پاکستان میں مذہبی اور مسلکی تشدد



پاکستان میں آج جس طرح سے اقلیتی فرقہ پر ظلم وزیادتی ہورہی ہے اور مسلکی تشددکا دوردورہ ہے اس سے اس بات کا ذرہ برابر بھی اشارہ نہیں ملتاکہ اس ملک کے قیام کے وقت جو بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے اس پر سنجیدگی سے عمل بھی کیاگیا۔کہاگیاتھا کہ ‘‘آپ آزاد ہیں اپنے مندروں اور مسجدوں میں جانے کےلیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کےلیے ۔ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب ،ذات یانسل سے ہے ۔’’

پاکستان نے آج یہ باتیں فراموش کردی ہیں ۔دیگر مذاہب کو برداشت کرنے کی تو دورکی بات اکثریتی فرقہ میں مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایاجاتاہے ۔حال ہی میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کی ہلاکت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ واقعہ بلوچستان کے مچھ علاقہ میں پیش آیا جہاں کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 10کان کنوں کو محض ان کی مسلکی وابستگی کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیاگیا۔

بلوچستان ویسے بھی شورش پسندی اور پرتشددواقعات کے لیے بدنام ہے ۔پاکستان نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے شدت پسند اور دہشت گرد پیداکیے اور انھیں دوسرے ملکوں پر حملے کےلیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔اب یہی شدت پسند اس کے لیے سردردبن گئے ہیں ۔اسی مسئلہ کو جواز بناکر اب پاکستان ان لوگوں کی آوازوں کو بھی خاموش کرنا چاہتاہے جو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہزارہ برادری کے لوگ قیام پاکستان سے پہلے سے کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں آباد ہیں اور انکی آبادی تقریبا پانچ لاکھ ہے۔ انھیں دہشت زدہ کرنے کے لیے ان پر وقتا فوقتا حملے ہوتے رہتے ہیں ۔نہ وہ اپنی ضروریات کے لیے آزادی سے کہیں آجاسکتے ہیں اور نہ ہی روزی روٹی کےلیے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح ملازمت کرسکتے ہیں۔حکومت انھیں ہمیشہ تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے ، لیکن اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔

پاکستان میں مذہبی اور مسلکی منافرت کو ہوادینے کا کام بہت پہلے شروع ہوگیاتھا جب فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے ملک میں نئے اسلامی اور شرعی قوانین کے نفاذکا اعلان کیا۔نتیجہ کے طورپر ایسی مذہبی تنظیمیں وجودمیں آئیں جنھوں نے دین اور شریعت کے تحفظ کو اپنا اولین فریضہ سمجھ لیا۔ اور انھوں نے قانون کو بالائے طاق رکھ کر سزا اور معافی کی ذمہ داری خودلے لی۔

جنرل ضیاءالحق نے نہ صرف بڑے پیمانے پر مدارس اور مذہبی تنظیموں کے قیام کی اجازت دی بلکہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے ان کا استعمال بھی کیا۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ انھیں مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بیشتر طلبا نے مجاہدین کی شکل میں افغانستان میں جنگیں لڑیں ۔آج کے طالبان انھیں مدارس کی پیداوار ہیں ۔پہلے ان لوگوں نے ملک کی آزادی کے نام پر سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی بعد ازاں یہ امریکہ اور اس کی اتحادی فوج کے ساتھ برسرپیکار رہے اور اب جبکہ امریکہ کی فوج افغانستان سے انخلاکی کوشش کررہی ہے تو یہ مجاہدین افغانستان میں معصوم عوام کا ہی خون بہارہے ہیں ۔

پاکستان میں‘‘تحریک طالبان پاکستان’’کے شدت پسند انھیں مدارس کے پروردہ ہیں ۔ملک میں اس نوعیت کی شدت پسند اور مذہبی نظریات کی حامل یہ واحد تنظیم نہیں ہے بلکہ متعددایسی تنظیمیں ہیں جن میں جماعت الدعوہ ، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیمیں شامل ہیں ۔یہ وہ تنظیمیں ہیں جنھیں حکومت کی حمایت حاصل ہے یا وہ ان پر قدغن نہیں لگاناچاہتی ۔

ان مذہبی شدت پسندتنظیموں کا اثر ورسوخ اتنا بڑھ گیاہے کہ توہین مذہب کے نام پر یہ کسی کو بھی ہلاک کرسکتی ہیں یا حکومت پر دباؤڈال کر انھیں گرفتار کرادیتی ہیں اور انکے مقدمہ کی پیروی کرنے والے جج اور وکلاکوبھی زدوکوب کرکے انھیں باز رہنے کی دھمکی دیتی ہیں ۔پاکستان میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب توہین رسالت کے کسی ملزم کی پیروی کرنے والے وکیل کو قتل کردیاگیاہے ۔

اسی طرح سے گزشتہ دنوں پاکستان کے خیبرپختونخوامیں ایک ہندومندر کو کچھ انتہاپسندوں نے نذرآتش کرکے اسے منہدم کردیا۔جس پر نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیاتھا اور بالآخر سپریم کورٹ نے اس کی ازسرنو تعمیر کا حکم دیا۔پاکستان میں مذہبی اور مسلکی اقلیتیں خوف اور دہشت کے ماحول میں زندگی بسر کررہی ہیں ۔ان میں عیسائی ،ہندو ،احمدی اور شیعہ برادری شامل ہیں ۔

پاکستان اکثروبیشتر دنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتاہے لیکن اپنے یہاں کی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کونظر انداز کرتاہے ۔یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہندستان میں اقلیتوں کو جوحقوق حاصل ہیں وہ بہت سے مسلم ممالک میں بھی نہیں ہیں ۔ایسے میں صرف الزام تراشی سے ان زیادتتیوں کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی ۔آج میڈیا مظلوم اور محروم لوگوں کی آواز بن گیاہے اور اس کی نظروں سے کوئی چیز چھپی نہیں ہے ۔پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے نام پر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کی آواز دبانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ دنیا کےسامنے ہے ۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہی لوگوں پر ہونے والی ظلم وزیادتی کو روکے اور اکثریتی فرقہ کی طرح اقلیتی مذہبی اور مسلکی برادری کے لوگوں کو بھی ملک کے معاشی وسائل میں یکساں طورپر حصہ دار بنائے ۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ