Posts

Showing posts from January, 2020

ہندوستان، اسرائیل اور فلسطین کے مابین براہ راست بات چیت کے حق میں

ہندوستان خارجہ پالیسی کے معاملے میں ایک واضح موقف کا حامل رہا ہے اور اس کا ہمیشہ ہی سے یہ کہنا رہا ہے کہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام کی بنیادی شرط یہ ہونی چاہیے کہ عدم مداخلت، انصاف پسندی اور غیر جانبداری کے اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے۔ ہندوستان اس پالیسی پر اس وقت بھی قائم رہا جب دنیا دو بڑے بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی اور سرد جنگ کے سائے بیشتر بین الاقوامی معاملات پر نظر آتے تھے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جب کہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں ہونے لگیں اور اقتصادی منظرنامے نے نئی شکل اختیارکرنا شروع کی۔ ہندوستان اپنی ڈگر پر ثابت قدمی سے قائم رہا۔ اس کا بدلتے حالات کے تناظر میں بھی کثیرقومی منصفانہ نظام کا نظریہ بین الاقامی برادری میں احترام کی نظر سے دیکھا گیا۔ فلسطین اور اسرائیل کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آرہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔اس کے تعلق سے اب تک کوئی ایسا حل سامنے آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے جس پر دونوں فریق متفق ہوں۔ لہذا ایسا کوئی قابل قبول حل کا خاکہ پیش کیا جانا چاہیے جو اگر پور...

پاکستانی فوج کی تنقید کرنے کی قیمت؟

دہشت گردی کو فروغ دینے والی اور خوف ودہشت کی تجارت کرنے والی پاکستانی فوج اپنے آپ کو مطلق العنان ادارہ ہی نہیں بلکہ نعوذ باللہ قادرِ مطلق بھی سمجھتی ہے۔ وہ دنیا کا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے ہم وطنوں کو قوم پرستی کا سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کرتا ہے اور اس کا یہ رویہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی وہاں کی سماجی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ اس کے نزدیک وہاں کے وزرائے اعظم سے لے کر اہم سے اہم سیاسی، سماجی اور علمی شخصیتیں بھی پاکستان کے لئے سیکورٹی رسک رہی ہیں۔ اسی لئے وہ جسے چاہتی ہے اسے قوم پرستی کے سرٹیفکیٹ سے نواز دیتی ہے اور جسے چاہتی ہے اسے قوم دشمن، غداروطن اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر گرفتار کرلیتی ہے۔ ماورائے عدالت سزا بھی دیتی ہے اور جبری طور پر اغوا بھی کرسکتی ہے۔ مخالفین کو اغوا کرکے انہیں غائب کرنا تو پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کا محبوب مشغلہ رہ گیا ہے۔ اس کی اس روش کا سب سے بڑا نشانہ آج کل پشتون نوجوان اور کارکن ہیں۔ کبھی اس کے نشانے پر بلوچ ہوتے ہیں اور کبھی کوئی اور! گزشتہ کوئی دو سال سے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پشتون کارکن اور نوجوان زبردستی اغوا کئے جاتے ہیں، انہیں دہشت گردقرار دے...

ہندوستان 5ٹریلین ڈالر کی معیشت  بننےکی راہ پر گامزن

ہندوستان نے مستقبل قریب میں پانچ ٹریلین ڈالر والی معیشت بننے کا ہدف طے کر رکھا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے دو باتیں نہایت ضروری ہیں۔پہلی یہ کہ اندرون ملک تجارت اور سرمایہ کاری کا ماحول اچھا ہونا چاہئے اور دوسری یہ کہ عالمی معیشت کے ساتھ ہمارے رابطے کافی مضبوط ہونے چاہئے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہندوستان نے جی ایس ٹی یعنی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس اور انسالونسی اینڈ بینکرپسی کوڈجیسے اقدامات کر کے اہم اصلاحات کی ہیں۔ تعمیری اور باہمی سود مند معاشی تعلقات کیلئے ہندوستان نے علاقائی تجارت کے دروازے کھولنے اور معاشی امور پر دوطرفہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ ملکوں کے ساتھ اس بارے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ان ملکوں کے ساتھ بھی دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات سے وہ تمام شک و شبہات دور ہو جاتے ہیں کہ ہندوستان ایسی حکمت عملی تیار کرے گاجو صرف اس کے حق میں ہوگی۔ علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ سے ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد اس طرح کے خیالات کا سامنے آنا فطری تھا۔ بات چیت کے اس پہل سے ثابت ہوجائے گا کہ ہندوستان مفاد پرست نہیں ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے ہندوستان یور...

پاکستان کو امریکہ کا انتباہ: ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرو

چند روز قبل امریکہ نے پاکستان سے سختی سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر فنڈ اکٹھا کرنے یا اسے ٹرانسفر کرنے کی نگرانی کرنے والے کثیر قومی ادارے فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ان شرائط کو پورا کرے جو اس نے عائد کی ہیں۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے 3جون 2018میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اس سے یہ کہا تھا کہ وہ اکتوبر 2019تک 27نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرے تاکہ دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ سے متعلق سرگرمیوں پر روک لگے ۔لیکن اکتوبر تک ایسا کچھ اس نے دور تک نہیں کیا جسے قابل ذکر پیش رفت کہا جا سکے۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس نے 27 نکات میں سے صرف 5 پر کچھ کام کیا ہے۔ یعنی باقی کے 22 نکات کو چھووا تک نہیں ہےلہذا ایف اے ٹی ایف نے ایک بار پھر وارننگ دی اور اس بار فروری 2020 تک کا وقت دیا تھا کہ اس درمیان وہ ضروری قدم اٹھائے ورنہ اُسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے یہ وارننگ ایسی نہیں ہے جسے نظر انداز کرتا کیونکہ اگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جاتا تو اقتصادی سطح پر اس کی حالت بہت نازک ہو...

دہشت گردی کے تئیں عمران حکومت کا ریاکارانہ رویہ

عمران خان جو اقتدار میں آنے سے پہلے نئے پاکستان کے قیام کی باتیں کیا کرتے تھے اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔وہ اپنے، اب تک کے تقریباً ڈیڑھ سال کے دورِ اقتدار میں سب سے ناکام وزیراعظم ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خواہ وہ بدعنوانی سے لڑنے کی بات ہو، پاکستان کی بین الاقوامی برادری میں امیج بحال کرنے کی بات ہو یا اقتصادی بحران سے نکالنے کا نعرہ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ صرف نعرے گڑھنے کے فن کے ماہر ہیں۔ پاکستان کے اخبارات، جو تقریباً سنسرشپ کے دور سے گزر رہے ہیں۔ وہ بھی ان کے دور اقتدار کی ناکامیوں کا ذکر کرنے سے گریز نہیں کرپاتے۔ ابھی حال میں انہوں نے داووس میں عالمی برادری کے سامنے اقتصادی بحران کی اصل وجہ یہ بتائی کہ ان سے قبل حکومت بنانے والی دوسری سیاسی پارٹیاں کرپشن میں ڈوبی رہتی تھیں اور فوج سے ان کے اکثر اختلافات رہتے تھے اس لئے پاکستان اقتصادی بدحالی کا شکار رہتا تھا۔ اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب چونکہ ان کی حکومت اور فوج بالکل ہم خیال ہیں اس لئے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوں گی۔ پاکستان کے اخبارات نے...

پاکستان میں حقانی کی موجودگی سے انکار پرڈاکٹر اشرف غنی کا عمران خان پر طنز

کچھ لوگوں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ ہرحقیقت سے انکار کرنے کو اپنی کامیابی اور کامرانی کی کلید سمجھتے ہیں۔ حتی کہ وہ دن کے اجالے میں سورج کے وجود سے بھی انکار کرنے میں پس وپیش نہیں کرتے۔ پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں ایک ایسی ہی سوچ کو فروغ دیا ہے کہ جب کسی حقیقت کو پاکستان کے علم میں لایا جائے تو فورا اس کی تردید کردی جائے۔ سارے ثبوت، ساری شہادتیں اور عینی گواہ ایک طرف اور انکار یا تردید کی رٹ دوسری طرف ! اسٹیبلشمنٹ نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ سویلین حکمراں بھی وہی زبان بولتے ہیں اور اگر ایسے میں کوئی پھاوڑے کو پھاوڑا کہنے کے جرأت کرتا ہے تو اس کو منظر سے ہی غائب کرنے کے جتن کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ 2008 میں ممبئی پر لشکرطیبہ کے حملے میں ملوث ایک دہشت گرد اجمل قصاب جب زندہ پکڑا گیا اور یہ بات پوری دنیا میں پھیلی اور خود پاکستان کے لوگوں کو بھی اس بات کا یقین تھا کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری تھا تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تردید کی گئی یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا نے چھان بین کرکے اجمل قصاب کے بارے میں تمام باتیں، خاندانی پس منظر اور اس کے گاؤں وغیرہ کے ب...

پاکستان کے بدترین اقتصادی حالات کے مجرم پاک جنرلس ہیں

کسی ملک میں جمہوریت اگر نام نہاد ہو تو اس کے عوام گھٹن میں زندگی بسر کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔ بظاہر انہیں حقوق حاصل ہوتے ہیں لیکن طاقت ان کے پاس نہیں ہوتی۔ طاقت ان کی منتخبہ حکومت کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ طاقت کا محور فوج ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہی صورت حال ہے۔ کہنے کو تو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے لیکن یہاں طاقت کا محور ہمیشہ سے فوج رہی ہے۔ پچھلی بار نواز شریف جب حلف لینے کے لیے جا رہے تھے تو ایک کمانڈو نے سٹی بجاکر ان کے قافلے کو روک دیا تھا۔ ان سے کمانڈو نے بتایا کہ جنرل کیانی کا قافلہ گزرنے کے بعد ہی انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا لیکن عالمی میڈیا نے اسے کور کیا تھا، کیونکہ اس واقعے نے یہ اشارہ دے دیا تھا کہ نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم ضرور ہوں گے مگر طاقت کا محور پاک فوج کے سربراہ رہی ہوں گے۔ یہی ہوا۔ ایسی صورت میں پاکستان کا اقتصادی طور پر مستحکم بننا بہت مشکل ہے، کیونکہ پاک حکومت داخلی یا خارجی پالیسیاں فوج کی اجاز ت کے بغیر نہ بنا سکتی ہے اور نہ نافذ کر سکتی ہے۔ تجارت کے لیے ماحول سازگار بنانے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی اسے فوج کی اجازت درکار...

ہندوستان کے نائجر اور تیونس کے ساتھ بڑھتے تعلقات

افریقی ممالک پر مزید توجہ مرکوز کرنے اور ان کے ساتھ قریبی سفارتی اورمعاشی تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس ہفتہ کے اوائل میں نائجر اور تیونس کا دورہ کیا۔ چونکہ ان ملکوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مدد کی تھی اس لیے نئی دہلی انہیں کافی اہمیت دیتا ہے۔ وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جناب ایس جے شنکر کا ان ملکوں کا یہ پہلا دورہ تھا۔ نائجر کے دارالحکومت نیامی (Niamey) کے اپنے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے صدر محمودو یوسفو سے ملاقات کی اور دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر مہاتما گاندھی انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔ افریقہ میں یہ پہلا مرکز ہے جسے ہندوستان نے مہاتماگاندھی کی یاد میں قائم کیا ہے، جن کا 150 واں یوم ولادت منایا جارہا ہے۔ یہ مرکز ہند-نائجر دوستی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ ہندوستان افریقہ کی ترقی کے تئیں اپنے عہد پر مضبوطی کے ساتھ برقرار ہے۔ یہ ایک جدید ترین مرکز ہے جو وسیع وعریض علاقہ پر پھیلا ہوا ہے۔ مرکز میں ...

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نجات پانے کی پاکستان کی تگ و دو

تاکید کے باوجود دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر قدغن لگانے میں پاکستان ناکام رہا اور دہشت گردی کو فنڈ فراہم کرنے والوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر لگاتار دباؤ ڈالا کہ وہ اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے موثر قدم اٹھائے اس کی بار بار کی وارننگ کے باوجود پاکستان نے مطلوبہ قدم نہیں اٹھائے اس لئے ایف اے ٹی ایف سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوا۔ اس نے گذشتہ سال پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی وارننگ دی تھی کہ اگر گذشتہ سال کے اکتوبر تک اس نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تو اس کے خلاف مزید سخت کارروائی ہو سکتی ہے اور وہ بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پاکستان میں جتنی پیش رفت ہوئی وہ انتہائی نا قابل اطمینان تصور کی گئی۔ اس لئے گذشتہ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کو وارننگ دی اور اس کو فروری 2020 تک کا وقت دیا تاکہ اس درمیان پاکستان اپنا رکارڈ درست کرنےکے ساتھ ساتھ اور مضبوط اور ٹھوس قدم ا...

ایف ڈی آئی کے تعلق سے ہندوستان کا نام ہنوز دس اعلی ترین ملکوں میں شامل

ہندوستان نے غیر ملکی راست سرمایہ کاری کے تعلق سے 2019 میں 16 فیصد کا اضافہ درج کیا۔ یہ سرمایہ کاری 42 ارب ڈالر سے بڑھ کر پچھلے سال 49 ارب ڈالر کی ہوگئی۔ اس طرح اس کا مقام ان اعلی ترین دس ملکوں میں بنا ہوا ہے جہاں سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ تجارت اور ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں تھوڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2019 میں یہ سرمایہ کاری ایک اعشاریہ چار ایک ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر ایک اعشاریہ تین 9 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔ اس طرح اس میں تقریباً ایک فیصد کی کمی آئی۔ ایسے وقت میں جب امریکہ اور چین میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کوئی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا، ہندوستان ایف ڈی آئی کے اعلی ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔ جنوبی ایشیا نے ایف ڈی آئی میں دس فیصد کا اضافہ درج کیا اور یہ بڑھ کر 60 ارب ڈالر کی ہوگئی۔ اس میں 80 فیصد حصہ ہندوستان کا ہے۔ جن شعبوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ان میں اطلاعاتی ٹکنالوجی سمیت خدمات کی صنعتیں شامل ہیں۔ ہمارے پڑوسی بنگلہ...

پاکستان میں قانون سازی میں عجلت، بلیک میل ،دباؤ یا سمجھوتے بازی کا نتیجہ؟

آج کل پاکستان میں قانون سازی کے ایک معاملے میں جو غیر معمولی عجلت کی مثال سامنے آئی اس کے باعث ایک عجیب ساماحول پیدا ہو گیا ہے اور ہر طرف اسی کا چرچہ ہے۔ در اصل دو تین بل پارلیمنٹ سے اتنی عجلت میں منظور کرائے گئے کہ لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی بلکہ غیر معمولی عجلت کا جو مظاہرہ ہوا اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ظاہر کی گئی کہ مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں نے تقریباً غیر مشروط طور پر حکومت کا ساتھ دیا۔ سب سے زیادہ حیرت خود اپوزیشن پارٹیوں کے حامیوں کو ہوئی جنہوں نے یہ امید ہی نہیں کی تھی کہ ان کی پارٹیاں اپنے ووٹروں اور حامیوں کی مرضی کی پرواہ کئے بغیر حکومت کا اس طور پر ساتھ دیں گی۔ ہوا یہ کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے معاملہ میں حکومت کے لئے ایک مسئلہ یوں کھڑا کر دیا تھا کہ اگست کے مہینہ میں وزیر اعظم کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا۔ جنرل باجوا نومبر کے اواخر میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن سپریم کورٹ نے ایک ٹکنیکل بنیاد پر اس پر روک لگا دی تھی۔ البتہ چھ ماہ کے لئے جنرل باجوا کا ایکسٹینشن منظور کر لیا تھا...

ہندوستان نے جی سیٹ۔30کو خلا میں کامیابی کے ساتھ کیا روانہ

ہندوستان نے 17جنوری کو اپنا 41؍واں مواصلاتی سیارچہ جی سیٹ۔30 کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔ 14سال پرانے انسیٹ۔4؍اےکی مدت کار جلد ہی ختم ہو رہی ہے۔ جی سیٹ۔30کو اس لئے خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ انسیٹ۔4اےکی مدت کار ختم ہونے کے بعد مواصلاتی خدمات میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ ہندوستانی کیبل آپریٹرز اپنے پروگرام بیرون ملک نشر کرنے کے لئے اس وقت انسیٹ ۔4؍اے کا استعمال کر رہے ہیں۔ جی سیٹ۔30سے یہ خدمات مزید 15سال تک حاصل کی جاسکیں گی۔ جی سیٹ۔30مواصلاتی سیارچہ کو فرنچ گویانامیں گویانا خلائی مرکز سے ایریانے اسپیس کے ایریانے۔5 راکٹ کے ذریعہ خلا میں چھوڑا گیا۔ جی سیٹ۔30ہندوستان کا 24؍ واں سیارچہ ہے جسے اس خلائی مرکز سے چھوڑا گیا، جس نے 1981میں ہندوستان کا پہلا مواصلاتی سیارچہ ایپل خلا میں چھوڑا تھا۔ تازہ ترین پرواز میں ایریانے۔5 اپنے ہمراہ نئی نسل کا سیارچہ ایوٹل سیٹ کنکٹ لے گیا ہے جو تمام یوروپ اور افریقہ میں ٹیلی مواصلات خدمات فراہم کرے گا۔ جی سیٹ۔30ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم کا ایک طاقتور مواصلاتی سیارچہ ہے جس کی مدت کار 15سال کی ہوگی۔ یہ سیارچہ انسیٹ۔4؍ اے کی جگہ لے گا جس کی مدت کار جلد ہی ختم ہ...

طالبان کی طرف سے مختصر جنگ بندی کی پیشکش

امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی مکمل واپسی سے پہلے وہاں کی حکومت اور طالبان باغیوں کے درمیان مفاہمت کے لیے جو مذاکراتی عمل پچھلے سال سے جاری رکھے ہوئے ہے اسے ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ لیکن حال ہی میں طالبان گروپوں نے عارضی جنگ بندی کی جو پیشکش امریکہ کے سامنے رکھی ہے اس سے تھوڑی سی یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید امن کے ماحول میں آپس کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں اور سبھی فریقوں میں مذاکرات کے نکات پر اتفاق رائے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افغانستان میں اس وقت امریکہ کے تقریباً 13 ہزار فوجی موجود ہیں۔جنگ اور غارت گری کے مارے ہوئے اِس ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور طالبان باغیوں کے خلاف اس کی فوجی کارروائیوں کو 18سال ہو چکے ہیں۔ اتنی لمبی جنگ امریکہ نے آج تک کہیں نہیں لڑی ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ملک میں یوں تو ایک منتخبہ حکومت موجود ہے لیکن تقریباً آدھے افغانستان پر عملاً طالبان کا ہی قبضہ ہے۔طالبانی جنگجو تقریباً روزانہ ہی امریکہ کے فوجی ٹھکانوں اور کابل حکومت کی تنصیبات وغیرہ پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ اور طالبان ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے اور...

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو شرکت کی دعوت

ہندوستان اور پاکستان دونوں شنگھائی تعاون تنظیم یا شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ہیں۔ یہ دونوں ملک 2017 میں باقاعدہ اس تنظیم کے ممبر بنائے گئے تھے۔ اس طور پر اس تنظیم کے ممبران کی کل تعداد اس وقت آٹھ ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کی اس تنظیم میں جو دوسرے ممالک پہلے سے اس کے ممبر تھے ، ان میں چین، قزاخستان، کرغستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ اس سال اس تنظیم میں شامل ممالک کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کے فرائض ہندوستان انجام دینے والا ہے جو سال کے اواخر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہندوستان اس کانفرنس کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو مدعو کرے گا ۔ بلاشبہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس وقت کافی کشیدہ ہیں لیکن یہ ایک الگ بات ہے اور ہندوستان ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہے کہ دو ملکوں کی آپسی رنجش یا کشیدگی کا منفی اثر کثیر قومی تنظیموں پر نہیں پڑنا چاہیے۔ کیوں کہ بین الاقوامی یا کثیر قومی اداروں یا تنظیموں کے معاملات قطعی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے متعلق عہد بندیوں کا دو ملکوں کے باہمی رشتوں سے کوئی ...

رائے سینا ڈائلاگ 2020

ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہوچکے ہیں لیکن دنیا کو ابھی بھی مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس وقت دنیا ایک ایسے دور سے گزررہی ہے جب اس پر پرانی طاقتوں کے اثرات کم ہورہے ہیں اور نئی طاقتیں ابھرکر سامنے آرہی ہیں۔ چین کی زبردست ترقی نے دنیا کوہلاکر رکھ دیا ہے۔ لیکن ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ وہ بھی دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ رہا ہے اور تمام دنیا ماننے لگی ہے کہ وہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ ایشیا اس وقت ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کشیدگی بڑھ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں معاشی تعاون کے امکانات بھی دنیا کو نظر آرہے ہیں۔ مستقبل میں اختراع پسندی کے بنا ترقی کرنا مشکل ہوگا۔ اگر آپ اپنے خیالات میں جدت پسندی پیدا نہیں کرتے تو آپ دھیرے دھیرے فراموش کردیے جائیں گے۔ یہ بات خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک مفادات کے فروغ کے بارے میں بھی اتنی سچ ہے جتنی کی معاشی ترقی کے بارے میں۔ آج کی پیچیدہ دنیا کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن اسی دنیا میں ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔ دنیا میں طاقت کا مرکز کبھی مغرب تھا لیکن اب وہ مشرق کی جانب منتقل ہورہا ہے اور مغرب اپنا اثرکھوتا جارہا ہے۔لیکن مشرق کی نئی ابھرتی طاق...

ہند۔ لیٹویا تعلقات

لیٹویا کے وزیر خارجہ ایڈگارس رینکیوکس (Edgars Rinkevics) کے نئی دہلی کے حالیہ دورے سے ہندوستان اور لیٹویا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔ ستمبر 2016 میں ہندوستان کے وزیر قانون اور اطلاعاتی ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے لیٹویا کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2017 میں لیٹویا کے وزیراعظم نے ہندوستان کا اپنا پہلا تاریخی دورہ کیا ۔ اس کے تقریباً دو سال بعد اگست 2019 میں ہندوستان کے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو لیٹویا کے دورے پر گئے تھے۔ لیٹویا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کافی پرانے ہیں۔ 22 ستمبر 1921 کو لیٹویا لیگ آف نیشنس کا ایک آزاد رکن بن گیا۔ دس جنوری 1920 سے لیگ کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے ہندوستان نے لیٹویا کی اس تنظیم کی رکنیت کی حمایت کی۔ لیگ آف نیشنس میں تعلیمی اور ثقافتی تعاون وہ شعبہ تھا جہاں ہندوستان اور لیٹویا کے درمیان شروعاتی رابطے قائم ہوئے۔ 1923 میں ریگا یونیورسٹی میں لیٹویا کی وزارت خارجہ کی مدد سے لیٹویا کی نیشنل کمیٹی فار انٹلکچول کو آپریشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1930 کی دہائی میں ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن، جو بعدمیں ہندوستان کے دوسرے صدر بنے، لیگ کی انٹرنیشنل کمیٹی...

علاقائی بحران سے نمٹنے کے لئے کشیدگی دور کرنا لازمی:ایران

حالانکہ اس بات کے اشارے پہلے ہی مل چکے تھے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس بات کے حق میں نظر آتے ہیں کہ ان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جانا چاہئے لیکن اس کے بعد کے چند دنوں میں یہ بات کچھ اور زیادہ واضح ہو گئی کہ اگر کشیدگی دور کرنے میں کوتاہی ہوتی ہے تو اس سے مغربی ایشیا پر بطور خاص اس کا بڑا ہی نا خوشگوار اثر پڑے گا جس کے باعث اس علاقے کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔امریکہ کے صدر ٹرمپ نے عراق میں واقع امریکی فوجی ٹھکانے پر ہونے والے ایران کے میزائل حملوں کے بعد ہی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ اشارہ کیا تھا کہ ہر چند کہ امریکہ فوجی اعتبار سے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے جنگی ساز و سامان سے بھی لیس ہے لیکن وہ انہیں استعمال کرنے سے گریز کرے گا ۔ کچھ اسی طرح کی بات ایرانی قیادت کی طرف سے بھی کہی گئی تھی۔ در اصل عراق میں ایران کے طاقتور اور اعلیٰ فوجی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون کے ذریعہ ہونے والی ہلاکت کے بعد حالات نے بڑی ہی سنگین شکل اختیار کر لی تھی جو بہر حال ایک قدرتی بات تھی، ایران میں اس کا بہت شدید رد عمل ہوا تھا لیکن ایران کے علاوہ عراق میں بھی زب...

سری لنکا کے وزیر خارجہ کا ہندوستان کا پہلا دورہ

سری لنکا کے خارجی تعلقات، صلاحیت سازی، محنت اور روزگار کے وزیر دنیش گُناوردنے حال ہی میں ہندوستان کے اپنے پہلے سرکاری دورہ پر نئی دہلی میں تھے۔ ان کے ہمراہ ایک چار رکنی اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ اس سے قبل سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے نے پچھلے سال نومبر میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اپنے دورے کے دوران جناب گُناوردنے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، صلاحیت سازی اور انٹرپرینیورشپ کے وزیر مہیندر ناتھ پانڈے اور محنت اور روزگار کے وزیر سنتوش کمار گنگوار سے بات چیت کی۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ اور مہابودھی سوسائٹی کے نئی دہلی مرکز کا بھی دورہ کیا۔ نئی دہلی میں وفد سطح کی بات چیت کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور جناب گناوردنے نے سرمایہ کاری، سیکیورٹی، ماہی پروری، سیاحت، تعلیم، ثقافتی تعاون اور موجودہ پروجیکٹوں سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی بات چیت کیا۔ ق...

صدر ٹرمپ کا کشیدگی دور کرنے کا ارادہ

عراق میں واقع امریکی فوجی ٹھکانوں پر گزشتہ دنوں ایران نے 22میزائیل داغے تھے جو دراصل ردّ عمل تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا جس کے تحت ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ہلاک کردیا گیاتھا۔ ظاہر ہے اس کا شدید ردعمل ہونا ہی تھا۔ جنرل سلیمان کی ہلاکت کاایران میں قدرتی طور پر بہت شدید ردعمل ہوا تھا کیونکہ وہ ایران کے نہ صرف ایک انتہائی طاقتور فوجی جنرل مانے جاتے تھے بلکہ فوج اور عوام میں بھی کافی مقبول تھے۔ ایران کے علاوہ خود عراق میں بھی ان کے معتقدین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے کیونکہ مغربی ایشیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف انہوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ عراق اور سیریا کے مقبوضہ علاقوں سے جس طور پر داعش کو بے دخل کیا گیا وہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ بہرحال، صدر ٹرمپ کے اُس اچانک فیصلے پر ان کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کو یکساں طور پر حیرت ہوئی تھی اور بیشتر حلقوں کا یہ اندازہ تھا کہ چونکہ صدر ٹرمپ گھریلو سیاست میں کچھ الجھے ہوئے تھے اور خاص طور سے ان کے مواخذہ کا معاملہ ان کے لئے خاصا پریشان کن تھا اس لئے انہوں نے یہ مہم جوئی ک...

فوجی سربراہ کی مدت کار میں توسیع کا معاملہ بنا پاکستان حکومت کیلئے دردسر

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پچھلے سال اگست میں ایک نوٹی فکیشن کے ذریعہ فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کردی تھی جنہیں نومبر 2019 میں ملازمت سے سبکدوش ہونا تھا۔ عمران خان حکومت نے جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہاتھا کہ ملک کو درپیش غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر اسے یہ فیصلہ لینا پڑا۔ اس کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ پر حملے، پلوامہ میں بم دھماکے کے بعد کی صورت حال، ہندوستان کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے اور کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی کے باعث غیر معمولی صورت حال پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کرنا ضروری ہوگیاتھا۔لیکن سپریم کورٹ نے پچھلے سال 26 نومبر کو مدت کار میں توسیع سے متعلق نوٹی فکیشن کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین میں کافی خامیاں ہیں نیز مدت کار میں توسیع سے متعلق جو فیصلہ لیا گیا ہے اس میں کافی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ عدالت عظمی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 243 کی شق 3 میں فوجی سربراہ کی مدت کار میں توسیع یا دوبارہ تقرری کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے، اس لی...

جبراً تبدیلی مذہب غیر اسلامی:پاکستانی کونسل برائے اسلامی نظریہ کا فیصلہ

‘پاک کونسل آف اسلامک آئیڈیا لوجی’ نے اپنے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر ایک قرار داد میں جبراً تبدیلی مذہب کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں جبریہ تبدیلی مذہب کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کے سبب پاکستان کو عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیونکہ تبدیلی مذہب کے بیشتر واقعات میں مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بننا پڑا ہے اس لیے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احسا س پیدا ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ہندو،سکھ اور عیسائی اقلیتوں کے ساتھ حکومتی ادارے بھی پر تفریق رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جس سے شہ پاکر دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند عناصر اقلیت خواتین حتیٰ کہ نابالغ لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا جبراً مذہب تبدیل کراکے ان سے نکاح کرتے رہے ہیں۔اس سلسلے کا تازہ ترین واقع ایک سکھ لڑکی کے ساتھ ایک مسلمان کا جبریہ نکاح ہے۔اس کے سبب سکھوں میں ناراضگی ہے۔عیسائی اور ہندو لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے بے شمار واقعات ماضی قریب میں پیش آچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ...

ایران –امریکہ ٹکراؤ سے ہندوستان کو تشویش

گذشتہ جمعہ کو عراق میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا جو واقعہ پیش آیا وہ بہر حال افسوسناک اور تشویشناک تھا کیونکہ اس سے مغربی ایشیا میں ایک نئی اور باقاعدہ جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ میجر جنرل سلیمانی بیشک ایران کے سخت گیر حلقوں میں زیادہ مقبول تھے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ایک مضبوط فوجی کمانڈر کی حیثیت سے بھی ایران میں ان کی بڑی قدرو منزلت تھی۔انہوں نے تقریباً دو دہائی تک ایران کی قدس فورس کی سربراہی کے فرائض انجام دیئے تھے اور ایران کے اعلیٰ مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمینی کے بہت قریب تھے جنہوں نے ایک بار انہیں ‘‘انقلاب کے ایک زندہ شہید ’’کا نام دیا تھا۔ خیر ایران میں ان کی مقبولیت اور اہمیت سے قطع نظر مغربی ایشیا سے خطرناک ترین دہشت گرد گروپ داعش یا آئی ایس کو سیریا اور عراق میں بے اثر کرنے میں انہوں نے بہت نمایاں رول ادا کیا تھا۔ گویا اس طور پر اُس خطے کے علاقوں کو آئی ایس کے چنگل سے آزاد کرانے میں ان کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ آئی ایس کو نکال باہر کرانے میں ایک طرح سے حکومت عراق اور امریکہ انہوں نے دونوں کی مدد کی تھی کیونکہ آئی ایس کے...

ہندوستان کے بنیادی ڈھانچہ کے فروغ میں سنگا پور کا کردار

سنگاپور کے سینئر وزیر جناب تھرمن شانموگا رتنم جن کے پاس سماجی پالیسیوں میں رابطہ پیدا کرنے کے معاملات کی ذمہ داری بھی ہے، حال ہی میں نئی دہلی اور ممبئی کے دورے پر تھے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور سرکار کے دوسرے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ سنگاپور کی وزارت خارجہ اور وزیراعظم کے دفتر کے اہلکاروں کے ہمراہ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیراعلی اودھو ٹھاکرے اور بہت سے صنعت کاروں سے بھی ملاقات کی۔ جناب شانمو گا رتنم کے بھارت دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ یہ بات اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہندوستانی پالیسی سازوں سے ان کی بات چیت کے دوران ڈیجیٹل معیشت، بنیادی ڈھانچے، صلاحیت سازی اور ہند۔ سنگاپور جامع معاشی تعاون جیسے موضوعات پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جناب شانموگا رتنم نے 2022 میں ہندوستان کی جی۔20 کی صدارت کے لئے اپنے ملک کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ ہندوستان اور سنگاپور کے درمیان اس وقت دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہورہا ہے جو پچھلے سال 26 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی تھی۔ دونوں ملک...

پاکستان میں گمشدہ افراد کا کیس لڑنے والوں کا بھی اغوا

یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے بار بار دہرایا جائے کہ پاکستان میں فوج نہ صرف یہ کہ سب سے زیادہ طاقتور ادارہ ہے بلکہ اپنے آپ کو ہر قانون سے بالا تر بھی تصور کرتی ہے ۔ کیونکہ پاکستان میں بیشتر کام فوج ہی کے اشارے پر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ ملک کا سیاسی نظام ہو یا روز مرہ کے نظم و ضبط کا معاملہ۔ پاکستانی فوج اور اس کی ماتحتی میں کام کرنے والی ایجنسیاں آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے بھی ہر معاملے میں خود اپنے ضابطے طے کرتی ہیں اور اسی پر عمل کرتی ہیں۔ ملک کے عام قانون اور ضابطوں کی پاسداری کرنا گویا ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا 3 دہائی سے بھی زیادہ کا عرصہ براہ راست فوجی حکمرانی میں گزرا۔ یہ درست ہے کہ ہر ڈکٹیٹر کے خلاف جمہوری تحریکیں شروع ہوئیں اور ہر ایک کو اقتدار سے محروم بھی ہونا پڑا لیکن منتخب حکومتوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ فوج کے ہتھکنڈوں کا نٹ ورک کچھ اتنا مضبوط ہے کہ فوج کے اپنے وضع کردہ ضابطوں کے سوا کوئی ضابطہ اس ملک میں نافذ ہی نہیں ہوسکتا۔ آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے زوال کے ساتھ جب منتخب حکومت قائم ہوئی تو وہ پہلی ح...