Posts

Showing posts from May, 2019

موضوع: مودی کی دوسری بار حلف برداری، کابینہ نے بھی لیا حلف

عام انتخابات میں دوسری مرتبہ زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جناب نریندر مودی نے بطور وزیراعظم حلف لیا۔ کل نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون کے احاطہ میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں مودی کابینہ کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے وزیراعظم سمیت تمام وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔حلف برداری کی تقریب میں بمسٹیک ممالک کے رہنما مہمانان خصوصی تھے۔ وزراء کی کونسل میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو واقعی باصلاحیت ہیں۔ اس حلف برداری کی تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار وزراء کی کونسل میں سابق خارجہ سکریٹری سبرامنیم جے شنکر کو شامل کیا گیا ہے۔ جناب جے شنکر نے وزارت خارجہ میں سکریٹری کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ چین سے متعلق اُمو رکے ماہر سمجھے جاتے ہیں اس لئے کابینہ میں ان کی شمولیت کافی اہم سمجھی جارہی ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ وہ حکومت میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔  جناب مودی نے اکثر یہ بات کہی ہے کہ ملک کے لوگوں کو ان کی حکومت سے کافی توقعات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بی جے پ...

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا اشارہ

ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بدلتے وقت کی مناسبت سے اس کی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں، حکومت حالات کے مطابق اپنی ترجیحات متعین کرے۔ 2014 میں دنیا کے اور علاقائی حالات کچھ اور تھے اور 2019 میں کچھ اور ہیں، چنانچہ حکومت ہند کی ترجیحات 2019 میں بھی وہی نہیں ہو سکتیں جو 2014 میں تھیں، اس بار وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں اسی لیے صرف پڑوسی ملکوں کے سربراہوں کو ہی مدعو نہیں کیا گیا، دیگر اہم ملکوں کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا مگر حلف برداری کی تقریب میں بنگلہ دیش، بھوٹان، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ کے سربراہوں کو شرکت کی دعوت مودی حکومت کی ’پڑوسی پہلے‘پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔ تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے مدنظر ہندوستان کی ترقی کے لیے نئے امکانات کی تلاش ضروری ہے، امکانات کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، ہندوستان کی ترقی کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہو جائے گا، چنانچہ نئی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر حلف برداری کی تقریب سے ہی یہ اشارہ دے دیا ہے کہ پڑوسیوں کی اہمیت اس کے لیے مسلم ہے مگر وہ ممالک بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہیں جو ہندوستان سے مستحکم تعلقات ر...

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طر ف سے شمالی وزیرستان میں ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین کرانے کا دباؤ

حالیہ دنوں میں پشتون کارکنوں کی تنظیم پشتون تحفظ موؤمنٹ کو بدنام کرنے اور کارکنوں کو کچلنے کی جو کوششیں پاکستان کی سیکورٹی فورسیز کی جانب سے ہوئی ہیں، اس کے باعث نہ صرف پاکستان کے تمام انصاف پسند حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ عالمی پیمانے کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔ مجموعی طو رپر بھی پورے پاکستان میں بدنظمی اور لاقانونیت اتنی زیادہ بڑھی ہے کہ سنجیدہ حلقوں میں عمران حکومت کی کارکردگی پر سوالوں کی بوچھار ہونے لگی ہے۔ ہر طرف سے یہی سوال کیا جارہا ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ وہ پاکستان کو ایک فعال جمہوریت بنائیں گے ، اصل طاقت پارلیمنٹ کو دلائی جائے گی ، اظہار رائے پر قطعی کوئی پابندی نہیں ہوگی، میڈیا بالکل آزاد ہوگا اور آزاد عدلیہ کے قیام کو یقینی بنایاجائے گا ۔وہ تمام کے تمام وعدے اور دعوے صرف دعوے یا خواب ثابت ہوئے۔ ایک ممتاز صحافی اور سابق سفارت کار واجد شمس الحسن نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے تباہ کن اثرات صاف نظر آنے ہی لگے ہیں لیکن اس ضمن میں ان کے ایک انتخابی وعدے کو ...

پشتون کارکنوں پر پاکستانی فوج کے مظالم

پاکستانی فوج کئی اعتبار سے دنیا کی دوسری فوجوں سے قطعی مختلف ہے۔ دنیا کی بیشتر فوجیں اپنے ملک کو درپیش بیرونی خطرات سے بچاتی ہیں اور قوم کی حفاظت اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اور مناسب قدم اٹھاتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج کا وتیرہ یہ رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے اور پڑوسی ملکوں سے دست و گریباں رہنے کے لئے کبھی براہ راست اور کبھی در پردہ جنگ لڑتی رہتی ہے۔لیکن وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اندرون ملک بھی کسی نہ کسی حلقے یا علاقے کے لوگوں کے خلاف لڑنا اس کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اگر جوڑ گھٹا کر دیکھا جائے تو اندرون ملک اس کی بنیادی لڑائی جمہوریت اور جمہوریت پسندوں سے رہتی ہے۔ مثلاً گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی کے اواخر اور 70 کی دہائی کے اوائل میں اس کی اصل لڑائی مشرقی پاکستان کے لوگوں سے رہی جو اپنے جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی سیاسی پارٹی نے جب انتخا بات میں قومی پیمانے پر غالب اکثریت حاصل کی تب بھی اسے اقتدار نہیں سونپا گیا کیونکہ پاکستانی فوج کی نظر میں مشرقی پاکستان کے لوگ نسلی اعتبار سے کمتر تھے لہٰذا انہیں...

پاکستان کے ساتھ بات چیت کےلئے اعتماد اور سکون کا ماحول لازمی

وزیراعظم پاکستان عمران خان، ہند۔ پاک رشتوں کو بہتر بنانے اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کے عام انتخابات کے نتائج اپنے حق میں آتے دیکھ کر انہوں نے ہندوستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی اپنی بات دوہرائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ان کا یہ پیغام ہندوستان نے نہیں سنا تھا۔ یقیناً اس نے سنا تھا اور س کا نوٹس بھی لیا تھا۔ لیکن ان کے خلوص کا اندازہ تو ظاہر ہے اسی بات سے کیا جاسکتا تھا کہ ان باتوں یا عوامل کے تعلق سے ان کا کیا رویہ ہے جن کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ یقیناً یہ بات عمران خان کے علم میں ہوگی کہ بات چیت کے لئے جب بھی کوئی پیش رفت ہوتی ہے اور کچھ قدم آگے بڑھائے جاتے ہیں تو پاکستان کا کوئی نہ کوئی گروپ اس میں رخنہ ڈال دیتا ہے۔ جو گروپ رکاوٹ ڈالتے ہیں انہیں خود پاکستانی فوج کی حمایت اور پشت پناہی حاصل رہتی ہے اور اس حقیت کا اعتراف تو خود عمران خان کرچکے...

پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو جان کا خطرہ

پاکستان میں مذہب، زبان، نسل اور علاقوں کی بنیاد پر اپنے ہی شہریوں کو انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی ایک پوری تاریخ موجود ہے۔ کبھی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو کبھی لسانی اقلیتوں کے ساتھ۔ کبھی کسی تہذیبی اکائی کو اس کا شکار بننا پڑتا ہے تو کبھی کسی خطے کے عوام کو۔ غرضیکہ پاکستان میں حکومت خود وہ کام کرتی ہے جو دوسرے ملکوں میں عام طور پر دشمن طاقتیں کرتی ہیں۔ آجکل پشتون نسل کے لوگ ظلم و زیادتی کے نشانے پر ہے۔ اس گروپ کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کو جس طرح ہدف بنایا جا رہا ہے وہ اسی تاریخی روایت کا ایک حصہ ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی دوسو سات ملین ہے اور پشتون آبادی 30 ملین ہے جو کہ ملک کی دوسری بڑی آبادی ہے۔ اس آبادی کا مطالبہ ہے کہ اس کے حقوق اسے فراہم کیے جائیں اور اب تک اس کے ساتھ جو ناانصافی ہوتی آئی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ اس کے لیے ایک عرصے سے تحریک چلائی جا رہی ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں پشتونوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ اور تیز ہو گیا ہے۔ ہزاروں پشتون افراد جبریہ لاپتہ کر دیے گئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ یا پی ٹی ایم ک...

موضوع: شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ

وزیرخارجہ سشما سوراج نے اس ہفتہ کے اوائل میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے کرغزیستان کے دارالحکومت بشکیک کا دورہ کیا۔ وزیرخارجہ کی حیثیت سے یہ اُن کا کسی بیرونی ملک کا آخری دورہ تھا۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک روز قبل بشکیک کا اُن کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنظیم بھارت کیلئے کافی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے پہلے بھی ہندوستانی رہنما اس تنظیم کی میٹنگوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی 2015 سے اس تنظیم کی سربراہ میٹنگ میں شرکت کرتے آرہے ہیں۔ اس کی 15 ویں سربراہ میٹنگ 2015 میں روس کے شہر اوفا میں ہوئی تھی۔ پچھلے سال وزیرخارجہ سشما سوراج ، وزیر دفاع نرملا سیتارمن اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے تنظیم کی چین میں ہونے والی اپنی اپنی میٹنگوں میں شرکت کی تھی۔ ان میٹنگوں نے ڈوکلام تعلطل کے بعد ہندوستانی وزراء اور قومی سلامتی کے مشیر کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا اور روس کے رہنماؤں سے بھی سودمند مذاکرات ہوئے۔ اس سال کی ایس سی او میٹنگ کے موقع پر محترمہ سوراج نے چین کے وز...

ہندوستان کا 2019 کا فیصلہ

بالآخر 23 مئی کو لمبے انتظار کے بعد لوک سبھا کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے لگے۔ گنتی شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی پورے طور پر یہ اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی کی قیادت میں نیشنل ڈیمو ٹریٹک الائنس یعنی NDAکی حکومت بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار سنبھالنے جارہی ہے۔7 مرحلوں میں انتخابات کے انعقاد اور ان کے نتائج کے اعلان کے درمیان کم و بیش ڈیڑھ ماہ کا عرصہ تھا۔ ظاہر ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جہاں 90 کروڑ کے قریب رائے دہندگان ہوں وہاں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور پرامن انتخابات منعقد کرانے میں متعلقہ اداروں کو بھرپور توجہ صرف کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات بہر حال قبل اطمینان ہے کہ تشدد کے اکادکا واقعات کے باوجود پورے ملک میں انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے اور نتائج کے اعلان کے بعد بھی ماحول پرامن اور خوشگوار رہا۔ جہاں ایک طرف کامیاب ہونے والی پارٹیوں اور امیدواروں میں خوشی اور جشن کا ماحول رہا۔ وہیں شکست سے دوچار ہونے والی پارٹیوں نے پورے وقار کے ساتھ اپنی ہار کو تسلیم کیا اور کامیاب ہونے والوں کو مبارکباد بھی دی۔ ہندوستانی جمہوریت نے کم و بیش 70 سال کے عرصہ میں ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہی...

سرحد کی نگرانی کرنے والی خلا سے جھانکنی نگاہ

گزشتہ بدھ کو ایک ایسا راڈار امیجنگ سیٹلائٹ لانچ کیا گیا ہے جو خلاء سے زمین پر ہونے والی انسانی سرگرمیوں کی اطلاعات فراہم کرے گا۔ اس سیٹلائٹ سے خاص طور پر ہمہ وقت سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں کے علاوہ موسم کے تغیر و تبدل پربھی نگاہ رکھی جائے گی۔ اس 615 کلوگرام وزن کے سیٹلائٹ کی مدت کار تقریبا 5 سال ہے۔ اس سیٹلائٹ سے خاص طور پر سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے گی تاکہ دراندازوں کی کارکردگی پوری طرح نظر میں رہے اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کی تفصیلات سے باخبر رہا جاسکے۔ ہماری روایتی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سے بھی زمینی سرگرمیوں کی تصویریں لی جاتی رہی ہیں لیکن ان میں کمی یہ تھی کہ رات کی تاریکی اور بادلوں کی وجہ سے چھائی سیاہی میں، اس کی کارکردگی محدود ہوجاتی تھی اور بعض اوقات یہ کار آمد ثابت نہیں ہوتے تھے۔ یہ نیا سیٹلائٹ آر آئی ایس اے ٹی ۔2 بی راڈار امیجنگ سیٹلائٹ ہے جس میں راڈار کے ذریعہ سینسر کو ہمیشہ متحرک رکھا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ ہر قسم کے حالات میں خلا سے زمین پر نگاہ رکھی جاسکتی ہے اور یہاں کی تصویریں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ موسم اور رات دن کے تغیرات کا اس سیٹلائٹ ک...

ایران کے حوالے سے پاکستان کا تذبذب

امریکہ اور ایران کے درمیان نیو کلیائی مسئلے پر بڑھتی تکرار نے خلیج فارس میں حالات کو بیحد کشیدہ کر دیا ہے۔خلیج کی اس صورتحال میں پاکستان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ خود کو جانبدار رکھتے ہوئے اپنے داخلی مفادات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مفادات کا تحفظ کرنا بھی ہے۔دراصل پاکستان کے لیے یہ کشیدگی اس لیے زیادہ باعث فکر ہے کہ اسے ایران اور سعودی عرب دونوں ہی سے اپنے خوشگوار اور دیرینہ سفارتی اور دوستانہ رشتوں کے تحفظ کا چیلنج درپیش ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تازہ تنازعہ میں سعودی عرب امریکی خیمے میں کھڑا ہے اور اس کا دباؤہے کہ امریکہ ایران میں ایئر اسٹرائک جیسی کوئی سخت کارروائی کرے ۔سعودی عرب کا الزام ہے کہ ایران نے ڈرون کے ذریعہ اس کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے ایران سے اپنی سلامتی کا خطرہ ہے۔ظاہر ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں جس طرح کے قریبی تعلقات ہیں اس کے پیش نظر سعودی عرب پاکستان کو اپنی طرف دیکھنا چاہتا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ2015 میں جب سعودی عرب نے یمن میں فوجی مداخلت کی تھی تو ایران پر فوجی تعاون کا دباؤ تھا لیکن پاکستان نے اس وقت سفارتی سمجھداری کا ثبو...

عمران حکومت کو سیاسی چیلنج کا سامنا

عمران خان کی حکومت نے بہ مشکل دس ماہ پورے کئے ہیں۔ لیکن اس مختصر سی مدت میں انہیں کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتصادی بحران نے پہلے ہی سے عام آدمیوں کی کمر توڑ رکھی ہے اس پر آئی ایم ایف کے بیل آڈٹ پیکج کے باعث عوام پر مزید ٹیکس اور مہنگائی کی مار پڑنے والی ہے۔ عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی ظاہر ہے احتجاج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس احتجاج کو آواز دینے کے لئے سیاسی سر گرمیاں ہی موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جمہوریت میں عوام کے احساسات اور جذبات کی آئینہ داری سیاسی پارٹیوں اور سیاسی تحریکوں کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے۔ سو پاکستان میں عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر 11 اپوزیشن پارٹیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ عنقریب احتجاجی مظاہروں کا سلسلسہ شروع کریں گی۔ اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے گذشتہ اتوار کو ایک افطار پارٹی میں یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں سے وسیع پیمانے پر صلاح و مشورہ کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے باہر حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ حالانکہ اس بات پر دو رائے ہو سکتی ہے کہ ایسے وقت میں احتجاج کیوں شروع کیا...

پاکستان میں خاتون صحافیوں کے خلاف شرارت آمیز مہم

پاکستان میں صحافیوں اور دانشوروں پر ہمیشہ فوج اور حکومت کی یلغار ہوتی رہی ہے۔ صحافیوں کی زبان بند کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔ انہیں نہ صرف اذیتیں دی گئیں اور طرح طرح کی آزمائشوں سے انہیں گزرنا پڑا بلکہ انہیں اپنے صحافتی فرائض اور ذمہ داریوں سے روکنے کے لئے متعدد نوعیت کے کالے قانون بھی وقتاً فوقتاً وضع کئے جاتے رہے  لیکن ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ پاکستانی صحافیوں نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا اور ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ اس وقت کہنے کو پاکستان میں جمہوریت ہے اور حکومت کے سربراہ پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان ہیں ۔ وہ جب اپوزیشن میں تھے تو بڑے بلند بانگ دعوے کرتے تھے کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔ بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان کے نعروں میں کشش نظر آتی تھی اور گزشتہ سال جب وہ اقتدار میں آئے تب بھی انہوں نے ‘‘نئے پاکستان’’ کا نعرہ دہرایا۔ لیکن ایک سال سے کم عرصے میں ہی لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ ان کے نعرے کتنے کھوکھلے تھے۔ دیگر معاملات کو تو چھوڑیئے، خود صحافیوں پر بھی اتنا دباؤ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ قدم قدم پر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی...

امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ

امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین اس تجارتی جنگ نے عالمی معیشت  نیز عالمی امن وسلامتی کے لئے بھی خطرہ پیدا کردیا ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد ہی چین پرغیر منصفانہ تجارتی حربے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف تجارتی جنگ شروع کردی تھی۔ امریکا نے چینی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے اضافی محصولات نافذ کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکی اقدام کا مناسب اور بھرپور جواب دے گا۔چین کا الزام ہے کہ امریکہ نے تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ شروع کر دی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں چینی مصنوعات پر دو سو بلین ڈالر کے نئے درآمدی ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔چینی وزارت تجارت کے مطابق یہ بات افسوس ناک ہے، مگر بیجنگ حکومت کو بھی اب ضروری جوابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس سے پہلے بھی چین نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اضافی محصولات کے نفاذ پر جواباً امریکی مصنوعات پر ایک سو دس بلین ڈالر کے ٹیکس عائد کر دیے تھے۔چین نے خاص طور پر ایسی امریکی مصنوعات کو نشانہ بنایا ہے جو ان امریکی ریاستوں میں تیار ہوتی ہیں جہاں ریپبلکن پارٹی کا ک...

موضوع: پومپئو۔ لیوروو ملاقات- امن کی ایک پیش رفت

جب امریکی  وزیر خارجہ مائک پومپئو نے روس کا دورہ کیا اور اپنے روسی ہم منصب Sergei Lavarov  اور صدر پوتن سے بات چیت کی تو یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ روس سے کشیدگی ختم کرنے کی غرض سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے درمیان چھوٹے پیمانے کی نئی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو بین الاقوامی برادری اس کا نوٹس لیے بغیر نہ رہ سکی۔ امریکہ میں خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرنے والے حلقے  کے بیشتر افراد اسے چھوٹے پیمانے کی سرد جنگ سے تعبیر نہیں کرنا چاہیں گے، کیونکہ وہ روس کو اتنا طاقتور ملک نہیں تصور کرتے بلکہ وسیع تر سوویت یونین کا محض ایک چھوٹا حصہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں بھی جب امریکہ کا باشعور طبقہ امریکہ اور روس کی نیوکلیائی برابری کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کررہا تھا، تب بھی بیشتر امریکی انتظامیہ کے لوگ روس کو امریکہ کا ہم پلہ قرار دینے میں پس و پیش کرتے تھے۔ دو خیموں  میں بٹے اقتدار کے ڈھانچے کا جھکاؤ بہر حال امریکہ کی جانب تھا کیونکہ اسے اقتصادی سطح پر استحکام اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں برتری...

موضوع: بین الاقوامی ملایاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کو قرض کی منظوری

کئی مہینوں کی لمبی بات چیت کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بالآخر پاکستان کو قرض دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم  کے معاشی معاملات کے مشیر ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے آخری دور کی بات چیت کے بعد اس  مالی امداد کو منظوری ملی۔ معاہدے کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو آئندہ تین برسوں کے دوران چھ ارب ڈالر فراہم کرے گا، تاکہ وہ اپنے معاشی بحران سے نمٹ سکے۔ اس وقت پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور قرض چکانے اور معیشت کو پٹری پر لانے کےلئے اسے 18 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ آٹھ ماہ قبل جب عمران خان ملک  کے وزیراعظم بنے تھے‘ تو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے سخت شرائط رکھیں تو وہ اس سے مالی امداد حاصل نہیں کریں گے۔ اس وقت انھوں نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوستوں پر زیادہ بھروسہ کیا تھا، لیکن آئی ایم ایف نے اپنی شرائط نرم نہیں کیں بلکہ اس میں اضافہ کرتا گیا اور عمران خان کو بالآخر اس کی تقریباً ہر شرط ماننی پڑی۔ ان شرائط میں آمدنی بڑھانے کیلئے ٹیکسوں کی ...

سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کی خستہ حالت

رمضان پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان ہر سال ماہ رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور تلاوت وعبادت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ روزہ انسان کے اندر صبر و تحمل، اپنے نفس پر قابو پانےا ور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں غریب اور محروم لوگوں کو شریک کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے، لیکن چین کے صوبہ شن جیانگ Xinjiang کے مسلمانوں کےلئے یہ مہینہ مشکلات اور پریشانیوں سے پُر ہے۔ چین کی حکومت نے اس صوبہ کے مسلمانوں  پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کررکھی ہیں، انہیں قرآن کی تلاوت اور عبادت سے روکا جارہا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس دور جدید میں چین دنیا کا شاید واحد ملک ہے، جہاں کسی مخصوص مذہب اور نسلی اقلیت کو اپنے مذہب، ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے سے روکا جارہا ہے۔ چین نے شن جیانگ Xinjiang کے اویغور نسل کے مسلمانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے نام پر حراستی کیمپوں میں قید کررکھا ہے۔ انہیں اذیتیں دی جارہی ہیں اور مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ عالمی برادری اور حقوق انسانی کی تنظیمیں چین کے اس غیر انسانی فعل کے...

دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ؟

حالیہ برسوں میں عالمی پیمانے پر دہشت گردی نے جس طرح قدم جمائے ہیں، بالخصوص جہادی تنظیموں کے نٹ ورک کو جو طاقت ملی ہے، اس سے بجا طور پر پوری دنیا میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی ہے اور امن پسند دنیا اس تشویش میں مبتلا ہوئی ہے کہ آخر اس لعنت کا قلع قمع کس طور پر کیا جائے؟ حال ہی میں سری لنکا کے چرچ اور مہنگے ہوٹلوں میں دہشت گردوں نے جس ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے جنوبی ایشیا میں بطور خاص تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک کی چھان بین سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ کے بدنام زمانہ گروپ آئی ایس نے ایک مقامی انتہاپسند تنظیم کے تعاون اوراشتراک سے یہ سب کچھ کیا تھا۔ عام طور سے بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ اگر گمراہ نوجوانوں کے لئے مناسب تعلیم اور روزگار فراہم کئے جائیں تو انہیں اس لعنت سے دور رکھا جاسکتا ہے۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہوسکتی ہے کیونکہ بعض دہشت گرد تنظیمیں بے کار اور غیر تعلیم یافتہ  یا نیم تعلیم یافتہ لڑکوں کو اپنی صفوں میں شامل کرکے ان کی برین واشنگ کرتی ہیں اور ان کے غریب والدین کو اقتصادی فائدہ پہنچاکر اپنا الو سیدھا کرتی ہیں لیکن بات اتنی آسان بھی نہیں ہے کیونکہ عال...

آئی ایم ایف کی امداد: پاکستان کیا پائے گا کیا کھوئے گا؟

بالآخروہی ہوا جس کی سیاسی مبصرین توقع کررہے تھے۔ مہینوں تک پاکستان کی تگ و دو کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کو 6؍ارب ڈالر کی امداد دینا منظور کرلیا ہے جو کہ شائستگی کی زبان میں قرض کا دوسرا نام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 8؍ ارب ڈالر کی مدد مانگی تھی جب کہ اسے صرف 6؍ ارب ڈالر دیئے گئے ہیں۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آئی ایم ایف کی اس نام نہاد مدد کے سہارے کیا پاکستان اس اقتصادی بحران سے باہر نکل سکتا ہے جس میں وہ ان دنوں مبتلا ہے؟ اگر یہ عالمی بینک، آئی ایم ایف، چین ، سعودی عرب اور دوسرے ملکوں سے لئےگئے قرضہ جات کو جوڑ کر دیکھیں تو آئندہ 15 جون تک پاکستان کی قرض داری مع سود 90 ؍ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس صورت میں 6؍ ارب ڈالر کی مدد پاکستان کے بحران کو عبور کرنے میں کتنی مدد پہنچائے گی اس کا قیاس بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اسی دوران آئی ایم ایف کی جو شرطیں پاکستان کو پوری کرنی ہوں گی، ان کے سبب یہ طے ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی ایک جہنم زار بننے کے درپے ہے ، یہ اور بات ہے کہ عام شہری آج بھی کوئی بہت خوشحال نہیں ...

موضوع:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت پر زور

ادارۂ اقوام  متحدہ کا قیام 74 سال قبل عمل میں آیا تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ایک عالمی ادارے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی تھی۔ گزشتہ صدی میں دنیا دو تباہ کن جنگوں سے تباہ اور تاراج ہوئی تھی اور اس احساس نے اقوام عالم کو مجبور کیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ دنیا کو کس طرح فسطائیت، جنگ پسندی اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھا جائے کہ آئندہ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے واقعات دوبارہ نہ پیش آئیں۔ 74 سال کے عرصہ میں یہ عالمی ادارہ بتدریج مستحکم اور منظم ہوا اور اس کے متعدد ذیلی ادارے بھی قائم ہوئے جو مختلف شعبہ زندگی میں عالمی پیمانے پر انسانی فلاح اور معیار زندگی  کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ فلاحی کاموں کے علاوہ اس ادارے کا بنیادی کام امن عالم کو یقینی بنانا اور جنگ اور کشیدگی کے ماحول کو دور کرنارہا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ اور قتل وغارت گری کا سلسلہ بالکل رُک گیا اور ہر طرف امن وامان قائم ہوچکا ہے۔ بلاشبہ مختلف علاقوں میں اب بھی کشیدگی کا ماحول ہے اور ناخوشگوار واقعات بھی ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ادارے نے امن وامان برقرار رکھنے کی کوش...

موضوع: امریکہ۔ ایران نیوکلیائی معاہدے سے یکطرفہ انحراف ایک غیردانشمندانہ فیصلہ

 ایران پر امریکہ کی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے سامنے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔یوروپی یونین،چین،روس،ہندوستان سمیت تمام اہم ممالک کی اس سلسلے میں امریکہ کے اس اقدام سے روکنے کی کوششیں لاحاصل ثابت ہوئی ہیں۔سب سے اہم بات یہ کہ عالمی برادری کے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ اپنے اور امریکی مفادات میں سے کس کا انتخاب کرے اور امریکی پابندیوں کی روشنی میں ایران سے اپنے سفارتی رشتوں کو کس طرح خوش اسلوبی سے برقرار رکھے۔ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کا روز اول سے ہی یہ اصرار رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کرکے اس سلسلے میں کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اس الزام کا کوئی ثبوت نہ ہونے اور عالمی برادری کے سمجھانے کے باوجود امریکہ خود کو ایران کے ساتھ کیے گئے ۶ ممالک کے نیو کلیائی معاہدے سے الگ کر چکاہے۔مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکہ ایران سے اپنے رشتے کیسے رکھنا چاہتا ہے۔ظاہر ہے یہ امریکہ کا اپنا معاملہ ہے،لیکن دشواری یہ ہے کہ امریکہ نے جس طرح ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اس کا منفی اثر اس کے دوست ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ان پابندیوں نے عالمی بازار میں تیل ...

موضوع:آسیہ بی بی عدالت سے بری لیکن آزادی ملی دیارغیر میں

آسیہ بی بی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں کی رہنے والی عیسائی خاتون ہے جو چار بچوں کی ماں ہے۔ وہ محنت مزدوری کرتی تھی۔ کسی بات پر مسلمان پڑوسیوں سے اس کی کوئی حجت ہوئی جس کے بعد پڑوسیوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے جبکہ شروع سے آخر تک اس کا کہنا یہ تھا کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جسے اسلام کی شان میں گستاخی کہا جاسکے۔ پاکستان میں اہانت دین قانون کو اتنا سخت بنادیا گیا ہے کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ ویسے تو اس الزام کی زد میں کوئی بھی آجاتا ہے لیکن اقلیتیں اس کا خاص نشانہ بنتی ہیں یہ قانون شروع سے ہی متنازعہ رہا ہے اور پاکستان کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے ایکٹیویسٹ   لگاتار اس کے خلاف احتجاج اور قانون میں مناسب ترمیم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کاسب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس قانون کا بے جا اور غلط استعمال ہورہا ہے اور ذاتی عداوت کی بنیاد پر بھی لوگ ایک دوسرے کو پھنساتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف انتہاپسند حلقوں نے اس قانون کے تعلق سے ماحول کو اتنا جذباتی بنادیا ہے کہ صرف الزام یا افواہ کی بنیاد پر لوگ ملزم کے خون کے پیاسےہوجاتے ہیں او...

موضوع:بھارت – امریکہ تجارتی تعلقات میں کشیدگی

امریکہ کے وزیر تجارت ولبرراس  نے حال ہی میں ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں شرح محصول سب سے زیادہ ہے۔ وہ حکومت امریکہ کے سب سے بڑے تجارتی فورم کی میٹنگ میں شرکت کیلئے نئی دہلی میں تھے۔ چین کے بعد امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران جناب راس نے صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ کے نعرے ‘‘میک امریکہ گریٹ اگین’’   کو ایک بار پھر دوہرایا اور کہا کہ ہند-امریکہ رشتوں کو دوبارہ بہتر بناکر ہم امریکہ کو دوبارہ عظیم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کیلئے بھارت کا تعاون ضروری ہے۔ تاہم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور ان رشتوں میں کشیدگی کی زیریں روموجود ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے بھارت کافی فکرمند ہے۔ امریکہ نے بھارت پر ایران سے تیل درآمد کرنے  پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ وہ جی ایس پی پروگرام کے تحت بھارت کو دی جانے والی مراعات بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ اس سے بھی نئی دہلی کو کافی فکر لاحق ہے۔ یہاں یہ ب...