Posts

دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہند افغان اشتراک

قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال گزشتہ دنوں افغانستان کےدو روزہ دورے پر کابل گئے تھے۔ جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی، اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ ، اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی اور دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے نیز جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کے علاوہ اسٹریٹیجک امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دوحہ میں جاری افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین افغان امن مذاکرات کے آغاز کے بعد یہ ہندوستان کے کسی اعلی عہدیدار کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا ۔ اس سے قبل گزشتہ برس فروری میں دوحہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کے دوران بھی ہندوستان نے شرکت کی تھی جب کہ گزشتہ ستمبر میں بین افغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں بھی ہندوستانی وفد موجود تھا اور وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکاء سے خطاب کیا تھا۔ اجیت ڈوبھال کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور ملک میں قیام امن کی کوششوں کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا ۔ دوسری طرف اجیت ڈو...

پاکستان اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتا!

کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا داخلی اتحاد ہوتا ہے۔جس کا دارو مدار سیاسی،سماجی اور معاشی مساوات اور نسلی و لسانی غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ اگر ملک میں حکومت اور نظام انصاف پرور ہوتا ہے تو ملک کے لیے ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں ورنہ انتشار اور خانہ جنگی کے لیے خود بخود دروازے کھل جاتے ہیں۔ایسے ملک پھر اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لئے دوسروں پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔ حال ہی میں پاک فوج کے تر جما ن جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اور انھوں نے اقلیتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔یہ بیان حکومت کی ناکامی کیلئے فوجی پردہ پوشی بھی ہے اور الزام تراشی کا ایک اور نمونہ بھی۔ در اصل جن وجوہات کی بنا پر پاکستان میں علاحدگی پسندی کی تحریکیں پروان چڑھیں، پاکستان ان پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کو متحد رکھنے میں ناکامی کا ذمہ دا ر خود پاکستان ہے کوئی اور ملک یا طاقت نہیں۔پاکستان کی جانبدارانہ پالیسیاں ہیں، پاکستان کی نسلی سیاست ہے اور سب سے اہم پاکستان کی فوج اور سرکاری ایجنسیاں ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے صوبوں...

افغانستان میں طالبان کی نئی حکمت عملی

ہر نیا سال کچھ تازہ امیدیں کچھ نئی امنگیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لاتا ہے اور دنیا کی جھولی میں ڈال کر رخصت ہو جاتا ہے۔ دنیا ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا جتن کرتی ہے اور ایسی حکمت عملی تیار کرتی ہے کہ ہر سال گزشتہ سال سے بہتر اور پر سکون ہو۔ ایسے ہی خواب افغانستان کے حصے میں آئے جن کی تعبیر وہ دہائیوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ کشت و خون کا ایک طویل سلسلہ وہاں جاری ہے حالانکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہاں جلد ہی زندگی معمول پر آ جائے گی اور عوام سکون کی سانس لے سکیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کے باوجود وہاں مستقل امن کی بحالی کی راہ ہموار نہیں ہو سکی ہے۔ طالبان پہلے خودکش حملہ آوروں کا استعمال کرتے تھے اور بڑے شہروں میں اہم شخصیات یا مراکز کو نشانہ بنایا کرتے تھے لیکن اب انھوں نے اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کر لی ہے۔ اب انھوں نے عام شہریوں، سرکاری ملازمین، صحافیوں، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں، اعتدال پسند مذہبی رہنماؤں اور عوامی مقبولیت کی حامل خواتین کو بھی اپنے ہدف میں شامل کر لیا ہے۔ وہ اب خودکش حملوں کے ...

افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی  امکانات کو بروئے کار لانے  کے حق میں  بھارت 

افغانستان کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے والے ہندوستان نے افغانستان میں کسی بھی طرح کی غیر ضروری مداخلت کے بغیر افغان قیادت، افغان ملکیت اور افغان امنگوں کی عکاسی کرنے والے ماحول میں قیامِ امن اور مفاہمت کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے اورآج بھی وہ افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی امکانات کو بروئے کار لانے کے حق میں ہے۔ ہند ۔افغانستان دوستانہ ہمسائیگی کا یہی وہ پیمانہ ہے جس نے 2014 میں ہندستان کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک افغان صدر حامد کرزئی نے اُسی دوران افغان صوبہ ہرات میں ہندستان کے سفارتخانے پر حملے پر اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں دوٹوک کہہ دیا تھا کہ اُن کی حکومت کو یقین ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے ہرات میں ہندستانی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔ بر سبیل تذکرہ اس واقعے کے پس منظر میں افغانستان کے رُخ پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی جس جذبے کی ترجمانی کرتی ہے اُس سے بجا طور پر بہتر ہمسائیگی کے حق میں یہ خواہش کی جا سکتی ہے کہ بیرونی مداخلتوں س...

عمران خان کی رعونت اور ہزارہ فرقے کی بے بسی

آمریت کے سائے میں پنپنے والی جمہوریت کی وہی شکل و شباہت ہوتی ہے جو ہمیں برسوں سے پاکستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چاہے وہ فوجی حکمرانوں کی جمہوری قدریں رہی ہوں یا پھر جمہوریت کی پاسداری کے نام پر سیاست کی کمان سنبھالنے والے سیاسی قائدین کے جمہوریت والے نعرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم و بیش ہر دور اُسی آمریت کی تیزی و تندی کا شکار رہا جس کی نہایت خوفناک شکل اِس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے اور اِس کی اصل وجہ وہ مذہبی منافرت ہے جس نے شروع سے پاکستانی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رہا ہو یا مسلکی گروہوں کے ساتھ تعصبانہ تصویر ہمیشہ افسوسناک اور ہیبت ناک ہی نظر آئی ہے۔ حالیہ دونوں میں دو بڑے واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اِس پاکستانی معاشرے کے تضادات کو اور بھی کریہہ بناکر رکھ دیا ہے اور اِن دونوں واقعات میں عوامی فکری انتشار اور انتظامیہ کے ذہنی تضادات کی ایک حیرت انگیز تصویر سامنے آتی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے خیبر پختونخوا کے کرک ضلع کے ٹیری گاؤں میں واقع شری پریم ہنس جی مہاراج کی سمادھی اور اس سے متصّل کرشن دوارہ مندر کو انتظ...

پاکستان میں مذہبی اور مسلکی تشدد

پاکستان میں آج جس طرح سے اقلیتی فرقہ پر ظلم وزیادتی ہورہی ہے اور مسلکی تشددکا دوردورہ ہے اس سے اس بات کا ذرہ برابر بھی اشارہ نہیں ملتاکہ اس ملک کے قیام کے وقت جو بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے اس پر سنجیدگی سے عمل بھی کیاگیا۔کہاگیاتھا کہ ‘‘آپ آزاد ہیں اپنے مندروں اور مسجدوں میں جانے کےلیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کےلیے ۔ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب ،ذات یانسل سے ہے ۔’’ پاکستان نے آج یہ باتیں فراموش کردی ہیں ۔دیگر مذاہب کو برداشت کرنے کی تو دورکی بات اکثریتی فرقہ میں مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایاجاتاہے ۔حال ہی میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کی ہلاکت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ واقعہ بلوچستان کے مچھ علاقہ میں پیش آیا جہاں کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 10کان کنوں کو محض ان کی مسلکی وابستگی کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیاگیا۔ بلوچستان ویسے بھی شورش پسندی اور پرتشددواقعات کے لیے بدنام ہے ۔پاکستان نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے شدت پسند اور دہشت گرد پیداکیے اور انھیں دوسرے مل...

دہشت گردوں کی گرفتاری اور پاکستان کی نیت

لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر اور 2008 کے ممبئی حملوں کے خاص ہدایت کار، ذکی الرحمان لکھوی کی عین ایسے وقت میں گرفتاری جب ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسیفک مشترکہ گروپ جنوری میں میٹنگ کر کے یہ سفارش کرنے والا تھا کہ پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جانا چاہئے ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔ ورنہ دل سے اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اگر واقعی پاکستان ان ملزموں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے تو کم سے کم اس مقدمے کا کوئی فیصلہ اب تک ہو جاتا جو پاکستان میں ان کے خلاف چل رہا ہے۔ اسی مقدمے میں اب سے چار پانچ سال قبل لکھوی جیسے خطرناک مجرم کو ضمانت نہ ملتی۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان نے کئی ایسی کارروائیاں کی ہیں جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی سے لڑنا یا اسے ختم کرنا نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ تاثر دینا ہے کہ واقعی پاکستان سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ جب بھی کبھی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہونے والی ہوتی ہے جس میں پاکستان کا معاملہ زیر غور ہو تو پاکستان سے ایسی ہی پیش...