بشکیک میں مودی-عمران ملاقات کا امکان کم

ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں بعض حلقے یہ توقع کررہے تھے کہ جب دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کرغستان  کی راجدھانی بشکیک میں 13 اور 14 جون کو منعقد ہونے والی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے جائیں گے تو الگ سے بھی ہندوستان اور پاکستان کی سربراہان حکومت آپس میں ملیں گے اور باہمی معاملات پر کچھ بات چیت کریں گے۔لیکن جمعرات کو ہندوستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے درمیان کسی طرح کی ملاقات یا بات چیت کا امکان نہیں ہے کیوں کہ ایسا کوئی پروگرام بنا ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کافی تلخی اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ پچھلی باتوں کو اگر نظر انداز بھی کردیا جائے اور صرف حالیہ مہینوں کی بات کی جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے صبروتحمل کی بھی ایک انتہا ہوگی۔ پلواما میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے خودکش بم کے ذریعہ چالیس سے زیادہ سی آرپی ایف کے جوانوں کو شہید کردیا تھا۔ ہندوستان نے اس واقعے کے بعد بالا کوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی تھی کیوں کہ اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ پاکستان کی دہشت گرد تنظیمیں اکثر ایسے حملوں کا منصوبہ بناتی ہیں اور جب ہندوستان کا رد عمل سامنے آتا ہے اور وہ پاکستان سے اس بات کی شکایت کرتا ہے تو پاکستانی حکام سرے سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان حملوں میں کسی پاکستانی تنظیم یا گروپ کا ہاتھ نہیں ہے۔ پلواما حملے کے بعد بھی حسب معمول پاکستان نے یہی کہا کہ کسی پاکستانی تنظیم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ حملے کے فورا بعد جیش محمد نے خود اس کی ذمہ داری لی تھی، لیکن پاکستان کی حکومت نے اس کے باوجود انکار کیا اور ثبوت کی رٹ لگائی۔
ہندوستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ وہ اپنے طورپر دہشت گردوں کو یہ باور کرائے کہ پانی سرسے اونچا ہوچکا ہے۔ بالاکوٹ کی اسٹرائیک ہندوستان کی اسی نسبتا ً بدلی ہوئی حکمت عملی کا  اظہار تھی۔ اب ہندوستان کا یہی موقف ہے کہ جب تک دہشت گردی کا سلسلہ نہیں رکتا اس وقت تک کسی طرح کی بات چیت کا کوئی امکان نہیں پیدا ہوسکتا۔ اب پاکستان کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں تک ٹھوس یا قابل عمل ثبوت پیش کرنے کی بات ہے تو ایک بار نہیں متعدد بار معتبر ثبوت مختلف حملوں کے تعلق سے پاکستان کو پیش کیے جاچکے ہیں ۔ لیکن پاکستانی حکام کا رویہ ہمیشہ ایسا رہا کہ گویا وہ دہشت گردوں کا بچاؤ کرنا  اپنی اولین ذمہ داری تصور کرتے ہیں۔ ممبئ حملوں سے متعلق ایسی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی جو پختہ ثبوت کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ یا شک پیدا کرے لیکن اب تک ان دہشت گردوں کے خلاف عدالتی کارروائی بھی آگی نہ بڑھی جن پر پاکستان میں مقدمہ درج کیا گیا ، الٹے اس حملے کے سب سے بڑے منصوبہ ساز ذکی الرحمان لکھوی کو ضمانت بھی مل چکی ہے اور وہ آزاد ہے۔
عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے اور اس کے بعد بھی ہند-پاک رشتوں کو بہتر بنانے پر کافی زور دیا تھا لیکن پتہ یہ چلا کہ دہشت گردی کے معاملے میں ان کے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خیال میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ فرق ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ ایک خیال یہ بھی ہے کہ وہ خود فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنما ہیں اورانہیں برسراقتدار لانے میں فوج نے نمایاں رول ادا کیا تھا۔
بہرحال، عمران خان اگر واقعی سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہند-پاک تعلقات میں بہتری آئے تو اب یہ انہی کی ذمہ داری ہوگی کہ اپنی حکومت کو متحرک بنائیں اور دہشت گردی پر روک لگانے کے لیے ایسے مناسب اقدام کریں جن سے ہندوستان کا اعتماد بحال ہو۔ فی الحال یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہندوستان دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو ایک ناقابل اعتبار ملک تصور کرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ