Posts

Showing posts from February, 2020

ملیشیا کا سیاسی بحران

کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور یہ بھی سیاست کی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ کب ہوس اقتدار کسی ملک کو سیاسی یا کسی اورنوعیت کے بحران کی بھٹی میں جھونک دے کہا نہیں جاسکتا۔ اس کی ایک تازہ مثال جنوب مشرقی ایشیا کے ایک ملک ملیشیا میں دیکھنے میں آئی جہاں چند روز قبل وہاں کے وزیر اعظم مآثر محمد نے اچانک استعفی دے دیا۔ حالانکہ 2018 میں ہی یہاں ایک مضبوط کولیشن حکومت قائم ہوئی تھی جس نے اصلاحات کا کام بڑی تیزی سے شروع کیا تھا۔ حکومت تو بحسن وخوبی چل رہی تھی لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کی بات مانی جائے تو جناب مآثر محمد نے اپنے موجودہ اتحادی اور سابق حریف انور ابراہیم کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے یہ اچانک قدم اٹھایا ہے۔ دراصل موجودہ حکمراں کولیشن 2018 میں قائم ہوئی تھی۔ مآثر محمد کے سابق رفیق کار انور ابراہیم جو پہلے انہی کی کابینہ میں شامل تھے اور بعد میں ان کے حریف بن گئے تھے، وہ بھی دوہزار اٹھارہ میں بننے والی اس کولیشن میں شامل ہوگئے تھے۔ اسی سال اس اتحاد نے یونائٹیڈ ملیشیا نیشنل آرگنائزیشن یعنی یوایم این او نے ملیشیا پر کم وبیش 6 دہائی تک حکومت کی تھی۔ پاکستان ہراپن کولیش...

چوتھی ویسٹ ایشیا کانفرنس

ہندوستان کے اہم تھنک ٹینک، منوہرپاریکر انسٹی ٹیوٹ فارڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالسز نے نئی دہلی میں چوتھی ویسٹ ایشیا کانفرنس کا انعقاد کیا،جس کا عنوان تھا ‘‘مغربی ایشیا میں سیاسی اورمعاشی تبدیلی- چنوتیاں، نتائج اورمستقبل کے رجحانات’’۔ اس کانفرنس میں لبنان کے سابق وزیراعظم فواد سینیورا اورمصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی سمیت متعدد ہندوستانی بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور مختلف اہم علاقائی امورپر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس دو روزہ کانفرنس میں علاقائی سلامتی کا تناظر ،بیرونی طاقتوں کا کردار، معیشت، تنازعات کا تغیر پذیر کردار اورمغربی ایشیا کےساتھ ہندوستان کے فروغ پذیر روابط جیسے متنوع عنوانات کے تحت 6 اجلاس منعقد کیے گئے۔ ہندوستان کے وزیر مملکت برائے سڑک، نقل وحمل اور شاہراہ سبکدوش جنرل وجے کمار سنگھ نے کلیدی خطبہ دیا جس میں گزشتہ دہائی میں علاقےکو درپیش نشیب وفراز اورعلاقائی امور کو ہندوستان کے ذریعے دی گئی اہمیت کو اجاگر کیاگیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل سجان آر چنائے نے اپنی تقریر میں زور دے کر کہا کہ مسلسل غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے علاقے کی معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے۔...

پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر سخت پابندی

اکیسویں صدی میں جب دنیا کے بیشتر ممالک عصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئےنئے خطوط پر اپنےسماج کی تشکیل کر رہے ہیں، پاکستان میں قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کی جڑیں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔پاکستان میں چند ادارے اور افراد ہیں جو سماج کو جدید طرز پر فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن انہیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی ۔ ملک میں اس وقت اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ صحافی حضرات، حقوق انسانی کے کارکنان، وکلاء اور مرکزی دھارے کی سیاسی پارٹیاں، کسی کو بھی اپنی مرضی سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام افراد اب اس بندش کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت نے میڈیا اور صحافیوں کو منضبط کرنے کیلئے کئی ادارے تجویز کئے،جن میں سے بیشتر کی مخالفت کی گئی لیکن کئی ادارے اور کمیٹیاں وجود میں بھی آئیں۔ ایسانہیں ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش صرف عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے کی ہے بلکہ یہ سلسلہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اب یہ دیگر بات ہے کہ آج خود ان کی پارٹی اور رہنماؤں کو اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ جہاں تک پاکستان میں م...

امریکی صدر کے دورۂ ہند سے باہمی اسٹریٹجک شراکت کو فروغ

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کا چھتیس گھنٹے کا سرکاری دورۂ ہند نہ صرف شاندار استقبال اور رنگا رنگی بلکہ قدروقیمت سے بھی عبارت تھا۔ وہ ہندوستان کا دورہ کرنے والے امریکہ کے ساتویں صدر ہیں۔ ان سے قبل گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ کے چار صدور یہاں کا دورہ کرچکے ہیں جس سے ہند-امریکہ تعلقات کے بام عروج کی طرف گامزن ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ صدرٹرمپ کے ہمراہ امریکہ کی خاتون اول ملانیا ٹرمپ (Melania Trump)، ان کی دختر اوانکا اور داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) بھی تھے۔ صدر ٹرمپ کی احمدآباد آمد پر ہزاروں لوگوں نے ان کا غیرمعمولی خیرمقدم کیا، سابرمتی کے دورے کے بعد، انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ موٹیرا اسٹیڈیم میں منعقدہ ‘نمستے ٹرمپ’ تقریب میں موجود سوالاکھ افراد سے خطاب کیا۔ خیال رہے کہ پانچ ماہ قبل صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے ہاؤڈی مودی ریلی کے دوران ہند نژاد امریکی برادری کے ایک زبردست اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ موجودہ دورے میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی کی شاندار شخصیت اورقیادت نیز ہندوستان کی عظیم کامیابیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف 70 برس میں ہندوستان نے ایک ...

ایف اے ٹی ایف کی پاکستان پر کڑی نظر

پاکستان یہ سوچ کر بھلے ہی کچھ دیر کے لئے خوش ہو لے کہ وہ فی الحال مزید چند ماہ کے لئے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ گیا لیکن اگر وہ یہ خوش فہمی پال لے کہ وہ ایف اے ٹی ایف یا عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اسی طرح ہر بار وہ بچتا رہے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہوگی۔شاید اس کا خیال ہے کہ چین، ملیشیا اور ترکی کی حمایت سے وہ فروری میں بلیک لسٹ پر آنے سے بچ گیا لیکن ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چند ماہ کی رعایت جو اسے ملی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ خود امریکہ کا ہے کیونکہ عین اسی مرحلے میں اسے پاکستان کی مدد درکار تھی تاکہ طالبان سے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے معاملے میں سمجھوتہ ہو سکے ۔ طالبان سے امکان اسی بات کاہے کہ عنقریب یہ سمجھوتہ ہونے والا ہے ۔ بہر حال یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سر گرمیوں کو روکنے یاموثر کا رروائیاں کرنے کا جہاں تک سوال ہے اس پر عالمی برادری کی کڑی نظر ہے اور ایف اے ٹی ایف نے قطعی پاکستان کی کار کردگی پر اظہار اطمینان نہیں کیا ہے...

پاکستان میں ججز کی خفیہ نگرانی

پاکستان جمہوریت کی ایک ایسی تجربہ گاہ بنتا جا رہا ہے جہاں فوج کی بالادستی اور عوام کے حوصلوں اور امیدوں کے درمیان ایک سرد جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں جہاں جمہوریتیں ایک فلاحی ریاست کے تانے بانے کو مضبوط کرنے کی راہ پر پیش قدمی کر رہی ہیں وہیں پاکستان میں عوام کے ذریعہ منتخب حکومتیں ہمیشہ اپنی طبعی عمر کو لے کر مشکوک رہتی ہیں۔ ابھی معاملہ کی نوعیت ایک ذرا مختلف اور پیچیدہ ہے۔ عمران خان بار بار کہتے رہے ہیں کہ کہ پاکستان میں فوج اور حکومت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور دونوں ایک پیج پر ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما ؤں کی نظر میں بھی عمران خان سیلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں جو فوج کے رحم و کرم سے مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ عمران خان کے خلاف کسی بھی سرکردہ رہنما کے بیان اور فیصلے کو پاکستانی فوج یا ایجنسیاں اپنے اوپر حملہ تصور کرتی ہیں اور شد ومد سے دفاع میں لگ جاتی ہیں ۔ ایسی صورت میں خسارہ صرف اور صرف عوام کا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان بڑی مشکل سے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے خود کو بچا پایا ہے اور یہ مہلت بھی چند ماہ کی ہے۔ دہشت گرد...

پاکستان میں دستورِزباں بندی

یوں تو پاکستان میں کبھی بھی اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ آزادی کے بعد ملک زیادہ تر فوج کے زیر تسلط رہا ہے، جہاں اختلاف رائے اور تنقید کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔فوج یا انتظامیہ کے خلاف زبان کھولتے ہی ملک کی آزادی اور سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ یہ بات آج کی نہیں بلکہ جنرل ایوب خاں کے عنان حکومت سنبھالتے ہی پاکستان کے بابائے قوم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بن گئی تھیں اور انہیں غیرملکی ایجنٹ قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ محترمہ فاطمہ جناح تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ جس نے بھی فوج اور حکومت کے خلاف زبان کھولنے کی جسارت کی، اس کے نام کے ساتھ غدار کا تمغہ بھی جڑدیا گیا۔پھر اس روش میں حکمرانوں نے کفر کی شق جوڑکر اپنے مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔ ایسے لوگوں میں صرف سیاستداں ہی نہیں رہے بلکہ بے باک صحافیوں، مصنفوں، شاعروں، فنکاروں،وکیلوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں پر بھی غداری اور بغاوت کا الزام عائد کیا گیا۔ حکمرانوں نے اخبارات اور ٹیلی ویژن کا تو پہلے ہی ان طریقوں سے گلادبا رکھا تھا پھر بھی لوگوں نے سوشل میڈیاکو...

افغانستان صدارتی انتخابات میں اشرف غنی فتحیاب

پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد 28 ستمبر 2019 کو منعقدہ افغانستان کے متنازع صدارتی انتخابات کے نتیجے کا اعلان کردیاگیا اور صدارتی عہدے کے امیدوار، موجودہ صدر کو فتحیاب قرار دے دیا گیا۔تاہم ان کے اہم حریف عبداللہ عبداللہ نے ان نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے انتخابی کمیشن پر دھوکہ دہی کاالزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ وہی نئی حکومت بنائیں گے۔ ان انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد کم رہی تھی اور جب ابتدائی ووٹ شماری سے ظاہرہوا کہ اشرف غنی آگے ہیں تو ان کے حریفوں نے ووٹ فیصد پر تنازعہ کھڑا کردیاجس کے نتیجے میں 15 فیصد ووٹوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ اشرف غنی نے بہت کم ووٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔ ان کو 50 اعشاریہ چھ چار فیصد ووٹ ملے تھے۔ آخری نتائج کے اعلان کے بعد ہندوستان نے اشرف غنی کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ حکومت ہند نے افغان عوام کی جمہوری توقعات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئی حکومت اور جمہوری نظام کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بیرون ملک اعانت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑائی اور افغان عوام کی زیرقیادت، ان کی ملکیت اور زیر کنٹرول پائ...

پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر رہنے کا امکان

دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف اپنا فیصلہ سنانے والا ہے۔یاد رہے کہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو یہ وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے فروری تک دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ پر روک لگانے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا نشانہ پورا نہیں کیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی ہے اور اسے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ کئی روز قبل شروع ہوئی تھی اور وہ اختتام پذیر ہورہی ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر کوشش کی کہ وہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جائے۔ اس کا دوست اور اتحادی ملک چین اس وقت اس عالمی واچ ڈاگ کا سربراہ ہے لہذا چین اور بعض دوسرے ملکوں کے حمایت حاصل کرکے پاکستان نے بڑے پیمانے پر لابنگ کی۔اندرون پاکستان حافظ سعید اور ان کے معاونین کے خلاف کچھ عدالتی اور قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں جن کا مقصد یہی تھا کہ عالمی برادری اور ایف اے ٹی ایف کے ممبر ممالک میں یہ پیغام جائے کہ پاکستان واقعی سنجیدہ کارروائیاں کررہا ہے۔ بہرحال اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف...

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو جون تک کی مہلت

اگر کوئی ملک اپنے اوپر عاید الزامات کو غلط او ربے بنیاد ثابت کرنا چاہے تو اسے سنجیدگی سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اسے اپنے اقدامات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا دامن بے داغ ہے اور اس کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ صرف زبانی دعوے کرے اور عملی طور پر کوئی قدم نہ اٹھائے تو اس کی باتوں پر کسی کو یقین نہیں آئے گا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کی ہے۔ پاکستان اور دہشت گردی لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔ جہا ں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں تو انگلیاں فطری طور پر پاکستان کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ اور جب تحقیقات ہوتی ہے تو مذکورہ واقعہ سے پاکستان کا کوئی نہ کوئی تعلق نکل ہی آتا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گردی کا مخالف ہے اور وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا اس سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے۔ ہندوستان ایک عرصے سے اس سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ ہندوستان اس سے مذاکرات کا آغاز کرے لیکن ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ دہشت...

ہند۔یوروپی اسٹریٹجک شراکت، نمایاں اہمیت کی طرف

ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹرایس جے شنکر نے یوروپی یونین کی کاؤنسل برائے خارجہ امور کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے برسلز کا دورہ کیا۔ یوروپی یونین کے اعلی نمائندے اور نائب صدر برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی جوزف بوریل کی دعوت پر ان کا یہ دورہ عمل میں آیا تھا ۔ دسمبر 2019 میں نئے کمیشن کی تشکیل کے بعد ان کا پہلا دورہ تھا۔ یوروپی یونین کے اعلی نمائندے اور اس کے رکن ممالک کے 27 وزرائے خارجہ کے ذریعہ خارجہ امور کاؤنسل کی تشکیل کی گئی تھی۔ خارجہ پالیسی، دفاع اور سلامتی، تجارت، ترقیات، تعاون اور انسانی امداد سے متعلق یوروپی یونین کی بیرونی کارروائیاں اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ برسلز میں خارجہ امور کاؤنسل کے ساتھ ڈاکٹر جے شنکر نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور علاقائی نیز عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں۔ ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان مشترک اقدار و جمہوریت، کثیر جہتی اور اہم و مستحکم ترقی کے لئے قوائد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام نیز عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ بین الاقوامی تجارت کے سلسلے میں ان کی مشترکہ وابستگیوں پر خاص توجہ مرک...

امریکی وزیر دفاع کے مطابق طالبان کی ‘‘جنگ بندی’’ خطرے سے خالی نہیں

پچھلے دنوں ناٹو کے وزرائے دفاع کی جو میٹنگ برسلز میں ہوئی اس میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے یہ اطلاع دی کہ طالبان سے ہونے والی بات چیت کا حاصل یہ ہے کہ طالبان اس بات کے لئے راضی ہیں کہ وہ سات دن کے لئے پرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں گے۔ اس سے ایک روز قبل افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی یہ اشارہ کیاتھا کہ امریکی اور طالبان نمائندوں کے مابین ہونے والی بات چیت میں کچھ ‘‘قابل ذکر’’ پیش رفت ہوئی ہے۔ مسٹر ایسپر نے برسلزمیں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور طالبان نے اس تجویز پر غور کیا کہ 7دن تک تشدد کی کارروائیوں پر روک لگائی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ کا ہمیشہ سے یہی کہنا رہا ہے کہ افغانستان کی صورت حال میں تبدیلی لانے کا اگر واحد حل نہیں تو بہترین طریقہ یہی ہوگا کہ کسی طرح کا سیاسی سمجھوتہ ہو۔ سو اسی جانب کام ہوا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی کوئی حل نکلے گا تاہم اس وقت انہوں نے نہیں بتایا تھا کہ ‘‘جنگ بندی’’ کا وقفہ کب سے شروع ہوگا۔ لیکن طالبان کے ایک نمائندے نے یہ بتایا تھا کہ جمعہ یعنی 14فروری سے پرتشدد کارروائیوں پر روک ل...

پاکستان نہیں چاہتا افغانستان میں امن

افغانستان میں کئی دہائیوں کی خونریزی نے تمام دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔ اور اس کا حل ڈھونڈنے کے لئے اقوام متحدہ سے لے کر تمام عالمی اداروں نے حتی المقدور کوششیں کیں۔ یہ کوششیں آج بھی جاری ہیں اور امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے۔ امریکہ اس صورتحال سے باہر نکلنے کے لئے کافی عرصے سے کوشاں اور سرگرداں ہے۔ امن کے مکمل قیام میں کئی طرح کی مشکلیں درپیش ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے اب تک اربوں ڈالر کی امداد حاصل کرنے کے باوجود دہشت گردی کے تئیں پاکستان کا رویہ ہمیشہ سے مشکوک رہا ہے۔ پاکستان کے حکمراں اپنے بلند بانگ دعووں کے باوجود دنیا کو یہ باور کرا پانے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ واقعی خطے میں امن قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ امریکہ بھی اپنے شکوک شبہات اور پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار صاف صاف لفظوں میں کئی بار کر چکا ہے۔ اس اعتماد کو سب سے بڑا جھٹکا تب لگا تھا جب اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پتہ امریکی حکام کو لگا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کا راستہ روکنے کے لئے امریکہ سے حاصل کی گئی امداد ان شدت پسند جنگجو گروہوں پر کھ...

طالبان کی بڑھتی طاقت امن عالم کیلئے سب سے خطرناک

ایک رپورٹ کے مطابق ‘‘طالبان نے دنیا کے سب سے زیادہ ہلاکت خیز غیرسرکاری مسلح گروپ کے طور پر داعش (آئی ایس آئی ایس) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے’’۔ دراصل گزشتہ چند دنوں میں افغانستان کی سرزمین پر سب سے زیادہ خون خرابہ طالبان نے ہی کیا ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کے مسلح کارکنان اب تک سینکڑوں بلکہ ہزارہا بے گناہ شہریوں ، افغان وامریکی فوجیوں کو خودکش بم دھماکوں اور گولی باری میں ہلاک اور زخمی کرچکے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں تشدد اور تباہی کو بند کرانے کے لئے طالبانی قیادت کے ساتھ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے مذاکرات کیے، لیکن طالبان کے اڑیل رویے کی وجہ سے بات چیت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی اور افغانستان میں خون خرابہ اور طالبان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مزید شدت آتی گئی۔ اسی لیے افغانستان کی صورتحال کا تجزیہ کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں نے طالبان کی بڑھتی طاقت کو امن عالم کے لئے سب سے خطرناک قرار دیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خونخوار دہشت گرد تنظیم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ درحقیقت پاکستانی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹلی جنس یعنی آئی ایس ا...

بدنام زمانہ حافظ سعید کو سزا

ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیئے گئے بدنام زمانہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ساڑھے پانچ سال کی قید کی سزا سنائی۔ مذکورہ عدالت کے مطابق حافظ سعید ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ رہا ہے اور اس نے ناجائز طور پر املاک بھی حاصل کی ہیں۔ سزا پانے والوں میں نہ صرف حافظ سعید بلکہ اس کے کچھ قریبی معاونین بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں حافظ سعید اور اس کے معاونین کے خلاف صوبہ پنجاب کے گوجرانوالہ ضلع میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے دفتر میں اولین اطلاعاتی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کیا تھا۔ اس کے دوسرے معاونین کا نام ہے عبدالغفور، حافظ سعود، امیر حمزہ اور ظفر اقبال۔ ان سب کے خلاف دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب حافظ سعید کو پاکستان میں کسی جرم کے لئے سزا سنائی گئی۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ حافظ سعید اور اس کے ساتھی اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتے ہیں لیکن بہرحال انہیں جیل بھیج دیاجائیگا۔ اس وقت وہ لاہور کی کوٹ لکھ پت جیل میں...

ویتنام: ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا کلیدی حامی 

سوشلسٹ رپبلک ویتنام کے نائب صدر ڈینگ تھائی ناگ تن پچھلے دنوں ہندوستان کے دورے پر تھیں۔ جس کا مقصد نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو کے ساتھ وفد کی سطح کی بات چیت تھا۔ ویتنام، ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور اس کی وسیع النوع ہند۔بحر الکاہل حکمت عملی کا حامی ہے۔ اس کے علاوہ وہ نئی دہلی کی سی ایل ایم وی یعنی کمبوڈیہ لاؤ س پی ڈی آر، میانمار اور ویتنام ممالک کا کلیدی رکن بھی ہے کیونکہ اس کا اہم مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مستحکم اور اسٹریٹیجک روابط کی نشو ونما ہے۔ اس موجودہ دورے میں ہند۔ویتنام جامع اسٹریٹیجک شراکت کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کی ایک اہم خصوصیت، ہندوستان اور ویتنام کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کا اعلان تھا۔ مزید برآں نائب صدر ویتنام کے اس دورے میں دہلی میں وائس آف ویتنام کے ریزیڈنٹ آفس کے قیام کے سلسلے میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے اور مہمانِ ذی وقار نے بودھ گیا کا دورہ بھی کیا ۔ 2016میں جب وزیراعظم نریندر مودی نے ویتنام کا دورہ کیا تھا تو اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جامع اسٹریٹیجک شراکت کی بلندی پر پہنچے تھے جن کا مقصد ضوابط پر ...

داعش جنوبی ایشیا کے لئے بڑا خطرہ

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس ) اور اس سے متعلق دوسری دہشت گرد تنظیمیں جیسے آئی ایس آئی ایل ، خراسان ، طالبان ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار، لشکر اسلامی اور جماعت الدعوۃ سے نہ صرف افغانستان اور جنوبی ایشیا میں اس کے دوسرے پڑوسی ملکوں کو بلکہ پوری دنیا کی امن و سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ تمام تنظیمیں عالمی برادری کے شدید دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود آج بھی نہ صرف سرگرم ہیں بلکہ ان کے حوصلے بھی کافی بلند ہیں ۔ ان کے درمیان عراق اور شام سے لے کر یمن ، افغانستان اور پاکستان تک مستحکم رابطے قائم ہیں ۔ان کی سرگرمیوں سے خطہ کے متعدد ممالک ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں اوربے پناہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن تباہ کاریاں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔کوئی بھی دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ دہشت گرد خواہ وہ کسی بھی رنگ و نسل اور ملک و ملت سے تعلق رکھتا ہو، ہر صورت میں دہشت گرد ہی ہوتا ہے ۔ ہندوستان ہمیشہ ہی اس حقیقت کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے لیکن نائین الیون 9/11سے قبل کسی نے بھی سن...

بی بی آئی این۔ ہندوستان کے ذیلی علاقائی رابطے کے فروغ کا منصوبہ

‘‘پڑوس کو اولیت’’ پالیسی، وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی خارجہ پالیسی کا کلیدی عنصر ہے۔ 2014 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، ان کی توجہ ہندوستان کے پڑوسی ممالک خصوصاً قریبی مشرقی ممالک کی طرف مرکوز رہی ہے۔ پڑوس سے متعلق وزیراعظم کی سفارت کاری کا مقصد نہ صرف پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو یقینی بنانا ہے بلکہ اس کے تحت، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر سڑک، ریل اور فضا سے متعلق ہارڈ بنیادی ڈھانچوں اور معاشی، عوامی اور ڈیجیٹل جیسے سافٹ رابطوں کے قیام کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان متنوع ہارڈ اور سافٹ رابطہ جاتی پروجیکٹ زیر عمل ہیں۔ بی بی آئی این یعنی بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان اور نیپال کے درمیان اجلاس میں ذیلی علاقائی رابطہ جاتی پیش قدمیوں کے مقاصد کو نمایاں اہمیت حاصل رہی ہے۔ بی بی آئی این کا معینہ مقصد اس گروپ میں شامل ممالک کے درمیان، نجی اور کارگو ٹرانسپورٹ کی وہیکلز کے لئے، موٹر ریگولیٹری میکینزم کے ذریعے بلا روکاوٹ رابطوں کو یقینی بنانا ہے۔ اس پس منظر میں، بنگلہ دیش، ہندوستان اور نیپال کے حکام کے درمیان حالی...

وعدوں اور باتوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں

پاکستان میں اس وقت بنیادی مسائل عمران خان کی حکومت کے لئے سر درد بنے ہوئے ہیں لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت سے وابستہ افراد ان مسائل پر بات کرنے یا توجہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ بنیادی مسائل کی پردہ پوشی کے لئے ایک طرح سے مذہب پرستی کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کی آڑ میں اصل مسائل پر لوگوں کی توجہ مرکوز نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ملک کے عوام کو در پیش مسائل کا کوئی ذکر نہ ہو بلکہ پوری توجہ عملی اقدام سے زیادہ لوگوں کو مذہب اور اخلاقیات کی بھول بھلیوں میں الجھانا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اصل موضوعات سے ہٹ کر ایسی باتوں کو زور و شور سے اٹھاتے ہیں کہ بقول شاعر:‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘ یہ بات روز اول سے ہی کہی جا رہی ہے کہ عمران خاں فوج کے پسندیدہ وزیر اعظم ہیں خود عمران خاں بھی اس کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو فوج کی مکمل حمایت ہے اور سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ ایسے میں یہ بات فطری ہے کہ حکومت کا مقصد اعلیٰ طبقوں کا خاتمہ نہیں بلکہ اپوزیشن کو پوری طرح کچلنے کا ہوت...

طالبان دہشت گرد کے ساتھ پاکستانی فوج کا خفیہ معاہدہ؟

پاکستان کی عمومی صورت حال پر نظر ڈالیں تو یہ بات صاف ہے کہ اسے عوام کے لئے ایک فلاحی ریاست بننے کے راستے میں سخت مشکلات در پیش ہیں۔ جمہوری اقدار کا کسی ملک یا قوم کی سرشت میں شامل ہونا کسی بھی کامیاب جمہوریت کے لئے بنیادی شرط ہے۔ بہ صورت دگر عوام مخالف ادارے اور جماعتیں اقتدار پر قابض ہونے کی تاک میں رہتےہیں اور پاکستان جیسے ملک میں آسانی سے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان اپنے ماضی سے سبق لینے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرنے والوں کو ہی سبق سکھانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں آزاد خیال صحافیوں اور بے خوفی سے اپنی بات کہنے والے افراد اور اداروں پر جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے سخت رخ اپنایا ہے اس پر ساری دنیا کو تشویش لاحق ہے۔ کسی بھی مہذب سماج میں پر امن طور پر اپنی بات کہنے کا اختیار ہر فرد کو ہوتا ہے خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کا ہو، کسی بھی جماعت یا فرقے کا ہو۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کی گرفتاری اور ان کے رفقا کے ساتھ ایجنسی کے اہلکاروں کی بدسلوکی کا پاکستانی میڈیا نے کسی مصلحت کی بنا پر بھلے ہی خاطر خواہ نوٹس نہ لیا ہو لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں نے کھل کر پاکس...

امریکہ – طالبان مذاکرات کچھ زیادہ امیدافزا نہیں

افغانستان میں قیام امن کے لیے ہونے والی کوششیں ابھی تک کچھ زیادہ امید افزا نہیں نظر آئیں۔ کئی طرف سے اور کئی انداز سے کوششیں ہوئیں۔ کوشش کرنے والوں میں وہ لوگ بھی تھے جو طالبان کے تئیں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کے بھی قریب یا کم از کم غیر جانبدار نظر آتے ہیں اور وہ لوگ بھی جوطالبان کی نظریاتی بنیادوں اور ان کی تشدد پسندی کے تعلق سے تحفظات رکھنے کے باوجود افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں۔ امن پسند حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ کم و بیش گزشتہ چالیس سال کے عرصے سے افغانستان کے عام لوگ تشدد ،خانہ جنگی اور خون خرابے کے ماحول میں ہر پل سانس لے رہے ہیں اور انہیں کہیں سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم ماحول کچھ بدلے اور اگر پورے طور پر نہیں تو کسی حد تک تو امن کا ماحول قائم ہو۔ گزشتہ سال امریکہ اور طالبان کے مابین جو بات چیت ہورہی تھی اس کے بارے میں بعض حلقے تو یہ امید ضرور کررہے تھے کہ شاید طالبان میں تھوڑی سی لچک پیدا ہو اور طالبان اگر پورے طور پر نہیں تو کچھ حد تک اس بات کے لئے تیار ہوجائیں گےکہ تشدد کم ہو تاکہ کسی طرح کا سمجھوتہ ہوجائے...

پاکستان کے بوکھلاہٹ بھرے اقدام

وہ دور کبھی کا جاچکا جب مذہب کے رشتے ملکوں کو جوڑے رکھتے تھے، یا مذہب کی بنیاد پر ملکوں کے گروپ اپنی صف بندی کرلیتے تھے۔آج اقتصادی، سیاسی اور عسکری مفادات کو فوقیت حاصل ہے۔ پاکستان دراصل یہ نہیں سمجھ پارہا ہے کہ دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ نام مذہبی دوستی یا امّتِ مسلمہ کی آواز کا ہی لیا جاتا ہے لیکن اس سب کے پیچھے اصل مقصد سیاسی اور عسکری مطلب برآری کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ امریکہ کی بے رخی نے حالات کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری اُن حدوں کو چھو رہی ہے جن سے پاکستان کو اپنی 73سال کی تاریخ میں کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ نوجوانوں میں سخت بے چینی پائی جانے لگی ہے۔اس صورت حال میں پاکستانی حکومت کے لیے کشمیر کا معاملہ اٹھا تے رہنا ایک مجبوری بن گیا ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنے اصل مسائل کی طرف سے ہٹی رہے۔  پاکستان اس حقیقت کوبھی قبول نہیں کرپارہا ہے کہ کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں تلخی نہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پختگی، گہرائی اور پائداری آچکی ہے۔ سعودی حکام اور دوسرے کئی مسلم اور خلیجی مل...

پاکستان میں حب الوطنی کے نام پر مظالم

حب الوطنی اور قوم پرستی یہ دونوں ایسی اصطلاحات ہیں جو ہر دور میں موضوع بحث رہی ہیں لیکن مختلف ادوار میں چاہے وہ حکمراں طبقہ ہو یا اس کا مخالف حزب اختلاف ہو یا مذہبی رہنما ہوں یا پھر سماج کے دانشور اپنے اپنے انداز سے اس کی تعریف کرتے رہے ہیں اور اپنے اپنے نظریے کے مطابق اس کو سمجھتے اور سمجھاتے رہے ہیں خصوصاً اس سماج میں اِن کی تعریف اور بھی زیادہ مشکل ہے جہاں اکثریت کسی خاص مذہب کو ماننے والی ہے یا پھر یہ موضوع ہر وقت متنازعہ بنارہتا ہے۔  اسی طرح کا ایک سوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے غداری کے الزامات میں ملزموں کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے انتظامیہ کے وکیل سے دریافت کیا ۔ آپ کسی کی حب الوطنی کو کس طرح چیلنج کرسکتے ہیں اور اُس پر کیوں کر ملک سے غداری کا الزام لگا سکتے ہیں ملزمین پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین جن پر خود ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا ہے، اُن کی حمایت میں احتجاج کررہے تھے اور یہ احتجاج بھی پرامن تھا۔ دوسری جانب یہ امر بھی مصدقہ ہے کہ مظاہرین پرامن تھے اور انہوں نے نظم ونسق کی کوئی خلاف ورزی بھی نہیں کی تھی اور انہوں نے پورے احتجاج کے ...