Posts

Showing posts from November, 2020

مذاکرات کے باوجود طالبان کے حملے جاری

ایک طرف امریکہ یہ تیاری کر رہا ہے کہ آئندہ 20 جنوری تک یعنی جب وہاں نو منتخب صدر اپنا عہدہ سنبھالیں گے اس وقت تک امریکہ اپنی فوجوں کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس بلا لے گا لیکن دوسری طرف یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ماحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں 9/11 کے حملوں کے بعد طالبان کو حکومت سے توبے دخل کر دیا گیا تھا لیکن وہ کسی نہ کسی طور پر اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے ۔ وہ امریکہ کی قیادت والی غیر ملکی فوجوں اور افغان حکومت دونوں پر حملے کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی پناہ گاہیں پاکستان میں قائم کر لی تھیں اور وہیں سے حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ اس سال فروری میں امریکہ نے طالبان سے ایک سمجھوتہ کیا۔ یہ سمجھوتہ دوحہ میں ہوا تھا جہاں طالبان نے اپنا سیاسی دفتر بھی قائم کیا ہے۔ سمجھوتہ بنیادی طور پر اس بات پر ہوا تھا کہ 14 مہینوں کے اندر اندر امریکہ اپنی ساری فوجیں واپس بلا لے گا اور طالبان کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ طالبان نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ...

پاکستان میں احمدیہ فرقے پر تشدد میں اضافہ

دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نام نہاد اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ہی کج نہاد ثابت ہوئی۔ بانیٔ پاکستان کی تاریخی تقریر جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کا درجہ دینے کی بات کہی گئی تھی اسے خود پاکستان کے حکمرانوں کو بھولنے میں زیادہ دن نہیں لگے۔ فرقے، عقائد اور مسلک کے نام پر جتنا کشت و خون پاکستان میں اس کے قیام کے کچھ دنوں بعد سے لے کر اب تک ہوا ہے وہ شااید ہی اتنے کم عرصے میں کہیں اور ہوا ہو۔ گزشتہ دنوں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں احمدیہ فرقے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لئے پاکستان کی سرزنش کی اور یہ بھی کہا کہ اسے جلد از جلد غیر جانبداری سے اس بات کی تفتیش کرنی چاہئے کہ اچانک احمدیہ فرقے کے لوگوں پر ہونے والے حملوں میں اتنی شدت آنے کے اسباب کیا ہیں اور ان حملوں کے لئے ذمہ دار مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ دراصل عالمی اداروں کی یہ تشویش کچھ بیجا بھی نہیں۔ ذرا تفصیل میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ اس سال جولائی کے بعد احمدیہ فرقے کے کم از کام پانچ ا...

موضوع: ہند-بحرین تعلقات 

ہندوستان اور بحرین کے درمیان کافی مضبوط تجارتی، ثقافتی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں جن کی بنیاد تاریخی ، دو طرفہ تجارتی اور عوامی رشتے ہیں۔ اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے بحرین بہت چھوٹا ملک ہے تاہم اسٹریٹیجک اعتبار سے اسکی کافی اہمیت ہے ۔ یہ خلیج کے جنوب مغرب میں واقع ہے جو علاقہ کی سلامتی اور استحکام کیلئے کافی اہم ہے۔ بحرین ترقی کے عرب گلف ماڈل کا بھی سرخیل ہے۔ پیٹرول اور دوسری اشیاء کی دو طرفہ تجارت کے علاوہ اس ملک میں تقریباً تین لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں جنہوں نے اپنے میزبان ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور جن کے مقامی لوگوں سے کافی خوشگوار تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جنہوں نے پچھلے سال اگست میں بحرین کا دورہ کیا تھا، دونوں ملکوں کے تعلقات نے نئی بلندیاں طے کی ہیں۔ جناب مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے اس ملک کا دورہ کیا تھا۔ ہندوستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کی کوششوں کے اعتراف میں شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے انہیں بحرین آرڈر فرسٹ کلاس کے اعزاز سے نوازا تھا۔ جناب مودی کے بحرین دورے کے دوران دونوں ملکوں نے چار مفاہمت ناموں ...

گلگت  بلتستان انتخابات :فوج اور چین کوفیض پہنچانے کی حکمت عملی

حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کے دوران بدعنوانی کی گئی ہے۔بدعنوانی کے خلاف مختلف مقامات پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے، لیکن تشویش اس بات پر نہیں ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے بلکہ تشویش بجائے خود انتخابات کے انعقاد پر ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یکم نومبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں عارضی صوبہ بنانے جا رہے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اس بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اصولی طور پر پاکستان کو نہ تو گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا اخلاقی جواز ہے اور نہ ہی وہاں انتخابات کرانے کا، کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے اور ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے اس حصے پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اسے واپس لے کر رہے گا۔ اس سے قبل پاکستان کی کسی بھی حکومت کو اس علاقے کی حیث...

نگروٹا میں پاکستان کی سازش بے نقاب

یہ سال ختم ہونے میں اب زیادہ دن نہیں رہ گئے۔ ایک موذی مرض نے انسانی زندگی کوپوری دنیا میں گویا اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف ممالک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، لوگوں کے پاس روزگار نہیں۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی سماج کے ایک بڑے طبقے کو کافی مشقت اور تگ و دو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی ممالک تو کووڈ کی دوسری اور تیسری لہر کی زد میں ہیں جو ماہرین کے مطابق پہلی صورتحال سے زیادہ مہلک اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر چند کہ ویکسین کی تیاری کی خوش کن خبریں بھی ابلاغ کے مختلف وسائل سے آ رہی ہیں لیکن ابھی وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان دواؤں کے بازار میں آنے میں کتنا وقفہ اور لگے گا۔ اس وقت تمام دنیا کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان کی حفاظت کرنا اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے لیکن کچھ ممالک کی ترجیحات اس کے بالکل بر عکس ہیں۔ دنیا میں فتنہ و فساد پھیلانا، پڑوسی ممالک کے امن و سکون کو درہم برہم کرنا، دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان نے تو خیر اسے اپنا نصب العین ہی بنا رکھا ہے۔ وہ جس طرح دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بار بار...

شدت پسندی کے خلاف جارحیت پر پاکستان کی بے جا تنقید

مثل مشہور ہے کہ جنہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے انہیں اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں نظر آتا۔ یہ مثل پاکستان کے رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ پچھلے دنوں فرانس کی راجدھانی پیرس میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب ایک جنونی شخص نے ایک اسکول ٹیچر کا قتل کردیا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر اظہار ِ آزادی کی مثال کے طور پر اپنے شاگردوں کو پیغمبر اسلام کے خلاف بنایا گیا اہانت آمیز کارٹون دکھایا تھا۔ اسی کے تسلسل میں ایک دوسرے شہر نیس کے ایک گرجا گھر کے باہر ہوئے قاتلانہ حملہ میں تین لوگ اور ہلاک ہوئے۔ ان دو واقعات نے مہذب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن ایسے کسی موقع کو پاکستان اور بالخصوص اس کے موجودہ سربراہ عمران خان کیسے ہاتھ سے جانے دیتے۔ چنانچہ وزیر اعظم عمران خان نے میکرون اور فرانس کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان دینا شروع کر دیا ۔صدر میکرون پر الزام لگا یا کہ وہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر اشتعال دلا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اسلام آباد میں مقیم فرانسیسی سفیر کو بلا کر انہیں جھاڑ پلائی گئی۔ اس کے بعد فیس بک کے مالک ، مارک زکربرگ کو ایک مکتوب روانہ کیا کہ فیس بک پر جس طرح ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے...

افغانستان سے تشدد کا ماحول ختم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے تعاون کی عمران خان کی طرف سے یقین دہانی

چند روز قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے افغانستان کا دورہ کیا، جو ان کا اس ملک کا بطور وزیر اعظم پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب قطر کی راجدھانی دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اندرون افغانستان دہشت گردوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب افغانستان میں سیکورٹی فورسز اور سویلین کی ہلاکت نہ ہوتی ہو۔ خود عمران خاں کے دورہ کے ایک ہی دن بعد کابل کے مختلف علاقوں میں مورٹار شیل کے حملے ہوئے جن میں آٹھ سے دس افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایسے حملے سیکورٹی کے اعتبار سے حساس، وزیر اکبر خان روڈ پر بھی ہوئے جہاں متعدد ممالک کے سفارتی مشن بھی واقع ہیں۔ ایک حملہ ایرانی سفارت خانے کے احاطہ پر بھی ہوا جس میں کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا لیکن عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔ بہرحال یہ تو وہاں کا آئے دن کاقصہ ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے افغانستان میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ جب امریکہ کی قیادت والی فوجیں پورے طور سے افغانستان سے واپس چلی جائیں گی تو افغانستان کی...

حافظ سعید کی سزا کا فیصلہ: ایف اےٹی ایف کےعتاب سےبچنے کی کوشش؟

ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور جماعت الدعویٰ کےسرغنہ حافظ سعید اور اس کے دو دیگر معاونین کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں ساڑھے دس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ سعید کے برادرِ نسبتی عبد الرحمٰن مکی کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ذرائع کے مطابق ان سب کو یہ سزائیں دہشت گردوں کو فنڈفراہم کرنے کے دو مزید معاملات میں دی گئی ہیں۔ عدالت نے حافظ سعید پر تقریباً 700ڈالر کاجرمانہ بھی عائد کیا ہے اور اس کی املاک ضبط کرنے کا بھی حکم سنایا ہے۔ 70 سالہ حافظ سعید اس وقت ہائی سیکورٹی کورٹ لکھپت جیل میں بند ہے۔ اسے گزشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جماعت الدعویٰ کے متعدد لیڈروں کے خلاف مجموعی طور پر 41 مقدمات درج کئے گئے تھے جن میں سے 24کے فیصلےسنائے جاچکے ہیں۔باقی ابھی زیرغور ہیں۔ جہاں تک حافظ سعید کا تعلق ہے، تو اس کے خلاف چار مقدمات کے فیصلے سنائے جاچکے ہیں۔ یاد رہے کہ حافظ سعید دہشت گردی کے معاملے میں ہندوستان کا انتہائی مطلوبہ ملزم ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی جانب سے خطرناک عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا...

شہری مراکز میں سرمایہ کاری کےلئےوزیراعظم کی اپیل

کووڈ۔19 کے بعد کی دنیا میں ہندوستان ان چند ملکوں میں سے ایک ہوگا جو معاشی ترقی کی روشن مثال ہوں گے۔اسوقت آئندہ مالی سال میں ملک کی معیشت کے بارے میں کافی مثبت اندازے لگائے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بلوم برگ نیو اکونامی فورم کےتیسرے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرمایہ کاروں سےہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی۔ ہندوستان میں اس وقت تجارت کے لئے کافی عمدہ ماحول ہے۔ ملک میں مضبوط جمہوریت ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے لئے ایک بہت بڑا بازار ہے۔ یہاں ایک ایسی حکومت ہے جو سرمایہ کاروں کا کافی خیال رکھتی ہے۔ اس لئے سرمایہ کاروں اور تجارت کرنے والوں کو اچھی تجارت کرنے اور اچھا منافع کمانے کے لئے ہندوستان ایک بہترین مقام ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم کی سرمایہ کاروں سے کی گئی اپیل بروقت ہے۔ اب یہ نقل وحرکت کامعاملہ ہو یا شہرکاری اور اختراع کا، ہرشعبہ میں ہندوستان سرمایہ کاروں کو بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے ثابت کردیا ہے کہ شہری علاقےجو ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں اور جن پر ترقی منحصر کرتی ہے، اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں...

گلگت  بلتستان میں انتخابات کے خلاف مسلسل احتجاج

پاکستان کے غیرقانونی قبضے والے علاقے گلگت  بلتستان میں قانون ساز اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔اس نام نہاد الیکشن کے نتائج کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی جوڑ توڑ کرکے حکومت بنانے میں شاید کامیاب ہوجائے، لیکن ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات نے اس کی معتبریت پر بہت سارے سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں۔   انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہزاروں افراداسکردو اور گلگت کی سڑکوں پر اتر آئے اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف زبردست مظاہرے کیے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور گھنٹوں تک آمدورفت روکے رکھا۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی گلگت  بلتستان کے انتخابات کو ایک گھپلہ قرار دیا ہے۔ ہندوستان کا ابتداسے ہی موقف رہا ہے کہ پاکستان کو گلگت  بلتستان میں انتخابات کرانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔اس طرح کی کسی بھی کوشش کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ یکسرناقابل قبول ہے۔ اس طرح کے ڈرامے بازی سے اس خطے پر پاکستان کے غیر قانونی قبضے کو کسی طرح کا قانونی جواز حاصل نہیں ہوس...

گھریلو مسائل سے نمٹنے میں ناکام حکومت پاکستان کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

حکومت پاکستان اس وقت بدترین قسم کے گھریلو بحران سے پریشان ہے۔ یہ بحران کثیر جہتی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کی جانب سے فوج اور عمران حکومت پر شدید حملے ہورہے ہیں کہ فوج سیاسی معاملات میں بے جامداخلت کرکے جمہوریت اور آئین کی بالا دستی پر ضرب لگارہی ہے، جس میں عمران خان جیسے سیاستداں اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں ، تو دوسری طرف خود عمران حکومت ہر محاذ پر اپنی ناکامی اور نااہلی سے عوام کو برگشتہ کررہی ہے۔ عوامی سطح پر ہر طرف سے حکومت اور فوج پر حملے ہورہے ہیں۔ اس صورت میں نہ تو حکومت کی سمجھ میں کچھ آرہا ہے کہ وہ کیا کرے اور نہ ہی فوج کو اس بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستان دشمنی کے جذبے کو بڑھاوا دینا، فوج اور حکومت کو آسان سا نسخہ دکھائی دے رہا ہے۔ چنانچہ منظم اور منصوبہ بند طور پر ہندوستان کے خلاف ایک انتہائی شرارت آمیز مہم شروع کی گئی ۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے اور کراس بارڈر دہشت گردی کو بڑھاوادینے کے لیے پڑوسی ملکوں میں مسلسل تخریب کارانہ سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے۔ بین الاقوامی اور کثیر قومی اداروں کی طرف سے ...

دہشت گردوں اور پاکستان کے رشتوں پر اوبامہ کی حق گوئی

امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے اپنی کتاب’’اے پرومسڈ لینڈ‘‘ میں پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں کے رشتوں کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی چونکانے والی بات بھلے ہی نہ ہو لیکن بھارت،افغانستان اور عالمی برادری کے ان الزامات کی، ان انکشافات سے تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ وتربیت گاہ ہے اور پاکستانی فوج و حکومت کی سرپرستی و حمایت بیشتر دہشت گرد تنظیموں کو حاصل ہے۔ اپنی مذکورہ کتاب میں سابق صدر نے ان تمام واقعات کا سلسلہ وار ذکر کیا ہے جو اوسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے امریکہ کے آپریشن کےدوران پیش آئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی کمانڈوز کے ذریعہ 2 مئی 2011 کو کیے گئے اس آپریشن میں اوسامہ بن لادن ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے کئی دیگر ساتھی بھی مارے گئے تھے۔ اوبامہ نے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کے ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ اوسامہ بن لادن پاکستان میں محفوظ کمین گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہے،اسے ختم کرنے کے کئی متبادل تھے۔ امریکہ پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ لادن پاکستان کے دور دراز کے علاقے میں پاکستانی فوج کی چھاؤنی ایبٹ آبا...

ایغوروں کی نسل کشی کی شکایت بین اقوامی جرائم عدالت میں پیش

چین کے مغربی خطے سنکیانگ میں آباد لاکھوں ایغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے مظالم کی داستانیں برابر دنیا کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ جس پر دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ حکومتِ چین کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن عالم انسانیت کی تمام شکایتوں، درخواستوں اور اپیلوں کے باوجود چین کے رویے میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ وہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف کارروائی کا بہانہ بنا کر ایغور مسلمانوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ اگر سچائی وہی ہوتی جو چین کی حکومت بتاتی ہے تو دنیا اس کی حمایت کرتی کیونکہ دہشت گردی اور مذہبی جنون پسندی کی حمایت کوئی نہیں کرسکتا لیکن سچائی تو کچھ اور ہے۔ دراصل سنکیانگ خطے میں یورینیم کاسب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کا استعمال نیوکلیائی توانائی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ چین اس وقت نیوکلیائی توانائی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ اس میدان میں اپنا سامراج قائم کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ وہاں ابھی 44 نیوکلیئر ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور 18 زیر تعمیر ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کو تیار کرنے میں ماحولیات کو جو نقصا...

ساؤتھ چائناسی کے حالیہ واقعات پر ہندوستان کا اظہارتشویش

چینی نظام سیاست، ظاہر ہے جمہوری قدروں پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہاں سیاسی آزادی کا ایسا تصور کیا جاسکتا ہے جس کی امید جمہوری ملکوں میں کی جاتی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کا جہاں تک سوال ہے تو یہ بات تو تمام ملکوں پر یکساں طور پر صادق آتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کو پامال نہ ہونے دیں۔ چین ایک لمبے عرصے سے صوبۂ شن جیانگ میں ایغور نسل کے مسلمانوں پر ظلم ڈھارہا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی مذہبی آزادی پر کئی طرح کے حملے ہو رہے ہیں اور انہیں حراستی کیمپوں میں محصور کردیا جاتا ہے۔ جب اس پر عالمی پیمانے پر احتجاج ہوتا ہے تو چین یہ کہہ کر جھٹلانے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں ٹریننگ کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں انہیں مناسب ٹریننگ دی جاتی ہے اور بھی کئی باتیں ہیں جنہیں چین اپنا اندرونی معاملہ کہہ کر عالمی برادری کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً ہانگ کانگ میں خود وہ ایک ملک اور دو نظام کے سسٹم کی دھجیاں اڑا کر لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کررہا ہے۔ وہاں زبردست احتجاج ہورہا ہے لیکن احتجاج کرنے والوں کی آواز کو بے دردی سے کچلنے کی آئے دن کوشش ہورہی ...

پشتون نسل کے لوگوں کی حالتِ زار

قیام پاکستان کے بعد ہی سے پشتون نسل کے لوگ اپنے آپ کو بے بس اور بے سہارا محسوس کرتے آئے ہیں۔ ان کی مخصوص کلچرل امنگوں کو قدم قدم پر دبانے اور کچلنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی وفاداری کو بھی ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا گیا۔ اگرچہ پاکستانی فوج میں اس نسل کے لوگوں نے گرانقدر خدمت انجام دی ہیں۔ ان کے نسلی رابطے سرحد کے اس پار افغانستان سے بھی ملتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو ڈورینڈ لائن ہے، اسے افغانستان کی کسی بھی حکومت نے، یہاں تک کہ طالبان نے بھی کبھی دونوں ملکوں کے درمیان، سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی فوج نے 70 کی دہائی کے آغاز میں مشرقی پاکستان میں جو قتل و غارت گری مچائی اور وہاں کے باشندوں کو ان کے سیاسی حقوق سے پورے طور پر محروم کردیا تو اس کے نتیجے میں پاکستان ہی دولخت ہوگیا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ پاکستان میں صوبائی اختیارات اور علاقائی حقوق کی بحالی کے لئے ہر طرف سے آواز اٹھنے لگی۔ پشتون باشندے بھی فوج کی زیادتیوں اور ظالمانہ کارروائیوں سے نالاں تھے۔ ان کی آواز کو مدھم کرنے کے لئے انہیں سیاسی آزادی دینے کےجھوٹے وعدے کئے گئے لیکن غیور پشت...

موضوع :دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت اور امریکہ ایک ساتھ

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی تصویر اب تقریباً صاف ہوگئی ہے۔ یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار جوبائڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔ اس درمیان سوال اٹھ رہے ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کس سمت میں آگے بڑھیں گے؟ بائڈن کےنیا صدر منتخب ہونے کے بعد ہندوستان کے رشتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور صدر ٹرمپ کے دور اقتدار کے دوران ہندوستان کے ساتھ رشتوں میں جو مضبوطی آئی تھی، اس کو آگے کیسی رفتار ملے گی؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ ہی مضبوط اور خوشگوار تعلقات رہے ہیں۔ اس سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ وہاں ڈیموکریٹک پارٹی اقتدار میں ہے یا ریپبلکن پارٹی۔ امریکہ کے صدر چاہے بش رہے ہوں یا اوباما، کلنٹن رہے ہوں یا ٹرمپ، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی، عسکری اور تجارتی شعبے میں ہمیشہ باہمی تعاون کو فروغ ملا ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف عالمی پیمانے پر ہونے والی جنگ میں دونوں ملکوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ رخصت پذیر صدر ٹرمپ کی اگر بات کریں تو ان کے چار سالہ اقتدار کے دوران یقینی طور پر ہند۔امریکہ تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ ...

موضوع:سترہویں ہند۔ آسیان سر براہ کانفرنس

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز 17 ویں ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس سے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے خطاب کیا۔یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب تمام علاقے میں کورونا وائرس وبا پھیلی ہوئی ہے۔ اس وبا کا نہ صرف ہندوستان بلکہ جنوب۔مشرقی ایشیا کے تمام ملکوں کی معیشت پر کافی برا اثر پڑا ہے جس کے باعث معاشی اور تجارتی رشتے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں جناب مودی نے اپنے خطاب میں ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان سماجی ،اقتصادی، ڈیجیٹل اور بحری سمیت تمام طرح کے رابطوں اور کنکٹیوٹی پرزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کنکٹیوٹی تیزی کے ساتھ ابھر رہی ہے جس سے علاقہ میں سرمایہ کاری، سیاحت اور روزگار کے فروغ میں اضافہ ہوگا۔ ہندوستان نے آسیان کنکٹیوٹی پروجیکٹ کے لئے ایک ارب امریکی ڈالر کے قرض کی پیش کش کی ہے ۔ اس پیش کش سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان آسیان ملکوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کے لئے کتنازیادہ خواہش مند ہے۔ کووڈ۔19 کی وبا نے اس حقیقت کو سب کے سامنے لا کر رکھ دیا ہے کہ بہت سے شعبے ایسے ہیں جو بہت ہی کمزور ہیں اور آسانی کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم سپلائی چین کی بات کریں تو...

پاکستان میں صحافیوں، سیاسی کارکنان اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کریک ڈاؤن

مسئلے اگر وقت رہتے ختم نہ کیے جائیں تو بڑھتے جاتے ہیں، انہیں دبانے کی کوشش نئے مسئلے پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں پرانے مسئلے ہی کم نہ تھے کہ اب نئے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں مگر پاک حکومت یا فوج یہ نہیں کہہ سکتی کہ مسئلے اچانک پیدا ہوئے ہیں۔ ایک عرصے سے بلوچستان کے لوگوں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے، ‘جبری گمشدگی’ وہاں کے لوگوں کے لیے ایک عام بات ہو چکی ہے مگر اس طرف فوجی سربراہ نے کبھی توجہ نہیں دی۔ دہشت گردی پاکستان کے لوگوں کے لیے بھی وبال جان بن چکی ہے، سیکڑوں پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ اس میں 134 بچوں سمیت 149 لوگوں کی جانوں کے اتلاف کے بعد یہ سمجھا گیا تھا کہ دہشت گردی ختم کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی شبیہ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرنے والے ملک کی بن گئی ہے لیکن ‘جبری گمشدگی’ اور دہشت گردی جیسے بڑے مسئلوں کو تو چھوڑیے، نسبتاً چھوٹے مسئلوں پر بھی کچھ بولنا یا لکھنا پاکس...

شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا وزیراعظم مودی کا مشورہ

گذشتہ 10 نومبر کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے ممبر ممالک کی 20 ویں چوٹی کانفرنس ہوئی جس کا اہتمام ویڈیو کانفرنس کے توسط سے ہوا۔ اس ورچوئل کانفرنس کی صدارت روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کی۔ ایس سی او (SCO) ایک کثیر قومی تنظیم ہے جس کے ممبر ممالک ہندوستان اور پاکستان بھی ہیں ۔ ہندوستان روزِ اوّل سے اپنی اس خارجہ پالیسی پر اٹل رہا ہے کہ قوموں کو ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرنا چاہئے اور پر امن بقائے باہم کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے کی یکجہتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے اور کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ پڑوسی ملکوں سے بھی ہندوستان ہمیشہ بہتر تعلقات کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔ ان اصولوں کو وہ نہ صرف مانتا ہے بلکہ یہ بھی توقع کرتا ہے کہ دوسرے بھی انہی اصولوں کا پاس کریں۔ ایس سی او کی یہ ورچوئل کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر لداخ میں نسبتاً کشیدگی کا ماحول ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح پر بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کشیدگی دور کرنے کی ...

موضوع: جنرل نرونے کا نیپال دورہ ۔ہند۔نیپال تعلقات میں میل کا پتھر

ہندوستانی فوج کےسر براہ جنرل منوج مکند نرونے کا نیپال کاحالیہ دورہ اگر چہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تاریخی رسم کی ادائیگی سمجھا جا رہا ہے تا ہم یہ دورہ کئی معنوں میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔پچھلے تقریباً ایک سال سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تلخی دیکھنے کو ملی۔ اس تلخی کے سامنے آنے کے بعد ہندوستان کی جانب سے کٹھمنڈو کا یہ پہلا اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔ کٹھمنڈو پہنچنے پر روایت کے مطابق صدر بدیا دیوی بھنڈاری نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی موجودگی میں جنرل نرونے کو نیپالی فوج کے اعزازی جنرل کے خطاب سے نوازا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم اولی اس وقت ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں۔اس موقع پر نیپال میں ہندوستان کے سفیر ونے کواترا، نیپالی فوج کےسر براہ پورن چندرا تھاپا اور دونوں ملکوں کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔1952سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے فوجی سر براہوں کو اعزازی خطاب سے نوازنے کی روایت چلی آ رہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال جنوری میں نیپالی فوج کےسر براہ جنرل تھاپا کو ہندوستانی فوج کے اعزازی جنرل کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ دو قریبی پڑوسیوں کے...

اہانت دین قانون اور پاکستان کی ہندو اقلیت

پاکستان میں توہین مذہب کا قانون ایک ایسا ہتھیار ہے جسے مذہبی اقلیتوں کے خلاف بارہا استعمال کیا جاتا رہا ہے اور ذاتی دشمنوں پر بھی اہانت اسلام کا الزام لگا کر مذکورہ قانون کے تحت مقدمات درج کروائے جاتے رہے ہیں۔ ایسے ہر مقدمے میں ملزم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے خلاف ناانصافی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف غیر مسلموں کو ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی اس قانون کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہندو اور مسیحی تو خاص طور پر ہدف بنائے جاتے ہیں۔ توہین مذہب کے کچھ الزامات اگر درست ہوتے ہیں تو بیشتر غلط ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود ہی قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کرکے اس کا الزام دوسروں پر عاید کر دیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح توہین مذہب کا بے بنیاد الزام عاید کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ وہ آسانی کے ساتھ بچ کر نکل جاتے ہیں اور جس پر الزام لگایا جاتا ہے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ شدت پسند مذکورہ قانون میں ترمیم کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ بلکہ اگر کوئی ترمیم کی وکالت کرتا ہے تو ا...

گلگت–بلتستان اور پاکستان کی تخریب کارانہ ذہنیت

یہ بات عالم آشکار ہے کہ جنوب ایشیائی خطے میں پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس نے قدم قدم پر تخریب کارانہ فعل کو فروغ دیا ہے جس کا نشانہ نہ صرف پڑوسی ممالک بنتے ہیں بلکہ خود پاکستان بھی اس کی بہت بڑی قیمت چکا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سیویلین حکمرانوں کی بجائے فوجی ٹولہ طے کرتا ہے۔ فوج کی اسی ذہنیت نے خود پاکستان کو 1971 میں دولخت کردیا۔ لیکن اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی وہاں کا فوجی ایسٹیبلشمنٹ اپنی تخریب کارانہ کاررائیوں سے باز نہیں آیا۔ اور وہاں کے منتخب سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اپنی ا نگلیوں کے اشارے پر نچانا چاہتا ہے۔ جو حکمراں فوج کی حیثیت اور اوقات کو چیلنج کرتے ہیں، انہیں نہ صرف وہ بغاوت کے ذریعے اقتدار سے باہر کردیتی ہے بلکہ طرح طرح کی اذیتیں بھی دیتی ہے، جس فوج کا اندورن ملک یہ ریکارڈ ہو، اس سے بھلا یہ توقع کیونکر کی جاسکتی ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے گی یا امن کے کاز کو فروغ دیگی!اسے ایک اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت جو سیویلین حکمراں برسراقتدار ہے وہ فوج کا بہت بڑا مداح اور حامی ہے۔ جی ہاں! وزیراعظم عمران خان فوج کے بہت بڑے حام...

2020 کے امریکی صدارتی انتخابات اور ہند- امریکہ تعلقات کا مستقبل

اگرچہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے باضابطہ اعلان ہونے میں مزید چند ہفتے لگیں گے تاہم ووٹوں کی گنتی سے جو رجحان سامنے آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔ تین نومبر کو ہونے والے یہ صدارتی انتخابات امریکہ کی تاریخ میں اب تک کے سب سے زیادہ متنازعہ انتخابات رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا، اس کے بعد وہاں ہر چار سال کے بعد ماہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ یہ وہ انتخابات ہیں جن میں نہ صرف امریکی باشندوں کی دلچسپی رہتی ہے بلکہ تمام دنیا کی نگاہیں ان پر جمی رہتی ہیں۔ لیکن اس بار کے انتخابات کئی اعتبار سے مختلف تھے۔ سال کے اوائل میں کووڈ-19 جیسی وبا نے ساری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ امریکہ وہ ملک تھا جو اس وبا سے برئ طرح متاثر ہوا۔ وہاں اس وبا سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ لہذا عام خیال یہ تھا کہ کورونا وائرس کے ڈر سے زیادہ تر امریکی ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے۔ لیکن اس کے برخلاف اس بار اتنے زیادہ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا کہ امریکہ کی تقریبا ایک صدی کی تاریخ میں اتنے زیادہ لوگوں نے ووٹ کب...

ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں یوروپی ممالک کی اہمیت

خارجہ سکریٹری ہرش شرینگلا نے 29 اکتوبر سے 4 نومبر کے درمیان یوروپ کے تین بڑے ملکوں، فرانس جرمنی اور برطانیہ کا دورہ کیا جن کے ساتھ ہندوستان کے اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ کووڈ-19 کے بڑھتے اثرات اور علاقہ میں چین کے ساتھ تعطل کے تناظر میں یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔اس دورے کے دوران ہوئی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ مرکوز تھی۔ دورے کے پہلے مرحلہ میں جناب شرینگلا پیرس پہنچے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فرانس ہندوستان کی دفاعی طاقت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ستمبر میں رفیل لڑاکا طیارے ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے۔ ہندوستانی فضائیہ میں فرانس کے ان لڑاکا طیاروں کی شمولیت سے ملک کی دفاعی طاقت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ پیرس میں ایک مشہور ومعروف تھنک ٹینک (Think tank) آئی ایف آر آئی سے خطاب کرتے ہوئے جناب شرینگلا نے کووڈ-19 کے بعد والی دنیا کے لیے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہندوستان نے کووڈ-19 کا کس طرح مقابلہ کیا اور اس وبا کے باعث ملک میں اختراع کو کیسے فروغ ملا جس کے باعث وبا کے لیے...

کابل یونیورسٹی پر داعش کا حملہ

ایک طرف دوحہ میں حکومت افغانستان کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ افغان مذاکرات ویسے تو قیام امن کے لئے چل رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کوئی پُر امید بات نظر نہیں آرہی ہے۔ چند روز قبل ہی افغانستان کے صوبہ بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور ایک سفارتی مشن پر ہندوستان آئے تھے اور انھوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال انتہائی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے اندیشے کی بنیاد یہ تھی کہ شاید طالبان حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق ہی اور اپنی شرطوں پر کسی سمجھوتے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ اندیشہ افغانستان کے مختلف حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور ان حلقوں میں نا امیدی کا ماحول زیادہ ہے جو افغانستان میں امن اور اعتدال پسندی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ زیادہ خطرہ اس بات کا محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ دوحہ مذاکرات بے نتیجہ ...