موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے آن لائن خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے مستقبل کے لئے ایک وژن پیش کیا تاکہ امن و سلامتی اور ترقی کے مقاصد حاصل ہو سکیں لیکن اس وژن کی تکمیل کے لئے اقوام متحدہ میں اصلاحات بہت ضروری ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 1945 کی دنیا یقیناً آج کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ جوعالمی ادارہ فلاح و بہبود کے احساس کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا وہ اس وقت کے مطابق تھا۔ آج ہم بالکل مختلف دور سے گزر رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہمارے مستقبل کی ضروریات اور چیلنجز کچھ اور ہیں۔ اس لئے آج پوری عالمی برادری کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے کی نوعیت جو اس وقت کے حالات میں تھی آج بھی ویسی ہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج اقوام متحدہ میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہوئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت ساری جنگیں ہوئیں۔ دنیا کو بہت سے ملکوں میں خانہ جنگی بھی دیکھنے کو ملی۔ کتنے ہی دہشت گردانہ حملوں سےدنیا لرز اٹھی،خون کی ندیاں بہتی رہیں۔ ان جنگوں اور حملوں میں مارے گئے انسان ہمارے جیسے ہی تھے ۔ لاکھوں معصوم بچے جنہیں دنیا پر چھا جانا تھا دنیا سے رخصت ہو گئے۔ جنگوں اور خانہ جنگی کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر اس وقت پناہ گزینوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اور ان سب واقعات کو روکنے میں سلامتی کونسل نا کام رہی۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے سلامتی کونسل میں اصلاحات وقت کا تقاضہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستان کے ایک ارب تیس کروڑ سے زیادہ لوگ اس عالمی ادارے میں غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ کی اصلاحات کے لئے جاری عمل کی تکمیل کے لئے ایک لمبے عرصہ سے انتظار کر رہے ہیں۔ آخر کب تک ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلہ سازی کے ڈھانچہ سے الگ رکھا جائے گا۔
ہندوستان کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت سے اقوام متحدہ کو اس کے تجربات سے کافی فائدہ ہوگا کیونکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جہاں دنیا کی آبادی کے 18 فیصد لوگ رہتے ہیں۔ اس سے اقوام متحدہ کے اس وژن کو بھی تقویت ملے گی کہ ساری دنیا ایک کنبہ کی مانند ہے۔ ہندوستان کا بھی ہمیشہ یہی نظریہ رہا کہ تمام دنیا ایک کنبہ کی طرح ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے دو اکتوبر کو عالمی یوم عدم تشدد اور 21جون کو بین الاقوامی یوم یوگ منانے کی پہل کی ۔ ہندوستان نے ہمیشہ پوری انسانیت کے مفاد کی بات کی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے ترقیاتی سفر کے تجربات بانٹنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ یہاں تک کہ کورونا وائرس کی وبا کے اس مشکل وقت میں بھی ہندوستان کی دوا سازی کی صنعت نے ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک میں ضروری دوائیں بھیجیں۔ دنیا کے سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے ملک کی حیثیت سے میں آج عالمی برادری کو ایک اور یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی ویکسین کی تیاری اور فراہمی کی صلاحیت کا مقصد پوری انسانیت کو اس بحران سے نکالنا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کے ختم ہونے کے بعد کے دور کے لئے ہندوستان نے ایک خود انحصار بھارت کے وژن کا اعلان کیا تھا جو عالمی معیشت کے لئے کافی مدد گار ثابت ہوگا۔وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ملک کی عوامی بہبود کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کی تصویر پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ان اسکیموں کے باعث لاکھوں لوگوں کو ان کی تجارت میں فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلےلاکھوں لوگ رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں پر جاتے تھے لیکن اب ان لوگوں نے یہ عادت چھوڑ دی ہے۔اور حکومت کی اسکیم کے تحت انہوں نے اپنے گھروں میں ہی بیت الخلا تعمیر کرا لیا ہے۔ اس کے علاوہ صحت خدمات کے شعبہ میں بھی سرکاری اسکیم کے تحت لاکھوں لوگوں کو مفت علاج فراہم کیا جا رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترقیاتی پالیسی میں مرد اورعورت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔دونوں کو برابر کا موقع دیا جا تا ہے۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے بھی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ہندوستان ڈیجیٹل ٹرانزیکشن میں عالمی رہنماؤں میں شامل ہو گیا ہے۔
جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان وہ ملک ہے جس نے اپنے بہادر فوجیوں کو قیام امن کے لئے تقریباً پچاس مشنوں پر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمسایہ ممالک کو ترجیح دینے کی پالیسی اور ایکٹ ایسٹ پالیسی اپنائی ۔ یہ فلسفہ خطے میں سب کے لئے سلامتی اور ترقی کے بارے میں ہمارے نظریہ کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان دنیا میں امن و ترقی کے لئے پابند عہد ہے۔
وزیر اعظم اگلے سال جنوری سے ہندوستان کو سلامتی کونسل کے لئے منتخب کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہندوستان ترقی کے اپنے وسیع تجربات سے تمام دنیا کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس سے اقوام متحدہ کو با اختیار اور مضبوط بنانے میں مدد ملے گی جو تمام دنیاکی فلاح و بہبود کے لئے نہایت ضروری ہے۔
Comments
Post a Comment