کووڈ۔19کا مقابلہ کرنے کے لئے ہند بحر الکاہل میں مزید تعاون کی ضرورت

اس وقت تمام دنیا کووڈ۔19 وبا پر قابوپانے کی کوشش کر رہی ہے ،اسی کے ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ زندگی جینے کے نئے طریقے تلاش کئے جائیں۔ کچھ ممالک تو مشترکہ کارروائی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعہ سرکاری کام کاج کے پرانے طریقہ کار کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان ملکوں کو اس بحران کے دوران کن حقائق کا سامنا ہے ۔ ملکوں نے علاقائی سطح پر اس معاملہ میں صلاح ومشورے کے عمل کو تیز کر دیاہے۔ آپسی صلاح و مشورے کے حصہ کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مارچ میں کووڈ۔19 کے پھیلاؤکو روکنے کی غرض سے سارک ملکوں کے ساتھ رابطہ کیا تھا ۔یوروپ اور جنوب مشرقی ایشیا کی بھی علاقائی تنظیموں نے اس سلسلہ جو کوششیں کیں وہ بھی اس سلسلہ میں اچھی مثالیں ہیں۔ اس سلسلہ میں ہندوستان نے جی۔7 ملکو ں سے بھی جواب چاہا تھا کہ وہ اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔

ان واقعات کی روشنی میں اس وبا سے لڑنے کے لئے ہند۔ بحر الکاہل ملکوں کے درمیان تعاون حاصل کرنے کی کوشش کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اگر چہ ہند۔ بحر الکاہل کا خطہ کسی علاقہ کی صحیح معنوں میں نمائندگی نہیں کرتا، تا ہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کووڈ۔19 کا مقابلہ کرنے میں اس علاقہ کا تعاون کیوں ضروری ہے۔ کورونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس کی کوئی سرحد نہیں ہے ۔یہ ایک سے دوسرے اور پھر اسی طرح سے پھیلتے پھیلتے لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس کی مثال یوروپ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔یہ ہماری سلامتی کے لئے ایک غیر روایتی خطرہ ہے ۔ہند۔ بحر الکاہل ایک اسٹریٹیجک علاقہ ہے ۔ اس علاقے کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت اس لئے ضروری ہے کہ یہاں صحت کے معاملات کے علاوہ جغرافیائی اور سیاسی مجبوری بھی ہے۔

اس پس منظر میں ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرینگلا کا ہند۔ بحر الکاہل کے ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کافی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ جناب شرینگلا نے ٹیلی فون پر آسٹریلیا، جاپان ،نیوزی لینڈ،جنوبی کوریا،امریکہ اور ویتنام کے خارجہ سکریٹریوں کے ساتھ بات چیت کی اور کووڈ۔19سے لڑنے کے لئے ان بہترین طبی خدمات کے بارے میں معلومات ساجھا کیں جو ان ملکوں میں موجود ہیں۔ اس بات چیت سے یہ فائدہ ہوا کہ اس میں بہت سے علاقے شامل ہو گئے مثلاً ہندوستان نے جنوبی ایشیاء،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بحر الکاہل کے علاقے، جاپان اور جنوبی کوریا نے مشرقی ایشیاء اور ویتنام نے آسیان اور امریکہ کی نمائندگی کی۔

اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے میں آپسی تعاون کا جہاں تک تعلق ہے تو اس وسیع نیٹ ورک کے دو فائدے ہیں۔جنوبی کوریا ،نیوزی لینڈ اور ویتنام وہ ممالک ہیں جنہوں نے اس وبا کو شروعاتی دور میں پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان ملکوں نے ٹیسٹ کرنے ،قرنطینہ میں رکھنے اور لاک ڈاون پر عمل کیا۔ ان تمام ملکوں نے ان لوگوں کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کی جو مریض کے رابطے میں آئے تھے تا کہ انہیں قرنطینہ میں رکھ کر وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔اگر چہ جنوبی کوریا شروع میں اس کوشش میں کامیاب رہا تا ہم لاک ڈاؤن میں وقت سے پہلے چھوٹ دینے کے باعث وہاں معاملات بڑھنے لگے۔ نیوزی لینڈ نے جو پالیسی اپنائی وہ کافی کامیاب رہی کیونکہ اس نے بغیر تاخیر وبا کے سامنے آتے ہی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ اسی طرح ویتنام نے جس طرح اس وبا کا مقابلہ کیا وہ بھی قابل تعریف ہے۔ اس نے چین کی طرح کوئی بات چھپائی نہیں اور بڑی ایمانداری کے ساتھ اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہا۔

آپسی صلاح مشوروں میں کھانے نیز دواؤں اور طبی آلات کی بغیر رکاوٹ سپلائی پر بھی زور دیا گیا۔ہوائی خدمات کے منسوخ ہونے کی وجہ سے ان ملکوں میں رہنے والے غیر ملکی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ملک واپس نہیں جاسکے۔لہذا ایسے لوگوں کے لئے سفارتی خدمات فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ایسی صورت حال میں جب عالمی معیشت کا برا حال ہے اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وبا سے لڑنے کے لئے فنڈ کیسے فراہم کئے جائیں۔

اس وبا کی وجہ سے جغرافیائی اور سیاسی حقائق بھی سامنے آ رہے ہیں، چین نے حال ہی میں چائنیز ہیلتھ سلک روڈ کا اعلان کیا جس کا مقصد علاقائی ملکوں کی مدد کرنا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ اس کی اپنے بلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیوکو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے ۔چین سے تمام دنیا مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اس وائرس کے بارے میں اپنی جوابدہی طے کرے۔ اس دباؤ کے تناظر میں چھوٹے ملکوں کی امداد کرنا اسے بہتر متبادل نظر آیا ۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو اپنی بحر سفارتکاری کے ذریعہ اس نے بحر ہند کے مالدیپ،ماریشس،سیشلس اور کوموروزجیسے ملکوں کوجو امداد پہنچائی ہے وہ موجودہ چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کافی اہم ثابت ہوگی۔

*****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ