Posts

Showing posts from May, 2020

وبا کے دور میں بھی علاقائی امن کے تئیں چین کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

اس وقت پوری دنیا ایک عالمی وبا سے جنگ لڑ رہی ہے۔ متعدد ممالک کووڈ۔19 سے متاثر ہیں اور لاکھوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ لاکھوں افراد اس کی زد پر ہیں اور اسپتالوں میں ان کا علاج چل رہا ہے۔ پوری دنیا اس وبا کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے اور ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں جد و جہد جاری ہے۔ لیکن ابھی تک اس مرض کا کوئی شافی علاج دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کروناوائرس نے دنیا کے معمولات تبدیل کر دیے ہیں۔ لاک ڈاون کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت ایک ابتر صورت حال سے دوچار ہے۔ ہر ملک اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مہلک بیماری جس کا کوئی تیر بہ ہدف نسخہ تا حال سامنے نہیں آیا ہے،چین کے شہر ووہان سے نکلی ہے۔ اس سلسلے میں چین پر مختلف حلقوں سے انگشت نمائی ہو رہی ہے۔ ایسے شبہات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ قدرت کی جانب سے بھیجی گئی بیماری نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ اور اس بارے میں شکوک و شبہات کی سوئی چین کی جانب مڑ رہی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس سلسلے میں حقائق چھپائے ہیں۔ خاص طور پر وہاں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بارے میں غلط ...

کابل حکومت کا سیزفائر کی مدت میں توسیع کا مطالبہ

اب جب کہ افغان حکومت صدارتی انتخاب کے بعد باقاعدہ تشکیل پاچکی ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ جو سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا اس کی ناخوشگوار یادیں دور ہو جائیں گی اور نئی حکومت بحسن وخوبی اس جنگ زدہ ملک میں حکومت کا نظم ونسق سنبھالے گی۔ دراصل یہ سیاسی بحران اس لیے پیدا ہوا تھا کہ صدارتی عہدے کے دو بڑے امیدوار جو ایک دوسرے کے حریف تھے، وہ انتخابات کے نتیجہ کے تعلق سے دو الگ الگ رائے رکھتے تھے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کا یہ دعوی تھا کہ نتائج ان کے حق میں ہیں جب کہ ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اس بات سے متفق نہ تھے۔ ان کا دعوی یہ تھا کہ ان کا پلہ بھاری ہے۔ اس کشمکش میں کافی وقت ضائع ہوگیا اور حکومت سازی میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی۔ بہرحال دونوں فریقوں کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا کہ دونوں مل کر حکومت چلائیں گے۔ ڈاکٹر غنی پہلے ہی کی طرح صدر رہیں گے جب کہ ڈاکٹر عبداللہ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے۔ افغانستان میں اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ طالبان سے بات چیت کا معاملہ کس طور پر آگے بڑھایا جائے تاکہ قومی پیمانے پر افغانستان کے مستقبل کے تعلق سے کوئی سیاسی خاکہ تیار کیا جاسکے جس میں ...

نیپال کا آئینی ترمیم پر بحث ملتوی کرنے کا فیصلہ

ہندوستان اور نیپال کے درمیان 1750 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے۔ ہندوستان کی پانچ ریاستوں سکم، مغربی بنگال، بہار، اترپردیش اور اتراکھنڈ کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں۔ ان سرحدوں میں سے زیادہ تر کا تعین 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور نیپال کی شاہی عدالت کے درمیان ہوئے سنگولی معاہدے کے مطابق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق نیپال کا علاقہ مہاکالی یا کالی ندی کے مشرق تک محدود تھا۔ تاہم نیپال نے حال ہی میں جو نقشہ جاری کیا اس میں مہاکالی ندی کے مغرب میں کالاپانی لمپیا دھرا اور لیپو لیکھ کے 400 مربع کلو میٹر کے علاقہ کو اپنا علاقہ قرار دیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ متذکرہ معاہدے کے تحت یہ علاقے ہندوستان کے ہیں۔ کٹھمنڈو کا دعوی ہے کہ چونکہ یہ علاقے کالی ندی کی ایک بڑی شاخ کے مشرق میں واقع ہیں اس لیے وہ نیپال کے ہیں۔ یہ دعوی اس حقیقت کے باوجود کیا جارہا ہے کہ پچھلے 150 سال سے جو نقشے دیکھنے کو ملے اور جو جائزے پیش کیے گئے ان میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ کالاپانی سے آنے والی دھارائیں ہی کالی ندی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ علاقے کالی ندی کے مغرب میں ہیں جو ہندوستان کا حصہ ہے۔ یہ علا...

تاریخ کے ایک انتہائی نا خوشگوار دور سے گزرتی عالمی برادری

انسانی تاریخ نے اب تک نہ جانے کیا کچھ نہیں دیکھا ہے۔ بہت سے خوشگوار اور ناگوار واقعات سے عالمی تہذیب کا کارواں گزرا۔ دنیا نے بہت سی جنگیں اور خون خرابے کے مناظر دیکھے۔ کئی انقلابات اور تغیرات سے بھی گزری۔ خود گزشتہ صدی یعنی بیسویں صدی میں بھی تاریخ عالم نے دو ہولناک جنگیں دیکھیں اور پچھلی صدی ہی میں اسپینش (Spanish) فلو نام کی وبا نے بھی دنیا کے کروڑوں انسانوں کو نگل لیا تھا۔ اب اکیسویں صدی کا بیسواں سال ہے۔ 2019 ہی کے آخری ایام میں کورونا وائرس کی دستک پہلی بار چین کے ایک علاقے ووہان میں سنائی دی، جس نے رفتہ رفتہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسے حالات میں مایوسی، ناامیدی اور فرسٹریشن کا دامن گیر ہونا تو ایک فطری بات ہے، لیکن اس وبا نے جتنی مایوسی اور غیر یقینی صورت حال سے اقوام عالم کو دوچار کیا ہے، اس کی مثال شاید تاریخ عالم میں دوسری نہیں ملتی۔ اب تک پوری دنیا میں کم و بیش ساڑھے تین لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کہیں کہیں سے کچھ کمی بیشی کی خبریں ضرور موصول ہوتی ہیں لیکن بے یقینی کا ماحول ہر جگہ برقرار ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن...

افغانستان سے موصول ہونےو الی ایک اچھی خبر

افغانستان ایک ایسا جنگ زدہ ملک ہے جہاں چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے افرا تفری، انتشار، خون خرابے، خانہ جنگی اور دہشت گردی کا ماحول قائم ہے۔ 1996 میں اندرونی کشمکش اور خون خرابے کے بعد ایک جنگجو گروپ طالبان کا اقتدار قائم ہوا تھا۔ اس نے ایک سخت گیر جارحانہ اور خود ساختہ قسم کا نام نہاد اسلامی نظام قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس میں خواتین کو بطور خاص دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ انہیں تعلیم سے محروم اور چہار دیواری کے اندر محصور کرنا اس نظام کا طرہ امتیازتھا۔ مردوں پر بھی مذہب کے نام پر زیادتی کرنا عام بات تھی۔ انسانی وقار اور حقوق کی گویا کوئی اہمیت ہی نہیں تھی لیکن اس سے بہت پہلے جب افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہوئی تھیں تو اس کے خلاف مزاحمت کی ایک لہر آئی تھی چونکہ وہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اس لئے افغانستان، دو بڑی طاقتوں یعنی سوویت یونین اور امریکہ کی آپسی رقابت اور طاقت آزمائی کا بھی اکھاڑا بن گیا تھا۔ مقامی مزاحمتی تحریک کو امریکہ کی پوری حمایت حاصل تھی اور اس معاملے میں افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے بھی امریکہ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ پاکستان امریکہ کا غیرناٹو ات...

پاکستانی معیشت میں تنگی کے آثار اور عوام کی حالت زار

پاکستان کے عوام کے مسائل گونا گوں ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی اور تشدد ہے، غربت ہے اور استطاعت سے زیادہ دفاعی اخراجات۔ اس پر ستم کرونا کا قہرجو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ ویسے تو اس وقت ساری دنیا کرونا وائرس کے پیدا کردہ بحران سے دو چار ہے لیکن بیشتر ممالک نے نہ صرف یہ کہ کرونا سے عوام کو بچانے کے اقدامات کئے ہیں بلکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو جو اقتصادی تنگی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس سے نپٹنے کے بھی اقدامات کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی حکمت عملی کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے جس نے ایک طرف لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کر رکھا ہے تو دوسری طرف اپنی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے بیس لاکھ کروڑ یعنی کل ملکی پیداوار کے تقریبا دس فیصد کے برابر کے پیکیج کا اعلان کیا جس کے فوری فائدے بھی ہوں گے اور دور رس اثرات بھی ہوں گے۔  اس کے برعکس پاکستان کے عوام دوہرے مسائل سے دو چار ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی حکومت دونوں محاذوں پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عمران خان کی زیر قیادت حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پہلے تو لاک ڈاون ک...

پاک حکومت کی جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش

جمہوری نظام میں عوام کی حکومت ہوتی ہے۔ یہ عوام کے ذریعے، عوام کے لئے چلائی جاتی ہے۔ اسی لیے پاک دانشور، صحافی اور انسانی حقوق کے حامی پاکستان میں جمہوری نظام مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی آواز ہر خاص و عام تک پہنچانا چاہتے ہیں مگر پاک حکومت ان کی آواز دبانے کا کوئی موقع چھوڑتی نہیں ہے۔ اس کی پوری کوشش رہتی ہے کہ پاک اسٹیبلشمنٹ کی مذموم کارکردگی آشکارا نہ ہو، چنانچہ پچھلے دنوںپاکستان میں ہونے والے مظالم، قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ’ساتھ ‘ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا تو پاکستان کے کئی علاقوں میں ٹوئٹر، اس کی ویڈیو اسٹریمنگ سروس پریسکوپ اور ورچوئل کانفرنسنگ ایپ زوم کو بلاک کر دیا گیا تاکہ لوگ اس سے وابستہ نہ ہو سکیں، اس پر اپنے تاثرات کا اظہار نہ کر سکیں اور سب سے اہم بات ہے کہ ایسے سوال نہ کریں جن کا جواب دینا پاک حکومت کے لیے مشکل ہو لیکن پاکستان کی حکومت سوالوں سے آخر کب تک بچتی رہے گی اور کب تک لوگوں کے سوالوں کا اطمینان بخش جواب نہیں دے گی۔ حالات ہی کیوں ایسے ہیں کہ وہ سوالوں کے دائرے میں ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر لوگ احتجاج کرتے رہے ہیں مگر ا...

چین کے رحم و کرم پر پاکستانی صارفین

پاکستان ایک بار پھر اپنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ بار بار گرنے کے بعد بھی یا تو وہ سنبھل نہیں پارہا ہے یا جان بوجھ کر سنبھلنا ہی نہیں چاہتا ہے۔تازہ معاملہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور یعنی سی پیک کا ہے۔ 62 ارب ڈالر کے اس عظیم الشان پروجیکٹ کا کافی چرچا رہا ہے۔ پاکستان بھی چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اس پروجیکٹ میں شامل ہوا اور پاکستانی عوام کو اس کے سینکڑوں فائدے گنوائے گئے۔ لیکن اب پتہ چلا کہ سی پیک پروجیکٹ سے پاکستان کو فائدہ تو درکنار اس پروجیکٹ کی آڑ میں چین پاکستانی عوام کا بری طرح اقتصادی استحصال کررہا ہے۔ معاملے نے جب پریشان کن صورت اختیار کرنی شروع کی تو وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ پتہ کرنا تھا کہ پاکستانی صارفین کو جو بجلی سپلائی کی جائے گی اس کی شرحیں اتنی زیادہ کیوں ہیں۔ لیکن جب جانچ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ وہاں تو بدعنوانیوں کا انبار لگا ہوا ہے اور پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹ میں شامل چین کی پرائیوٹ کمپنیا ...

کووڈ 19 کے خلاف عالمی جنگ جاری

تاب لاۓ ہی بنے گی غالبؔ واقعہ سخت ہے اور جان عزیز لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عالمی وبا ہے، جس سے پوری دنیا اپنے اپنے طور پر نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ وبا چین کے علاقے ووہان سے شروع ہوئی۔شروع میں تو چین میں کافی گھبراہٹ کا ماحول تھا، کیونکہ دیکھتے ہی دیکھتے اس ایک خاص علاقے میں دہشت اس طور پرپھیلی تھی کہ لوگ تھرا اٹھے تھے۔ بہر حال بعد میں جاری کیے گیے اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ اس وبا کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چار ہزار اور پانچ ہزار کے درمیان تھی، لیکن وہاں کچھ عرصہ بعد بڑی حد تک صورتحال پر قابو پالیا گیا، تاہم احتیاط برتنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتی جارہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ وباپوری دنیا میں پھیل گئی۔ جنوبی کوریا نے تو کافی حد تک قابو پالیا، لیکن یوروپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بری طرح اس کی لپیٹ میں آگئے۔ یوروپ میں نیوزی لینڈ سمیت بعض ممالک نے اس پر قابو پانے میں نسبتاًبہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،لیکن برطانیہ ،اسپین،اٹلی اور فرانس جیسے بڑےممالک میں نہ صرف متاثرین کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا گیا، بلکہ اموات بھی بڑے پیمانے پر ہوئیں۔جہاں ...

موضوع: کالاپانی پر بھارت اور نیپال کے درمیان تنازعہ

نیپال نے ایک بار پھر کالا پانی کے علاقائی تنازعہ پر جارحانہ رخ اختیار کرلیا ہے۔ یہ علاقہ ہندوستان کی اتراکھنڈ ریاست میں پتھوڑا گڑھ ضلع اور نیپال کے مغربی علاقے میں واقع دھرچولا ضلع میں ہندوستان ، نیپال اور چین کے تراہے پر واقع ہے۔ موجودہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب نیپال کی کمیونسٹ حکومت نے ملک کا ایک نیا سیاسی اور انتظامی نقشہ اس ماہ کی 20 تاریخ کو جاری کیا۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اس نقشہ میں کالاپانی، لمپیا دھرا اور لیپولیکھ کو نیپال کے حصوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، جبکہ ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر اور لداخ کی تنظیم نو کرنے اور انہیں مرکز کے زیر انتظام علاقے قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے پچھلے سال دو نومبر کو جاری کئے گئے نقشہ کے مطابق یہ علاقے ہندوستان کے خود مختار علاقے ہیں۔ ہندوستان اور نیپال دونوں پڑوسی ممالک ہیں جن کے تعلقات دوستانہ ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے سماجی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ تاہم ہمالیائی علاقے میں کالاپانی سے نکلنے والی کالی ندی کے نزدیک ایک چھوٹے سے لیکن نہایت اہم زمین کے ٹکڑے پر نیپال کے دعوے نے دونوں م...

طالبان اندرون افغانستان امن سے متعلق بات چیت کرنے سے گریزاں؟

اگر افغانستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو صحیح معنوں میں کوئی حوصلہ افزاء بات نظر نہیں آتی۔ طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان بات چیت کے کئی دور بھی چلے اور ایک سمجھوتہ بھی ہوا لیکن جو شبہات اور وسوسے پہلے سے ہی محسوس کئے جارہے تھے، وہ دور نہیں ہوئے اور بڑی حد تک کنفیوژن اور الجھاؤ کا ماحول برقرار ہے۔ اس پورے عمل میں ایک بات سب نے محسوس کی کہ طالبان کو اپنے ملک میں امن کا ماحول قائم کرنے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ اور طالبان نمائندوں کے درمیان جب بات چیت کا دوسرا سلسلہ چلا تو وہ کسی صورت انجام کو تو پہنچا لیکن اس کے بعد جو مرحلے طے کئے جانے کی بات ہورہی تھی، ان کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوتی تو فی الحال نظر نہیں آتی۔ بات چیت کا جو دوسرا سلسلہ شروع ہوا تھا اس سے پہلے کی بات چیت جو کافی لمبی چلی تھی، اس درمیان بھی طالبان کے لوگ پرتشدد کارروائیاں، بڑی سرگرمی سے انجام دے رہے تھے۔ حتیٰ کہ صدارتی الیکشن کے درمیان انتخابی عمل میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور نہ صرف افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ امیدواروں تک پر حملے ہوئے تھے او...

کووڈ۔19کا مقابلہ کرنے کے لئے ہند بحر الکاہل میں مزید تعاون کی ضرورت

اس وقت تمام دنیا کووڈ۔19 وبا پر قابوپانے کی کوشش کر رہی ہے ،اسی کے ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ زندگی جینے کے نئے طریقے تلاش کئے جائیں۔ کچھ ممالک تو مشترکہ کارروائی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعہ سرکاری کام کاج کے پرانے طریقہ کار کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان ملکوں کو اس بحران کے دوران کن حقائق کا سامنا ہے ۔ ملکوں نے علاقائی سطح پر اس معاملہ میں صلاح ومشورے کے عمل کو تیز کر دیاہے۔ آپسی صلاح و مشورے کے حصہ کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مارچ میں کووڈ۔19 کے پھیلاؤکو روکنے کی غرض سے سارک ملکوں کے ساتھ رابطہ کیا تھا ۔یوروپ اور جنوب مشرقی ایشیا کی بھی علاقائی تنظیموں نے اس سلسلہ جو کوششیں کیں وہ بھی اس سلسلہ میں اچھی مثالیں ہیں۔ اس سلسلہ میں ہندوستان نے جی۔7 ملکو ں سے بھی جواب چاہا تھا کہ وہ اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔ ان واقعات کی روشنی میں اس وبا سے لڑنے کے لئے ہند۔ بحر الکاہل ملکوں کے درمیان تعاون حاصل کرنے کی کوشش کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اگر چہ ہند۔ بحر الکاہل کا خطہ کسی علاقہ کی صحیح معنوں میں نمائندگی نہیں کرتا، تا ہم یہ س...

مستقل امن: افغان رخ پر ہند کی سوچ کا محور

دہائیوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں تازہ بہ تازہ امن عمل خوش آئند ہے کہ کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے بعد دو حریف افغان سیاستدانوں صدر مملکت اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے اقتدار میں ساجھے داری کے ایک سمجھوتے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ابھی مارچ میں ملکی صدر کے طور پر دونوں نے علیحدہ علیحدہ حلف اٹھائے تھے۔ حالیہ دہائی میں ہند افغان تعلقات نے جو خاموش کروٹیں لی ہیں ان کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا کی وبا پھیلنے کی وجہ سے ساری بین اقوامی سر گرمیاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ انجام دی جا رہی ہیں، امریکہ کے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بذات خود ہندستان کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندستان پر ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ امن اور خوشحالی کے رخ پر علاقائی سیاست کو ایک نیا موڑ دینے کیلئے افغانستان میں استحکام کے لئے ہندستان سرگرم کردار ادا کرے۔ ہندستان نے ابتک دو دہائیوں کے دوران افغانستان کی اقتصادی ترقی ...

ایس سی او وزراء خارجہ کی میٹنگ میں کووڈ-19 اور دہشت گردی پر تبادلۂ خیال

2017میں ہندوستان اور پاکستان کی مکمل اراکین کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے بعد سے اس تنظیم میں بھارت کا قد کافی اونچا ہوا ہے، کیونکہ نئی دہلی نے تنظیم کیلئے کافی خدمات انجام دی ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب تمام دنیا کووڈ 19- جیسی وبا سے جوجھ رہی ہے۔ بہتر ہوگا اگر تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس عالمی چیلنج پر تبادلۂ خیال کرنے اور اس کا دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔ 2005سے ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک مشاہد تھا اور اس نے تنظیم کی وزارتی سطح کی میٹنگوں میں شرکت کی جو یوروپ اور ایشیائی علاقہ میں سیکورٹی اور معاشی تعاون کے معاملات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم کا قیام روس، چین قرقیز جمہوریہ، قزاخستان،تاجیکستان اور ازبیکستان کے صدور کے ذریعہ 2001میں شنگھائی میں ایک سربراہ میٹنگ کے دوران عمل میں آیا تھا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پچھلے ہفتے تنظیم کی وزارتی سطح کی میٹنگ میں شرکت کی، جس میں انھوں نے مہلک کووڈ 19-بیماری سے لڑنے میں تعاون کرنے اور اس سلسلہ میں طبی مہارت ساجھا کرنے کی ضرورت پر زور دیا...

کورونا وائرس کی وبا کے درمیان وزیراعظم کی جانب سے معاشی پیکیج کا اعلان

کووڈ-19 کی وبا کے باعث ملک میں معاشی سرگرمیاں رک سی گئی تھیں، لیکن وزیراعظم نریندرمودی نے انہیں پٹری پر لانے کے لیے بیس لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پیکیج کی تفصیلات کا اعلان وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں کیا۔ پیکیج کی پہلی قسط کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درمیانی چھوٹے اور بہت چھوٹے درجے کی صنعتوں کو نقد رقم فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کو جلاء مل سکے۔ یہ صنعتیں کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا پڑا تاکہ انسانی جانوں کا کم سے کم نقصان ہوسکےاور بیماری کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے بعد وزیراعظم کو اعلان کرنا پڑا کہ ‘‘جان بھی جہان بھی’’ یعنی خود کی حفاظت بھی ضروری ہے اور زندہ رہنے کے لیے کچھ کرنا بھی ہے۔ اس بیس لاکھ کروڑ روپے میں سے تقریبا سات اعشاریہ آٹھ لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان حکومت اور ریزرو بینک پہلے ہی کرچکے ہیں۔ شروعاتی پیکیج میں غریبوں کو مالی امداد فراہم کرنے اور سسٹم میں نقدی کی فراہمی پر توج...

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود پاکستان میں پابندیاں ختم

کیا امریکہ اور کیا ایشیا۔ بیشتر براعظم کے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں اور ہر جگہ اس عالمی وبا کے خلاف زبردست جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ شاید یہ اس صدی کا سب سے بھیانک بحران ثابت ہونے والا ہے۔ ابھی تک عالمی پیمانے پر لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور کہیں لاکھوں تو کہیں ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں اور ہر روز ہلاک بھی ہورہے ہیں۔ گزشتہ صدی کے اسپینش (Spanish) فلو نے پوری دنیا میں کروڑوں افراد کو نگل لیا تھا اور خود برصغیر ہندوپاک میں بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ اس وبا کا شکار ہوئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ تھی۔ خدا نہ کرے کہ کورونا وائرس اُتنا مہلک اور تباہ کن ثابت ہو۔ لیکن پوری دنیا تشویش اور گھبراہٹ کا بہرحال شکار ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اور ڈاکٹر اس پر قابو پانے اور دوسرے متعلقہ عوامل کی تحقیق میں مصروف ہیں اور دوائیں اور ٹیکے ایجاد کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ امید ہے عنقریب اس وبا کا کوئی نہ کوئی علاج تلاش کرلیا جائے گا اور دنیا راحت کا سانس لے گی لیکن تب تک اس عذاب کو نہ صرف جھیلنا ہے بلکہ اس سے جنگ بھی کرنا ہے اور جنگ جاری رکھنے کا واحد طریقہ فی الحال ...