپنا کردار بدل کر صحیح معنوں میں ملک کے صدر کی حیثیت سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور انہوں نے انتخابات سے محض چار ماہ پہلے اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی کی تشکیل بھی کافی تاخیر سے کی تھی۔ یوکرین کے انتخابی نتائج بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کے نتائج کی عکاسی کرتے ہیں جہاں ایسے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جنہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے یا اگر ہے بھی تو بہت کم۔ انہوں نے انتخابات میں فتح حاصل کی تو اس وجہ ہے کہ وہ کافی ہردلعزیز تھے اور رائے دہندگان حکومت سے ناراض۔ زیلینسکی موجودہ صدر پیٹرو پورو شینکو کے خلاف انتخابی میدان...

دہشت گردی سے متعلق ایک بیان پر عمران خان چوطرفہ حملوں کی زد میں

پاکستانی سیاست دانوں کی بعض باتیں بڑی دلچسپ اور کبھی کبھی مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں۔ ویسے تو مختلف ملکوں کے بہت سارے سیاست دانوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف موقعوں پر مختلف اور متضاد بیان داغتے ہیں اور جب کوئی متنازعہ بیان کسی کی گرفت میں آجاتا ہے تو وہ پہلے تو سرے سے انکار کردیتے ہیں یا پھر یہ کہہ کر صفائی دیتے ہیں کہ ان کا بیان اصل سباق میں نہیں پیش کیا گیا۔ پارٹیاں بدلنے والے سیاست داں بھی بڑے دلچسپ کرتب دکھاتے ہیں۔ پارٹی بدلنے کے ساتھ ہی ساتھ ان کے نظریات اور خیالات بھی راتوں رات اور کبھی کبھی گھنٹے دو گھنٹے ہی میں بدل جاتے ہیں۔ بہرحال اس طرح کے بازیگر ان سیاست بڑے دلچسپ رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے بیانات کے لئے کافی مشہور رہے ہیں۔ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو بہت سے معاملات میں ان کا خیال کچھ اور ہوتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کچھ اور ہوگیا ہے۔ دہشت گردی کے سوال پر ان کا رویہ ایسا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے حامی اور ہمدرد تصور کئے جاتے تھے لیکن اب بہرحال وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ پاکستان کو خود اپنی سلامتی اور بہتری کے لئے دہشت گردوں کے خلاف کار...

سری لنکا کا دل دہلا دینے والا دہشت گردانہ واقعہ

سری لنکا میں گزشتہ کوئی ایک دہائی سے امن کا ماحول تھا۔ اس سے قبل قریب تین دہائی تک یہ ملک خانہ جنگی ،دہشت گردی اور خون خرابے کا شکار رہا لیکن 2009 تک آتے آتے حالات وہاں قابو میں آ گئے تھے اور عام شہری نسبتاً سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔ کم از کم اس نوعیت کے دہشت گردانہ واقعات یہاں نہیں ہوئے تھے جیسے بعض دوسرے جنوب ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئے تھے لیکن اچانک گزشتہ اتوار کو چند گھنٹوں کے اندر اندر یکے بعد دیگرے کئی اہم جگہوں پر آٹھ زبر دست دھماکے ہوئے جن میں300 کے قریب افراد لقمہ اجل بنے ۔ایسٹر سنڈے کے موقع پر جہاں گرجا گھروں میں خصوصی مذہبی رسوم اور تقریبات منعقد ہوئی تھیں وہیں بعض مہنگے ہوٹلوں میں بھی خصوصی دعوتوں کا اہتمام تھا۔ وحشت اور بربریت سے پر یہ واقعات اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنے منظم اور منصوبہ بند طور پر انجام دیئے گئے تھے جس کا اس ملک میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ سری لنکا کی سیکورٹی ایجنسیوں سے بھی چوک ہوئی اور وہ اس خطرے کا اندازہ نہ کر سکیں۔ حالانکہ ہندوستانی ایجنسیوں کی طرف سے اس ماہ کے اوائل ہی میں ایسی خفیہ اطلاعات فراہم کر دی گئی تھ...

افغانستان سے متعلق امن مذاکرات میں رکاوٹ

افغانستان میں قیام امن سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان جو مذاکرات چل رہے تھے، ان میں ایک بار پھر رکاوٹ پیدا ہوگئی جس کے باعث مزید کنفیوژن پیدا ہوگیا ہے۔ ایک طرف انتخابات کا معاملہ بھی کئی طرح کے نشیب و فراز کا شکار رہا اور صدارتی انتخاب میں تاخیر ہوتی رہی جس کے باعث سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ اشرف غنی حکومت صدارتی انتخاب کے انعقاد تک اپنے عہدے پر برقرار رہے گی۔ دراصل 22 مئی کو ان کا ٹرم ختم ہوجائے گا۔صدارتی الیکشن میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پہلے ہی کافی تاخیر ہوچکی ہے۔ اپریل مئی میں صدارتی انتخاب ہوجانا چاہئے تھا لیکن الیکشن کا عملہ اس کے لئے ابھی تیار نہیں تھا کیونکہ اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے اور ان میں سے بھی کچھ کے انتخابات کے نتیجے ابھی تک نہیں آئے ہیں لہذا صدارتی انتخاب کی تاریخ 20 جولائی طے ہوئی تھی لیکن بعض وجوہ سے وہ بھی ممکن نہ ہوسکا اور 28 ستمبر تک کے لئے یہ معاملہ ٹل گیا ہے۔ اس غیر معمولی تاخیر کے باعث سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جب تک نئے صدر کا انتخاب نہیں ہوجاتا، ڈاکٹر اشرف غنی اس عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ دوسری طرف امریکی...

موضوع: چین میں اویغور مسلمانوں کی شناخت کے لئے آرٹی فیشیل انٹلی جنس کا استعمال

سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے میں ترقی انسانی فروغ کے لئے لازمی ہے انسان نے ابتدا سے آج تک ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کسی بھی علم کا استعمال انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہونا چاہیے لیکن اس کے برعکس کچھ ملک ایسے ہیں جو ٹکنالوجی کا استعمال منفی کاموں کے لئے کررہے ہیں جس سے انسانی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور وہ ہر شعبے میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس میں سائنس اور ٹکنالوجی کا شعبہ بھی شامل ہے۔ چین کی ترقی کی کہانیاں تو اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں لیکن اس کی ایک ریاست سنکیانگ میں اویغور نسل کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی داستانیں بھی وقفہ وقفہ سے اخبارات کی سرخیاں بنتی رہی ہیں۔ اس وقت چین آرٹی فیشل انٹلی جنس (Artificial Intelligence) یا مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑے پیمانے پر کررہا ہے۔ یوں تو یہ ٹکنالوجی بعض معاملوں میں انتہائی کار آمد ثابت ہوسکتی ہے اور جرائم پیشہ افراد کی شناخت اور انہیں گرفتار کرنے میں یہ موثر رول ادا کرسکتی ہے لیکن اپنی ہی ایک ریاست کی نسلی اقلیتی برادری کے لوگوں کی...

پاکستان کو راحت کی امید، مگر

پاکستان کے لئے بین اقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مالی امداد کا جو مسئلہ ایک سال سے زیادہ کی مدت سے لٹکا پڑا ہے، وہ لگتا ہے کہ اب سلجھنے کے قریب ہے، یا کم سے کم پاکستانی وزیر خزانہ جناب اسد عمر کی بات سے تو لگتا ہے جن کا قول ہے کہ آئی ایم ایف کی ایک ٹیم اس سلسلے میں اگلے ماہ اسلام آباد کا دورہ کرسکتی ہے۔ یوں تو میڈیا کی خبروں کے مطابق قرض کے معاہدہ کے لئے ابھی بھی بہت سی تفصیلات پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے، تاہم مزے کی بات ہے کہ جناب اسد عمر نے ابھی سے شیخ چلی کی طرح سپنے دیکھنے شروع کردیئے ہیں کہ ایک انڈے سے ان کو کتنے دنوں میں کتنے انڈے حاصل ہوں گے۔ مثال کے لئے موصوف کا کہنا ہے کہ جب آئی ایم ایف سے پاکستان کو مالی امداد منظور ہوجائے گی جو کہ 6 سے 8 ارب ڈالر کے درمیان ہوگی تو پھر عالمی بینک سے بھی ملک کو سارے سات یا آٹھ ارب ڈالر کی مدد حاصل ہوئی اور چھ ارب ڈالر کی مدد ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے بھی حاصل ہوگی، غرض کہ اس طرح کی کوہ کنی پاکستان میں ایک جوئے شیر بہا دے گی۔ لیکن جو بات موصوف نے عوام کو نہیں بتلائی ہے وہ یہ ہے کہ بین اقوامی یا علاقائی مالیاتی ادا...

عمران کے بیانات سے افغانستان کے تمام حلقے برہم

وزیراعظم پاکستان جب تک برسراقتدار نہیں آئے تھے، تو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کی سیاسی سرگرمیاں اکثر تنازعہ کا باعث بنتی رہیں۔ اکثر تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ حکومت کے خلاف کسی سوال پر اپنی تحریک شروع کرتے وقت وہ ایسے طریقے بھی اختیار کرتے تھے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی بیان بازی کرتے وقت بھی وہ جمہوری قدروں کو نظر انداز کردیتے تھے۔ دہشت گردی کے حوالے سے تو ان کا رویہ کچھ ایسا تھا کہ گویا وہ پاکستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے وجود سے ہی انکار کرتے تھے۔ اندرون پاکستان جو دہشت گردانہ حملے ہوتے تھے تو اس کی ایک ہی وجہ وہ بتاتے تھے کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے، اس لئے یہ حملے ہوتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے حامی ہیں۔ انہی سب باتوں کی وجہ سے انہیں طالبان خان کا نام بھی دیا گیا تھا۔ بہرحال اب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور اب ان سے سب کو یہی امید تھی اور یہ امید بے جا نہیں تھی کہ وہ سیاسی بیانات دیتے وقت احتیاط برتیں گے۔ بہرحال یہ بات ساری دنیا جاتی ہے اور یقیناً عمران خان بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج ...

موضوع: سوڈان کا بحران

سوڈان میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران جتنی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اتنی تو صدر عمر البشیر کے تیس سالہ دور اقتدار میں بھی نہیں ہوئیں۔ صدر بشیر کو کئی مہینوں کے عوامی احتجاجات کے بعد اس ماہ کے اوائل میں ایک بغاوت کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ 1989 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے عمر البشیر صدر کے عہدے پر بنے ہوئے تھے۔ ان کے دور اقتدار میں ملک کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی کے زمانے میں سوڈان میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے ملک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ نتیجتاً جنوبی سوڈان نے 2011 میں آزادی حاصل کی اور سوڈان کو اپنا ایک تہائی حصہ کھونا پڑا۔اس کے علاوہ اسے تیل سے پیدا ہونے والے ریوینو کے تین چوتھائی حصہ کا بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ تقریباً دو دہائیوں تک صدر عمر البشیر دنیا سے الگ تھلگ رہے۔ اس عرصہ کو انہوں نے اپنے سیاسی فائدہ کے لئے خوب استعمال کیا۔ ان کی جو بھی ناکامیاں تھیں اس کا الزام انہوں نے اپنے غیر ملکی مخالفین پر عائد کیا۔ لیکن ان کی قمست کا فیصلہ بالآخر 11 اپریل کو ہوگیا جب فوج نے ان کا تختہ پلٹ کر فوجی عبوری کونسل قائم کردیا اور عوام سے سول انتظامیہ کے قیام کا وعد...

پاکستان میں ہزارہ برادری کی حالت زار

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں حال ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ہزارہ برادری کے20 افراد ہلاک اور48 دوسرے زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اس بات کی طرف خاص اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں خاص طور پر ہزارہ برادری کی کیا حالت ہے۔ہزارہ برادری کے خلاف اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں اورانہیں چن چن کر مارا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان مسلکی تشدد کے نتیجہ میں ہزارہ برادری کے خلاف تشدد بڑھ گیا ہے جبکہ کچھ دوسرے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا خیال ہے کہ ہزارہ برادری کو خاص نشانہ بنا کر ہی اس پر حملے کئے جاتے ہیں۔ اپنے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد اس برادری کے لوگ کوئٹہ میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ان کی برادری کو نشانہ بنا کر حملے کر رہے ہیں نیز نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ جلد از جلد کیا جائے جس کا وعدہ حکومت نے کافی پہلے کیا تھا ۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ہزارہ کون ہیں اور پاکستان کے دہشت گرد گروپ انہیں نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ پاکستان میں رہنےو الی ہزارہ برادری ایک ن...

ممنوعہ جماعتوں کے مالی لین دین کو روکنے کے لئے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی مزید ہدایات

پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جس کی سرزمین دہشت گردی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے بہت ہی سازگار ہے۔ وہاں کا ماحول مذہبی شدت پسندی کے لیے بھی بہت معاون ہے اور مسلکی عصبیت کے لیے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں درجنوں دہشت گرد جماعتیں ہیں جو اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کرر ہی ہیں۔ کوئی وہاں سے دوسرے ملکوں کے لیے واردات انجام دیتی ہے تو کوئی وہیں کے مخالفین کو اپنی وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ ان تنظیموں اور گروپوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں ان کے ہمدردوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ان گروپوں کو اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے بہت آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو دہشت گردی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف اگر کسی کارروائی کا امکان ہو تو وہ انھیں ڈھال بھی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت میں بھی انتہاپسندوں کے ہمدرد ہیں اور فوج میں بھی ہیں۔ وہ بھی نہیں چاہتے کہ ان گروپوں کا خاتمہ ہو۔ کیونکہ ان کے بھی کاروبار ان سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ حالانکہ پوری دنیا سے پاکستان پر یہ دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ...

پاکستان میں ہزارا شیعوں کا درد

پاکستان میں دہشت گردی کے کئی رنگ اور کئی روپ ہیں۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے بھلے ہی کچھ خاص وقتوں اور خاص حالات میں پڑوسی ملکوں افغانستان اور ہندوستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو پروان چڑھایا اور مسلسل ان گروپوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی لیکن یہ سلسلہ صرف پڑوسی ملکوں میں کی جانے والی مہم جوئیوں تک محدود نہیں رہا۔ جس بڑے پیمانے پر عسکریت پسندی کی جانب پاکستان کے ایک بڑے حلقے کو راغب کیا گیا اور جس طرح مذہبی انتہاپسندی کے کندھے پر سوار ہوکر مسلکی منافرت بھی فروغ پاتی رہی، اس نے بالآخر ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلی جس کی شاخوں تک کو کاٹنا پاکستان کے بس کی بات نہیں لگتی۔ سو دہشت گردی کا ایک روپ مسلکی منافرت کی بنیاد پر ہونے والی قتل و غارت گری بھی ہے۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیمیں پاکستان میں پہلے ہی سے پھل پھول رہی ہیں۔ یہ شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کو کھلم کھلا غیر مسلم حتیٰ کہ کافر بھی قرار دیتی ہیں۔ پاکستان میں مسلکی بنیاد پر آئے دن قتل اور بمباری کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ایک رجحان ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ عین جمعہ کے روز جب نمازیوں کی بھیڑ ہوتی ہے، مسجدوں پر حمل...

موضوع: عمران خان کا اعتراف: پاکستانی فوج نے دہشت گرد پیدا کئے

وزیراعظم پاکستان عمران خان ہند-پاک رشتوں کے حوالے سے اکثر بات کرتے ہیں۔ اور اکثر اس بات پر زور بھی دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ مثلاً گزشتہ جولائی میں جب عام انتخابات کے نتائج سامنے آرہے تھے اور ان کے اقتدار میں آنے کے امکانات روشن ہوئے تھے تو انہوں نے جہاں اپنی آنے والی حکومت کی ترجیحات کا خلاصہ پیش کیا تھا وہیں انہوں نے ہندپاک رشتوں کو بہتر بنانے کی بھی بات کہی تھی اور یہاں تک کہا تھا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ لیکن عملاً انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ وہ واقعی خلوص کے ساتھ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان سے مسلسل دراندازی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اگر ان کے دور اقتدار میں اس کی روک تھام کے لئے معمولی پیش رفت بھی ہوتی تو کم از کم سرحدوں پر حالات میں کچھ خوشگوار تبدیلی آتی اورپلوامہ جیسا بڑا دہشت گردانہ واقعہ بھی نہ پیش آتا جس کی ذمہ داری براہ راست پاکستان کی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے لی۔ بجائے ...

موضوع: مالدیپ کی خوشگوار سیاسی تبدیلی جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے استحکام کی علامت

جنوب ایشیائی ملک مالدیپ میں سابق صدر محمد نشید کی پارٹی ایم ڈی پی کی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی نہ صرف اس ملک بلکہ جنوب ایشیائی ممالک میں مظبوط ہوتی جمہوری قدروں کا ایک اور ثبوت ہے۔نشیدکئی برس سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔سابق صدر کو 2015 میں مالی بدعنوانی کے الزام میں 13سال کی سزا سنائی گئی تھی،لیکن بعد میں وہ ملک چھوڑ گئے تھے۔نشید کے سخت حریف عبداللہ یامین کا دور اقتدار کئی اعتبار سے عدم استحکام کا دور رہا۔نشید کے ہندوستان سمیت پڑوسی ممالک سے بہتر رشتے تھے لیکن یامین کے دور میں ان رشتوں میں کشیدگی پیدا ہوئی۔مالدیپ میں انھوں نے جمہوری آوازوں کو دبانے اور آئینی اداروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔یامین کے خلاف فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کو اس دور میں گرفتار کر لیا گیا۔نشید اور ان کی پارٹی کے ورکروں کو بھی پریشان کیا جاتا رہا۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بدعنوانی کے الزامات سے یامین پیچھا نہیں چھڑا سکے اور 5 برس کے اقتدار کے بعد ان کی پارٹی کو حالیہ انتخابات میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔87 ممبران پارلیمنٹ والے ایوان میں نشید کی پارٹی کو دو تہائی سیٹیں ملنے کے بع...

موضوع: پہلے مرحلہ کے ساتھ ہی  لوک سبھا کے انتخابات شروع

ہندوستان میں عام انتخابات کل پہلے مرحلہ کے ساتھ شروع ہوگئے۔ ایک ارب سے بھی زیادہ آبادی والے اس ملک میں یہ انتخابات سب سے اہم سمجھے جارہے ہیں۔کل پہلے مرحلہ میں لوک سبھا کی 543 میں سے 91 نشستوں کے لیے 18 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام دو علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ خبروں کے مطابق تشدد کے اکادکا واقعات کو چھوڑ کر پولنگ پرامن رہی۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے لیے ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلہ میں 1279 امیدوار میدان میں تھے جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کل رائے دہندگان نے کردیا۔ یہ انتخابات ایک زبردست جمہوری مشق ہے جسے جمہوریت کا تہوارکا نام بھی دیا جارہا ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف پہلے مرحلہ میں کل 900 ملین ووٹروں میں سے 140 ملین ووٹر ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ 900 ملین ووٹروں کا مطلب ہے امریکہ کی آبادی کا تین گنا۔پہلے مرحلہ کی پارلیمانی سیٹوں کے ساتھ ساتھ آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، سکم اور اوڈیشہ اسمبلیوں کے لیے بھی پولنگ ہوئی۔ سب سے زیادہ پولنگ مغربی بنگال میں ہوئی، جہاں ووٹنگ 81فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہاں ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے جس کا بھارتیہ جنتا پارتی سے سخت مقاب...

موضوع: لکھوی کی ضمانت رد کرانے کی ایف آئی اے کی کوشش—سنجیدہ قدم یا محض دھوکہ؟

خبر ہے کہ پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس بات کی عرضی داخل کی ہے کہ 26/11 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کو ردّ کرکے اسے دوبارہ گرفتار کیاجائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویزن بنچ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتہ کے اندر اندر ممبئی حملوں سے متعلق مقدمہ کا پورا ریکارڈ پیش کریں۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان میں 7 مشتبہ افراد ذکی الرحمن لکھوی ، عبدالواحد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے قتل کے لئے لوگوں کو اکسایا۔ قتل کرنے کی کوشش کی نیز ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ یہ مقدمہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہا تھا۔ مقدمہ 2009 میں قائم ہوا تھا اور آج دس سال بعد بھی اس کی کارروائی آگے نہیں بڑھی۔ بلکہ ایسا بھی ہوا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کو 18دسمبر 2014 کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی تھی اور وہ تب سے اب تک آزاد ہے۔ اپنی اپیل میں ایف آ...

موضوع: بھارت اور سری لنکا کے درمیان بڑھتے دفاعی تعلقات

ہندوستان کے سکریٹری دفاع سنجے مترا نے حال ہی میں سری لنکا کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے صدر میتری پالا سری سینا، اپنے سری لنکائی ہم منصب ہیما سری فرنانڈو اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایڈمرل رویندر وجے گونا رتنے سے ملاقات کی۔ سری لنکا کے رہنماؤں سے بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نےغیرروایتی سیکوریٹی کے معاملات میں تعاون سمیت علاقائی سیکورٹی میں تعاون کو فروغ دینے سے اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا خاص شعبہ سری لنکا کی مسلح افواج کی تربیت اور اس کی صلاحیت سازی ہے۔ اس لئے اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ تربیت کے لئے سری لنکا کے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائیگا۔ دورے کے حصہ کے طور پر ہندوستانی وفد نے چھٹے ہند-سری لنکا ڈیفنس ڈائیلاگ میں بھی شرکت کی۔ 2012 سے یہ ڈائیلاگ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لینے کیلئے ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ہندوستان کی ‘‘پڑوسی پہلے’’ کی پالیسی کے حصہ کے طور پر پڑوسیوں کیساتھ سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش اور سری لنکا میں بدلے ہوئے سیاسی حالات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کا ...

موضوع: افغانستان کی جانب سے طالبان سے ‘‘تبادلہ خیال’’ کرنے کی تیاری

افغانستان میں قیام امن کی اب تک جو کوششیں ہوئی ہیں ان سے ایسا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ بالآخر وہاں کس طرح کا سسٹم قائم ہو سکتا ہے۔ جہاں تک افغانستان کی اندرونی صورت حال کا تعلق ہے تو گذشتہ کوئی چار دہائی کےعرصے سے یہ ملک بے چینی ، خلفشار ، خانہ جنگی، اقتدار کی کشمکش، بیرونی فوج کے خلاف ہونے والی مزاحمت نیز بڑی طاقتوں کی زور آزمائی وغیرہ کا شکار رہا ہے اور ہر ٹکراؤ اور مزاحمت کا نتیجہ انسانی جانوں کے زیاں کی شکل میں سامنے آتا رہا ۔ گذشتہ اٹھارہ برسوں سے یعنی جب سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی تب سے اب تک جو کچھ ہوا اس کا حاصل یہ رہا کہ افغانستان سےطالبان کی سخت گیرحکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکہ کی قیادت میں تعینات غیر ملکی افواج کی موجودگی میں تباہ حال افغانستان کے تعمیری اور ترقیاتی کاموں کو پٹری پر لانے کی کوشش کی گئی اور اس دوران وہاں نمائندہ حکومت بھی قائم ہوئی اور اس وقت بھی وہاں ایک آئینی طور پر منتخب حکومت کام کر رہی ہے ۔ چند سال قبل امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوجوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی ۔ لیکن اس کے بعد افغانستان کے حالات میں کوئی بہتری ن...

موضوع: عمران خان کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر افغانستان کا احتجاج

پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ نے پڑوسی ملکوں کے تعلق سے جو منفی اور تخریب کارانہ نوعیت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس کا اندازہ آئے دن سیویلین اور فوجی حکام کے بیانات اور رویوں سے بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کے مغربی پڑوسی افغانستان اور مشرقی پڑوسی ہندوستان کے حوالے سے بات کریں تو قدم قدم پر یہی تأثر ملتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے بارے میں پاکستان کے حکمرانوں کے پاس کوئی مثبت بات کہنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔ ہندوستان کو اس نے اپنا ازلی دشمن تصور کرکے پاکستانی عوام کو مسلسل گمراہ کرتا رہا ہے اور دشمنی چکانے کے لئے دہشت گرد گروپوں کو بطور آلۂ کار استعمال کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں جیش محمد کے حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے بالا کوٹ میں جیش محمد کے کیمپ پر جو اسٹرائک کی وہ صرف اور صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے مقصد سے کی گئی تھی اور پوری دنیا نے ہندوستان کی اس کارروائی کو اسی تناظر میں سمجھا بھی لیکن اس کو بنیاد بنا کر پاکستانی حکام نے وہاں کے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے طرح طرح کی افواہیں اڑانی شروع کردیں۔ تازہ ترین شوشہ وہاں کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ چھوڑا کہ 16 اور 20 اپریل ک...

موضوع: پاکستانی لیڈروں کو کچھ سبق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے ضرور سیکھنا چاہیے

ہر دور میں کچھ لوگ انسانیت کو شرمسار کرنے والے رہے ہیں تو انسان دوست اور امن پسند لوگ اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ وہ انسان ہی نہیں جو دوسروں کے درد کو محسوس نہ کرے۔ 15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں دہشت گردانہ حملے کر کے برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ نے 50 لوگوں کو شہید کر دیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ اس کی گولیوں سے زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے خلاف قتل کے 50 اور قتل کی کوشش کے 39 معاملے قائم کیے گئے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں کے فوراً بعد ہی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن اور انتظامیہ کے لوگوں نے یہ اشارہ دے دیا تھا کہ انسانوں کے قاتل کو ہیرو نہیں بننے دیا جائے گا۔ دہشت گردانہ وارداتوں کے بعد نیوزی لینڈ کے تمام لوگوں کا رویہ بے حد مثبت، مثالی اور قابل تقلید تھا۔ جیسینڈا آرڈرن اگر چاہتیں تو مسجدوں میں فائرنگ کو کچھ اور رنگ دے سکتی تھیں، انہیں ’قتل عام‘یا ’جنگجو کی کارروائی‘ مانتیں اور حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتیں لیکن انہوں نے دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی اختیار کی۔ فائرنگ کے واقعے کو واضح لفظوں میں دہشت گردانہ واقعہ اور برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کو دہشت گرد قر...

پاکستان میں گہرے ہوتے سیاسی اختلافات

پاکستان میں حکمراں پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے اندر اختلافات اب ابھرکر سامنےآرہے ہیں۔ پارٹی میں اب دو دھڑے بن چکے ہیں۔ ایک کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کررہے ہیں جب کہ دوسرے کے قائد جہانگیر ترین ہیں۔ یہ دونوں دھڑے ایک دوسرے کے جانی دشمن بن چکے ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ٹوئٹر پر جنگ تیز ہوگئی ہے۔ دونوں کا تعلق صوبۂ پنجاب سے ہے اور دونوں کی نگاہیں اس صوبے کے انتظام وانصرام پر لگی ہوئی ہیں۔ جناب شاہ محمود قریشی پنجاب کے وزیراعلی بننا چاہتے تھے لیکن ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب وہ سلمان نعیم سےالیکشن ہارگئے، جو خود بھی تحریک انصاف پارٹی کے ایک اہم لیڈر ہیں۔ لیکن جب پارٹی نے ان کی جگہ جناب قریشی کو اپنا امیدوار بنایا تو انہوں نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ جناب جہانگیر ترین الیکشن اس لیے نہیں لڑسکے کیوں کہ سپریم کورٹ نے انہیں اس کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ اختلافات میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب جناب ترین کو حکومت میں دوبارہ شامل کرلیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی حکومت میں شمولیت پارٹی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ تر...

موضوع: پاکستان میں پشتونوں پر ظلم

حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج ان دنوں ملک میں جاری ایک پرامن تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور اس تحریک کے حامیوں کو دبانے کے لئے طرح طرح کی انتقامی کارروائیاں کررہی ہے تاہم پشتون تحریک سے وابستہ ان افراد نے اپنے مطالبات پورا ہونے تک ہر طرح کی قربانی دینے کا عزم کررکھا ہے اور اس کی عملی مثال بھی پیش کررہے ہیں۔ پاکستان کے، پشتونوں سے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے ہیں۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام کے ستر سے زیادہ برس گزر جانے کے بعد بھی اس قبائلی علاقہ کی تعمیر ، ترقی اور خوشحالی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے۔ گوکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے لیکن عملاً یہاں اب بھی برطانوی نوآبادیاتی دور کا قانون اور طریقہ حکمرانی چلتا ہے۔ ماضی قریب تک اس قبائلی علاقہ جات یا فاٹا میں برطانوی سامراج کے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن FCRقانون کے تحت معاملات چلائے جاتے رہے، اس قانون کو کالا قانون بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس قانون کے تحت اس علاقے کے کسی بھی شہری کو جرم بتائے بغیر گرفتار کیاجاتا تھا، پھر ایف سی آر کے قانون کی رو سے انہیں اپنی صفائی کے لئے وکیل‘ دلیل اور اپیل جیسے بنیادی انسانی حقوق...

موضوع: ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کاامکان

پاکستانی حکام کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی بار بار کی وارننگ کو پاکستانی حکام لگاتار نظرانداز کرتے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں کی فنڈنگ اور مالی لین دین کی روک تھام کے لئے انہوں نے کوئی ایسے مؤثر قدم نہیں اٹھائے جن سے دہشت گردوں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر کوئی خاص اثر پڑتا۔ لیکن پاکستانی حکام کی عادت یہ ہے کہ وہ اپنی بے عملی یا لاپرواہی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر اس کا الزام جڑ دیتے ہیں۔ خود پاکستان میں نہ صرف آزاد تجزیہ کار اور صحافی آئے دن اس بات کے لئے حکومت اور بالخصوص پاکستانی فوج اور ایجنسیوں پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ان کی منفی اور تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے اور عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑتا جارہا ہے بلکہ اپوزیشن پارٹیاں بھی تنقید کررہی ہیں کہ دہشت گردوں کی براہ راست یا بالواسطہ حوصلہ افزائی کے باعث پاکستان کو مختلف محاذوں پر طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ...

پاکستان میں فوجی عدالتوں کا خاتمہ

پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروپوں کے خلاف 2014 میں پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب غضب کےنام سے ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ آپریشن مخصوص نوعیت کا تھا اور صرف وہی گروپ نشانے پر تھے جو پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچارہے تھے اور پاکستان کی سرکاری اور فوجی تنصیبات نیز خود پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے تھے۔ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے والے ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی تھی جو پڑویسی ملکوں میں حملے کرتے ہیں یا اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بہرحال آپریشن ضرب عضب کے تعلق سے پاکستانی فوج نے بڑے لمبے چورے دعوے کئے تھے اور اس بات کا کریڈٹ لیا تھا کہ اس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اگرچہ تحریک طالبان کی سرگرمیوں میں کوئی خاص کمی نہیں واقع ہوئی تھی۔ اسی دوران 16 دسمبر 2014 کو پشاور پبلک اسکول پر دہشت گردوں کا ایک انتہائی وحشیانہ حملہ ہوا جس میں 130 سے زیادہ اسکولی بچوں سمیت قریب 150 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ اس حملہ کی پوری دنیا نے مذمت کی اور قدرتی طور پر پاکستان کے عوام کا غم و غصہ اپنے شباب پر تھا۔ انہیں حکومت اور فوج کے دعووں پر بھروسہ نہی...