موضوع: گوگل کا بھارت میں سرمایہ کاری کا اعلان

امریکہ کے ٹکنالوجی شعبہ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے آئندہ پانچ سے سات برسوں کے دوران بھارت میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی کمپنی کے اس اقدام سے بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کو کافی فروغ حاصل ہوگا۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بھارت کو دھیان میں رکھ کر مصنوعات تیار کرنا ہے اور ایسے چار شعبوں میں خدمات فراہم کرنا ہے جو بھارتی معیشت کے ڈجیٹائزیشن کےلئے کافی اہم ہیں۔ یہ ہیں:ہر ہندوستانی کو اسی کی زبان میں اطلاعات پہنچانا، ایسی مصنوعات تیار کرنا اور خدمات فراہم کرنا جو بھارت کی ضروریات کے مطابق ہوں، تجارتی برادری خاص طور پر چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتیں ڈجیٹائزیشن کے شعبہ میں جو اصلاحات کررہی ہیں انھیں بااختیار بنانا اور زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں سماجی بہبود کے لئے ٹکنالوجی اور آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال۔

گوگل فار انڈیا کی سالانہ ورچوول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوگل کے سندرپچئی نے جو الفابٹ انک کے چیف ایگزیکیٹیو بھی ہیں، کہا کہ کنکٹیوٹی پھیلانے کی گوگل کی کوششوں کو جلد کامیاب بنانے کے لئے فنڈ فراہم کئے جائیں گے۔ بھارت میں اس وقت پانچ سو ملین لوگ ایسے ہیں جو انٹرنیٹ کا استعمال کررہے ہیں۔ لیکن اس سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کو امید ہے کہ مزید پانچ سو ملین لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے لگیں گے۔ گوگل کی تقریب سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سندرپچئی کے ساتھ ان کی بات چیت کافی ثمر آور تھی۔ ایک ٹویٹ میں جناب مودی نے کہا کہ انھوں نے جناب پچئی کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ سب سے اہم موضوع یہ تھا کہ بھارتی نوجوانوں ، صنعت کاروں اور کسانوں کی زندگی کو ٹکنالوجی کے ذریعہ کیسے سنوارا جائے۔ وزیر اعظم نے ڈیٹا سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائویسی سے متعلق موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جناب مودی نے ٹکنالوجی کی کمپنیوں سے اپیل کی وہ اعتماد میں کمی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے اس بات پر روشنی ڈالی کی ذراعت ، صحت اور جدید تعلیم جیسے شعبوں میں آرٹیفیشل انٹلیجنس کا استعمال کرکے گوگل کافی اہم کام کرسکتا ہے۔

گوگل نے سینٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ شراکتداری کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز میں نہ صرف کلاس رومس کو ڈجٹیائز کرنا ہے بلکہ سی بی ایس ای کے اسکل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ شعبہ کے ساتھ کام کرنا بھی شامل ہے تاکہ 2020 کے اواخر تک تمام ملک میں 22ہزار اسکولوں کے تقریبا دس لاکھ ٹیچرس ٹکنالوجی کی تربیت حاصل کرسکیں۔ کلاسوں کے آن لائن لینے میں یہ تجویز نہایت ہی اہم ہے۔ اس طرح کے ڈجیٹائزیشن کے لئے کمپنی جی سوٹ فارایجوکیشن، گوگل کلاس روم اور یوٹیوب سمیت اپنے سافٹ ویئر میں توسیع کرے گی۔ گوگل کی گلوبل ڈسٹینس لرننگ فنڈ کے ذریعہ کیوالیہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بھی دس لاکھ ڈالر دینے میں دلچسپی ہے تاکہ ٹیچرس بچوں کو آن لائن تعلیم دے سکیں۔ اس کے علاوہ کمپنی پرسار بھارتی کے ساتھ بھی کام کرنے کی تیاری میں ہے تاکہ چھوٹے صنعت کاروں کے لئے پروگرام تیار کئے جاسکیں۔

تجارت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں نے بھارت میں سرمایہ کاری کے گوگل کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ دوسرے ملکوں میں انجینئرنگ کے شعبہ میں کام کرنے والے زیادہ تر ہندوستانی ہیں۔ ملک میں بھی باصلاحیت نوجوان انجینئرس کافی تعداد میں موجود ہیں، لہذا ان انجنیئروں کو کمپنی اپنی ضروریات کے مطابق تربیت دے کر نہ صرف اپنے لئے بلکہ میزبان ملک کے لئے تیار کرسکتی ہے۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس کے شعبہ میں بھی بھارت میں کافی مواقع موجود ہیں اور کمپنی اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

ابھی کچھ مہینے قبل گوگل کی حریف کمپنی فیس بک نے ڈیٹا استعمال کے لئے مکیش امبانی کی کمپنی جیو پلیٹ فامس میں تقریبا 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ امیزون نے بھی اس سال ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس پانچ ارب ڈالر کے علاوہ ہے جس کا اعلان اس نے پہلے کیا تھا۔ گوگل نے بھارت میں آٹھ مصنوعات شروع کی ہیں۔ مختصر یہ کہ کووڈ-19 وبا سے پیدا تشویشات اور معیشت کی سست روی کے درمیان گوگل کے سرمایہ کاری سے متعلق اعلان نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ بھارت کی ڈجیٹل معیشت میں مشکلات کا سامنا کرکے ان پر فتح حاصل کرنے کی پوری طاقت اور صلاحیت موجود ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ