بی بی آئی این۔ ہندوستان کے ذیلی علاقائی رابطے کے فروغ کا منصوبہ

‘‘پڑوس کو اولیت’’ پالیسی، وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی خارجہ پالیسی کا کلیدی عنصر ہے۔ 2014 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، ان کی توجہ ہندوستان کے پڑوسی ممالک خصوصاً قریبی مشرقی ممالک کی طرف مرکوز رہی ہے۔

پڑوس سے متعلق وزیراعظم کی سفارت کاری کا مقصد نہ صرف پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو یقینی بنانا ہے بلکہ اس کے تحت، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر سڑک، ریل اور فضا سے متعلق ہارڈ بنیادی ڈھانچوں اور معاشی، عوامی اور ڈیجیٹل جیسے سافٹ رابطوں کے قیام کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان متنوع ہارڈ اور سافٹ رابطہ جاتی پروجیکٹ زیر عمل ہیں۔

بی بی آئی این یعنی بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان اور نیپال کے درمیان اجلاس میں ذیلی علاقائی رابطہ جاتی پیش قدمیوں کے مقاصد کو نمایاں اہمیت حاصل رہی ہے۔ بی بی آئی این کا معینہ مقصد اس گروپ میں شامل ممالک کے درمیان، نجی اور کارگو ٹرانسپورٹ کی وہیکلز کے لئے، موٹر ریگولیٹری میکینزم کے ذریعے بلا روکاوٹ رابطوں کو یقینی بنانا ہے۔

اس پس منظر میں، بنگلہ دیش، ہندوستان اور نیپال کے حکام کے درمیان حالیہ میٹنگ ہوئی تھی جس کا مقصد موٹر وہیکلس ایگری منٹ یعنی ایم وی اے کو جلد تکمیل تک پہونچانا تھا تاکہ سرحد پار سے گاڑیوں کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا کی جاسکے۔ اس میٹنگ میں بھوٹان کے نمائندگان نے مشاہد کی حیثیت سے شرکت کی تھی اور اس کے دوران کارگو اور پیسنجر پروٹوکول زیر بحث آئے تھے تاکہ شریک ممالک کے درمیان، مسافروں کی اور ذاتی نیز کارگو نوعیت کی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں باقاعدگی لانے کے لئے ایم وی اے کو باضابطہ بنایا جاسکے۔ اس حقیقت کے پس منظر میں یہ میٹنگ بے حد اہمیت کی حامل تھی کہ جنوری 2018 میں بینگلورو کی میٹنگ کے بعد یہ پہلی میٹنگ تھی۔

موجودہ میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ شرکاء مئی 2020 تک، اس کے نتائج پر مبنی اپنی اندرونی مشاورت سے گروپ کو آگاہ کریں گے۔ اسی میٹنگ میں ہندوستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے ذریعے طے کئے جانے والی مفاہمت کی دستاویز کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔ اس دستاویز کے ذریعہ بی بی آئی این، ایم وی اے کو تینوں ممالک کے درمیان اور اس مرحلے پر بھوٹان پر لازم کئے بغیر باضابطہ شکل دی جائے گی۔ ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے جون 2015 میں ایم وی اے پر دستخط کئے تھے۔

تاہم، بھوٹان کی پارلیمان کے ایوان بالا کے ذریعے اس معاہدے کی توثیق ابھی باقی ہے۔ واضح ہو کہ بی بی آئی این، ایم وی اے کے تعلق سے بھوٹان کے پالیسی ساز، مستحکم ترقی اور ماحولیات کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔ ایک چھوٹے پہاڑی اور نازک ماحولیاتی ملک ہونے کی وجہ سے بھوٹان کی یہ تشویش بجا ہے۔ لہذا تمام رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ ان امور کا گہرائی سے جائزہ لیں اور بھوٹان کی تشویش کو دور کریں۔ بھوٹان کو اپنے ساتھ لانے کے لئے، دیگر ممالک بھوٹان جانے والی گاڑیوں کی تعداد کو محدود کرسکتے ہیں۔ ہندوستان، بھوٹان کی تشویشات سے آگاہ ہے اور اس کے خیال میں گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ذریعہ زیادہ رابطہ مستحکم ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ بی بی آئی این میں شامل چار ممالک میں دو اہم ممالک بھوٹان اور نیپال چاروں طرف زمین سے گھرے ہوئے ہیں اور ان کے پاس گھریلو اور سرحد کے آر پار نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچوں کے رابطے محدود ہیں۔ یہ دونوں ہی ممالک براستہ ہندوستان ہی، سمندر تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے نفاذ کے بعد، بی بی آئی سے نہ صرف ذیلی علاقائی رابطے میں اضافہ ہوگا بلکہ ایک دوسرے کے عوام تک رسائی میں سہولت بھی پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں زیادہ سیاحتی تبادلے ہوسکیں گے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ رابطوں سے ان ممالک کے تجارتی رشتوں میں اضافہ ہوگا اور تجارتی اشیا کی نقل و حمل میں تیزی آئے گی۔ یہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ تجارتی ساز و سامان خصوصاً جلد خراب ہونے والی اشیا کی نقل و حمل میں لگنے والے وقت سے ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی روابط متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے معاہدے سے ہندوستان کی شمال مشرقی اور مشرقی ریاستوں کو بھی فائدہ پہونچے گا۔ حالانکہ ان تینوں ممالک کے ساتھ ہندوستان کے دو طرفہ طریقہ کار موجود ہیں، پھر بھی ایک کثیر ملکی سرحد پار معاہدے سے سرحد کے آر پار تجارت اور سیاحت کو بلا روکاوٹ فروغ حاصل ہوگا۔

موٹر وہیکل ایگریمنٹ کے نفاذ کے لئے ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے ذریعے کئے گئے فیصلے سے، سہ ممالک رابطے کا منصوبہ جلد ہی حقیقت بن جائے گا۔ توقع ہے کہ ایوان بالا میں توثیق کے بعد بھوٹان بھی جلد ہی اس منصوبے میں شامل ہوجائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ