دوحہ میں طالبان اور افغان وفد کے درمیان مذاکرات


قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کیلئے دو روزہ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد دونوں کے درمیان امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگیا ہے۔ بات چیت کے بعد افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمہ اور قیام امن کیلئے امید کی ایک کرن نظر آرہی ہے۔ مذاکرات کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان دو روزہ مذاکرات کی میزبانی قطر اور جرمنی نے مشترکہ طور پر کی۔ مذاکرات میں طالبان اور افغان مندوبین نے شرکت کی۔ لیکن افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت سے ضرورشریک ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ طالبان نے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے سے انکار کردیا ہے اس لئے صدر اشرف غنی کی حکومت بات چیت میں شریک نہیں تھی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ غنی حکومت ناجائز ہے اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ 

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ امن عمل میں سیاست کا بھی عمل دخل ہے۔ امریکہ افغانستان سے جلد از جلد نکل جانا چاہتاہے۔ اس کی ترجیح یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان سے جلد سے جلد واپس چلی جائیں لیکن وہ اس بات پر قطعی غور نہیں کررہا کہ اگر طالبان کو زیادہ اہمیت دی گئی تو علاقہ میں اس کے نتائج کیا ہونگے۔ پچھلے سال ستمبر میں صدر ڈونل ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو افغانستان مسئلہ پر بات چیت کیلئے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔ خلیل زاد طالبان رہنماؤں کیساتھ دوحہ میں اب تک سات دور کی بات چیت کرچکے ہیں۔ ان مذاکرات میں ، جنگ بندی، امریکی فوجوں کی واپسی، انسداد دہشت گردی اور بین۔ افغان مذاکرات کے موضوعات شامل تھے۔ اگرچہ خلیل زاد نے کہا ہے کہ قیام امن میں کابل حکومت کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ سچ بات تو افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ امراللہ صالح نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت پر پاکستان کا سایہ منڈلا رہا ہے اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ ملک میں امن قائم ہولیکن پاکستانی فوج کی وجہ سے اس کی کوششیں ناکام رہیں۔ 

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے ایک سال کے اندر افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی جو جلدی دکھائی ہے اس سے طالبان کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اپنی تمام باتیں منوانا چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان پاکستان کے اشاروں پر چل رہے ہیں اور وہ بات چیت میں بھی اسلام آباد کے اسٹریٹیجک مفادات کا دھیان رکھتے ہیں۔ نسلی طور پر تمام طالبان پشتون نہیں ہیں۔ ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ پہلی ستمبر تک امن کیلئے لائحہ عمل تیا رہوجائے گا جس سے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ 

مذاکرات میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس کی ایک دفعہ میں شہریوں اور سلامتی دستوں کے خلاف طالبان کی 18 سالہ جنگ کو جہاد قرار دیا گیا۔ جنگ کو جہاد کا نام دینے پر افغانستان کی سینیٹ میں ارکان نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر آئین کے خلاف ہے۔ ان کا کہناتھا کہ 1989 میں سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد ہی جہاد ختم ہوگیا تھا اور اس کے بعد جو بھی ہورہا ہے وہ جنگ ہے جہاد نہیں۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ امن کی راہ اتنی آسان نہیں ہوگی۔ تاہم یہ حقیقت کہ اس بار طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی، بذات خود ایک پیش رفت ہے۔ 

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے امن مذاکرات کے مثبت نتائج کا خیرمقدم کیا ہے۔ افغان عوام کے موڈ کی ترجمانی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کی واپسی تبھی ممکن ہوگی جب افغانستان کے عوام بین۔ افغان مذاکرات کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ پچھلے مہینے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ایس سی او علاقے میں امن واستحکام کیلئے افغانستان میں امن واتحاد اور خوشحالی کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان بین ۔ افغان مذاکرات کیلئے افغان حکومت اور عوام کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ افغانستان کے امور پر نگاہ رکھنے والوں کے ایک حلقہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر افغانستان سے غیرملکی فوجیں جلدواپس چلی گئیں تو یہ نہ صرف طالبان کی جابرانہ حکومت اور پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا بلکہ اس سے ہندوستان سمیت تمام علاقہ میں جہادی نظریہ کی بھی توسیع ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ