Posts

Showing posts from August, 2019

موضوع: پاکستان گومگو کی حالت میں 

آج کی بات پاکستان اس وقت ہندوستانی ریاست جموں وکشمیر پر اپنے موقف کو لے کر گومگو کی صورتحال سے دوچار ہے۔ جب سے ہندوستان نے دفعہ تین سو ستّر منسوخ کرکے ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیا ہے، تب سے پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلام آباد تو جنگی جنون پیدا کرنے پر بھی اتر آیا ہے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ یہاں تک کہ مغربی ایشیاء کے اس کے طاقتور اتحادیوں سے بھی اسے مایوسی ہی حاصل ہوئی۔ یہ پہلی بار ہے جب عالم اسلام کشمیر مسئلہ پر بالکل خاموش ہے اور اگر کچھ باثر ملکوں نے زبان کھولی بھی ہے تو اس نے نئی دہلی کے موقف کی ہی تائید کی ہے کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔پاکستان کشمیر معاملہ پر اپنا رونا جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی ملک نے اس کے اس آہ بکا کا نوٹس لیا ہے تو وہ ہیں ترکی اور ملیشیا۔ لیکن ان ملکوں نے کشمیر معاملہ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ملیشیاء نے تو ہندوستانی مفرور ذاکر نائک پر پابندی عائد کردی جس نے ملیشیائی سماج کے خلاف بیان دیا تھا اور جس کے باعث لوگوں میں کافی غم وغصہ تھا۔ اقوام متح...

موضوع:کشمیر پر پاکستان کی بوکھلاہٹ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا اور وہ کافی دیر تک اس کا راگ الاپتے رہے۔ اگر ہم ان کی تقریر کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو وہ تضادات کا پلندہ نظر آئے گی۔ انھوں نے جہاں ایک طرف یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے وہیں اس کا شکوہ بھی کیا کہ دنیا بالخصوص مسلم ممالک کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کو اپنی شاندار سفارتی کامیابی قرار دیا وہیں یہ بھی کہا کہ عالمی ادارے عام طور پر طاقتور کا ساتھ دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ یاد دلاتے ہوئے کہ سوا ارب مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنے کی ذمہ داری اس پر عاید ہوتی ہے۔ انھوں نے جہاں یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کی کہ ان کی سفارتی کوششوں سے دنیا کے ملکوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی حکومت ہند کے اقدام کی مذمت کی ہے وہیں یہ بھی کہا کہ کیا مسلم اور دیگر ممالک صرف اپنے اقتصادی مفادات کو ہی دیکھیں گے۔ ان کی تقریر سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ بالک...

متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کو ایوارڈ دیئے جانے پر پاکستان کا فرسٹریشن

پاکستانی حکمرانوں کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے معاملے میں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے نہ صرف یہ کہ خود دیکھتے ہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پوری دنیا بالخصوص مسلم ممالک بھی اسی عینک سے دیکھیں۔ نہ صرف کشمیر بلکہ دوسرے تمام معاملات کے بارے میں بھی ان کی ذہنیت یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے تمام قومی مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی ہمنوائی کرتی رہے۔ چنانچہ حال ہی میں ایک ایسے وقت میں جب کشمیر سے متعلق ہندوستان نے کچھ انتظامی نوعیت کے فیصلے کئے اور پاکستان نے ان اندرونی کارروائیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لاکر اسے بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کی تو متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ یعنی ‘‘آرڈر آف زید’’ سے نوازا۔ ظاہر ہے اس پر پاکستان کے حکمراں تلملا اٹھے۔ پاکستان کا فرسٹریشن کتنا شدید ہے ، اس کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات کا اپنا سرکاری دورہ بھی احتجاجاً منسوخ کردیا، جس کا مطلب یہی ہوا کہ انہوں نے سرکاری ...

موضوع: جاپان اورجنوبی کوریا کے درمیان تجارتی کشیدگی

مشرقی ایشیاء کے دو بڑے ممالک، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت کو لے کر اس وقت کافی کشیدگی ہے۔ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے جاپان نے ہائڈروجن فلورائڈ گیس ، فلورینیٹیڈپولیمائڈاور فوٹو ریزسٹس سمیت تین کیمیکل کے جنوبی کوریا کو برآمد کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ کیمیکل اعلیٰ ٹکنالوجی کی صنعتوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ جاپان کو خدشہ ہے کہ یہ کیمیکل فوجی مقاصد کیلئے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان نے جنوبی کوریا کو اس فہرست سے بھی باہر کردیا ہے جو اس کے بھروسے مند تجارتی پارٹنروں کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اگر تجارتی کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو عالمی تجارت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ جاپان جنوبی کوریا کی مشہور ومعروف کمپنیوں کو کیمیکل سپلائی کرتا ہے۔ یہ تمام کمپنیاں کیمیکل کی اپنی ضروریات کیلئے جاپان پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ یہ کیمیکل چپس وغیرہ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی قلت سے جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ پابندیوں کے تحت جنوبی کوریا سامان بھیجے سے پہلے جاپانی برآمد کاروں کو حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔...

وزیراعظم مودی کی جانب سے ثالثی کی تجویز مسترد: ٹرمپ مطمئن

پاکستان نے اپنے ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت کشمیر کے سوال پر جہاں ایک طرف بین الاقوامی برادری میں ہندوستان کے خلاف اپنے سفارتی ترکش سے تیر پر تیر چلائے ہیں ۔ دوسری طرف اندرون پاکستان اشتعال انگیز باتیں کرکے لوگوں کو وہاں کے حکام ورغلاتے اور بھڑکاتے رہے۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیر کے معاملے کو کسی صورت بین الاقوامی رنگ دیا جائے اور ہندوستان اس سوال پر عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ جائے۔ پاکستانی حکمراں عالمی برادری کا ایک حصہ ہونے کے باوجود نہ تو عالمی حالات و واقعات کا ادراک کرپائے اور نہ ہی یہ سمجھ پائے کہ دنیا کی اس وقت، سمت اور رفتار کیا ہے یا یہ کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن سے دنیا فی الوقت نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یعنی جب دنیا کے لوگ عالمی برادری کو درپیش بڑے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں تو پاکستان، ہندوستان کے خلاف کشمیر کا سوال اٹھائے اٹھائے پھر رہا ہے۔ پتہ نہیں اب بھی پاکستانی حکمرانوں کو یہ احساس ہوا کہ نہیں کہ ان کی ڈفلی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک کام تو وزیراعظم عمران خان نے یہ کیا کہ چونکہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے طالبان سے بات چیت کررہا ہے اور اس حوالے سے...

ایف اے ٹی ایف گروپ کی جانب سے پاکستان کی سرزنش

ہندوستان کے خلاف ویسے تو پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ہمہ وقت جاری رہتی ہیں اور اپنی کوششوں کو کامیاب ثابت کرنے کی دھن میں وہاں کے سفارت کار دروغ گوئی سے کام لینے میں بھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ کشمیر کے معاملے میں حالیہ دنوں میں پاکستانی سفارت کاروں نے اپنی سفارتی گراوٹ کا ایسا عریاں مظاہرہ کیا ہے کہ خود ہی بے نقاب ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی غیر رسمی بند کمرےمیں ہونے والی میٹنگ کو اپنی شاندار فتح قرار دے کر اور دھنڈورا پیٹ کر انہوں نے اپنی جو سبکی کرائی ، اس سے شاید انہیں کوئی سبق نہیں ملا۔ اسی دوران ایک اور مضحکہ خیز بات یہ ہوئی کہ پاکستان کے سفیر برائے سری لنکا بہت دور کی کوڑی لائے اور یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ صدر سری لنکا نے کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ‘‘منتازعہ علاقہ’’قرار دیا ہے۔ لیکن سری لنکا کی حکومت نے پاکستانی سفیر کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے فوراً ہی اس کی تردید کی کہ صدر نے اس سلسلے میں ایسا کچھ کہا نہیں ہے۔ کیا پاکستان ن کے ارباب اختیاراس طرح کی جھوٹی خبریں پھیلا کر عالمی برادری میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ...

اگر دہشت گردی بند نہ ہوئی تو باہمی گفتگو بھی ممکن نہیں

پاکستان نے اپنے طرز پر بھرپور سفارتی کوشش کی کہ کشمیر کے سوال پر بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراسکے لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی غیر رسمی اور بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ کے بعد خود پاکستان کو بھی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ عالمی برادری کشمیر معاملے کو اس طور پر نہیں دیکھتی جس طور پر پاکستان نے دکھانے کی کوشش کی۔ توقع کے عین مطابق، چین کے سوا باقی کسی ملک نے اسے بین الاقوامی مسئلہ نہ سمجھا اور بیشتر ممبران نے یہی رائے ظاہر کی کہ یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہیے۔ البتہ عالمی برادری کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تشویش ضرور لاحق ہے کیونکہ دونوں ملک بہرحال نیوکلیائی صلاحیت کے حامل ہیں اور عالمی برادری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پیچیدگیوں اور کشیدہ ماحول کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم سے فون پر رابطہ قائم کیا اور کشیدگی کم کرنے کی بات کہی۔ وزیراعظم مودی ن...

موضوع:پاک کے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا اندیشہ

تقریباً پوری دنیا یہ تسلیم کر چکی ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے لئے مہلک ہے، اس کا خاتمہ ضروری ہے، اس لئے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری متاثر کن کارروائی چاہتی ہے، باتوں سے بہلنا نہیں چاہتی مگر پاکستان دہشت گردی ختم کرنے کے حوالے سے آج تک باتیں ہی کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس نے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کی نگرانی کرنے والے ادارے فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے، جسے مختصرا ً ایف اے ٹی ایف کہا جاتا ہے، جون 2018 میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو ایک سال کی مہلت دی گئی تھی کہ ایک سال میں وہ اس کے دہشت گردی مخالف 27 نکاتی منصوبے کوعملی جامہ پہنائے یا بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے لئے تیار رہے لیکن پاکستان نے اس موقع کو گنوا دیا ہے، کیونکہ دہشت گردی مخالف اقدامات کے سلسلے میں اس نے جو رپورٹ ایف اے ٹی ایف میں جمع کی ہے، اس میں کئی خامیاں پائی گئی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف سے وابستہ 9گروپوں میں سے ایک ایشیا پیسیفک گروپ نے یہ پایا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بے حد اہم 11پیمانوں میں سے 10 میں پا...

موضوع:ہند۔نیپال تعلقات کی نئی بلندیاں

نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو میں حال ہی میں ہند۔نیپال مشترکہ کمیشن کی پانچویں میٹنگ ہوئی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی۔ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکر ڈھاکہ سے کٹھمنڈو پہنچے تھے جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کے رہنماؤں کے ساتھ آپسی دلچسپی کے امور اور علاقائی مسئلوں پر تعمیری بات چیت کی۔ کٹھمنڈو کی میٹنگ میں ہندوستان اور نیپال کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ سے قبل جناب جے شنکر نے نیپال کے وزیراعظم کے پی اولی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس سال مئی میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد کسی بھی ہندوستانی وزیر کا نیپال کا یہ پہلا دورہ تھا۔ نیپال کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اعلیٰ سطحی دوروں سے نیپال اور بھارت کے درمیان تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال اپریل میں وزیراعظم اولی نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم مودی اسی سال مئی اور اگست میں نیپال کے دورے پر گئے تھے۔ ہند۔نیپال مشتتر...

جنرل باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع

بالآخر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی خبر آہی گئی۔ اب تک جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کے بارے میں جو باتیں ہورہی تھیں، انہیں محض قیاس آرائی سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ لیکن اب باقاعدہ سرکاری طور پر اس بات کی توثیق ہوگئی کہ وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے یہ باقاعدہ اعلان ہوا ہے کہ آنے والے نومبر میں ان کی مدت ملازمت ختم ہورہی ہے لیکن انہیں مزید تین سال کے لئے آرمی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جارہا تھا کہ چونکہ عمران خان ایک ‘‘بااصول’’ سیاست داں ہیں اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کریں گے لیکن جو تجزیہ کار اور مبصر پاکستانی فوج کی طاقت اور سول ملٹری رشتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ بہرحال یہ جانتے تھے کہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہیں، ہوا بالآخر وہی ہے جو فوج چاہتی ہے۔ ان تجزیہ کاروں نے اسی وقت یہ بھانپ لیا تھا کہ جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کی تیاری ہورہی ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے قومی ترقیاتی کونسل کے نام سے ایک سیویلین ادارہ قائم کیا اور اس میں جنرل ب...

ہندوستانی وزیر خارجہ کا بنگلہ دیش کا پہلا دورہ

وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں۔ یہ ان کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد وزیراعظم شیخ حسینہ کو اکتوبر میں ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کا دعوت نامہ پیش کرنا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ جناب جے شنکر نے کل ڈھاکہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی جو کافی تعمیری تھی۔ اس ملاقات کا مقصد اکتوبر میں وزیراعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی ان کی ہم منصب شیخ حسینہ کے درمیان ملاقات کے لئے زمین تیار کرنا تھا۔ ڈھاکہ میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران جناب جے شنکر نے محترمہ شیخ حسینہ کو وزیراعظم نریندر مودی کا دعوت نامہ پیش کیا۔ ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دینے کے لئے شیخ حسینہ نے جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی اکتوبر میں ان کے دورے کی منتظر ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں ایک بیان میں کہا کہ جناب جے شنکر اور محترمہ شیخ حسینہ کی ملاقات تعمیری رہی جس کے دوران آپسی دلچسپ...

کابل میں شادی کا جشن ماتم اورآہ و زاری میں تبدیل

اسے داعش کا نام اب بھی دیا جاتا ہے یعنی دولت اسلامیہ عراق و شام لیکن عراق اور شام کے ان علاقوں سے اس کا قبضہ ختم ہو چکا ہے جہاں وہ کبھی قابض تھا۔ لیکن اس کے اتحادی اور گرگے کچھ دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے لگے تھے ۔ جنگ زدہ اور تباہ حال افغانستان بھی انہی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اس گروپ کے منحوس قدم 2014 میں ہی محسوس کئے گئے تھے۔ انگریزی میں اس کا مختصر نام آئی ایس یعنی اسلامک اسٹیٹ ہے لیکن اس مبصر کی ناقص رائے میں اس کا نام سیتنک اسٹیٹ ایس ایس ہونا چاہئے، بلکہ یہ بھی اس کے ساتھ رعایت ہو گی کیونکہ شیطان سے بھی ایسی غیر انسانی اور غیر اسلامی حرکتوں کی امید نہیں کی جا سکتی۔ مذہب یا مسلک کی بنیاد پر انسانی جسم کے چیتھڑے اڑانا کسی ایسے گروپ کا کام نہیں ہو سکتا جو اپنے نام کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہو۔ گزشتہ سنیچر یعنی 18 اگست کو کابل کے ایک مغربی حصے میں ایک شادی کی تقریب میں ایک خود کش بمبار نے زبر دست دھماکہ کیا اور شادی کے ہال میں موجود دولہا دلہن کے رشتہ دار اور مہمانوں کی ایک بڑی تعداد لقمہ اجل بن گئی۔ ابتدائی خبروں کے مطابق63 افراد ہلاک اور200 کے قریب زخمی ہوئے، یہ دھماک...

کشمیر معاملے کو ‘بین الاقوامی مسئلہ’ بنانے کا پاکستان کا دعوی مضحکہ خیز

اگر گزشتہ جمعہ کو بند کمرے میں ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر رسمی میٹنگ کے بارے میں پاکستان کا یہ دعوی کہ یہ اس کی کامیابی کی علامت ہے تو یہ کامیابی اسے مبارک ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے جو بھرپور سفارتی کوششیں اس بات کے لئے کی تھیں کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ممبران کوئی باقاعدہ میٹنگ کریں گے اور اس میں ہندوستان کے دفعہ 370 سے متعلق فیصلے کی مذمت کریں گے، یا کوئی قرار داد پاس کریں گے یا ایسا کوئی بیان ہی جاری کریں گے جس میں اس معاملے میں کسی طرح کی تشویش ظاہر کریں گے تو ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں۔ محض ایک غیر رسمی سی بند کمرے میں میٹنگ ہوئی اور پاکستان کے اس مطالبے کو رد کردیا گیا کہ باقاعدہ اور رسمی میٹنگ کی جائے۔ پاکستان کی حمایت میں صرف چین نے ضرور اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی کونسل کے باقی کسی ممبر نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ حتیٰ کہ میٹنگ کے اختتام پر کوئی غیر رسمی بیان تک جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی نے بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کو پاکستان کی ...

موضوع: کشمیر معاملے کو افغانستان سے جوڑنے کی، پاکستان کی ناکام کوشش 

جموںوکشمیر کی تنظیم نو کے سلسلے میں ہندوستان نے جو انتظامی فیصلہ کیا تھا، اس کے بعد پاکستان نے جو رد عمل ظاہر کیا، اسی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی سفارتی کوششیں تیز تر ہوجائیں گی اور وہ اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی بھر پور کوشش کرے گا، سو اس واقعے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ اس نے گھبراہٹ کے عالم میں ہر وہ پینترہ استعمال کرنے کی کوشش شروع کردی، جس سے بین الاقوامی برادری اس جانب متوجہ ہوسکے، حالانکہ یہ بھی صاف ظاہر ہوگیا کہ اس کی یہ تمام بے سر پیر کی تگ و دو بے سود ثابت ہوں گی۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ بھی ہے کہ اس نے ایک طرح کی دھمکی یہ دی ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد یعنی افغانستان سے ملنے والی سرحد سے اپنی فوجیں ہندوستان کی سرحد کی طرف منتقل کرسکتا ہے، اس کا ایک مقصد امریکہ کو یہ باور کرانابھی ہوسکتا ہے کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کی جو بات چیت چل رہی ہے، اس میں رخنہ پڑے گا اور وہ ہندوستان پر کسی طرح کا دباؤ ڈالے گا، لیکن پاکستانی حکام اور سفارت کار یہ بھول رہے ہیں کہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کا جو فیصلہ ہے وہ ہندوستان کا سو فیصد اندرونی معاملہ ہے اور اس معاملے میں و...

موضوع: عالمی تجارتی تنظیم سے الگ ہونے کی صدر ٹرمپ کی دھمکی 

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی تنظیم ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تعلق سے ، جسے ڈبلیو ٹی اوکے مختصر نام سے بھی جانا جاتا ہے حال ہی میں پھرکچھ ایسی باتیں کہہ دی ہیں جس سے دنیا بھر کے اقتصادی اور تجارتی حلقوں ، خاص طور سے ترقی پذیر ملکوں میں کسی قدر تشویش پائی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ضروری سمجھا گیا تو امریکہ دنیا کے اس سب سے بڑے بین الاقوامی تجارتی ادارے سے الگ ہو جائے گاکیونکہ ان کے بقول ترقی پذیر ممالک اس کا بے جا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ڈونالڈٹرمپ نے ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ یہ ادارہ امریکہ کی بات کم سنتا ہے اور چین ، بھارت اور دوسرے ملکوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ ڈبلیو ٹی او امریکی صدر کے مطابق اِن ترقی پذیر ملکوں کے بارے میں عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ یہ ملک ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں جب کہ یہ اب ترقی پذیر ملک نہیں رہ گئے ہیں پھر بھی انھیں بہت سی رعایتیں ملی ہوئی ہیں۔ ڈبلیو ٹی او میں زیرِ بحث آنے والے تجارتی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے امریکہ جب بھی ان تنازعات پر اپنا کیس رکھتا تھا تو اسے شکست کا منھ دیکھنا پڑتاتھا او...

 موضوع : وزیراعظم کے خطاب میں نئے بھارت کے ویژن کی عکاسی 

وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے خطاب میں ایک ارب تیس لاکھ سے بھی زیادہ ہم وطنو کو ایک سخت سیاسی اور سماجی پیغام دیا۔ درحقیقت ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا کہ کسی وزیراعظم نے بڑھتی آبادی اور ملک کی ترقی میں اس کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرنے کے لئے یوم آزادی کو منتخب کیا ہو۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادی کے معاملہ میں 2027تک ہندوستان چین سے بھی آگے نکل کر وہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور اگر اس بڑھتی آبادی پر قابو نہیں پایا گیا تو لاکھوں لوگوں کو غربت سے نجات دلانے کی کوششوں پر پانی پھر جائے گا اور غریب عوام کے لئے جو فلاحی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں ان پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت ہر کنبہ کو کھانا پکانے کا صاف ایندھن، بجلی، مکانات، پینے کا صاف پانی، صحت کی سہولیات اور ٹائلٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی تو غریب لوگوں کو اس طرح کی سہولیات اور خدمات مہیا کرانے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ اگرچہ بڑھتی آبادی کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا ...

صدر جمہوریہ کی نئے بھارت کے تعمیر کی اپیل

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 73 ویں یوم آزادی کی ماقبل شام قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ایک خاص موقع پر اپنی آزادی کے 72 سال مکمل کررہا ہے۔چند ہی ہفتے بعد 2 اکتوبر کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ گاندھی جی ہماری جدو جہد آزادی کے سب سے عظیم ہیرو تھے۔وہ سماج کو تمام طرح کی بے انصافی سے نجات دلانے کی کوششوں میں ہمارے رہنما بھی تھے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج کا ہندوستان مہاتما گاندھی کے زمانے والے ہندوستان سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے باوجود گاندھی جی کی رہنمائی کی معنویت آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ انہوں نے ماحولیات کے تئیں حساس بننے پر زور دیا اور فطرت کے ساتھ تال میل پیدا کرکے زندگی گزارنے کی تعلیم بھی دی۔اس وقت ملک میں جاری بہت سی کوششیں گاندھی جی کے خیالات کو ہی حقیقت کا روپ دے رہی ہیں۔جناب کووند نے کہا کہ یہ سال گرونانک دیو جی کی 550 ویں جینتی کا سال بھی ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین سنتوں میں سے ایک ہیں۔سکھ پنت کے بانی کے طور پر لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے عقیدت و احترام کا جو جذبہ ہے، وہ صرف ہمارے سکھ بھائی بہنوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ ہندوستان او...

امریکہ۔ طالبان بات چیت اختتام پذیر: سمجھوتے کا انتظار

کابل سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق امریکہ اور طالبان کے مابین گزشتہ سال کے اوائل سے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بات چیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ بالآخر اختتام پذیر ہوا لیکن سمجھوتے کی تفصیلات کے بارے میں ابھی کسی طرح کا کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اس بات چیت کا اصل مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے 2001 میں افغانستان میں جو جنگ چھیڑی تھی، اس کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے وہ اپنی قیادت والی فوجیں وہاں سے واپس بلالے گا اور اس کے عوض اسے طالبان سے یہ گارنٹی چاہیے کہ اس کی فوجوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا نیز یہ کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پیر کو کابل میں طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ بات چیت کا آٹھواں اور قطعی دور دوحہ میں ختم ہوا لیکن سمجھوتے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اب دونوں فریقوں کے نمائندے اپنی اپنی قیادت سے رجوع کریں گے۔ اس کے بعد ہی اگلے قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ حالانکہ گزشتہ ہفتہ طالبان کے ایک دوسرے ترجمان نے یہ ...

کشمیر سے متعلق پاکستان کا شدید رد عمل منفی سوچ کا آئینہ دار

کشمیر سے متعلق ہندوستان کے بعض انتظامی اور قانونی نوعیت کے فیصلوں کے سلسلے میں پاکستان نے جو شدید نوعیت کا ردعمل ظاہر کیا ہے وہ کسی بھی اعتبار سے اس کے حق میں کسی مثبت نتیجہ کا حامل نہیں ثابت ہوگا بلکہ سفارتی اعتبار سے اسے عالمی برادری میں مزید الگ تھلگ کرنے کا باعث ثابت ہو سکتاہے۔ اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ہندوستانی ہائی کمشنر کو پاکستان سے واپس بھیجنے ،تجارتی تعلقات توڑنے اور15 اگست کو جموں و کشمیر کے عوام کے تئیں نام نہاد یکجہتی کے اظہار کے طور پر ‘یوم سیاہ’ منانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ سفارتی تعلقات کے اعتبار سے مضر اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان کے اس شدید رد عمل کو انگریزی محاورے میں ‘نی جرک’ رد عمل ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹکنا لوجی فواد چودھری کا رد عمل شاید سب سے زیادہ شدید تھا۔ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا کہ ہمیں لڑنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ لڑائی کوئی روایتی لڑائی نہیں ہوگی۔بلکہ واشنگٹن سے لندن تک اور ریاض سے تہران تک پوی دنیا اس لڑائی کی شدت کو محسوس کرے گی۔ انہوں نے عالمی براد...

موضوع: ریپوریٹ میں کمی کیوں ضروری تھی؟

گذشتہ کچھ عرصہ سے ہندوستانی معیشت کے بارے میں جو جانکاریاں موصول ہو رہی تھیں ان سے عوام کے ساتھ ساتھ سرکار کا بھی متفکرہونا فطری تھا، بالخصوص اسی لئے کہ ان دنوں جاری مندی کا ماحول ایک اچھی خاصی حد تک بیرونی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جن پر ہمارا کچھ زیادہ اختیار نہیں ہوتا۔ لہذا ابھی حال ہی میں زیزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ریپوریٹ میں جو کٹوتی کی ہے وہ ایک حد تک متوقع تھی۔ ریپوریٹ سود کی وہ شرح ہوتی ہے جس پر کسی ملک کا مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو رقم اُدھار دیتا ہے اور یہ تجارتی بینک اس رقم کو قرضہ جات کی شکل میں عوام کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ بہر کیف زیزرو بینک نے اس دفعہ ریپوریٹ میں جو 35 پوائنٹ کی کمی کی ہے وہ ضرور غیر متوقع تھی، کیونکہ اس شرح میں عموماً 25 یا 50پوائنٹ کی کمی کرنے کا رواج رہا ہے۔ لیکن ریزرو بینک کے مطابق 25پوائنٹ کی کمی موجودہ حالات میں ناکافی ثابت ہوتی جبکہ بین الاقوامی صورتحال کے مد نظر اور بعض دوسرےحقائق کی روشنی میں 50 پوائنٹ کی کمی قدرے بارآور اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ غور طلب ہے کہ ریپوریٹ میں 35 پوائنٹ کی کمی کا مطلب 0.35 فیصد کی کمی ہے جس کے بعد ریپوریٹ کم ہو کر...

موضوع: کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کا اعتراض بے جواز

پاکستان نے جموں و کشمیر کے تعلق سے لیے گئے مودی حکومت کے فیصلے پر جس طرح کا رد عمل ظاہر کیا ہے اس کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔پاکستان نے اس معاملے پر نہ صرف یہ کہ بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے اپنا احتجا درج کرایا بلکہ بھارت سے اپنے سفارتی اور تجارتی رشتوں میں کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کا ہمیشہ سے یہ بجا موقف رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر پاکستان سے کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ریاست میں پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر جس طرح کشمیری عوام کی زندگی دشوار کرتے رہے ہیں اور ریاست کے امن و چین سے کھلواڑ کرتے رہے ہیں اس سے بھی عالمی برادری پوری طرح واقف ہے۔پاکستان کی ان سرگرمیوں نے کشمیر کی ترقی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔مرکزی حکومت کی یہ واضح رائے ہے کہ پاکستانی سرگرمیوں کو کشمیر کے خصوصی درجے کی آڑ میں پناہ ملتی رہی ہے ۔حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ ریاست کی ترقی کے لیے اور اسے باقی ملک کے برابر لانے کے لیے وہاں کے لیے آئین میں دی گئی دفعہ 370 کی کچھ شقوں کو ختم کیا جانا چاہیے اور ایسا ہی کیا گیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ امت شاہ نے بہت واضح الفاظ میں یہ بھی کہا ہے کہ مر...

موضوع: افغانستان میں صدارتی انتخاب کے موقع پر بڑے حملوں کا امکان

اٹھائیس ستمبر کو افغانستان میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔ یہ الیکشن ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے دوحہ میں ہونے والی بات چیت اپنے اہم اور آخری مراحل میں پہنچنے والی ہے۔ لیکن ایک بات بڑے واضح طور پر یہ محسوس کی گئی ہے کہ جہاں تک طالبان کا سوال ہے تو اس گروپ کو افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے قطعی کوئی فکر لاحق نہیں ہے۔ اسے اگر کوئی فکر ہے تو بس یہ کہ کسی صورت امریکہ کی قیادت میں غیرملکی فوجیں پورے طورپر افغانستان سے واپس چلی جائیں تاکہ اس کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنے کی راہیں ہموار ہوسکیں۔افغانستان میں بہرحال اس وقت ایک آئینی طورپر منتخب حکومت کام کررہی ہے لیکن طالبان کی لیڈرشپ نہ تو اس سے بات چیت کے لیے راضی ہوئی اور نہ ہی تشدد کا راستہ ترک کیا۔ امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین جیسے جیسے بات چیت آگے بڑھی ویسے ویسے طالبان کے حملے بھی بڑھتے گئے۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اچانک فیصلے کرنے اور پھر اچانک یوٹرن لینے کے لیے بھی مشہور ہیں، پہلے تو افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا۔...

موضوع: جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کیلئے وزیراعظم کی یقین دہانی 

وزیراعظم نریندر مودی نے کل شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ ریاست جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی منسوخی کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس دفعہ کے تحت سابقہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ اسی ہفتہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی منظوری دی تھی ۔ اس طرح سابقہ ریاست مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم ہو گئی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرٹیکل370 اور 35 اے نے جموں کشمیر کو دہائیوں کی دہشت گردی، علیحدگی ، بدعنوانی اور کنبہ پروری کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے آزادی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے پاکستان لوگوں کے جذبات بھڑکارہا تھا اور اپنا مقصد پورا کرنے کیلئے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 42ہزار سے زیادہ ہندوستانی جموں و کشمیر میں مارے گئے ہیں جس کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے ملک کے قوانین جموں و کشمیر میں موثر طور پر نافذ نہیں ہوپاتے تھے۔ سابقہ ریاست میں سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں ، خواتین اور سماج کے محروم طبقو...

موضوع:کلبھوشن جادھو کی قونصلر تک رسائی کے معاملے میں غیر ضروری تاخیر 

کم و بیش 3 ہفتہ قبل دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن جادھو کیس میں ہندوستان کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ 17جولائی کو عدالت نے تقریباً اتفاق رائے سے یہ کہا تھا کہ 2017 میں ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کے فوراً بعد پاکستان نے ہندوستان کو اس گرفتاری کی اطلاع نہیں دی تھی اور نہ ہی ہندوستانی ہائی کمیشن کو یہ حق دیا کہ وہ ملزم سے مل کر اس کے لئے قانونی نمائندگی فراہم کرنے کا انتظام کر سکے۔ اس طرح پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے ایسا کر کے ویانا کنونشن کی کھلی ہوئی خلاف ورزی کی تھی ۔ لیکن اس فیصلے کے اِتنے دن بعد بھی پاکستان کی طرف سے جادھو کی قونصلر تک رسائی کو آسان بنانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ چند روز قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے یہ پیشکش کی تھی کہ اسلام آباد میں دوپہر کے وقت جادھو ہندوستانی کمشنر سے ملاقات کر سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی کہ جوکچھ ہوگا وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں ہوگا اور اس ملاقات کے دوران اس کمرے میں ایک پاکستا...