موضوع: پاکستان میں جمہوریت کی بدتر ہوتی صورت حال
جنرل مشرف کے زوال کے بعد 2008 میں جب پاکستان میں دوبارہ جمہوریت بحال ہوئی تو ایک رجحان تو یہ دیکھنے میں آیا کہ اہم سیاسی پارٹیوں نے سنبھل سنبھل کر قدم آگے بڑھانا شروع کیا اور آپسی رقابتوں کو اس حد تک آگے نہ بڑھنے دیا کہ فوجی جنرل اس کا ناجائز فائدہ اٹھاسکیں۔ اس کا اتنا اثر توضرور ہوا کہ تمام کوششوں کے باوجود جمہور دشمن طاقتیں براہ راست اقتدار سے متعلق امور میں مداخلت کرنے سے گریز کرتی رہیں لیکن اصل طاقت بہرحال فوج ہی کے پاس رہی اور خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی تھی جس نے جیسے تیسے 5 سال کا ٹرم پورا کرلیا تھا۔ پہلی بار پاکستان میں کسی حکومت نے اپنی مدت کار پوری کی تھی۔ پھر 2013 میں عام انتخابات ہوئے او رپاکستان مسلم لیگ نواز نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ اس حکومت نے بھی پانچ سال کا بڑا ٹرم پورا کرلیا لیکن دونوں میں سے کسی بھی حکومت کے وزیراعظم نے اپنا ٹرم پورا نہیں کیا کیونکہ حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ انھیں وقت سے پہلے استعفی دینا پڑا۔ نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران سویلین حکومت کی بالادستی قائم کرنے کی کافی...