پاکستان میں گہرے ہوتے سیاسی اختلافات
پاکستان میں حکمراں پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے اندر اختلافات اب ابھرکر سامنےآرہے ہیں۔ پارٹی میں اب دو دھڑے بن چکے ہیں۔ ایک کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کررہے ہیں جب کہ دوسرے کے قائد جہانگیر ترین ہیں۔ یہ دونوں دھڑے ایک دوسرے کے جانی دشمن بن چکے ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ٹوئٹر پر جنگ تیز ہوگئی ہے۔ دونوں کا تعلق صوبۂ پنجاب سے ہے اور دونوں کی نگاہیں اس صوبے کے انتظام وانصرام پر لگی ہوئی ہیں۔ جناب شاہ محمود قریشی پنجاب کے وزیراعلی بننا چاہتے تھے لیکن ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب وہ سلمان نعیم سےالیکشن ہارگئے، جو خود بھی تحریک انصاف پارٹی کے ایک اہم لیڈر ہیں۔ لیکن جب پارٹی نے ان کی جگہ جناب قریشی کو اپنا امیدوار بنایا تو انہوں نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ جناب جہانگیر ترین الیکشن اس لیے نہیں لڑسکے کیوں کہ سپریم کورٹ نے انہیں اس کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔
اختلافات میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب جناب ترین کو حکومت میں دوبارہ شامل کرلیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی حکومت میں شمولیت پارٹی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ترین نے حال ہی میں نہ صرف کابینہ میٹنگ میں شرکت کی بلکہ زراعت کے شعبہ کی کارکردگی کے بارے مین وزرا کو بریف بھی کیا۔ اس واقعہ سے شاہ محمود قریشی اور ان کے حامیوں کی ناراضگی اور بڑھ گئی۔
جناب ترین نے پنجاب اسمبلی کے بہت سے آزاد ارکان کو تحریک انصاف پارٹی میں شامل ہونے کے لیے راغب کیا جس کی وجہ سے پارٹی صوبے میں اپنی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب رہی۔ جناب ترین عمران خان کے معتمد خاص بھی سمجھے جاتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے معاملات کو دیکھنے کے لیے انہیں واپس بلایا گیا ہے۔ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عمران خان پر دولت کی طاقت کے ذریعہ سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ان دونوں گروپوں کے درمیان اختلاف کی وجہ ہے وہ واقعہ جو 2016 میں پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جناب ترین کی رہائش گاہ پر ایک ڈنر پاڑٹی تھی۔ پارٹی کے دوران کسی بات پر ترین اور قریشی کے حامیوں کے درمیان تو، تو میں، میں ہوگئی۔ بات اتنی بڑھی کہ عمران خان کو پارٹی چھوڑکر جانا پڑا۔ اور تب سے دونوں کے درمیان خلیج بڑھتی گئی اور اب تو عالم یہ ہے کہ سرعام ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔تحریک انصاف پارٹی کے ‘‘نظریاتی’’ گروپ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ پارٹی کو پی ٹی آئی (کیو) نہیں بننے دے گا۔ یعنی وہ قریشی کو پارٹی پر حاوی ہونے نہیں دے گا۔سیاسی ٹکراؤ کے باعث پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں دونوں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں جس کی وجہ سے حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن سے بات چیت کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے انتخابی کمیشن کی خالی اسامیوں کو ابھی تک بھرا نہیں جاسکا ہے۔
حال ہی میں جناب قریشی نے کھلے عام یہ بات کہی تھی کہ عمران خان کی جانب سے لیے گئے بہت سے فیصلوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سب سے تازہ ترین مثال ہے وزیراعظم عمران خان کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نیا نام دینے کا فیصلہ۔ جناب قریشی نے عمران خان کے اس فیصلہ سے اتفاق نہیں کیا۔شاہ محمود قریشی نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی میں ایک ایسا گروپ ابھرکر سامنے آیا ہے جو ہر معاملہ اور مسئلہ کو پیسے کے زور پر حل کرنا چاہتا ہے۔یہ ایک سنجیدہ الزام ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف تو عمران خان یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایک نیا پاکستان بنانے میں مصروف ہیں جہاں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہوگی تو دوسری جانب خود ان کی پارٹی تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نیا پاکستان بنانے کا ان کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔
ایک پڑوسی اور بہی خواہ کی حیثیت سے بھارت کو پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔ بھارت ایک مستحکم اور پرامن پاکستان کا خواہاں ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔ عمران خان اگر دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ایک نیا پاکستان بنانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ملک کی سیاسی صورت حال کو کنٹرول میں کرنا ہوگا۔
اختلافات میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب جناب ترین کو حکومت میں دوبارہ شامل کرلیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی حکومت میں شمولیت پارٹی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ترین نے حال ہی میں نہ صرف کابینہ میٹنگ میں شرکت کی بلکہ زراعت کے شعبہ کی کارکردگی کے بارے مین وزرا کو بریف بھی کیا۔ اس واقعہ سے شاہ محمود قریشی اور ان کے حامیوں کی ناراضگی اور بڑھ گئی۔
جناب ترین نے پنجاب اسمبلی کے بہت سے آزاد ارکان کو تحریک انصاف پارٹی میں شامل ہونے کے لیے راغب کیا جس کی وجہ سے پارٹی صوبے میں اپنی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب رہی۔ جناب ترین عمران خان کے معتمد خاص بھی سمجھے جاتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے معاملات کو دیکھنے کے لیے انہیں واپس بلایا گیا ہے۔ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عمران خان پر دولت کی طاقت کے ذریعہ سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ان دونوں گروپوں کے درمیان اختلاف کی وجہ ہے وہ واقعہ جو 2016 میں پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جناب ترین کی رہائش گاہ پر ایک ڈنر پاڑٹی تھی۔ پارٹی کے دوران کسی بات پر ترین اور قریشی کے حامیوں کے درمیان تو، تو میں، میں ہوگئی۔ بات اتنی بڑھی کہ عمران خان کو پارٹی چھوڑکر جانا پڑا۔ اور تب سے دونوں کے درمیان خلیج بڑھتی گئی اور اب تو عالم یہ ہے کہ سرعام ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔تحریک انصاف پارٹی کے ‘‘نظریاتی’’ گروپ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ پارٹی کو پی ٹی آئی (کیو) نہیں بننے دے گا۔ یعنی وہ قریشی کو پارٹی پر حاوی ہونے نہیں دے گا۔سیاسی ٹکراؤ کے باعث پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں دونوں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں جس کی وجہ سے حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن سے بات چیت کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے انتخابی کمیشن کی خالی اسامیوں کو ابھی تک بھرا نہیں جاسکا ہے۔
حال ہی میں جناب قریشی نے کھلے عام یہ بات کہی تھی کہ عمران خان کی جانب سے لیے گئے بہت سے فیصلوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سب سے تازہ ترین مثال ہے وزیراعظم عمران خان کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نیا نام دینے کا فیصلہ۔ جناب قریشی نے عمران خان کے اس فیصلہ سے اتفاق نہیں کیا۔شاہ محمود قریشی نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی میں ایک ایسا گروپ ابھرکر سامنے آیا ہے جو ہر معاملہ اور مسئلہ کو پیسے کے زور پر حل کرنا چاہتا ہے۔یہ ایک سنجیدہ الزام ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف تو عمران خان یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایک نیا پاکستان بنانے میں مصروف ہیں جہاں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہوگی تو دوسری جانب خود ان کی پارٹی تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نیا پاکستان بنانے کا ان کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔
ایک پڑوسی اور بہی خواہ کی حیثیت سے بھارت کو پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔ بھارت ایک مستحکم اور پرامن پاکستان کا خواہاں ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔ عمران خان اگر دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ایک نیا پاکستان بنانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ملک کی سیاسی صورت حال کو کنٹرول میں کرنا ہوگا۔
Comments
Post a Comment