مذاکرات کے باوجود طالبان کے حملے جاری
ایک طرف امریکہ یہ تیاری کر رہا ہے کہ آئندہ 20 جنوری تک یعنی جب وہاں نو منتخب صدر اپنا عہدہ سنبھالیں گے اس وقت تک امریکہ اپنی فوجوں کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس بلا لے گا لیکن دوسری طرف یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ماحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں 9/11 کے حملوں کے بعد طالبان کو حکومت سے توبے دخل کر دیا گیا تھا لیکن وہ کسی نہ کسی طور پر اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے ۔ وہ امریکہ کی قیادت والی غیر ملکی فوجوں اور افغان حکومت دونوں پر حملے کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی پناہ گاہیں پاکستان میں قائم کر لی تھیں اور وہیں سے حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ اس سال فروری میں امریکہ نے طالبان سے ایک سمجھوتہ کیا۔ یہ سمجھوتہ دوحہ میں ہوا تھا جہاں طالبان نے اپنا سیاسی دفتر بھی قائم کیا ہے۔ سمجھوتہ بنیادی طور پر اس بات پر ہوا تھا کہ 14 مہینوں کے اندر اندر امریکہ اپنی ساری فوجیں واپس بلا لے گا اور طالبان کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ طالبان نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ...