Posts

Showing posts from July, 2020

موضوع: کشمیر کی گرانقدر ثقافتی میراث

ہندوستان کے سرکا تاج کشمیر مخلوط ثقافتوں کی ایک ایسی مثال ہے جہاں مختلف خیالات کی دھارائیں ایک ساتھ بہتی ہیں اور صدیوں سے بہتی چلی آئی ہیں۔ علاقہ کی اس روش سے ایک دوسرے کی روایات کی قدر میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایسی کثیر رخی فلاسفیوں کی نمائندگی کرتا ہے جس پر ہندو، بودھ اور اسلام مذہبوں کے کافی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلاسفی کو آج کشمیریت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو ہمیں پیار ومحبت اور اخوت کے ساتھ جینے کا سبق دیتی ہے۔ 14ویں صدی میں مذہب اسلام پہنچنے سے پہلے کشمیر میں ہندو اور بودھ مذاہب کا اثر تھا ۔ تاہم مذہب اسلام پہنچنے کے باوجود ان مذاہب میں کبھی اختلاف نہیں پیدا ہوا اور تینوں مذہبوں کی روحانیت اور خیالات کا ایک دوسرے کے ذریعہ احترام کیا جاتا تھا۔ اس لئے اگر کشمیر میں ہندو مذہب کی روحانیت موجود تھی تو اسی کے شانہ بشانہ صوفی تحریک بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ عظیم صوفی شاعرہ لالیشوری نے جنہیں لال دید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اپنے اشعار کے ذریعہ روحانیت کو فروغ دیا۔ انھوں نے علاقہ میں اسلام کے آنے سے پہلے اور اس کے بعد کے ادوار کے درمیان ایک پل کا کام کیا جن کے بعد...

بر صغیر میں القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کی سرگرمیاں

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے دوران القاعدہ اور آئی ایس نےحالیہ دنوں میں بر صغیر میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ انہیں کوئی بڑی کامیابی تو نہیں ملی ہے لیکن اتنا ضرور محسوس کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کے لئے کچھ نوجوانوں سے انہوں نے رابطے قائم کئے ہیں اور انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں آئی ایس کے رابطے میں آنے والے افراد کی مجموعی تعداد 150 سے 200 تک ہوگی اور ان کی بڑی تعداد کیرالہ اور کرناٹک جیسی جنوبی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھتی ہے۔ عالمی دہشت گردی کے حوالے سے اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ اِن انڈین سب کانٹی نینٹ (اے کیو آئی ایس) سے اس پورے خطے میں خطرہ لاحق ہے۔ اے کیو آئی ایس نے ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، پاکستان اور میانمار سے بھی کچھ لوگوں کی اپنی صفوں میں بحالی کی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ ان انڈین سب کانٹی نینٹ نے اس علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سینکشنس مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی 26 ویں رپورٹ میں آئی ایس، القاعدہ اور ان سے واب...

کیا پاکستان میں نڈر صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی ہے؟

پاکستان کے ایک سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے پچھلے ہفتےاس وقت اغوا کرلیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے جہاں وہ کام کرتی ہیں۔ سادہ کپڑوں نیز یونیفارم میں ملبوس کچھ لوگ انہیں ان کی کار سے زبردستی اتار کر اغواکرکے لے گئے۔ اغوا کے بعد جلد ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ مذمت کرنےوالوں میں حکومت کے وزراء بھی شامل تھے۔ اسلام آباد پولیس اور سول ایجنسیوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ مطیع اللہ جان نہ ان کو مطلوب تھے اور نہ  انہوں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے۔ 12 گھنٹے کی اذیت رسانی کے بعد مطیع اللہ جان جب واپس آئے تو انہوں نے اپنے اغوا کی کہانی ایک ویڈیو کے ذریعے سنائی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اغواکار باربار ان سے ان کے پیشہ ورانہ کام سے متعلق اپنی برہمی کااظہار کرتے رہے۔ مطیع اللہ جان پاکستانی میڈیا کی کئی بڑی تنظیموں میں کام کرچکے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں حکومت پاکستان، ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر بھرپور تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس وقت وہ یو ٹیوب پر خود کا چینل چلا رہے ہیں۔ 2018 میں مبینہ طور پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے دباؤ میں انہیں ‘‘و...

پاکستان کا احتساب بیورو یااپوزیشن کی گردن ناپنے کا مستقل ذریعہ؟

پاکستان کا قومی احتساب بیورو جس کا انگریزی میں مختصر نام نیب ہے، آج کل اخبارات اور میڈیا کی سرخیوں میں بہت نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔ ویسے تو پہلے بھی صحافیوں ، سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نےبھی اس کے بنیادی رول اور اس کی کارکردگی پر متعدد سوال اٹھائے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی دو رکنی بنچ کی ایک رولنگ نے بحث کا ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ اب تک دبی دبی آوازوں میں احتساب بیورو کے خلاف جو آوازیں اٹھتی تھیں، اب بہت واضح طور پر سنائی دینے لگی ہیں۔ بعض سیاسی لیڈروں کے خلاف مبینہ طور پر فوج کے اشارے پر یہاں معاملات درج ہوئے اور انہیں سزائیں بھی ملیں، حالانکہ ان معاملات میں واضح طور پر محسوس کیا گیا تھا کہ جن معاملات میں ملزموں کو سزا تک دی گئی وہ معاملات کسی عدالت میں ٹکنے کے لائق بھی نہیں تھے۔ لیکن اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے اس کا سرے سے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا گیا جس کے باعث خود عدلیہ کا رول بھی بعض اوقات مشکوک تصور کیا گیا۔ لیکن اب آواز یہاں تک اٹھنے لگی ہے کہ احتساب بیورو کرپشن روکنے کا کوئی ادارہ ہے یا خود کرپشن کا بہت بڑا مرکز ہے! کچھ عرصہ قبل ممتاز صحافی ن...

پاکستان میں نظام تعلیم کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش

اسلام علم کی روشنی، فکر و آگہی کو فروغ دینے والامذہب ہے۔ علم کے فروغ پر سب سے زیادہ زور اسلام نے ہی دیا ہے ۔علم کا فروغ ہی وسعت فکر و نظر اور روشن خیالی کے دروازے وا کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ بہت سے حکمرانوں نے عوام کی مذہب سے وابستگی کے جذبے کا استحصال کیا اور اپنے اقتدار کو بچانے یا اسے وسعت دینے کی غرض سے عوام کو جذباتی بنا کر انہیں ایسی باتوں میں الجھایاجو انہیں فکر و خیال اور روشن خیالی کی دنیا سے دور لے جا سکیں۔ ایسے حکمراں حکومت کر کے اور اپنی زندگی کے دن گذار کر اس دنیا سے رخصت تو ہو جاتے ہیں لیکن جس تباہ کن زہر سے وہ عوام کو آشنا کر ا جاتے ہیں وہ زہر پھیلتے پھیلتے کافی تباہی مچا دیتا ہے ۔پاکستان کی مثال کو اگر سامنے رکھا جائے تو جنرل ضیاء الحق ایک ایسے غاصب فوجی حکمراں تھے جنہوں نے اسلامائزیشن کے نام پر ایسی گھٹی وہاں عوام کے ایک بڑے حلقے کو پلا گئے کہ اس کے اثرات سے آج بھی پاکستان باہر نہیں نکل پایا۔ اگر چہ گذشتہ بارہ سال کے عرصے سے وہاں منتخب حکومتیں کام کر رہی ہیں لیکن سماجی سطح پر ماحول پر جو چھاپ نام نہاد اسلامائزیشن کے دور نے چھوڑی تھی وہ اب بھی اپنے اثرات کسی نہ...

پاکستانی صحافی کے اغوا اور رہائی کی کہانی

پاکستان میں صحافیوں، بلاگروں، دانشوروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں کے زبردستی غائب کئے جانے، اذیت دینے اور کبھی کبھی ہلاک کئے جانے کی کہانی آئے دن دہرائی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر واقعات کے پیچھے پاکستانی فوج، اس کی ایجنسیوں یا ان کی ہدایت پر کام کرنے والے دوسرے اداروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالا تر تصور کرتی ہے۔ نہ تو کوئی حکومت کسی فوجی جنرل کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتی ہے اور نہ کسی عدلیہ سے اسے سزا دی جاسکتی ہے کیونکہ اگر وہ ایسا کچھ کرنا چاہے تو اسے خود اقتدار سے بے دخل ہونا پڑتا ہے، جیل جانا پڑتا ہے اور کبھی کبھی پھانسی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ تمام مثالیں پاکستان میں موجود ہیں اور یہ سب کچھ وہاں کا معمول ہے۔ لوگ آئے دن یہ مناظر دیکھتے رہتے ہیں۔ بہرحال ایک تازہ واقعہ یہ ہوا ہے کہ ایک بیباک اور بے خوف صحافی مطیع اللہ جان جو، فوجی جنرلوں کے غیر آئینی کاموں کی زبردست تنقید کیا کرتے تھے اور فوج کی نظر میں بری طرح کھٹک رہے تھے، ان کا گزشتہ منگل یعنی 21 جولائی کو اس وقت اغوا ہوگیا جب وہ اپنی بیوی کو ان کےاسکول سے واپس...

موضوع: کلبھوشن جادھو معاملے میں پاکستان کا مضحکہ خیز رویہ

بھارت کی جانب سے کلبھوشن جادھو تک ہندوستانی سفارتکاروں کی رسائی کے لیے بارہ بار درخواست کرنے کے بعد پچھلے ہفتے پاکستان نے دوسری بار اس ملاقات کا اہتمام کیا، لیکن یہ ملاقات بھی ایک دکھاوا ثابت ہوئی جیسا کہ ستمبر 2019ہوا تھا۔ اسلا م آباد کا الزام ہے کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے خلاف جاسوسی میں ملوث تھے اور اسی الزام کے لئے ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلاکر اپریل 2017میں انہیں موت کی سزا سنا دی گئی۔ یہ معاملہ بھارت بین الاقوامی عدالت میں لے گیا، جہاں مئی 2019میں عدالت نے کہا کہ پاکستانی عدالت کے فیصلہ پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے ایک مؤثر میکنزم کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی عدالت کے حکم کی بظاہر تکمیل کےلئے پاکستان نے اس سال مئی میں ایک آرڈیننس نافذ کردیا۔ اس کے بعد اسلام آباد نے نئی دہلی کو یقین دلایا کہ بغیر کسی شرط کے ہندوستانی سفارتکاروں کی ملاقات کلبھوشن جادھو سے کرائی جائے گی، جہاں ان لوگوں کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہوگا اور اس ملاقات میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوگی۔ بھارت کو امید تھی کہ پاکستان اپنی اس یقین دہانی کا احترام کرے گا۔ وعدے کے مطابق دو ہندوستانی سفارتکارو...

موضوع: بھارت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بہترین ملک

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ کا ایک قابل اعتبار تجارتی پارٹنر ہے۔ بدھ کے روز ہند ۔امریکہ تجارتی کونسل کے زیر اہتمام انڈیا آئیڈیاز ورچول سر براہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زراعت ، صحت اوردفاع سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے لئے اپیل کی تاکہ بھارتی معیشت بحال ہو سکے جو کورونا وائرس کی وبا کے باعث سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں نہ صرف کثیر مواقع موجود ہیں بلکہ یہاں کام کرنے کی پوری آزادی بھی ہے ۔اس دو روزہ کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور امریکہ ایک ساتھ مل کر کام کریں تو عالمی معیشت کو پٹری پر لانے میں بھی کافی مدد مل سکتی ہے اور بھارت کی خود انحصاری کی مہم اس عمل میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمرانی میں شفافیت موجود ہے ۔ یہاں کام کرنے کو کافی آسان بنا دیا گیا ہے اور اصول و ضوابط کے باعث کاروبار میں جو دشواریاں آتی تھیں انہیں دور کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک بہترین ملک بن چکا ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ان تمام اصلاحات کا ذکر کیا جو ان کی حکومت نے ک...

افغانستان میں مزید کنفیوژن اور سوالات

افغانستان کا معاملہ تہ در تہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک نہیں کئی سوالات اٹھتے رہتے ہیں جن کے کوئی جواب نہیں ملتے۔ اسی اعتبار سے کنفیوژن بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی تک سب سے بڑا سوال تو یہی پوچھا جاتا رہا ہے کہ مانا کہ امریکہ اور طالبان کے ساتھ بات چیت بالآخر ایک سمجھوتے پر ختم ہوئی لیکن اصل سوال اپنی جگہ پر ہے کہ اندرون افغانستان طالبان اور افغان حکومت اور دوسرے حصہ داروں کے مابین بات چیت کب اور کیسے شروع ہو!اس ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ خود طالبان کے اندر موجود ہے۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت جو دوحہ کی بات چیت میں شریک تھی، وہ یہ تو سمجھتی ہے کہ اسے اپنے کچھ سخت گیر رویے ترک کرنے پڑیں گے اور افغانستان کے دوسرے اسٹیک ہولڈرس (Stake holders) سے بھی کچھ نہ کچھ سمجھوتے کرنے پڑیں گے لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ کیا طالبان کے انتہاپسند جنگجو جو افغانستان کے متعدد علاقوں پر قابض ہیں یا جن کا وہاں زبردست دبدبہ ہے اپنی قیادت کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ کرے؟ یہی وجہ ہے کہ طالبان قیادت فی الحال اس سوال کا جواب دینے سے کتراتی رہی ہے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کرتی ہ...

ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ

ہندوستان نے اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر کے انتظام اور اس کے رکھ رکھاؤ کیلئے پچھلے ہفتے امریکہ کیساتھ ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کئے۔ اس اقدام کیساتھ ہی نئی دہلی نے توانائی کی سلامتی کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مفاہمت نامہ پر دستخط ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ کی دوسری وزارتی میٹنگ کے دوران کئے گئے جس کی پہل اپریل 2018 میں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ڈونل ٹرمپ کی ہدایات پر ہوئی تھی۔ اس طرح کے مفاہمت نامہ پر دستخط کرنے سے سیاسی اور جغرافیائی اتھل پتھل کی صورت میں نہ صرف توانائی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے گا بلکہ تیل کی قیمتوں کے اچانک بڑھنے یا کم ہونے کی صورت میں ملک کو تحفظ فراہم ہوسکے گا جیسا کہ 2008 میں ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سال دنیا کو زبردست مندی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے تیل کی مانگ کافی کم ہوگئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتیں کافی گر گئی تھیں۔ ہندوستان امریکہ کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر میں اپنا کچا تیل رکھ کر تیل کا اپنا ذخیرہ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کی غیریقینی صورتحال جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس س...

موضوع: چین کے جارحانہ رویّہ سے عالمی برادری برہم

اِسی مہینہ کے اوائل میں امریکی بحریہ کے دو بحری بیڑوں نے ساؤتھ چائنا سی میں فوجی مشقوں کا اہتمام کیا تھا۔ اپنے بیڑوں کو امریکہ نے اِسی ہفتہ دوبارہ اسی سمندری خطے میں تعینات کیا ہے۔ اس پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دراصل امریکہ چین پر جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگاتارہا ہے۔امریکی بیڑوں کی تعیناتی اور امریکہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے پس منظر میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چین، ٹیکنالوجی کےسپرپاور کے طور پر امریکہ کے مقام کو چیلنج نہیں کرنا چاہتا لیکن اس بات کی پرزور تردید کرتا ہے کہ وہ جارحانہ عزائم کا حامل ملک ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پوری شدت سے وہ امریکہ کے اس الزام کا مقابلہ کرے گا کہ چین کی خارجہ پالیسی جارحانہ عزائم کی حامل ہے۔ اسی سانس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین محض یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی اقتصادی حالت سدھارے اور عالمی امن واستحکام کو بحال رکھنے میں مدد کرے۔ جہاں تک اپنے شہریوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے یا ان کے ذرائع آمدنی کو بڑھانے یا ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کا سوال ہے تو دنیا کا کون سا ایسا...

مالدیپ کے لیے ہندوستانی امداد

عالمی وبا کے درمیان ہندوستان اپنے پڑوسی ملکوں کو ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے جو امداد فراہم کررہا ے اس سے ان کی سماجی اور معاشی ضرورتوں کی تکمیل میں کافی مدد مل رہی ہے۔ ہندوستان نے اس ہفتے مالدیپ کے 16 جزیروں کو فٹنس کے آلات مہیا کرائے۔ ان آلات کی سپلائی مالدیپ میں سماجی اور معاشی ترقی کے پروجیکٹوں کو اس ہندوستانی امداد کا ایک حصہ تھی جس کا اعلان پچھلے سال مارچ میں صدر محمد ابراہیم صالح کے نئی دہلی کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ ہندوستان نے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے پانچ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ سماجی اور معاشی ترقی کے کچھ دوسرے پروجیکٹوں کے لیے 6 اعشاریہ 9 ملین ڈالر نقد دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مالدیپ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد نشید نے ہند-مالدیپ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا ملک ہندوستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات ترک کردیتا ہے تو اس کا ترقی کرنا ناممکن ہوجائےگا۔ انہوں نے اپنے ملک کے دوسرے رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہندوستان جیسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت دانشمندی اور...

طالبان کے آپسی اختلافات اور افغانستان کا مستقبل

اس سال فروری کے مہینے میں طالبان اور امریکہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے ایک سمجھوتا ہوا تھا اس کے بارے میں شروع ہی سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہے۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ بات چیت کے دوران بھی افغانستان میں تشدد کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوا تھا ۔ دوسری بات یہ بھی محسوس کی جا رہی تھی کہ طالبان حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے یا اندرون افغانستان مصالحت اور مفاہمت کا ماحول قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ لیکن رفتہ رفتہ کچھ ایسے انکشافات بھی ہونے لگے جن سے یہ اندازہ ہوا کہ خود طالبان کی اندرونی صفوں میں شدید اختلافات موجود ہیں اور یہ کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی جس قیادت نے حصہ لیا اس کے پلان اور اس کے متعدد جنگجو ؤں کے خیالات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں کیونکہ یہ بات بطور خاص محسوس کی جا رہی ہے کہ دوحہ میں طالبان قیادت نے مصالحتی انداز اختیار کیا تھا اور کم از کم یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ انسانی حقوق، جمہوریت اور اقتدار میں ساجھے داری جیسے موضوعات پر حکومت افغانستان سے بعد کے مرحلے میں سنجیدہ بات چیت ہو سکتی ہے اور کوئی حل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ شاید طا...

پاکستان کا قومی احتساب بیورو یا آگ اگلنے والااژدہا؟

پاکستان میں قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ ہے جو سیاست دانوں ، بیوروکریٹس اور بزنس مین پر لگائےگئے کرپشن کے الزامات سنتا ہے اور فیصلے کرتا ہے۔ لیکن اس کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس کے زیر سماعت آنے والے معاملات میں ملزم کو اس وقت تک مجرم ہی تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ بےگناہ نہیں ثابت کردیتا، جبکہ عام قانون میں ملزم اس وقت تک بےقصور تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ مجرم ثابت نہ ہوجاتا۔ اس نظام انصاف کوقائم کرنے کی سعادت پاکستانی فوج کو حاصل رہی ہے کیونکہ ایک فوجی آمریت کے دوران اسے اس وقت روشناس کرایا گیا جب مارشل لا نافذتھا۔ بہر حال اس وقت اس کاوجود ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ قومی احتساب بیورو اب تک متعدد اپوزیشن سیاست دانوں کی زندگیاں اور کریئر تاراج کرچکا ہے۔ لیکن ایک ستم ظریفی یہ ہے کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہےتو نیب پر طرح طرح کے الزام لگاتی ہے اور اسے انتقامی کارروائی کا ایک ذریعہ تصور کرتی ہے لیکن جب اقتدار میں آجاتی ہے تو کچھ ایسے رویہ کا مظاہرہ کرتی ہے کہ‘‘جیسے چل رہا ہے چلنے دو’’۔ اور ان سیاسی پارٹیوں سے تھوڑی دوری پر کھڑی پاکستانی فوج یہ تماشہ دیکھتی ہے اور ذہانت اور...

موضوع: گوگل کا بھارت میں سرمایہ کاری کا اعلان

امریکہ کے ٹکنالوجی شعبہ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے آئندہ پانچ سے سات برسوں کے دوران بھارت میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی کمپنی کے اس اقدام سے بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کو کافی فروغ حاصل ہوگا۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بھارت کو دھیان میں رکھ کر مصنوعات تیار کرنا ہے اور ایسے چار شعبوں میں خدمات فراہم کرنا ہے جو بھارتی معیشت کے ڈجیٹائزیشن کےلئے کافی اہم ہیں۔ یہ ہیں:ہر ہندوستانی کو اسی کی زبان میں اطلاعات پہنچانا، ایسی مصنوعات تیار کرنا اور خدمات فراہم کرنا جو بھارت کی ضروریات کے مطابق ہوں، تجارتی برادری خاص طور پر چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتیں ڈجیٹائزیشن کے شعبہ میں جو اصلاحات کررہی ہیں انھیں بااختیار بنانا اور زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں سماجی بہبود کے لئے ٹکنالوجی اور آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال۔ گوگل فار انڈیا کی سالانہ ورچوول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوگل کے سندرپچئی نے جو الفابٹ انک کے چیف ایگزیکیٹیو بھی ہیں، کہا کہ کنکٹیوٹی پھیلانے کی گوگل کی کوششوں کو جلد کامیاب بنانے کے لئے فنڈ فراہم کئے جائیں گے۔ بھارت میں اس وقت پانچ سو ملین لوگ ایسے ہیں جو انٹرنیٹ ک...

ہندوستان اور سنگا پور کے درمیان بڑھتے تعلقات

ہندوستان اور سنگا پور کے درمیان بڑھتے تعلقات سنگا پور میں وزیراعظم لی ہسین لونگ کی قیادت میں حکمراں پیپلز ایکشن پارٹی گزشتہ ہفتے عام انتخابات جیت کر دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ انتخابات میں 96 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی اور پارلیمنٹ کی کل 93 نشستوں میں سے پیپلز ایکشن پارٹی کو 83 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ باقی دس سیٹیں اپوزیشن ورکرز پارٹی کو ملیں۔ 1959 میں پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد پی اے پی کی عام انتخابات میں لگاتار یہ 15 ویں جیت ہے۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے سنگا پور کے اپنے ہم منصب لی ہسین لونگ کو انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت پر مبارک باد پیش کی ہے۔ سنگا پور کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا مطلب ہے ہند۔ سنگاپور تعلقات کا مزید فروغ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور سنگا پور کے وزیراعظم لونگ کی قیادت میں دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔  وزیراعظم مودی نے سنگا پور کے بانی آنجہانی لی کوان ییو کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ وہ 1959 سے لے کر 1990 تک سنگا پور کے وزیراعظم رہے۔ سنگا پور کو ایک جدید ملک بنانے میں ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جب مارچ 2015 میں ان ...

عمران کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں لیکن فی الحال کوئی متبادل نہیں

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے اقتدار کا، دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ کاٹ لیا لیکن اب ہر طرف ان ک مستقبل کے تعلق سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور فوجی جنرلوں کی ‘‘مثالی قربت’’ اب دوری میں بدلتی جارہی ہے۔ یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان کو سیاسی حلقوں میں منتخب یعنی الیکٹیڈ وزیراعظم نہیں، بلکہ سلیکٹیڈ یعنی کسی کے ذریعہ بحال یا مقرر کیا گیا وزیراعظم کہا جاتا ہے اور انہیں اس عہدے پر بحال کرنے کا کریڈٹ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور کسی حد تک عدلیہ کو دیا جاتا ہے۔ بھلے ہی یہ بات طنزیہ انداز میں کہی جاتی ہو لیکن عمران خان کی ایسی امیج بن گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان بے وجہ فوجی جنرلوں کے منظور نظر بن گئے تھے۔ وہ بہرحال عالمی شہرت کے کرکٹ کھلاڑی تھے۔ پھر ایسے کچھ فلاحی کام بھی کئے تھے، جن سے ان کی ساکھ اور شناخت قائم ہوئی تھی۔ مثلاً جس انداز کا کینسر اسپتال انہوں نے قائم کیا تھا، اس نے ان کی شخصیت کو کافی مقبول بنایا تھا۔ دو دہائی سے زیادہ عرصہ سے وہ سیاست کے دشت کی سیاحی کررہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پاکستان میں بڑھ...

موضوع: فوجی جنریلوں کی شان میں پاک میڈیا کی قصیدہ خوانی

اپنے اغراض کے حصول کے لیے دوسروں کی جھوٹی تعریفیں کرنا یا اس کے قصیدے پڑھنا انسانی فطرت ہے اور یہ روایت زمانۂ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ ایک زمانے میں درباری شاعر ہوا کرتے تھے جو حکمرانوں کی شان میں قصیدے لکھ لکھ کر انعام و اکرام حاصل کیا کرتے تھے۔ کسی بذدل حکمراں کو دنیا کا سب سے بہادر انسان قرار دینا کوئی مشکل بات نہ تھی اور اس تعریف و توصیف سے حکمراں خود کو بھی ایسا ہی دلیر سمجھنے لگتے تھے۔ یا کسی معمولی سی شکل و صورت والی شہزادی یا ملکہ کو چاند سے بھی زیادہ حسین و خوبصورت بتانا اور اس کی شان میں قلابے ایک کردینا شاعر کے بائیں ہاتھ کا کام ہوا کرتا تھا اور ہو بھی کیوں نہیں کیونکہ حکمرانوں سے جائز و ناجائز فائدے اٹھانے کا ذریعہ یہی جھوٹی تعریف و توصیف ہوا کرتی تھی۔ پرانہ زمانہ ختم ہوا نیا دور آیا لیکن انسان کی فطرت نہیں بدلی۔ اب دربار کی جگہ اخبار اور جریدے آگئے تھے اور بعد میں الیکٹرانک میڈیا بھی آگیا۔ اب اخبارات اور جریدوں کے ذریعہ حکمرانوں کے قصیدے پڑھے جانے لگے، ان کی ناجائز حرکتوں کو جائز قرار دیا جانے لگا۔ ان کی خامیوں پر پردے ڈالے جانے لگے۔ اس سلسلہ میں دوسرے ملکوں کے مقاب...

آر ایس ایف کا بیرون ملک رہنےوالے صحافیوں کے بارے میں پاک میمو پر اظہار تشویش

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بیرون ملک مقیم چھ صحافیوں سے متعلق پاکستان کے سکیورٹی حکام کے ایک 'خفیہ مراسلے‘ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آر ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی وزارت داخلہ کا یہ 'خفیہ میمو‘ 18جون کو تحریر کیا گیا تھااور اس مراسلے میں یورپ اور امریکا میں مقیم ایک افغان اور پانچ پاکستانی صحافیوں کی مبینہ ''پاکستان مخالف سرگرمیوں“ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ان چھ افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی میڈیا میں ''ریاست مخالف مواد“ شائع کراتے ہیں، اس لیے ''ان کی نقل و حرکت، ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سختی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔“ پاکستانی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ مراسلے میں یہ مزید ہدایات ہیں کہ، ''ان سے باضابطہ طور پر رابطہ کر کے کہا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف باتیں کرنا بند کر دیں۔“آر ایس ایف نے سکیورٹی کی خاطرمذکورہ چھ صحافیوں کے نام جاری نہیں کیے ہیں۔تاہم آر ایس ایف کے مطابق یہ میمو پاکستان کی پانچ اعلیٰ شخصیات کے لیے تھا، جن میں ڈائری...

موضوع :پاکستان میں اقلیتیں ہمیشہ غیر محفوظ

بانی پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فیصلے کے بعد 11اگست1947 کو آئین ساز اسمبلی میں جو تقریر کی تھی اس کا متن یہ تھا کہ اس نوازائیدہ ملک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا ، ہر شخص آزاد ہوگا ،مندر مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے پر کوئی پابندی نہیں عائد ہوگی۔مختصر یہ کہ ریاست کو اس بات سے کوئی سروکار نہ ہوگا کہ کس شخص کا مذہب کیا ہے ۔ یقیناً مسٹر جناح کی اس بات سے اس وقت پاکستان کی اقلیتوں میں اعتماد پیدا ہوا ہوگا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستا ن میں اقلیتیوں کی تعداد وہاں کی مجموعی آبادی کے کم و بیش 25فیصد کے بقدر تھی۔ لیکن بانی پاکستان کی وہ یقین دہانی حقیت کی شکل میں سامنے نہ آ سکی ۔ تھوڑے ہی دن بعد تمام اقلیتوں کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ انہیں ہر محاذ پر نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں سب سے بڑی اقلیت ہندو اقلیت تھی اس کے علاوہ سکھ، عیسائی اور کچھ دوسری اقلیتیں بھی تھیں ۔ ایک اور اقلیت تو پاکستان نے خود پیدا کر لی جب 1947 ...