پشتون کارکنوں پر پاکستانی فوج کے مظالم

پاکستانی فوج کئی اعتبار سے دنیا کی دوسری فوجوں سے قطعی مختلف ہے۔ دنیا کی بیشتر فوجیں اپنے ملک کو درپیش بیرونی خطرات سے بچاتی ہیں اور قوم کی حفاظت اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اور مناسب قدم اٹھاتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج کا وتیرہ یہ رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے اور پڑوسی ملکوں سے دست و گریباں رہنے کے لئے کبھی براہ راست اور کبھی در پردہ جنگ لڑتی رہتی ہے۔لیکن وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اندرون ملک بھی کسی نہ کسی حلقے یا علاقے کے لوگوں کے خلاف لڑنا اس کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اگر جوڑ گھٹا کر دیکھا جائے تو اندرون ملک اس کی بنیادی لڑائی جمہوریت اور جمہوریت پسندوں سے رہتی ہے۔ مثلاً گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی کے اواخر اور 70 کی دہائی کے اوائل میں اس کی اصل لڑائی مشرقی پاکستان کے لوگوں سے رہی جو اپنے جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی سیاسی پارٹی نے جب انتخا بات میں قومی پیمانے پر غالب اکثریت حاصل کی تب بھی اسے اقتدار نہیں سونپا گیا کیونکہ پاکستانی فوج کی نظر میں مشرقی پاکستان کے لوگ نسلی اعتبار سے کمتر تھے لہٰذا انہیں پورے پاکستان کی باگ ڈور نہیں سونپی جاسکتی تھی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 70 کی دہائی کے اوائل ہی میں مشرقی پاکستان، پاکستان سے الگ ہوکر ایک آزاد ملک بن گیا، لیکن پاکستانی فوج کی جنگ پسندی کی عادت نہیں گئی۔ کبھی بلوچیوں اور کبھی پشتون باشندوں کے خلاف اس نے اپنی لڑائی جاری رکھی۔ ہر جگہ کی کہانی بھی کم و بیش ایک جیسی ہی ہے۔ پاکستانی فوج کی ایک غیر اعلان شدہ حکمت عملی یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی حلقہ اپنے جمہوری حقوق کا مطالبہ کرتا ہے یا سماجی انصاف کی لڑائی لڑتا ہے تو فوج فوراً اس کے خلاف صف آرا ہوجاتی ہے اور اس پر دشمن کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر پورے ملک میں اسے بدنام کرتی ہے اور پاکستان دشمن ہونے کا لیبل چسپاں کرتی ہے ۔ مختصر یہ کہ قومی سکیورٹی کے نام پر اس کا جینا دوبھر کردیتی ہے۔ فی الحال قبائلی علاقوں کے پشتون نوجوان اور کارکن اس کے خاص نشانے پر ہیں۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے نام پر فوج نے دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا یا نہیں یہ تو الگ سوال ہے لیکن بے قصور پشتون نوجوانوں کو فوج کی مختلف ایجنسیوں نے البتہ چن چن کر مارنا شروع کیا اور ان کو دہشت گرد قرار دیا ۔ ان مظالم کے خلاف پشتون نوجوانوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے اپنی ایک تنظیم قائم کی جو مختلف شہروں میں پرامن مظاہرے کرکے لوگوں کی توجہ اپنے مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے۔ لیکن پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیاں ہر قدم پر اس میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور اس کے کارکنوں کو نہ صرف جیلوں میں بند کرتی ہیں بلکہ انہیں طرح طرح کی اذیتیں بھی دیتی ہیں۔ پشتون کارکنوں پر الزامات کی بوچھار ہوتی رہتی ہے اور ہر روز ایک نیا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں شمالی وزیرستان کے کھیرقمر علاقے میں پشتون تحفظ موومنٹ یا پی ٹی ایم نے ایک پر امن مظاہرہ کرنا چاہا لیکن فوج نے کارکنوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں 5 افراد جائے واردات پر ڈھیر ہوگئے اور 40 کے قریب زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد پورے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ ان میں متعدد کی حالت انتہائی نازک تھی لیکن خبروں پر پورے طور پر تقریباً سنسر شپ نافذ کردی گئی تاکہ لوگ صورتحال سے واقف ہی نہ ہوسکیں۔ مظاہرے کی قیادت جمہوری طور پر منتخب قومی اسمبلی کے ایک ممبر محسن داور کررہے تھے۔ چشم دید گواہوں اور مقامی صحافیوں کے مطابق ممبر پارلیمنٹ اورپی ٹی ایم کے دو دوسرے کارکنوں کو اس جگہ جانے سے روکا گیا جہاں انہیں تقریر کرنی تھی۔ فوج کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ فوج نے گولیاں اس لئے چلائی تھیں کہ مظاہرین نے آرمی چیک پوائنٹ پر مسلح حملہ کیا تھا۔ یہ نہیں وضاحت کی گئی کہ کیا ایک ممبر پارلیمنٹ نے مسلح مظاہرین کی قیادت کی تھی؟ فوج کے ترجمان نے پی ٹی ایم پر یہ الزام لگایا کہ اسے ہندوستان اور افغانستان کی ایجنسیوں سے رقم اور حمایت مل رہی ہے۔یہ الزام حسب معمول بغیر کسی ثبوت کے لگا یا گیا ہے۔ سینسر شپ کا یہ عالم ہے کہ ممبر پارلیمنٹ تک کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور میڈیا چینلوں کو سختی سے پی ٹی ایم کے کارکنوں کے انٹرویو کرنے یا ان کے بارے میں رپورٹ نشر کرنے سے روکا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی ایک خاتون ایکٹی وسٹ گلالی اسماعیل کے گھر پر چھاپہ پڑا ور پاکستان کے خلاف تقریر کرنے کا الزام لگا کر ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔ یہ ایک منظر ہے عمران خان کے تصور کے نئے پاکستان کا!۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ