موضوع : وزیراعظم کے خطاب میں نئے بھارت کے ویژن کی عکاسی 

وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے خطاب میں ایک ارب تیس لاکھ سے بھی زیادہ ہم وطنو کو ایک سخت سیاسی اور سماجی پیغام دیا۔ درحقیقت ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا کہ کسی وزیراعظم نے بڑھتی آبادی اور ملک کی ترقی میں اس کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرنے کے لئے یوم آزادی کو منتخب کیا ہو۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادی کے معاملہ میں 2027تک ہندوستان چین سے بھی آگے نکل کر وہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور اگر اس بڑھتی آبادی پر قابو نہیں پایا گیا تو لاکھوں لوگوں کو غربت سے نجات دلانے کی کوششوں پر پانی پھر جائے گا اور غریب عوام کے لئے جو فلاحی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں ان پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت ہر کنبہ کو کھانا پکانے کا صاف ایندھن، بجلی، مکانات، پینے کا صاف پانی، صحت کی سہولیات اور ٹائلٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی تو غریب لوگوں کو اس طرح کی سہولیات اور خدمات مہیا کرانے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ اگرچہ بڑھتی آبادی کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایک چھوٹا کنبہ خوشی، خوشحالی اور اچھی صحت کا اہم نسخہ ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر وزیراعظم نے یوم آزادی کے اپنے خطاب میں زور دینے کی کوشش کی ہے۔

اپنے سومنٹ سے زیادہ کے خطاب میں وزیراعظم نے تحفظ آب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آنے والے دنوں میں جل جیون مشن کو لے کر آگے بڑھے گی اور اس کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر کام کریں گی اور آنے والے برسوں میں ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ اس مشن پر خرچ کئے جائیں گے۔ 2018میں نیتی آیوگ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق دہلی، بنگالورو،چنئی اور حیدرآباد جیسے شہروں میں 2020تک زمینی پانی کی سطح صفر ہوکر رہ جائے گا۔ جس کی وجہ سے سو ملین لوگوں کو پانی ملنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے مرکزی حکومت جل جیون مشن شروع کرکے پانی کی قلت کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عوام کی شرکت کے بغیر کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس ضمن میں وزیراعظم کی پانی کے تحفظ کی مہم کو ایک عوامی مہم بنانے کی اپیل کافی اہمیت کی حامل ہے۔

وزیراعظم نے ماحولیات کو محفوظ بنانے کے لئے ملک کو پلاسٹک سے پاک بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کیمیائی کھاد کا استعمال نہ کریں تاکہ مٹی کی صحت کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ وزیراعظم کی اس اپیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کرۂ ارض کی کتنی فکر ہے۔ لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ انہیں کسانوں کی آمدنی کے بارے میں زیادہ فکر لاحق ہے۔ اس فکر کے تحت پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت 90ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو راست امداد فراہم کی جاسکے۔ اس اسکیم کے تحت 14کروڑ پچاس لاکھ کسانوں کے بینک کھاتوں میں ہر سال 6ہزار روپے منتقل کردئے جاتے ہیں۔ لیکن وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جو اعلانات کئے ان میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری کا اعلان بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ تینوں افواج کو ایک کمانڈ کے نیچے لانے کے لئے اس فیصلہ کا کرگل جنگ کے بعد سے انتظار تھا۔ مختلف فوجی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ عہدہ نہایت ضروری ہے۔ اس سے تینوں فوجوں کو اعلیٰ سطح کی قیادت ملے گی جس کے نیچے تینوں افواج مل کر مہمات کو انجام دیں گی۔ اس سے تینوں افواج میں تال میل بہتر ہوگا اور وہ کامیابی کے ساتھ دفاعی تیاریوں کو منظم کرسکیں گے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ 2014 اور 2019 کے درمیان اپنے پہلے دور میں وزیراعظم مودی کی حکومت نے عوام کی ضروریات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی جبکہ دوسرے دور میں امید ہے کہ عوام کی خواہشات کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو کام 70سال میں نہ ہو سکا وہ کام ان کی حکومت نے 70دنوں میں کرکے دکھادیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے متعلق دفعہ 370کو ختم کرکے سردار پٹیل کے خواب کو پورا کیا۔ تین طلاق جیسی رسم کو بھی ختم کیا گیا جس سے مسلم خواتین کو اس لعنت سے آزادی مل گئی۔ وزیراعظم نے ایک قوم ایک الیکشن کی بھی وکالت کی اور کہا کہ اس پر بحث ومباحثہ کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے ذریعہ اپنے ویژن اوراپنی حکومت کے منصوبوں کی طرف صاف اشارہ کردیا جن کا مقصد ایک نئے بھارت کی تعمیر کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ