Posts

Showing posts from July, 2019

پاکستان کو دھوکہ دینے کی اپنی روش بدلنے کی ضرورت

کرگل جنگ جہاں ایک طرف ہندوستان کے خلاف پاکستان کی منصوبہ بند سازشوں میں سے ایک سازش تھی وہیں دوسری طرف ہندوستانی افواج کی شجاعت و بہادری کا ایک جیتا جاگتا نمونہ بھی تھی۔ پاکستانی فوج نے جس طرح شب کی تاریکیوں میں دنیا کی بلندو بالا چوٹیوں پر قبضہ کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی اس کا یہی انجام ہونا تھا۔ ہندوستانی جوانوں نے جس جاں بازی وجاں نثاری کا مظاہرہ کرکے اس منصوبہ بند سازشوں کو ناکام بنایا وہ تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا ہے۔ اس جنگ میں ہندوستان کی شاندار کامیابی یہاں کی مسلح افواج کے بے شمار تمغوں میں ایک دیدہ زیب تمغہ ہے۔ یہ جنگ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان شروع سے ہی ہندوستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ خواہ وہ ممبئی پر ہونے والا خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہو جس میں 166 افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں یا پھر حالیہ برسوں میں پٹھان کوٹ، اڑی اور اب پلوامہ میں دہشت گردانہ اور خود کش حملے ہوں۔ حافظ سعید کو پوری دنیا ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتی ہے۔ پلوامہ کا خود کش...

افغانستان کی غیر یقینی صورت حال 

ایک طرف دوحہ میں امریکی اور طالبان نمائندوں کے مابین افغانستان میں قیام امن سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے، جو بعض رپورٹوں کے مطابق اپنے آخری مرحلوں میں ہے تو دوسری طرف اندرون افغانستان صورت حال دن بدن ناگفتہ بہ ہوتی جارہی ہے۔ 28ستمبر کو صدارتی انتخاب ہونے والا ہے لیکن تشدد اور دھماکوں کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ چل رہا ہے کہ ایسے ماحول میں قیام امن کی باتیں دیوانوں کے خواب جیسی لگتی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہر روز افغانستان میں ایسے دردناک واقعات بھی پیش آرہے ہیں کہ قیام امن کے سوال پر ہر روز سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ اگرچہ صدارتی انتخاب کو اب دو مہینہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے لیکن صحیح معنوں میں انتخابی مہم شروع بھی نہیں ہوسکی ہے۔ خودکش بمباریوں ، بمباریوں اور شوٹنگ کے واقعات ہر طرف پیش آرہے ہیں اور درجنوں کے حساب سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ سویلین، سرکاری عملہ، سیکورٹی فورسز اور پولیس حکام۔ کوئی بھی محفوظ نظر نہیں آتا۔ ابھی گزشتہ اتوار کو وسطی کابل میں زبردست دھماکہ ہوا نیز گولیاں چلیں، جن میں 20سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔ خود صدر اشرف غنی...

پاکستان کو امریکی امداد کی بحالی

عمران خان کے دورۂ امریکہ کے اغراض ومقاصد کا قیاس تو پہلے ہی سے کیا جارہا تھا لیکن امریکہ کی جانب سے پاکستان کے6F-1طیاروں کے ٹکنکل سپورٹ کے نام پر امداد کی بحالی کے اعلان کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ صدر ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق پالیسی نے ایک نئی کروٹ لی ہے۔ گزشتہ سال کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے تعلق سے انتہائی سخت موقف اختیار کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے نام پر امریکہ سے کروڑوں ڈالر کی خطیر رقم حاصل کی لیکن اس کے عوض اس نے امریکہ کو جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہ دیا۔ اس سخت بیان کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد بھی معطل کردی تھی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا تھا جب پاکستان پہلے ہی سے شدید مالی بحران کا شکار تھا۔ معیشت بری طرح لڑکھڑا رہی تھی اور توازنِ ادائیگی کی صورت حال انتہائی بحرانی دور سے گزر رہی تھی۔ لیکن جیسا کہ صدر ٹرمپ کے حوالے سے عالمی برادری کے مشاہدے میں ایک بات آئی ہے کہ وہ نہ جانے کب اپنے پرانے موقف کے سلسلے میں یوٹرن لے لیں اور کب کیسا فیصلہ کر بیٹھیں، اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سو افغانستان سے ...

ہندوستانی معیشت کے بڑھتے قدم

ہندوستان نہایت تیزی کے ساتھ اقتصادی ترقی کی راہ پر گامز ن ہے۔ یہ اس وقت دنیا کی تیز ترین معیشت ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح سات اعشاریہ چار(7.4) فیصد تک پہنچ گئی ہے جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیز ترین شرح ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے 2025تک پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بننے کا عزم کررکھا ہے۔ گذشتہ سال کے اقتصادی جائزہ کے مطابق ہندوستانی معیشت نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا کی جی ڈی پی 2014اور 2018 کے درمیان تین اعشاریہ چھ فیصد کی شرح سے بڑھی، وہیں ہندوستان نے لمبی چھلانگ لگائی اور چین سے زیادہ پائیدار شرح ترقی کی بنیاد پر دنیا بھر میں چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گئی۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افراط زر کا اوسط سابقہ پانچ برسوں کی افراط زر کے اوسط سے کم رہا۔ افراط زر کا یہ اوسط ملک کی تاریخ میں آزادی کے بعد سب سے نچلی سطح پر رہا۔ہندوستان کی معیشت اس سال تین ٹریلین ڈالر کی ہوجائے گی اور 2025تک یہ پانچ ٹریلین ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہندوستان اقتصادی ترقی کی راہ پر جس تیزی سے گامزن ہے اسے ...

موضوع: پاکستان کی حقیقت بیانی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک میں 40 دہشت گرد کیمپ موجود تھے اور پاکستان کی سرزمین پر اس وقت 40 ہزار دہشت گرد سرگرم ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم کا یہ اعتراف واشنگٹن کے ان کے حالیہ دورے کے دوران آیا جہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو کبھی بھی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا 9/11سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ القاعدہ اس وقت افغانستان میں سرگرم تھا اور پاکستان میں طالبان سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی عسکریت پسند موجود نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ بد قسمتی سے جب صورتحال بگڑ گئی تو اس وقت ہم نے امریکہ کو زمینی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ کیپیٹول ہل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ سے سچ چھپانے کیلئے سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ امریکہ کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران واشنگٹن میں یونائیٹیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ایک دوسری تقریب میں انہوں نے کہا کہ ان...

موضوع: عمران نے ایک حقیقت تو تسلیم کی لیکن دوسری کو نظر انداز کیا

حالانکہ پاکستان کے حکمرانوں نے مختلف مواقع پر اور مختلف انداز سے اس بات کا اعتراف وقتاً فوقتاً کیا ہے کہ پاکستان میں مسلح دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں لیکن پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ ایک منتخب وزیراعظم نے امریکہ کی سرزمین پر ایک تھنک ٹینک کی میٹنگ میں کھلم کھلا یہ اعتراف کیا کہ اب بھی پاکستان میں 30 سے 40 ہزار مسلح دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں جنہیں افغانستان اور کشمیر کے لئے ٹریننگ دی گئی تھی ۔ لیکن عمران خان نے ساراالزام اپنی پیشرو سویلین حکومتوں کے سرمنڈھ دیا کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان وضع کرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا اور ان گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ یہ بات کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان گروپوں کو مسلح کرنے اور انہیں ٹریننگ دینے کی پوری کی پوری ذمہ داری پاکستانی فوج پر عائد ہوتی ہے جس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پورے طور پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے اور اس خارجہ پالیسی کا ایک اٹوٹ حصہ ہندوستان دشمنی بھی ہے اور اسی کے تحت مسلح دہشت گرد گروپ خود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے خفا ہو گئے اور پاکستان کے اندر حملے کرنے لگے تو فوج نے ان کی درجہ بندی بھی شروع ک...

اعتراف گناہ بد تر از گناہ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ دورے کے موقع پر دیے گئے ایک بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک میں 40 سے زیادہ دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک کام کرتا رہا ہے۔عمران خان کے مطابق سابقہ نواز شریف حکومت 15 سال تک یہ بات امریکہ سے چھپاتی رہی، حتیٰ کہ اسے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے چھپے ہونے کے بارے میں بھی پوری جانکاری تھی۔ عمران نے اس سلسلے میں اپنی حکومت کی کارکردگی اور انسداد دہشت گردی کے لیے اٹھائے جارہے اقدامات کا بھی ذکر کیا، اور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت دہشت گردی سے متعلق معلومات کو امریکہ کے ساتھ شیئر کر رہی ہے. لیکن ان کا یہ بیان 'اعتراف گناہ بد تر از گناہ' کے زمرے میں ہی آئے گا۔ اس لیے کہ انھوں نے اس اعتراف میں اپنی حکومت کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی بے گناہ ثابت کرنے اور نواز شریف کی سابقہ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف حکومت نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے کوئی سنجیدہ قدم کبھی نہیں اٹھایا لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی مبینہ جمہوری حکومت اس معاملے میں کبھی کچھ نہیں کر سکی۔اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں...

ٹرمپ کا دعوی ناقابلِ یقین اور تکلیف دہ

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں جو بات کہی وہ نہ صرف ناقابل یقین تھی بلکہ تکلیف دہ بھی تھی کیونکہ ہندوستان اور ہندوستانی عوام کے لئے یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ کشمیر کے تعلق سے انہوں نے یہ کہا کہ جی۔20 کانفرنس کے موقع پر جاپان میں جب وزیراعظم مودی سے ان کی بات چیت ہوئی تھی تو انہوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں ثالثی کا رول انجام دیں۔ یہ ایک ایسا بیان تھا جس کا ہندوستان میں تو کیا خود امریکہ میں بھی کسی کو یقین نہ آیا ہوگا کیونکہ دہائیوں سے ہندوستان کا یہ اٹل موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو بھی متنازعہ معاملات ہوں گے، وہ دونوں ملک باہمی گفت و شنید کے ذریعہ سلجھائیں گے۔ نہ تو اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی قابل قبول ہوگی اور نہ ہی کسی کی مداخلت۔ ایسے میں باہمی معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانے سے بھی گریز کیا جائے گا اور یہ صرف ہندوستان کا اٹل موقف ہی نہیں ہے بلکہ 1972 میں جو شملہ معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ باہمی معاملات بشمول ک...

کشمیر پر ثالثی ہندوستان کو نامنظور

ہر ملک اپنی پالیسی بہت سوچ سمجھ کر بناتا ہے، اس کی پالیسی اچانک نہیں بدلتی۔ ہندوستان سے بھی یہ امید نہیں رکھی جا سکتی کہ اس کی پالیسی راتوں رات بدل جائے گی، وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ کشمیر پر ہندوستان کا واضح موقف رہا ہے کہ وہ اس کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن مسئلۂ کشمیر پر پڑوسی ملک پاکستان سے گفتگو کرنے سے اس نے کبھی گریزنہیں کیا، البتہ وہ اس میں تیسرے فریق کو شامل کرنے کےلئے تیار نہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو حل کرانے میں امریکہ ثالثی کرے، چنانچہ عمران خان نے پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے پہلے امریکی دورے میں امرےکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی گزارش کی۔ اسے ٹرمپ نے قبول کر لیا۔انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ان سے اس مسئلے میں ثالثی کےلیے کہا تھالیکن ہندوستان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایسی کوئی بات ٹرمپ سے کہی تھی۔ حکومت ہند کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا ہے کہ ‘ہندوستان کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام ایشوز پر دو طرفہ گفتگو ہی ہوگی۔ پاکس...

موضوع: عمران-ٹرمپ ملاقات سے قبل پاکستان میں ہر طرف قیاس آرائیاں ، کنفیوژن اور سنسر شپ

کل سوموار کو وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے درمیان کیا اور کس نوعیت کی با تچیت ہوئی، اس کی تفصیل تو بعد ہی میں سامنے آئے گی، لیکن اس سے قبل پاکستان میں پریس سنسرشپ اور دانشوروں، تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینک وغیرہ کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اتفاق سے عین اسی وقت پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک چیک پوائنٹ اور اس کے بعد ایک اسپتال پر بھی خودکش حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستانی طالبان نے کیا تھا۔ حملے سے ایک روز قبل صوبۂ خیبر پختون خوا کے ان قبائلی اضلاع میں پہلی بار انتخابات ہوئے تھے، جنہیں حال ہی میں اس صوبے میں ضم کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 6 پولیس مین بھی شامل ہیں، جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو جس اسپتال میں داخل کرایا گیا وہیں ایک نقاب پوش خاتون پہلے ہی سے موجود تھی، جس نے خودکش بم سے حملہ کیا۔ یہ دونوں واقعات ڈیرا اسماعیل خان ضلع میں پیش آئے۔ خاتون بمبار کے ہاتھوں 4 پولیس والے اور تین سویلین...

چندر یان -2 خلائی سائنس میں ہندوستان کی پیش رفت

ہمارا ملک عالمی خلائی کلب میں چوالیس سال پہلے تبھی داخل ہو گیا تھا جب 19اپریل1975کو اس وقت کے سوویت یونین کی مدد سے ہم نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ آریہ بھٹ خلا میں بھیجا تھا۔ لیکن خلائی ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر ہماری حیثیت 10اگست1979کو تب تسلیم کی گئی جب ہم نے اپنی سرزمین سے اپنا تجرباتی سیارہ روہنی آندھر پردیش کے ستیش دھون خلائی مرکز سری ہری کوٹا سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا۔ اس کے بعد بھارت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔خلائی تحقیق و جستجوکے علاوہ خلائی ٹیکنالوجی کے دفاعی، مواصلاتی اور تجارتی استعمال میں بھارت نے ایک سے بڑھ کر ایک نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔اب ہماری نظر کرۂ ارض کے خلائی مداروں سے باہر نکل کر نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کی طرف ہے۔ حالیہ دور میں بھارت نے اپنی خلائی تحقیقات میں چاند اور مریخ سیارے کو خاص اہمیت دی ہے اور اس سمت میں ایک بڑا اہم قدم پیر کے روز تب اٹھے گا جب دوپہر بعد دو بج کر تینتالیس منٹ پر چندر یان ٹو، چاند پر اترنے کے لیے اپنا سفر شروع کرے گا۔  بھارت کے خلائی تحقیق کے پروگراموں کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ پوری طرح سے ہر قسم کی سیاست سے الگ ر...

موضوع: برصغیر میں حالیہ دنوں کے کچھ خوشگوار واقعات

بدقسمتی سے ہند-پاک رشتوں میں اکثر کشیدگی کا ماحول قائم رہتا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہندوستان کے تعلق سے ایک خاص حکمت عملی کی وجہ سے تمام کوششوں کے باوجود صورتحال بدل نہیں پاتی۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں اور یہ دائمی حقیقت بھی ہے کہ دو پڑوسیوں کا اس طرح ایک دوسرے سے ہمیشہ دست و گریباں رہنا، دونوں میں سے کسی کے حق میں نہیں ہوتا۔ اس سے صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، اس کے برعکس بہتر تعلقات کا فروغ پانا، نہ صرف دونوں کی سیکورٹی کے اعتبار سے استحکام عطا کرتا ہے، بلکہ اقتصادی طور پر بھی دونوں کو بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔ تجارتی رابطے بڑھتے ہیں، اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملتا ہے اور عوام کے درمیان آپسی رابطے بھی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں اور یکجہتی اور یگانگت کا احساس فروغ پاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ رشتوں کو سدھارنے کی کوششیں نہیں ہوئیں۔ کوششیں کئی بار ہوئیں، لیکن سرحد پار کی فوجی حکمت عملی کی منفی سوچ نے’ جس کا ایک عنصر دہشت گردی کو فروغ دینا بھی ہے، ان کوششوں کو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔ بہر حال یہ ایک لمبی داستان ہے، جس کی تفصیل کی یہاں نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ بہر حال اب اس...

موضوع: ہندوستان پچاس کھرب ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے 2019 کے بجٹ میں ان تمام طور طریقوں کا ذکر کیا ہے جن کے ذریعہ ملک کی معیشت کو 2024 تک 50 کھرب ڈالر کی بنائی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے اگلی دہائی کیلئے پالیسی اقدامات کا اعلان کیا جن کی تمام تر توجہ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر ہوگی۔ ان پالیسی اقدامات میں تمام بنیادی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کے ذریعہ معاشی شمولیت کو فروغ دینا، خواتین اور بچوں کو اچھی صحت فراہم کرنا ، پانی کے انتظام کو بہتر بنانا اور بحری معیشت پر توجہ مرکوز کرنا، خلائی پروگرام کو مضبوط بنانا،اناج اور دالوں کی پیدوار میں خود کفالت حاصل کرنا اور میک ان انڈیا اور آیوشمان بھارت پرگراموں کو مزید مستحکم کرنا شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس عمل میں ہر ہندوستانی شریک ہوگا۔  معاشی ترقی کیلئے مودی حکومت کی اس وقت ساری توجہ سرمایہ کاری کے فروغ پر ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اگر سرمایہ کاروں کو اس بات کا اعتماد ہو کہ ملک کی معیشت میں استحکام ہے تو وہ سرمایہ کاری کیلئے آگے قدم بڑھائیں گے ۔ کسی بھی ملک میں معاشی استحکام سرمایہ کاری کیلئے نہایت ضرو...

جادھو کے کیس میں ہندوستان کے موقف کی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی جانب سے تصدیق

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے ہندوستانی بحریہ کے ایک سابق افسر کل بھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کی تصدیق پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے بھی کردی تھی لیکن اس فوجی عدالت کی حیثیت کسی کنگارو کورٹ سے زیادہ نہیں تھی۔ ملزم کو ایسا کوئی موقع ہی نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دفاع کا کوئی انتظام کرسکے۔ ہندوستان کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ملزم تک رسائی حاصل کرسکے۔ نہ کوئی سفارتی رابطہ قائم ہوسکا اور نہ تو کونسیلر تک ملزم کی رسائی ہوسکی۔ مدعی اور منصف، پاکستان کی فوج اور فوجی عدالت ہی تھی۔ بادی النظر میں بھی یہ کوئی مقدمہ نہیں بلکہ ایک ڈرامہ یا تماشہ تھا۔ پاکستان کا الزام یہ تھا کہ کل بھوشن جادھو ہندوستانی ایجنسی را کے لئے کام کررہے تھے اور انہیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر تھے جن کا اب کسی سرکاری ادارے یا ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اپنا پرائیویٹ بزنس کرتے تھے اور اسی سلسلہ میں ایران میں مقیم تھے جہاں سے ان کو اغوا کرکے پاکستان لے جایا گیا تھا۔ اس بات کا اشارہ ا...

موضوع: دہشت گرد سرغنہ حافظ سعید کو عبوری ضمانت

خبر ہے کہ پاکستان کے شہر لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ سعید اور تین دوسرے لوگوں کو پیشگی ضمانت دے دی ہے۔ اس معاملے کا تعلق جماعت الدعوہ کی جانب سے اپنے مدرسہ کیلئے زمین کا غیر قانونی استعمال اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے ہے۔ عدالت نے جن لوگوں کو عبوری ضمانت دی ہے، ان میں حافظ سعید، اس کے بھائی حافظ مسعود اور لشکر طیبہ کے دو شریک بانیان، امیر حمزہ اور ملک ظفر کے نام شامل ہیں۔ حمزہ اور ظفر دونوں کے پاس جماعت الدعوہ کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی ذمہ داری تھی۔غیر مصدقہ خبروں کے مطابق حمزہ نے ایک سال قبل لشکر طیبہ سے الگ ہوکر خود کی دہشت گرد تنظیم بنالی تھی، جس کا نام اس نے جیش منقفہ رکھا۔ قابل ذکر ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے محکمہ نے جولائی کے پہلے ہفتے میں جماعت الدعوہ کے رہنماؤں کے خلاف لاہور، گجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد اور سرگودہ میں 23 ایف آئی آر درج کرائیں۔ ان رپورٹوں میں کالعدم تنظیم کے چار بڑے رہنماؤں سمیت اس کے 13 اہلکار کے نام شامل ہیں۔ مئی میں سعید کے ...

پاکستانی میڈیا پرسنسرشپ کا قہر

 پاکستان میں ویسے تو گذشتہ سال کے عام انتخابات کے وقت ہی میڈیا پر بالواسطہ نہ صرف سنسر شپ عائد کی گئی تھی بلکہ فوج اور ایجنسیوں کی طرف سے صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا بھی جا رہا تھا،ابھی تو عمران خان کی حکومت بر سر اقتدار بھی نہیں آئی تھی لیکن فوجی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے جو بہت سارے ہتھکنڈے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی کی حکومت کے خلاف آزمائے جاسکتے تھے انہیں وسعت دے کر عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو مسند اقتدار پر بٹھانے کی مہم میں تبدیل کر دیا گیا ۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس زمانے میں شدید ناراضگی اور احتجاج درج کرایا تھا اور بین الاقوامی مشاہدین نے بھی سوال اٹھائے تھے لیکن وہ سلسلہ بھی وہیں نہیں رکا۔ میڈیا والوں پر خوف کا ایسا ماحول مسلط کر دیا گیا کہ بعض اخبار اور چینلوں کے مالکان نے خود ہی اصل حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو کورکرنے سے احتراز کرنا شروع کر دیا۔ لیکن دیانت دار اور فرض شناس صحافی اپنے پیشے کے تئیں بہت زیادہ غفلت نہیں برت سکتے ۔ بالآخر پاکستان کے آزاد بیباک اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں وابستگی رکھنے والے صحافیوں نے میڈیا پر چھائے اس تاریک ما...

کراس فائر میں مرتے اور روتے بلکتے افغان بچے

ویسے تو افغانستان کوئی چار دہائی سے جنگ ، خانہ جنگی اور خونیں مناظر کا گواہ رہا ہے لیکن 90 کی دہائی کے وسط سے وہاں کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی جب طالبان اقتدار پر قابض ہوئے۔ انہوں نے شرعی یا اسلامی قوانین کے نفاذ کا دعویٰ کیا جس کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ عورتوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہوئی ا ور انہیں گھر کی چہار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ شرع کے نام پر سر عام لوگوں پر کوڑے برسائے جانے لگے، نہ صرف رقص موسیقی پر قدغن لگی بلکہ ہر طرح کے تفریحی اور کلچرل پروگراموں پر پابندی عائد کی گئی۔ یہ ان کا مذہب اور شرع کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن تھا۔ بہر حال 2001 میں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑی اور طالبان نے القاعدہ اور اس کے لیڈر اسامہ بن لادن سے اپنا رشتہ توڑنے سے انکار کیا تو طالبان حکومت بھی اس کی زد میں آگئی اور اس کا اقتدار زمیں بوس ہوگیا۔ امریکہ کی قیادت میں ناٹوفوجیں افغانستان میں تعینات ہوئیں۔ 2014 میں بہر حال غیر ملکی فوجوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی لیکن محدود تعداد میں کچھ فوجی افغان سکیورٹی فورسزکی م...

موضوع: ہند-امریکہ تجارت: ایک مثبت کوشش

آج کی دنیا میں جب کہ سیاسی مسائل، قوت محنت کی نقل وحرکت وغیرہ کی اضافی اہمیت بڑھ رہی ہے دو باتیں یقین کی ساتھ کہی جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ باہمی تجارت کرنے والے دو ملکوں کے مابین مفادات کے ٹکراؤ وقتا فوقتا آتے رہیں گے اور گاہے بہ گاہے یہ ٹکراؤ قدرے سنجیدہ صوت بھی اختیار کریں گے۔ لیکن وہیں دوسری بات بھی اسی قدر درست ہے اور وہ یہ ہے کہ تجارت کرنے والے وہ دونوں ملک ایسے کسی ٹکراؤ کو ایک حد سے آگے بڑھنے دینے کا جوکھم مول نہیں لے سکتے، ورنہ اس طرح کا کوئی بھی ٹکراؤ بڑھ کر ناسور کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ کچھ یہی صورت حال حال ہی میں ہند–امریکہ تعلقات میں بھی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان میں ٹیرف کے نظام کو نشانہ بنایا اور ان کی شکایت یہ رہی کہ یہاں پر امریکی اشیا پر لگنے والا محصول امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔لیکن یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ امریکی صدر کی یہ رائے کس قدر حق بہ جانب ہے یا اس میں مبالغہ کا کتنا حصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے باہمی گفت وشنید کے ذریعہ اس معاملے کو حل کرنے کے بارے میں رضامندی کا اظہار کیا ہے اور ابھی کچھ...

5ٹریلین معیشت کی جانب ہندوستان کے بڑھتے قدم

نریندر مودی حکومت نے اپنی دوسری مدت میں 2025 تک ہندوستان کی معیشت کو مزید ترقی دے کر پانچ ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان کی معیشت اس سال تین ٹریلین ڈالر کی ہوجائے گی اور 2025تک ہم پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائیں گے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہندوستان اقتصادی ترقی کی راہ پر جس تیزی سے گامزن ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔ماضی میں امریکہ اور چین سمیت کئی ممالک بہت کم وقفے میں یہ ہدف حاصل کرچکے ہیں۔امریکہ نے پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف نو سال میں‘ جاپان نے آٹھ سال میں اور چین نے صرف تین سال میں حاصل کرلیا تھا۔ایسے میں ہندوستان پانچ سال میں یہ ہدف حاصل کیوں نہیں کرسکتا۔ ہندوستان اس وقت دنیا کی سب سے تیز ترین معیشت ہے اور کچھ عرصہ کے لئے تو یہ چین کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔2016-17میں ہندوستان کی معیشت میں جتنا اضافہ ہے وہ دنیا کے 158ملکوں کے مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنتے ہی ہندوستان جرمنی کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جا...

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تنازعات اور سفارتی طورپر انہیں حل کرنے کی ضرورت

امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ دراصل 1979 کے انقلاب ایران کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ جب امریکہ نواز رضا شاہ پہلوی کو اقتدار سے باہر کرکے اسلامی جمہوریت قائم ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے سال جب صدر ڈونل ٹرمپ نے 2015 کے نیوکلیائی معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکہ کو الگ کرکے ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کردیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ امریکہ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے بعد میں پاسداران انقلاب اور ایران کے رہبراعلی پر بھی پابندیاں عائد کردیں۔ سنہ2015 میں ایران، امریکہ اور یوروپی طاقتوں کے درمیان جو نیوکلیائی معاہدہ ہوا تھا اسے ڈونل ٹرمپ نے کبھی بھی پسند نہیں کیا۔ صدر بننے سے پہلے اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے واضح کردیا تھا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے حق میں نہیں ہے۔ اور جب وہ صدر منتخب ہوگئے تو انہوں نے ایران کے خلاف کچھ زیادہ جارحانہ پالیسی اختیار کی اور وہ...

کیا حالیہ کارروائیاں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچا پائیں گی؟

منی لانڈرنگ اور غیرقانونی طور پر فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے )ایف اے ٹی ایف( نے گزشتہ سال جون میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کرلیا تھا اور اس سے یہ کہا تھا کہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کے فنڈ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے وہ سخت کارروائی کرے۔ اسے جنوری 2019 تک کا وقت بھی دیا گیا تھا کہ وہ یہ کام مکمل کرے لیکن اس کی طرف سے پھر بھی کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ پھر مئی 2019 تک کا بھی اسے موقع ملا لیکن ایسیا پیسفک گروپ کی رپورٹ کے مطابق اس نے اس وقت تک بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ لہٰذا اس سال یعنی جون 2019 میں ایف اے ٹی ایف کی جو پلینری میٹنگ ہوئی اس میں پاکستان کو سخت وارننگ دی گئی کہ وہ آئندہ اکتوبر سے پہلے پہلے ضروری قدم اٹھائے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے یہ وارننگ دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی بھی بڑے واضح لفظوں میں کردی ہے کہ 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے کم از کم 25 نکات ایسے ہیں جن کو پاکستان نے یکسر نظرانداز کردیااور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ کے تعلق سے کوئی قدغن لگ ...

دوحہ میں طالبان اور افغان وفد کے درمیان مذاکرات

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کیلئے دو روزہ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد دونوں کے درمیان امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگیا ہے۔ بات چیت کے بعد افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمہ اور قیام امن کیلئے امید کی ایک کرن نظر آرہی ہے۔ مذاکرات کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان دو روزہ مذاکرات کی میزبانی قطر اور جرمنی نے مشترکہ طور پر کی۔ مذاکرات میں طالبان اور افغان مندوبین نے شرکت کی۔ لیکن افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت سے ضرورشریک ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ طالبان نے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے سے انکار کردیا ہے اس لئے صدر اشرف غنی کی حکومت بات چیت میں شریک نہیں تھی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ غنی حکومت ناجائز ہے اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔  یہ بات بھی غور طلب ہے کہ امن عمل میں سیاست کا...

ممنوعہ گروپ کے ٹریننگ کیمپ افغانستان میں

معتبر خفیہ اطلاعات کے مطابق 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہونے والے جیش محمد کے حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کے میراج طیاروں نے پاکستان میں واقع جیش محمد کے بالاکوٹ ٹریننگ کیمپ پر جو اسٹرائیک کی تھی، اس کے بعد جیش محمد اور لشکرطیبہ جیسے ممنوعہ گروپوں نے ایک نئی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستانی ایجنسیاں بھی ان کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔ یاد رہے کہ ان گروپوں کی موجودگی افغانستان میں پہلے بھی رہی ہے اور وہ طالبان کے ساتھ مل کر اتحادی فوجوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ بہرحال رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جن علاقوں میں یہ اپنے کیمپ منتقل کررہے ہیں ان میں کُنار ، ننگر ہار، نورستان اور قندھار جیسے صوبے شامل ہیں جہاں طالبان کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ پلوامہ میں جیش محمد کے حملے میں سی آر پی ایف کے 40 سے زیادہ جوان شہید ہوئے تھے جس کے بعد ہندوستان کی طرف سے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی اور پاکستان میں گھس کر ٹریننگ کیمپوں پر اسٹرائیک کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ جیش محمد اور لشکرطیبہ ماضی میں بھی طال...

پاکستان میں ہر طرف سنسر شپ، انتقامی کارروائی اور خوف کے سائے

پاکستان میں سیاسی سطح پر اس وقت اسی بات کا چرچہ ہے کہ اس وقت کہنے کو ایک منتخب حکومت ہے اور فوج بظاہر اقتدار سے دور ہے لیکن سیاسی اور سماجی سطح پر صورتحال ابتر ہوگئی ہے، ہر طرف خوف اور دہشت کا کچھ ایسا ماحول ہے کہ فوجی آمروں کے زمانے میں بھی اقتدار کا اتنا غلط استعمال ہوتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ اگر پریس اور میڈیا کے حوالے سے سنسر شپ کی بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ کچھ میڈیا گھرانوں اور اخبار کے مالکان نے خود ہی سے اپنے اوپر سنسر شپ لاد لی ہے تاکہ کسی مرحلے میں انہیں کوئی خطرہ نہ مول لینا پڑے ۔ منجھے ہوئے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی اس صورتحال پر یہ رائے ہے کہ خوف کی یہ انتہا ہے کہ بعض میڈیا گھرانوں نے گزشتہ کم وبیش ایک سال کے عرصے سے متعلقہ حکام کی کسی طرح کی ہدایت کے بغیر ہی اپنے اوپر یہ پابندی عائد کررکھی ہے جس کا پورا پورا فائدہ ایسٹیبلشمنٹ اٹھارہا ہے۔ حالانکہ یہ صحافتی دیانت داری کے خلاف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیویلین حکومت اور فوجی ٹولے کی ملی بھگت سے پورے پاکستان پر خوف کا ایسا ماحول طاری کردیا گیا ہے تاکہ زباں بندی کو لوگ معمولات زندگی میں شامل کرلیں اور اس کے لئے گزشتہ...