Posts

Showing posts from June, 2019

موضوع: پاکستان میں جمہوریت کی بدتر ہوتی صورت حال

جنرل مشرف کے زوال کے بعد 2008 میں جب پاکستان میں دوبارہ جمہوریت بحال ہوئی تو ایک رجحان تو یہ دیکھنے میں آیا کہ اہم سیاسی پارٹیوں نے سنبھل سنبھل کر قدم آگے بڑھانا شروع کیا اور آپسی رقابتوں کو اس حد تک آگے نہ بڑھنے دیا کہ فوجی جنرل اس کا ناجائز فائدہ اٹھاسکیں۔ اس کا اتنا اثر توضرور ہوا کہ تمام کوششوں کے باوجود جمہور دشمن طاقتیں براہ راست اقتدار سے متعلق امور میں مداخلت کرنے سے گریز کرتی رہیں لیکن اصل طاقت بہرحال فوج ہی کے پاس رہی اور خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی تھی جس نے جیسے تیسے 5 سال کا ٹرم پورا کرلیا تھا۔ پہلی بار پاکستان میں کسی حکومت نے اپنی مدت کار پوری کی تھی۔ پھر 2013 میں عام انتخابات ہوئے او رپاکستان مسلم لیگ نواز نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ اس حکومت نے بھی پانچ سال کا بڑا ٹرم پورا کرلیا لیکن دونوں میں سے کسی بھی حکومت کے وزیراعظم نے اپنا ٹرم پورا نہیں کیا کیونکہ حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ انھیں وقت سے پہلے استعفی دینا پڑا۔ نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران سویلین حکومت کی بالادستی قائم کرنے کی کافی...

موضوع: اوساکا میں برکس رہنماؤں کی غیر رسمی ملاقات

جاپان کے شہر اوساکا میں گروپ -20 کی سربراہ کانفرنس کل شروع ہوئی۔ برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے اس کانفرنس سے ہٹ کر ملاقات کی۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، برازیل کے صدر جیئر بولسوناروروس کے صدر ولادیمیر پوتن، چین کے صدر شی جنپنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما پھوسانے جاپان کو گروپ -20 کی صدارت کے لئے مبارکباد پیش کی اور میزبان ملک نے کانفرنس میں بحث کے لئے جن موضوعات کا انتخاب کیا اس کے لئے اس کی تعریف کی۔ قابل ذکر ہے کہ ان موضوعات میں تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، آب و ہوا کی تبدیلی، صحت خدمات کی فراہمی اور دیرپا ترقی شامل ہیں۔ ملاقات کے دوران برکس کے رہنماؤں نے محسوس کیا کہ دنیا کی معاشی ترقی میں استحکام آچکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس سال کے اواخر میں اور آئندہ برس اس میں تھوڑی بہتری آئے گی۔ تاہم یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی اور تجارتی جنگ کے درمیان معیشت کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ برکس کے ان رہنماؤں نے بین الاقوامی تجارت کی دیرپا ترقی کے لئے دنیا میں موافق معاشی ماحول کی ...

ہند –امریکہ تعلقات: ایک غیرضروری بیان

امریکی وزیرخارجہ جناب مائیکل پومپیو اور ہندوستانی وزیرخارجہ جناب ایس جے شنکر کی حالیہ ملاقات جہاں اس سوچ سےمتحرک تھی کہ دونوں ملکوں کے مابین ایران یا کسی اور موضوع پر غلط فہمیاں نہ پیدا ہوں،وہیں اس ملاقات کے محض ایک روز بعد امریکی صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بیان دیا ہے ،اسے کسی بھی طرح عمدہ ڈپلومیسی کے زمرہ میں نہیں رکھاجاسکتا۔ یہ بیان جاپان کے ایک بڑے اور اہم شہر اوساکا میں جی 20 کی میٹنگ کے آغاز سے ٹھیک پہلے جاری کیا گیا اور وہ بھی تب جبکہ اس میٹنگ کے دوران جناب ٹرمپ اور ہندوستانی وزیراعظم جناب نریندرمودی جمعہ کے روز آمنے سامنے ملاقات کرنے والے تھے۔ رہا سوال جناب ٹرمپ کے بیان کا تو انہوں نے بالخصوص ہارے ڈیوڈسن موٹرسائیکلوں پر ہندوستان میں 100 فی صد محصول لگائے جانے کا ذکر کیا ہے جس کی ہندوستان میں سال بھر میں اوسطاً محض 80 اکائیاں فروخت ہوتی ہیں لیکن دوسری طرف یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ہندوستانی تمباکو پر امریکہ میں 330 فی صد محصول لگایا جاتا ہے اور اسے کسی بھی طرح مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ان مخصوص مثالوں کو چھوڑ دیں تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہندوستان کے بازار میں امریکی...

ہندوستان پر عالمی برادری کا اعتماد

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیونے ہندوستان کے تین روزہ دورے کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے علاوہ متعدد سیاسی رہنماؤں او رتجارت سے وابستہ اہم شخصیات سے ملاقات کے بعد،ایک قومی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صرف امریکہ ہی ہندوستان کے لئے اہم نہیں ہے بلکہ ہندوستان بھی امریکہ کے لئے یکساں طورپر اہمیت کا حامل ہے۔اپنے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ ہمارے درمیان بعض امور پر اختلافات ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ ہم اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں لیکن ہم ان اختلافات کو دو ر کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے کیوں کہ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے لئے بے پناہ مواقع ہیں اور ہمیں ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔ ہم دو بڑی معیشت کے طور پر ترقی کرسکتے ہیں اور دنیا کے دو مختلف حصوں میں ایک دوسرے کے اہم پارٹنر بن سکتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ حالیہ دنوں میں ہندوستان اور امریکہ کے د...

موضوع: حکومت کا ترقی کی رفتار پر توجہ مرکوز رکھنے کا فیصلہ

پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد قومی جمہوری اتحاد کی حکومت ملک کی معیشت کو مزید فروغ دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے تاکہ روزگار پیدا کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بات واضح کردی ہے کہ ان کی حکومت ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے معاشی شعبہ میں اصلاحات کے لئے پابند عہد ہے۔ نیتی آیوگ میں ماہرین معاشیات اور دیگر شعبوں کے ماہرین کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے ملک کی معیشت کو مسابقتی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غیر ملکی راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکے۔ محنت و روزگار، زراعت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ساتھ وزیراعظم کی یہ ملاقات کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ نئی حکومت کی جانب سے 5 جولائی کو مکمل بجٹ پیش کئے جانے سے چند روز قبل کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں شرکت کرنے والوں کو پانچ گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ وہ روزگار، زراعت، برآمدات، تعلیم، صحت اور پانی کے ذرائع کے بارے میں نئے خیالات پیش کرسکیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روزگار کی پیداوار اور معیشت کی تیز رفتار کو ب...

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی وارننگ

دہشت گردوں کی فنڈنگ پر نظر رکھنے والی کثیر قومی فائننشیل ٹاسک  فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کا پلینری اجلاس 16 سے 21 جون تک فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں منعقد ہوا تھا، اس میں پاکستان کو میٹنگ  کے اختتام پر یہ سخت وارننگ دی کہ اس نے سرحد پار دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والے ممنوعہ گروپوں کی فنڈنگ کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا اور شاید ابھی معاملے کی سنگینی کو پورے طور پر سمجھ بھی نہیں پایا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے فی الحال اتنی رعایت تو پاکستان کو دے دی ہے کہ وہ آنے والے ماہ اکتوبر تک ضروری قدم اٹھالے۔ اس وقت تک تو اسے بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن اگر اس وقت تک بھی پاکستان نے اپنے عہد کو پورا نہیں کیا تو اسے نتیجہ کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ یہاں یہ بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے سرحد پار فروغ دی جانے والی دہشت گردی کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو سخت لفظوں میں یاد دلایا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس نے اپنے ایکشن پلان میں درج شرائط کو مقررہ وقت یعنی جنوری تک پورا نہیں کیا بلکہ مئی 2019 تک کا نشانہ بھی پورا کرنے میں پورے طور پر ناکام رہا ۔ ی...

پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے

رشتوں میں قول و عمل کا تضاد جتنا کم ہو اتنا بہتر ہوتا ہے اور اگر بالکل بھی نہ ہو تو اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی مگر پاکستان کی سمجھ میں یہ بات آج تک نہیں آ سکی۔ اس کے لیڈروں نے کئی بار اپنی باتوں سے یہ امید ضرور بندھائی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان ٹھوس کارروائی کرے گا لیکن امید بر نہیں آئی، جلد ہی ان کے قول و عمل کا تضاد ظاہر ہو گیا۔ یہاں تک کہ عالمی برادری نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ دہشت گردی پر پاکستان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ اسی لیے پاکستان کے تئیں اس کے موقف میں تبدیلی آنے لگی۔ اسی تبدیلی کا اثر ہے کہ پاکستان کا سب سے قریبی چین بھی اس کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے عالمی دہشت گرد قرار دلانے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہ اجلاس میں بھی یہ صاف نظر آیا کہ دہشت گردی کو دنیا کے تمام ممالک ختم کرنا چاہتے ہیں۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اعلامیہ میں اس کے تمام ممبر ملکوں نے متفقہ طور پر نہ صرف دہشت گردی کی مخالفت کی بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی اورر انتہا پسندی کی توسیع کو سیکورٹی کے لیے چیلنج بت...

موضوع: عمران خان کو بشکیک سے ملنے والا پیغام

وزیراعظم پاکستان عمران خان اس وقت گھریلو سیاست میں کئی طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی بدتر ہوتی ہوئی اقتصادی صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان سے پہلے کے حکمرانوں نے صرف اور صرف کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کو فروغ دیا اور ملک کے سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ بدعنوان سیاست دانوں سے ناجائز طور پر حاصل کئے گئے سرمائے کو چھین کر واپس لائیں گے۔ ممکن ہے ان کے اس طرح کے دعوے کلی یا جزوی طور پر درست بھی ثابت ہوں۔ بہرحال متعدد اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے اور کرپشن کے الزام میں مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں کچھ اور اہم واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ مثلاً عدلیہ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کا ایک نیا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ کو فوج نے ایک سبق سکھانے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں فوج اور ایجنسیوں کو غیرآئینی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سیاسی امور میں بے حد مداخلت کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ فوج نے عمران حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف سپ...

موضوع: خلیج فارس میں فوجوں کا اجتماع

گزشتہ ہفتے خیلج عمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملے کے جواب میں امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ خیلج میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے وہ مزید ایک ہزار فوجی وہاں بھیج رہی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے سال مئی میں دو ہزارپندرہ میں ہوئے نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کے الگ ہوجانے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر کوئی ایران کی ان صنعتوں کے ساتھ تجارت کرتا ہے جن پر پہلے سے ہی پابندیاں عائد ہیں تو ان پر بھی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ ایران نے بھی معاہدے پر دستخط کرنے والے یوروپی ممالک، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے اپیل کی کہ وہ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت پر پڑنے والے اثرات کم کرنے کیلئے مناسب اقدامات کریں۔ تہران نے کہاکہ اگر معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے ملکوں نے ایسا نہیں کیا تو ایران بھی معاہدے سے الگ ہونے پر مجبور ہوجائے گا۔ ایران کی اس اپیل کے بعد امریکہ نے پندرہ سو فوجیوں کو خلیج میں تعینات کردیا۔ خلیج میں فوجوں کا اس طرح کا اجتماع علاقہ کے امن واستحکام کیلئے...

خاشفجی قتل معاملہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ سعودی عرب نژاد صحافی جمال خاشقجی کا گزشتہ 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی کونسلیٹ میں قتل ہوا تھا اور ان کی لاش کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا چونکہ یہ حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی پر پڑنے والی ضرب سے جڑا ہوا مسئلہ تھا، اس لئے خاشقجی کا قتل پوری دنیا میں ایک اہم مسئلہ بنا اور چاروں طرف سے اس قتل کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں اور خاطی کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے مطالبے شروع ہوئے۔ لیکن جب کسی معاملے میں کسی نہایت اہم فرد کی شمولیت کا معاملہ ہوتا ہے تو پھر اس کی تصدیق و توثیق کے پیمانے میں کافی تضاد کی کیفیت نظر آنے لگتی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی پلیٹ فارم پر بدلتے منظرناموں کا سلسلہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ واقعات جو پیچھے ہوجاتے ہیں، ان پر توجہ گھٹتی چلی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ جمال کاشقجی کے قتل کی واردات کے معاملے میں بھی ہوا اور ا س کے قاتل کے سلسلسے میں تصویر دھندلی پڑتی نظر آنے لگی۔ لیکن اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس پورے معاملے کو مرکزی سطح پر لاکر کھڑا کردیا ہے اور ہر طرف سے ایک بار پھر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مجرم کو ک...

پاکستان کے سربراہ فوج کو قومی ترقیاتی کونسل کی رکنیت

پاکستان اس اعتبار سے دنیا کا ایک قابل ذکر ملک ہے کہ یہاں کی فوج کو حکومت کے کاروبار میں بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس ادارے کو جو آئینی اختیارات پہلے ہی سے حاصل ہیں ان کادائرہ سچ پوچھئے تو موجودہ اختیارات کے مقابلے میں بے حد محدود ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں آئینی طور پر تو اس وقت جمہوریت ہے لیکن طاقت کا اصل محور فوجی ہیڈکوارٹر ہی ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔ راجدھانی اسلام آباد ہے جہاں وفاقی حکومت کے دفاتر ہیں۔ 1947 میں برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تب سے اب تک وہاں کی تاریخ کے نصف حصے پر فوجی جنرلوں نے براہ راست حکومت کی اور باقی نصف حصے پر سیویلین حکمرانوں نے۔ لیکن سویلین حکمراں پوری آزادی سے حکومت نہ کرسکے۔ 2008 سے قبل تک تو کوئی بھی منتخب حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ باربار فوجی حکومتوں کو توڑا جاتا رہا، مارشل لاء لگتے رہے اور لمبی لمبی مدت تک لوگ جمہوریت سے محروم کئے جاتے رہے۔ اگرچہ 2008 میں آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے زوال کے ساتھ جب جمہوریت ایک بار پھر بحال ہوئی تو منتخب حکومتوں نے تو پانچ سال کی مدت پوری کی لیکن خارجہ پالیسی اور بعض دوس...

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کا تقرر

رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے ایک سخت گیر قسم کے اعلی فوجی افسر کو پاکستان کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا نیا ڈائرکٹر جنرل مقرر کیا ہے۔ حالانکہ آئی ایس آئی کے رخصت پذیر سربراہ لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر صرف 8 ماہ قبل اس عہدے پر بحال کئے گئے تھے لیکن اچانک یہ خبر سننے کو ملی کہ ان کی جگہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر عمل میں آیا ہے حالانکہ اعلی فوجی افسروں کے تبادلے ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن جس ماحول اور جس پس منظر میں یہ تبدیلی عمل میں آئی ہے، اس سے پاکستان کے سیاسی، سماجی اور افسر شاہی حلقوں میں چہ مگوئیاں ضرور شروع ہوگئی ہیں۔ پاکستانی فوج اس ملک کا سب سے طاقتور اور با اثر ادارہ تصور کی جاتی ہے، جس نے آزادی کے بعد گزشتہ 72 سال کی تاریخ کے کم و بیش نصف حصے پر براہ راست حکومت کی اور سیویلین حکومتوں کے دور میں بھی اصل طاقت اسی کے پاس رہی۔ اسی طرح پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹلی جنس یا آئی ایس آئی کے سربراہ کا عہدہ بھی ایک انتہائی اہم عہدہ مانا جاتا ہے۔ یہ ایجنسی جس بات کے لئے سب سے زیادہ جانی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں بالخصوص ہندوستان کے خلاف اسلامی انتہاپسندوں ک...

پشتون نسل کے لوگوں کے خلاف پاکستان کی ظالمانہ کارروائی

انسانی حقوق کے تعلق سے پاکستان کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے۔خود پاکستان کے اندر کام کرنے والی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے اس کے تعلق سے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور لسانی بنیاد پر تعصب پسندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان میں مسائل اور بحران کی کمی نہیں ہے لیکن آج کل جس مسئلہ نے پاکستانی حکام کی نیندیں حرام کررکھی ہے وہ  ہے قبائلی علاقوں میں عوام کی بے چینی۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع یہ علاقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات یعنی فاٹا کی نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام دہائیوں سے ظلم وتشدد کا شکار رہے ہیں تقریبا 100برسوں سے زائد کا عرصہ گزرگیا جب برطانوی نوآبادیاتی نظام کے تحت یہاں کی مزاحمت روکنے کے لیے قانون بنایا گیا تھا۔ اس قانون میں یہاں کے لوگوں کے حقوق سلب کرلیے گئے تھے اور کسی کو ظلم وزیادتی کے خلاف نہ تو وکیل کرنے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت تھی اور اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا تو مجموعی طورپر سزادی جاتی تھی۔یہ تو پاکستان کے ایک ملک کی حیثیت سے وجود میں آنے سے پہلے کی باتیں ہیں لیکن پاکستان کے وجود میں آنے کے ب...

موضوع : ہندوستان کو پیرس میں جی-7 سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامہ

وزیراعظم نریندرمودی جنوبی فرانس میں بائرز کے مقام پر گروپ -7 کی اس سال 24 سے 26 اگست کے درمیان ہونے والی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ فرانس کے صدر ایمینول میکرون نے آسٹریلیا، چلی اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ہندوستان کو بھی ایک خصوصی مہمان کے طور پرمدعو کیا ہے۔ جی-7 عام طورپر عالمی برادری کے اہم رہنماؤں کو سربراہ کانفرنس کے دوران دنیا کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مدعو کرتا ہے۔ فرانس کی جانب سے یہ دعوت نامہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہندوستان دنیا میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان نہ صرف اسٹریٹجک شراکت داری پروان چڑھ رہی ہے بلکہ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے درمیان ذاتی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔ دعوت نامہ ارسال کرتے ہوئے صدر میکرون نے عالم گیریت کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ہندوستان کے کلیدی کردار کا ذکر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 میں پیرس میں ہونے والی سی او پی -21 کی میٹنگ کے موقع پر جناب مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر فرینکوا ہولانڈے نے مشترکہ طور پر بین الاقوامی شمسی اتحا...

موضوع : ہندوستان کو پیرس میں جی-7 سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامہ

وزیراعظم نریندرمودی جنوبی فرانس میں بائرز  کے مقام پر گروپ -7 کی اس سال 24 سے 26 اگست کے درمیان ہونے والی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے آسٹریلیا، چلی اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ہندوستان کو بھی ایک خصوصی مہمان کے طور پرمدعو کیا ہے۔ جی-7 عام طورپر عالمی برادری کے اہم رہنماؤں کو سربراہ کانفرنس کے دوران دنیا کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مدعو کرتا ہے۔ فرانس کی جانب سے یہ دعوت نامہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہندوستان دنیا میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان نہ صرف اسٹریٹجک شراکت داری پروان چڑھ رہی ہے بلکہ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے درمیان ذاتی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔ دعوت نامہ ارسال کرتے ہوئے صدر میکرون نے عالم گیریت کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ہندوستان کے کلیدی کردار کا ذکر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 میں پیرس میں ہونے والی سی او پی -21 کی میٹنگ کے موقع پر جناب مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر فرینکوا ہولانڈے   نے مشترکہ طور پ...

موضوع : جیش اور لشکرطیبہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ

گزشتہ سال جون میں دہشت گردوں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کرلیا کیونکہ اس معاملے میں پاکستان کا رکارڈ اچھا نہیں تھا۔ اس نے ایسے قدم اٹھائے ہی نہیں جن کے تحت پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر روک لگ سکے۔ پاکستان کو یہ وارننگ بھی مل چکی تھی کہ اگر اب بھی اس کی جانب سے مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ مرحلہ آتا ہے تو پاکستان کی پریشانیاں اتنی بڑھ سکتی ہیں کہ اس کی معیشت پر اس کا بہت ہی ناخوشگوار اثر مرتب ہوسکتا ہے۔ بہرحال ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو اطلاع دی ہے کہ اس کے جائزے کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں ابھی تک جو کیا ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ خاص طور سے لشکرطیبہ اور جیش محمد سمیت آٹھ ممنوعہ تنظیمیں ایسی ہیں جن کے خلاف اب تک مؤثر قدم نہیں اٹھائے جاسکے ہیں۔ اپنی جائزہ رپورٹ میں ایشیا پیسیفک گروپ نے بطور خاص پاکستان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ داع...

موضوع : ملک کی بکھرتی معیشت کے درمیان بدعنوانی کے خلاف پاکستان کی بڑی مہم

فرضی کھاتے رکھنے کے الزام میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا ہے۔ جناب زرداری نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے والد ہیں بلکہ وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جناب آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی مستقل ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو نے آصف زرداری کو گرفتار کیا تھا۔ یہ سارا معاملہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی کو یہ خبر ملی کہ آصف زرداری سمٹ بینک ، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 جعلی کھاتوں کے ذریعے فرضی کاروبار کررہے ہیں۔ اس خبر کے موصول ہوتے ہی ایجنسی نے تحقیقات شروع کردی۔ تحقیقات شروع ہوتےہی پتہ چلا کہ جناب زرداری اور ان کی ہمشیرہ سمیت سات لوگ ان جعلی کھاتوں کا استعمال کررہے ہیں۔ الزام ہے کہ رشوت کے طور پر جو رقوم ملتی تھیں وہ انہیں کھاتوں میں جمع کی جاتی تھیں۔ بعد میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی تفتیشی ایجنسی کی تحقیقات میں تاخیر کا از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی۔ اس ٹیم ...

موضوع : ہندوستان خطہ میں امن اور خوشحالی کی تلاش میں

ہندوستان آبادی اور رقبے کے اعتبار سے جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے اوراگر معیشت کی بات کی جائے تو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے ۔ اس کی کوشش ہے کہ یہ پورا خطہ امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔کم و بیش تین دہائی قبل جنوب ایشیائی ممالک کی ایک علاقائی تنظیم قائم ہوئی تھی جس میں ہندوستان پاکستان ،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال،بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے۔بعد میں افغانستان کو بھی شامل کر لیا گیا اور اس طرح اس تنظیم کے کل آٹھ ممالک رکن بنے ۔ اس تنظیم سے بہت امیدیں وابستہ تھیں اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس خطے کے یہ ممالک اگر آپس میں اشتراک و تعاون کریں گے تو علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا ایک ایسا ماحول قائم ہوگا جس سے تمام ممالک یکساں طور پر فیضیاب ہوں گے لیکن بد قسمتی سے اس تنظیم نے اتنے لمبے عرصے بعد بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کی۔ اکثر ہندوستان اور پاکستان کے کشیدہ رشتے رکاوٹ بن جاتے ہیں اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا رہا جس کے باعث نہ صرف ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں لگا تار گراوٹ آتی رہی بلکہ علاقے کے لئے اجتماع...

موضوع : وزیر اعظم نریندرمودی کا مالدیپ اور سری لنکا کا دورہ

دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعدنریندر مودی نے ہفتہ کے اواخر میں مالدیپ اور سری لنکا کا دورہ کیا۔ ان کے اس دورے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنی ‘‘پڑوسی پہلے’’ اور‘‘علاقہ میں سب کی سلامتی اور ترقی’’ کی پالیسی کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔‘‘پڑوسی پہلے’’ کی پالیسی پر عمل پیراہوتے ہوئے بھی جناب مودی اپنی پہلی مدت کے دوران مالدیپ کا سرکاری دورہ نہیں کر سکے تھے کیونکہ وہاں سیاسی تعطل بر قرار تھا جو اکتوبر2018 میں ابراہیم محمد صالح کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہی دور ہو سکا۔ اسی سال نومبر میں ہندستانی وزیراعظم صدر ابراہیم محمد صالح کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے مالدیپ گئے۔دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے کے لئے جناب مودی کا مالدیپ کو منتخب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان بحر ہند میں واقع اس جزائری ملک کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات اور مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اس دورے میں وزیر اعظم مودی کو مالدیپ کا اعلیٰ ترین اعزاز‘‘رول آف نشان عزا لدین’’ سے نوازا گیا ۔ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مالدیپ کی پ...

قذافی اسٹیڈیم میں حافظ سعید پر نماز عید کی امامت کرنے پر روک

گلوبل دہشت گرد قرار دیے جا چکے جماعت الدعویٰ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں نماز عیدالفطر کی امامت کرنے سے روک کر پاکستان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے تعلق سے سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں دہشت گرد تنظیموں و لیڈروں کے خلاف مناسب کارروائی بھی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ حافظ سعید نہ صرف ممبئی دہشتگردانہ حملے کا کلیدی ملزم ہے بلکہ اسے امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل بھی حافظ سعید کو گلوبل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ان حالات میں پاکستان پر گذشتہ کئی سال سے اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ حافظ سعیداور اس کی جماعت الدعویٰ سمیت جیش محمد،لشکر طیبہ اور تحریک طالبان نیز دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے دہشت گرد عناصر کے معاملے میں پاکستان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے سبب ہی بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب دور میں پہنچ گئے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستا...

ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں ٹرمپ کی سخت بیانی نامناسب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ہندوستان، چین اور روس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور الزام عاید کیا ہے کہ ان ملکوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے معاملے میں کچھ خا ص نہیں کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ملکوں نے اس خطے کو ایک ایسے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سانس لینا ناممکن ہو گیا ہے۔ جبکہ امریکہ کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں صاف ستھری ہوا ہے۔ انھوں نے ایک برطانوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے 2017 میں ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکہ کے الگ ہو جانے کے لیے ان ملکوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان، چین اور روس میں نہ تو صاف ہوا ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی۔ ان ملکوں میں آلودگی یعنی پولیوشن بھی بہت ہے۔ ان کا یہ بیان حیرت انگیز نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو پیرس معاہدے سے الگ ہو جانے کا کوئی نہ کوئی جواز تو پیش کرنا ہی تھا۔ ان کے اس بیان سے یہ امید ختم ہو گئی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں مذکورہ ملکوں کے تعلق سے اپنا لب و لہجہ نرم کر یں گے۔ اگر ہم ٹرمپ کے بیان کو دیکھیں تو وا...

بشکیک میں مودی-عمران ملاقات کا امکان کم

ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں بعض حلقے یہ توقع کررہے تھے کہ جب دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کرغستان  کی راجدھانی بشکیک میں 13 اور 14 جون کو منعقد ہونے والی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے جائیں گے تو الگ سے بھی ہندوستان اور پاکستان کی سربراہان حکومت آپس میں ملیں گے اور باہمی معاملات پر کچھ بات چیت کریں گے۔لیکن جمعرات کو ہندوستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے درمیان کسی طرح کی ملاقات یا بات چیت کا امکان نہیں ہے کیوں کہ ایسا کوئی پروگرام بنا ہی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کافی تلخی اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ پچھلی باتوں کو اگر نظر انداز بھی کردیا جائے اور صرف حالیہ مہینوں کی بات کی جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے صبروتحمل کی بھی ایک انتہا ہوگی۔ پلواما میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے خودکش بم کے ذریعہ چالیس سے زیادہ سی آرپی ایف کے جوانوں کو شہید کردیا تھا۔ ہندوستان نے اس واقعے کے بعد بالا کوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی تھی کیوں کہ اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا اور کوئی را...

پاکستانی فوج کا بجٹ میں تخفیف کرنے کا منصوبہ

شاید پہلی بار یہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ایک سال کے لئے اپنے اخراجات میں تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ دفاعی اخراجات میں تخفیف کرنے سے جو رقم پس انداز کی جائے گی وہ قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پاکستان کے دفاعی اخراجات کا معاملہ یہ رہا ہے کہ قومی آمدنی کی ایک بہت بڑی رقم اس مد کے لئے مخصوص کی جاتی ہے جس پر کسی کو سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اور عام طور پر اس پر بحث بھی نہیں ہوتی گویا ایک طرح سے اندرون پاکستان دفاع کے شعبہ کے لئے مخصوص کئے جانے والے سرمائے کو کسی طرح کے احتساب یا سوال وجواب سے بالاتر تصور کیا جاتا ہے اور اگر کوئی سوال کرنے کی جرأت بھی کرتا ہے تو اسے پاکستان کی سیکوریٹی کے لئے خطرہ اور ملک کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ بیشتر مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کی ایک بہت بڑی وجہ یہی رہی ہے کہ فوجی بجٹ اتنا زبردست ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور پروجیکٹ پر خاطر خواہ توجہ صرف نہیں ہوپاتی۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے...

تائیوان اور ساؤتھ چائنا سی کے بارے میں چین کا امریکہ کو انتباہ

چین اور امریکہ کے مابین جاری تجارتی جنگ او ر کشیدگی کے درمیان چینی وزیر دفاع جنرل ویئی فینگے نے امریکہ کو انتہائی سخت لہجہ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ جنگ چاہتا ہے تو چین جنگ کے لیے تیار ہے اور اگر مذاکرات چاہتا ہے تو چین کے دروازے کھلے ہیں۔ چینی وزیرِ دفاع نے سنگا پور میں منعقدہ علاقائی سیکیورٹی کی ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ امریکی بحریہ تائیوان اور جنوبی چین کے سمندر کے پانیوں میں مداخلت سے باز رہے۔چینی وزیر دفاع نے امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں مداخلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دنیا بھر کے لیے تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے مزیدکہا ہے کہ اگر کسی نے بھی چین کے تائیوان کے ساتھ معاملے میں مداخلت کی تو چین آخری حد تک جنگ لڑے گا۔ پیپلز لبریشن آرمی کے جنرل کی وردی میں ملبوس جنرل ویئی فینگے نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'چین کو تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا انجام بہت برا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’چین تائیوان کو اپنے لیے ایک مقدس سرزمین قرار دیتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کو حاصل کرنے کے لیے فوجی...

دہشت گردی کے مضر اثرات سماجی زندگی پر

عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے نتیجہ میں بے قصور لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں اور ان حملوں میں بچے بوڑھے ،جوان ،مرد اور عورتیں سبھی شامل ہوتے ہیں۔بلا شبہ فوری طور پر تو یہی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں لیکن دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جس کے اثرات بڑے دیر پا اور ہمہ گیر نوعیت کے ہوتے ہیں۔ خاص طور سے ایسے سماج بطور خاص متاثر ہوتے ہیں جن میں مختلف فرقوں اور نسل کے لوگ بستے ہیں اور روایتی طور پر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی سطح پر جڑے ہوتے ہیں۔دہشت گردی مذہب کے نام پر فروغ دی جائے یا نسل کے نام پر یا کسی بھی عنوان سے اسے پروان چڑھایا جائے یہ انسان اور انسانی تہذیب کی تباہی کا سامان فراہم کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی پیمانے پر دہشت گردی نے کافی تباہی اور تاراجی مچائی ہے۔ ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہے جن کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لئے پوری عالمی برادری کو مشترکہ طور پر نہ صرف جدو جہد کرنی چاہئے بلکہ اس کی جڑوں تک پہنچ کر اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہندوستان خود بھی ایک لمبے عرصے سے دہشت گردی کا شکار ر...