موضوع: کشمیر کی گرانقدر ثقافتی میراث
ہندوستان کے سرکا تاج کشمیر مخلوط ثقافتوں کی ایک ایسی مثال ہے جہاں مختلف خیالات کی دھارائیں ایک ساتھ بہتی ہیں اور صدیوں سے بہتی چلی آئی ہیں۔ علاقہ کی اس روش سے ایک دوسرے کی روایات کی قدر میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایسی کثیر رخی فلاسفیوں کی نمائندگی کرتا ہے جس پر ہندو، بودھ اور اسلام مذہبوں کے کافی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلاسفی کو آج کشمیریت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو ہمیں پیار ومحبت اور اخوت کے ساتھ جینے کا سبق دیتی ہے۔ 14ویں صدی میں مذہب اسلام پہنچنے سے پہلے کشمیر میں ہندو اور بودھ مذاہب کا اثر تھا ۔ تاہم مذہب اسلام پہنچنے کے باوجود ان مذاہب میں کبھی اختلاف نہیں پیدا ہوا اور تینوں مذہبوں کی روحانیت اور خیالات کا ایک دوسرے کے ذریعہ احترام کیا جاتا تھا۔ اس لئے اگر کشمیر میں ہندو مذہب کی روحانیت موجود تھی تو اسی کے شانہ بشانہ صوفی تحریک بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ عظیم صوفی شاعرہ لالیشوری نے جنہیں لال دید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اپنے اشعار کے ذریعہ روحانیت کو فروغ دیا۔ انھوں نے علاقہ میں اسلام کے آنے سے پہلے اور اس کے بعد کے ادوار کے درمیان ایک پل کا کام کیا جن کے بعد...