رائے سینا ڈائلاگ 2020

ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہوچکے ہیں لیکن دنیا کو ابھی بھی مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس وقت دنیا ایک ایسے دور سے گزررہی ہے جب اس پر پرانی طاقتوں کے اثرات کم ہورہے ہیں اور نئی طاقتیں ابھرکر سامنے آرہی ہیں۔ چین کی زبردست ترقی نے دنیا کوہلاکر رکھ دیا ہے۔ لیکن ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ وہ بھی دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ رہا ہے اور تمام دنیا ماننے لگی ہے کہ وہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ ایشیا اس وقت ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کشیدگی بڑھ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں معاشی تعاون کے امکانات بھی دنیا کو نظر آرہے ہیں۔

مستقبل میں اختراع پسندی کے بنا ترقی کرنا مشکل ہوگا۔ اگر آپ اپنے خیالات میں جدت پسندی پیدا نہیں کرتے تو آپ دھیرے دھیرے فراموش کردیے جائیں گے۔ یہ بات خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک مفادات کے فروغ کے بارے میں بھی اتنی سچ ہے جتنی کی معاشی ترقی کے بارے میں۔ آج کی پیچیدہ دنیا کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن اسی دنیا میں ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔ دنیا میں طاقت کا مرکز کبھی مغرب تھا لیکن اب وہ مشرق کی جانب منتقل ہورہا ہے اور مغرب اپنا اثرکھوتا جارہا ہے۔لیکن مشرق کی نئی ابھرتی طاقتوں کو نئی سوچ کی ضرورت ہے۔

نریندر مودی حکومت کے آنے کے بعد ہندوستان کی خارجہ پالیسی کافی مضبوط ہوئی ہے۔ ہندوستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جمہوریت اور اپنے بڑے بازار جیسی اہم طاقتوں کو استعمال کیا ہے۔ رائے سینا ڈائیلاگ کی کامیابی کا سہرا ہندوستان کی مضبوط معیشت اور اس کی فعال خارجہ پالیسی کے سرجاتا ہے۔

رائے سینا ڈائیلاگ کے پانچویں ایڈیشن میں روس، ایران، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سمیت 12 ملکوں کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بہت سے سابق سربراہان مملکت اور حکومت بھی اس میں شامل ہوئے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

رائے سینا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان رشتہ کافی پیچیدہ ہے تاہم ان دونوں میں سے کوئی بھی رشتے کو خراب کرنا نہیں چاہے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ہندوستان نے علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ میں شرکت کے لیے ابھی دروازے بند نہیں کیے ہیں۔

اس ڈائیلاگ میں مختلف عالمی رہنماؤں نے ہندوستان کو علاقائی اور عالمی امور میں ایک کلیدی ملک کے طور پر دیکھا ۔ بہت سے رہنماؤں نے خیال ظاہر کیا کہ ہندوستان ان کے ملک کی خوشحالی اور عالمی استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف (Sergey Lovrov) نے ہندوستان کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت کی۔ تاہم انہوں نے ہند-بحرالکاہل کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بانٹنے والا تصور ہے جس کا مقصد چین کو روکنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ذریف نے امریکہ کی یکطرفیت کی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے یوروپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہوجائیں کیوں کہ دوسرے ملکوں کے تئیں ان کا رویہ قطعی ٹھیک نہیں ہے۔دوسری اہم شخصیات میں، جنہوں نے اس تین روزہ میٹنگ سے خطاب کیا نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم ہیلن کلارک، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، کناڈا کے سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر، سوئیڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلٹ (Carl Bildt)، ڈنمارک کے سابق وزیراعظم اینڈرس راس موسین، بھوٹان کے سابق وزیراعظم شیرنگ توگبلے اور جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم سیونگ سو شامل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے ڈنمارک کے سابق وزیراعظم اینڈرسن راس موسین کے اس خیال سے اتفاق کیاکہ ہندوستان جمہوری ملکوں میں اتحاد پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ کینڈا کے سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل میں کثیر قطبی دنیا کی پیچیدگیوں کا جواب دینے میں ہندوستان پیش پیش ہوگا۔

ہندوستان نے کافی طویل مسافت طے کی ہے لیکن اسے ابھی بھی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ خاص طور پراسے اپنے پڑوس سے پریشانیاں پیش آرہی ہیں۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ دہشت گردی ہندوستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ رائے سینا ڈائیلاگ کے دوسرے روز شرکت کے دوران انہوں نے کہا کہ اسکول، یونیورسٹی اور مذہبی مقامات تک میں شدت پسندی کا سبق پڑھایا جارہا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے ذہنوں سے مذہبی شدت پسندی دور کرنے کی بات کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سلسلہ میں جنرل راوت نے جو فارمولہ پیش کیا ہے، حکومت اس پر عمل کرتی ہے یا نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ