گھریلو مسائل سے نمٹنے میں ناکام حکومت پاکستان کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

حکومت پاکستان اس وقت بدترین قسم کے گھریلو بحران سے پریشان ہے۔ یہ بحران کثیر جہتی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کی جانب سے فوج اور عمران حکومت پر شدید حملے ہورہے ہیں کہ فوج سیاسی معاملات میں بے جامداخلت کرکے جمہوریت اور آئین کی بالا دستی پر ضرب لگارہی ہے، جس میں عمران خان جیسے سیاستداں اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں ، تو دوسری طرف خود عمران حکومت ہر محاذ پر اپنی ناکامی اور نااہلی سے عوام کو برگشتہ کررہی ہے۔ عوامی سطح پر ہر طرف سے حکومت اور فوج پر حملے ہورہے ہیں۔ اس صورت میں نہ تو حکومت کی سمجھ میں کچھ آرہا ہے کہ وہ کیا کرے اور نہ ہی فوج کو اس بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستان دشمنی کے جذبے کو بڑھاوا دینا، فوج اور حکومت کو آسان سا نسخہ دکھائی دے رہا ہے۔ چنانچہ منظم اور منصوبہ بند طور پر ہندوستان کے خلاف ایک انتہائی شرارت آمیز مہم شروع کی گئی ۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے اور کراس بارڈر دہشت گردی کو بڑھاوادینے کے لیے پڑوسی ملکوں میں مسلسل تخریب کارانہ سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے۔ بین الاقوامی اور کثیر قومی اداروں کی طرف سے بار بار اسے وارننگ بھی ملتی رہتی ہے۔ اپنے گھریلو مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہونے کے باعث حکومت، چونکہ عوام کے غیظ و غضب کی وجہ سے انہیں منہ دکھانے کی جرأت بھی نہیں کرپارہی ہے ، اس لیے بوکھلاہٹ کے عالم میں عمران حکومت کے وزراءکی جانب سے طرح طرح کے بیانات ہندوستان کے خلاف سننے کو مل رہے ہیں۔

ویسے تو ہندوستان، بطور خاص جموںوکشمیر میں فروغ پانے والی دہشت گردی کے بارے میں پاکستان ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ اس کا ان واقعات سے کوئی سروکار نہیں، لیکن کچھ عرصہ قبل عمران خان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چودھری جوش میں آکر یہ بات بھی کہہ گئے کہ ،پلوامہ میں ہم نے گھر گھس کر ہندوستان کو مارا ، گویا یہ بات پاکستان نے خود ہی تسلیم کرلی کہ پلوامہ میں جو سی آر پی ایف کے جوان شہید کیے گئے تھے، ان پر حملہ کرنے کا منصوبہ پاکستان ہی نے بنایا تھا، لیکن دوسری طرف وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے سے انکار بھی کرتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ باتیں دنیا محسوس نہیں کرتی۔

اس وقت نہ صرف دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کےلئے دراندازی کرانے کی چوطرفہ کوشش پاکسانی فوج کی طرف سے ہورہی ہے، بلکہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر اس کے ذریعہ سیزفائر کی لگاتار خلاف ورزی بھی ہورہی ہے، جس میں سویلین کی ہلاکتیں بھی ہورہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان میں تعینات پاکستان کے ناظم الامورکووزارت خارجہ کے دفتر کی طرف سے شکایت بھی درج کرائی گئی ہے، لیکن پاکستا ن جھوٹی ، سچی خبریں پھیلانے اور غلط اطلاعات اور افواہیں پھیلانے کی کوششوں سے باز نہیں آتا۔ ابھی چند روز قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس میں ایسی ہی جھوٹی باتوں سے ماحول کو زہر آلود بنانے کی کوشش کی۔ اپنی اس پریس کانفرنس میں انھوں نے جو کچھ کہا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے عوام کے سامنے اپنی اقتصادی اور سیاسی ناکامیوں کا کوئی جواز نہیں پیش کرپارہی ہے، اس لیے ان مسائل سے عوام کی توجہ غیر ضروری باتوں کی طرف مبذول کرانے کےلئے عجیب عجیب طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔

ذراغور کیجئے شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ اسلام آباد ،اقوام متحدہ سے رابطہ قائم کرکے ہندوستان کے خلاف ایسے ثبوت پیش کرے گا ، جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ پاکستان میں وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ دعویٰ مسٹر قریشی نے ایسے وقت میں کیا جب پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کر کے ہندوستان کی وزارت خارجہ نے یہ احتجاج درج کرایا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ یا کسی اور کے پاس ہندوستان کے خلاف کوئی ثبوت ہوتا ، تو کیا وہ اب تک خاموش رہتے؟ اس طرح کی جھوٹی باتیں اکثر پاکستان خود وہاں کے عوام کو گمراہ کرنے کےلئے پھیلاتا ہے اور خود پاکستانی اخبارات بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر حکومت کے پاس اس الزام کےلئے کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کیوں نہیں کرتی؟ گویا خود اندرونِ پاکستان بھی حکومت کے اس طرح کے دعوؤں کا کوئی یقین نہیں کرتا اور نہ اس کی باتوں کا کوئی سنجیدگی سے نوٹس لیتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس طرح کی ڈرامہ بازیوں سے اصل مسئلہ نہیں سلجھتا ، بلکہ خود حکومت کااعتبار چلاجاتا ہے۔ اپنے عوام اور عالمی برادری کا اعتبار حاصل کرنے کےلئے پاکستان کے حکمرانوں کو اپنے آپ کو پہلے قابل اعتبار بنانا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ