Posts

Showing posts from June, 2020

موضوع: بھارت کا اصل کنٹرول لائن پر چین کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب

پچھلی کچھ دہائیوں سے چین بھارت کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجی بنیادی ڈھانچوں کو مضبوط کر رہا ہے جبکہ بھارت نے سرحد کی اپنی جانب بہت بعد میں بنیادی ڈھانچوں کو بہتر بنانا شروع کیا تھا ۔ بھار ت کی جانب سے اپنے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر و ترقی میں تیزی 2014 کے بعد ہی شروع ہوئی ۔ اپنے بارڈر پروجیکٹ کے تحت نئی دہلی سرحد کی اپنی جانب اب تک ایک ہزار کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کر چکا ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تین مرحلے ہیں جس کا پہلا مرحلہ تقریباً پورا ہونے والا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر و ترقی سے چین کو تشویش پیداہو گئی ہے کیونکہ اس سے اصل کنٹرول لائن کی نگرانی کرنا قدرے آسان ہو گیا ہے جو چین کو قطعی پسند نہیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرحد پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ دونوں ملکوں کی فوجوں کےد رمیان پہلا تصادم اس سال کی پانچ مئی کو لداخ میں پینگ گانگ سو اور شمالی سکم کے ناکولا میں ہوا جس میں دونوں ملکوں کے فوجی زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود چین نے اصل کنٹرول لائن کے زیادہ نزدیک اپنی فوجوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ اس نے وادی گلون،ڈیمچوک اور دولت بیگ اولڈی میں فوجیں تعینات کر کے اپنے جارحانہ انداز کا...

پرویز ہود بھائی کی معزولی: پاکستان میں ظلمت پرستی کی فتح یا کچھ اور؟

پرویز ہود بھائی پاکستان کے ایک ممتاز دانشور اور اسکالر ہیں۔ وہ عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے مالک ہیں اور سیاسی اور سماجی موضوعات پر بھی اکثر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ لاہور کے فورمین کرشچین کالج یونیورسٹی میں فزکس اور میتھ پڑھاتے ہیں، لیکن اب وہاں سے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب انہیں یہ "پروانہ" مل گیا ہے کہ اگلے سال یعنی 2021 میں ان کے کانٹریکٹ کی تجدید نہیں کی جاۓ گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیا کیا کہ انہیں لاہور کی ایف سی سی یونیورسٹی نے نکال باہر کرنے کافیصلہ کیا۔ اس کےلیے ہمیں ہود بھائی کے تعلیمی علمی اور نظریاتی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کٹّر پن اور اُس ذہنیت کے خلاف رہے ہیں جس میں معقولیت پسندی کو قطعی پسند نہیں کرتے، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد پاکستان میں اچھی خاصی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ ایسے لوگوں کی پاکستان میں بڑی ناقدری ہوتی ہے اور اکثر ان کی کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے بہت سے مصنفین ،فنکاروں، تجزیہ کاروں اورصحافیوں کو صرف اس لیے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینی پڑی کہ انھوں نے اپنے اظہار ...

سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ جسٹس عیسیٰ کے حق میں

آج کل پاکستان کے میڈیا اور بطورِ خاص سوشل میڈیا میں سپریم کورٹ ہی کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ کے کیس اور اس کیس کے فیصلے کا بہت چرچہ ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تو خیر ابھی چند روز قبل ہی آیا ہے لیکن اس کیس کا ذکر بہت عام تھا۔ دراصل جسٹس فائز عیسیٰ نے 2017 کے ایک مقدمہ کا فیصلہ سنایا تھا جس سے پاکستان کا فوجی ٹولہ چراغ پا ہوگیا تھا۔ ہوا یوں کہ 2017 کے اواخر میں ایک انتہا پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ نے راجدھانی اسلام آباد کو ایک طرح سے یرغمال بنا لیا تھا اور پورے شہر کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ مظاہرین تشدد پر اتر آئے تھے اور پولیس نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تھی تو انہوں نے پولیس نفری پر بھی حملہ کردیا تھا۔ اسی زمانے میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مظاہرین کو فوج کی در پردہ حمایت حاصل ہے اور وہ انہیں اکسا بھی رہی ہے۔ ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے تھے جن میں یہ دکھایاگیا تھا کہ فوجی اہلکار مظاہرین کو کچھ رقم بھی دے رہے ہیں۔ ویسے یہ بات بھی عوامی طور پر سامنے آگئی تھی کہ خود آرمی چیف نے ’’بیچ بچاؤ‘‘ کرنے کی پہل کی تھی اور ثالث کا رول ادا کیا تھا۔ مظاہرین کے دیگر مطالبا...

موضوع: بھارت ہوگا فتحیاب

پچھلے کچھ دنوں سے میڈیا اس غیر ضروری اور اچانک پیدا ہوئے تشدد کی برابر رپورٹنگ کر رہا ہے جوبھارت اور چین کے درمیان لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ایک مخصوص مقام پر پھوٹ پڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ملکوں کے درمیان سرحدی معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہیں بھی اس لئے مسائل کے حل کے لئے ان میں سے بہت سے ملکوں کے درمیان سفارتی اور فوجی دونوں سطحوں پر کوئی نہ کوئی میکنزم موجود ہے۔بھارت اور چین کے درمیان بھی اس طرح کا میکنزم ہے۔ مسئلوں کے حل کے لئے میکنزم موجود ہونے کے باوجود چینی فوجی تشدد اور جارحیت پر اتر آئے وہ بھی ایسے وقت میں جب تمام دنیا کورونا وائرس کی بیماری کا مقابلہ کر رہی ہے جس کے لئے چین خود ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی اس نازیبا حرکت کے خلاف لوگوں میں کافی غم و غصہ ہے۔ دونوں ممالک ترقی پذیر معیشتیں ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑی معیشتوں میں ان کا دوسرا اور تیسرا مقام ہے۔ عالمی تجارت میں بڑے موثر انداز میں شرکت کرنے کے باعث ہی انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ قدامت پسند مارکسی نظریہ کے مطابق سرمایہ دار بین الاقوامی تجارت کے ذریعہ لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔روس کی خارجہ ت...

چین کے رویے پر بھارت کا سخت احتجاج

مغربی لداخ کی وادئ گلوان اور پینگونگ علاقے میں15 جون کو چینی افواج کی جارحیت نے حالات کو اس قدر سنگین بنا دیا کہ بھارتی فوج کے 20 جانباز شہید ہو گئے اور تقریباً 43 چینی فوجی بھی ہلاک ہو ئے۔ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بجا طور پر اپنے چینی ہم منسب سے گفتگو کے دوران اس واقعے پر سخت احتجاج درج کرایا۔ انھوں نے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مقامی کمانڈروں کی سطح کے منصوبے کی خلاف ورزی پر بھی اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی۔ چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی زمینی سطح پر حالات کو جوں کا توں بنائے رکھنے کی بجائے رخنہ اندازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ لداخ کے اس غیر متوقع سانحہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس مسئلہ کو ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ مئی کی پانچ تاریخ سے ہی سکم کے ناکو لا، لداخ کے پینگونگ اور گلوان علاقے میں چینی فوجوں کی دراندازی سے علاقے میں سلامتی اور تحفظ کے مسائل پیدا ہوتے گئے اور صورتحال ابتر ہوتی جا رہی تھی۔ ناکول...

چین کے رویے پر بھارت کا سخت احتجاج

 مغربی لداخ کی وادئ   گلوان اور پینگونگ علاقے میں15  جون کو چینی افواج کی  جارحیت نے حالات کو اس قدر سنگین بنا دیا کہ بھارتی فوج کے 20 جانباز شہید ہو گئے اور تقریباً  43 چینی فوجی  بھی ہلاک ہو ئے۔  بھارتی وزیر خارجہ  ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بجا طور پر اپنے چینی ہم منسب سے گفتگو کے دوران  اس واقعے پر  سخت احتجاج درج کرایا۔ انھوں نے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مقامی کمانڈروں کی سطح کے منصوبے کی خلاف ورزی پر بھی اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی۔  چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی زمینی سطح پر   حالات کو  جوں کا توں  بنائے رکھنے کی بجائے  رخنہ اندازی کا سلسلہ جاری رکھا۔        ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ لداخ  کے اس غیر متوقع سانحہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات  پر اتفاق کیا کہ  اس مسئلہ کو  ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔        مئی کی پانچ تاریخ سے ہی...

پشتون نسل کے لوگوں کی حالت زار

قیام پاکستان کے بعد ہی سے پشتون نسل کے لوگ اپنے آپ کو بے بس اور بے سہارا محسوس کرتے آئے ہیں۔ ان کی مخصوص کلچرل امنگوں کو قدم قدم پر دبانے اور کچلنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی وفاداری کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا گیا اگرچہ پاکستانی فوج میں اس نسل کے لوگوں نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے نسلی رابطے سرحد کے اس پار افغانستان سے بھی ملتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو ڈیورنڈ لائن (Durand Line) ہے اسے افغانستان کی کسی بھی حکومت نے، یہاں تک کہ طالبان نے بھی کبھی دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی فوج نے 70 کی دہائی کے آغاز میں مشرقی پاکستان میں جو قتل وغارت گری مچائی اور وہاں کے باشندوں کو ان کے سیاسی حقوق سے پورے طور پر محروم کردیا تو اس کے نتیجے میں پاکستان ہی دو لخت ہوگیا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ پاکستان میں صوبائی اختیارات اور علاقائی حقوق کی بحالی کے لئے ہر طرف سے آواز اٹھنے لگی۔ پشتون باشندے بھی فوج کی زیادتیوں اور ظالمانہ کارروائیوں سے نالاں تھے۔ ان کی آواز کو مدھم کرنے کے لئے انہیں سیاسی آزادی دینے کے جھوٹے وعدے...

موضوع: افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری

افغانستان میں قیام امن کیلئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ بالآخر اس اٹھارہ سالہ لڑائی کو ختم کرنے کیلئے فریقین کے درمیان اس سال فروری میں ایک معاہدہ ہوا۔طالبان کی جانب سے معاہدے کا احترام کئے جانے کی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے ملک سے اپنی تمام فوجوں کی واپسی سے اتفاق کیا۔ معاہدہ میں طالبان نےوعدہ کیا کہ وہ علاقہ میں القاعدہ یا کسی دوسرے شدت پسند گروپ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی ہونی تھی لیکن افغان حکومت کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے جنگ بندی ضروری ہے تاہم امریکہ نے صدر اشرف غنی کی بات نہیں مانی اور اس کے دباؤں میںصدر افغانستان کو طالبان قیدیوں کو مرحلہ وار رہائی کا حکم دینا پڑا۔ طالبان نے اس حکم نامہ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین۔افغان مذاکرات سے قبل ہی تمام طالبان قیدیوں کو دو ہفتہ کے اندر رہا کیا جائے۔ تاہم حکومتِ افغانستان نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کردیا۔ معاہدے میں اندرونِ افغانستان مختلف حلقوں کےدرمیان بات چیت کا وسی...

بھارت نے نیپال کے نئے نقشہ کو کیا خارج

نیپالی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے سیاسی اور علاقائی نقشہ کو تبدیل کرنے کیلئے 13 جون کو آئین میں ترمیم کیلئے ایک بل کو منظوری دے دی۔ اس نئے نقشہ میں اتراکھنڈ کے ضلع پتھوڑا گڑھ کے کچھ علاقوں کو نیپالی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک قرار داد کومنظور کرکے بل پر بحث مکمل کرلی گئی۔ نیپالی کابینہ نے پچھلے ماہ کی 18 تاریخ کو جس نئے نقشہ کو منظوری دی تھی اس میں کالاپانی، لمپیادھورا (Limpeyadhura)اور لیپولیکھ (Lipulekh)کو نیپالی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام علاقے بھارت کے حصے ہیں اور ہمیشہ سے بھارت کے ہی حصے رہے ہیں جو ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلع کے انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ یہ پورا علاقہ 350 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے جو بھارت کیلئے اسٹریٹیجک طور پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے ہوکر یاتری کیلاش مانسرور کی یاترا پر جاتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھارت اور تبت کے درمیان تجارت کیلئے ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ بھارت ، نیپال اور چین کے تبت کے خود مختار علاقہ کے تراہے پر واقع ہے۔ بھارت نے نیپال کے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات پر با...

پاکستان میں احمدیہ فرقہ پر ظلم و ستم

احمدیہ فرقہ اسلام کا وہ فرقہ ہے جو 23 مارچ 1889 میں وجود میں آیا اور جس کے بانی پنجاب کے ایک علاقہ قادیان کے رہنے والے مرزا غلام احمد تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ خدا نے انہیں مہدی اور مسیح بنا کر بھیجا ہے۔ 1908 میں مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد اس فرقہ کے مختلف خلیفہ ہوئےاور موجودہ دور میں ان کے خلیفہ مرزا مسرور احمد ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد اس کا صدر دفتر قادیان سے منتقل ہر کر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقہ ربوہ چلا گیا اور اب اس کا صدر دفتر انگلینڈ میں ہے۔ یہ فرقہ اب تک 210 سے زیادہ ملکوں یا علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ ان کی تعداد تمام دنیا میں تقریباً 20ملین ہے۔ ان کی سب سے زیادہ آبادی پاکستان میں ہے۔ جو دو سے پانچ ملین کے درمیان ہے۔ پاکستان میں اس فرقہ کو جسے قادیانی بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ حضرت محمدﷺ کو آخری پیغمبر تصور نہیں کرتے۔1947 میں پارلیمنٹ کی ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد 1984 میں جنرل ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ ان کے مذہبی حقوق چھین لئے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو دبانے اور کچلنے کی ہمیشہ کوششیں کی گئ...

فوجیوں کی گرفت پھر مضبوط، عمران خان کی گرتی ساکھ

پاکستان میں فوجیوں کی گرفت مضبوط ہونے کی کہانی کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے سن کر کوئی چونکے۔ جہاں تک عمران خان کےدور اقتدار میں فوج کے رول کی بات ہے تو پہلے ہی سے یہ بات سب کے علم میں ہے کہ فوج کی خصوصی کوششوں او ر داؤ پیچ کے طفیل ہی عمران خان مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔ وہ بھی اس طور پر کہ پارلیمنٹ میں ان کی سیٹیں 46 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں اور بعض چھوٹے چھوٹے اتحادیوں کے سہارے ان کی حکومت ٹکی ہوئی ہے۔2017 میں جب الیکشن کی تیاریاں ہورہی تھیں اور ہر طرف سے یہی کہا جارہا تھا کہ عمران خان فوج کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں تو وہ بہت گرجے برسے تھے اور کہا تھا کہ اس طرح کی باتیں کرنے والے ایک گندی سازش رچ رہے ہیں لیکن گزشتہ سال مقامی پریس والوں کے سامنے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بہر حال ان کی حکومت کی دو سال کی کارکردگی کے درمیان فوج کا عمل دخل حکومت کے انتظام وانصرام میں کتنا بڑھ گیا ہے وہ اب صاف نظر آنے لگاہے اور عام گفتگو کا موضوع بھی بن رہا ہے۔ خاص طور پر عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پس منظر میں تو گویا بیشتر معاملات میں فوجی افسران ہی نے مو...

وزیر اعظم کا انڈین چیمبر آف کامرس سے خطاب

وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز انڈین چیمبرآف کامرس کے 95ویں مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بحران ہمیں نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان مواقع کا پتا لگاکر خودانحصار بھارت کی تعمیر کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آب وہوا کی تبدیلی کے درمیان اس وقت ملک کو کوودڈ انیس جیسی وبا کا بھی سامنا ہے۔ ہندوستانی معیشت اس وقت کمانڈ اینڈ کنٹرول موڈ میں ہے۔ وزیر اعظم نے معیشت کو پلگ اینڈ پلے موڈ میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دقیانوسی طرز کو چھوڑکر بھارت کو ایسی گھریلو سپلائی چین تیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح کی ہو تاکہ وہ دنیا میں دوسرے ملکوں کا مقابلہ کرسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سرمایہ کاری سے متعلق بڑے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوسکے۔ وزیراعظم نے اوسط، چھوٹے اور بہت چھوٹے درجہ کی صنعتوں اور غیر بینکنگ اقتصادی کمپنیوں میں نقدی ڈالنے سے متعلق اصلاحات پر بھی زور دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے معاشی پیکیج کی جن قسطوں کا اعلا...

عمران خان تب اور اب

سابق کرکٹ کپتان اورپاکستان کےموجودہ وزیر اعظم اب سے کم وبیش 2 سال قبل 2018 میں برسراقتدار آئے تھے۔ فوج اور ایجنسیوں کی سرگرم حمایت سے وزیر اعظم بننے والے عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اپوزیشن کے بڑے شعلہ بیان لیڈر مانے جاتے تھے اور الیکشن سے پہلے وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا جمہوریت پسند ایماندار اور بدعنوانی کے خلاف "جہاد"کرنے والا سیاست دان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ اپنی انتخابی تقریروں میں "نیا پاکستان" بنانے کا وعدہ اور دعویٰ کیا کرتے تھے۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ بہت سے سیاست دان دعووں کی بوچھار کرتے وقت بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اگلے زمانوں کے عاشق اپنے محبوب کے لئے آسمان سے چاند اور ستارے توڑ لانے کا وعدہ کرتے تھے ۔ عمران خان سب سے زیادہ زور بدعنوانی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے اور اپنے پیشرو سیاست دانوں کے خلاف مہم چلانے پر دیا کرتے تھے۔ ان کاایک وعدہ یہ بھی تھا کہ بدعنوانی کے ذریعہ جن بے ایمان لوگوں نے غیر ممالک میں موٹی موٹی رقمیں جمع کررکھی ہیں انہیں وہ اقتدار میں آنے کے دو مہینہ کے اندر ہی اندر پاکستان واپس لائیں گے۔ ان کے مط...

موضوع:کووڈ-19 کی وبا اور پاکستان کا معاشی بحران

پاکستان کو اس وقت دو بہت بڑے مسئلوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو اسے معاشی بحران کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری جانب اسی بحران میں اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بیماری ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان سب سے برے دور سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اسلام آباد کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے چھ ارب امریکی ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ پاکستان کے لئے ان کا پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ پچھلے سال کے بجٹ میں پاکستان نے کل گھریلو پیداوار کا صفر اعشاریہ چھ فی صد بنیادی مالی خسارے کا نشانہ رکھا تھا۔ اسے امید تھی کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے سے یہ نشانہ حاصل کرلیا جائے گا۔ لیکن شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔ اسلام آباد کو ٹیکسوں کے ذریعہ ریوینیو حاصل کرنے میں ہمیشہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ بڑے اور امیر افراد ٹیکس کسی نہ کسی بہانے بچالیتے ہیں جبکہ غریب لوگوں کو ٹیکس بھرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پیکج کا مقصد ٹیکس پالیسیوں اور اس کے نظام میں اصلاحات کے ذریعہ سرکاری قرضوں کو کم کرنا تھا...

ہند اور چین  کی لیفٹیننٹ جنرل سطح کی بات چیت 

ہندوستان اپنے پڑوسی ملکوں سے ہمیشہ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ ہمسائیگی کے تعلق سے اس کا ایک اٹوٹ نظریہ یہ رہا ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے۔ جن ملکوں کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں، وہ ایک جغرافیائی حقیقت کی بھی دین ہوتی ہیں لہٰذا پڑوسیوں کے درمیان اچھے تعلقات کا ہونا ، دونوں کے لئے اطمینان کی بات ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی ایسے ملکوں کے درمیان سرحد کے کچھ معاملات بھی وجۂ اختلاف بن سکتے ہیں۔ ایسے تنازعات کو حل کرنے کے لئے بہتر طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ طرفین کی قیادت سوجھ بوجھ کا ثبوت دے اور بات چیت کا ایک ایسا وسیلہ تلاش کرے ، جس سے فوج کے متعلقہ ذمہ دار افسران ملتے جلتے رہیں اور بوقت ضرورت سیاسی قیادت بھی بات چیت کرتی رہے۔ اس طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے اور ان کے احساسات کا اندازہ کرکے کشیدگی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور بے وجہ کے ٹکراؤ کے ماحول سے بچاجاسکتا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان اکثر ایسا ہوتا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی یکجہتی اور علاقائی سالمیت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اپنی زمین...

موضوع: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاکستان سے نئے مطالبے

تازہ خبروں کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات روک دے۔ کووڈ۔ 19 وبا کے باعث پاکستانی معیشت اس وقت بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ لہذا آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سال کے بجٹ میں بنیادی خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار کا منفی صفر اعشاریہ چار فیصد تک لانے کے لئے معاشی اصلاحات کرے۔ اس وقت بنیادی خسارہ منفی دو اعشاریہ نو فیصد ہے۔ آئندہ بجٹ میں اسے کم کرکے منفی صفر اعشاریہ چار فیصد تک لانے کے لئے تمام بڑے غیر ترقیاتی اخراجات پر لگام لگانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ نہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روک دے بلکہ دفاعی اخراجات پر بھی روک لگائے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ایسے وقت میں پاکستان کو سخت شرائط کے ساتھ چھ ارب ڈالر کا قرض دینے کا فیصلہ کیا تھا جب کوئی بھی عالمی ادارہ اسلام آباد کو قرض دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ جب کسی بھی ملک کی معیشت خستہ حال ہو تو اسے کون قرض دے گا۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو اس قرض کی آئندہ قسط تبھی ملے ...

پاکستان میں فوج بمقابلہ عدلیہ

حالانکہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ پاکستان میں وہاں کی فوج کو چیلنج کرنے والے کسی بھی شخص کو کامیابی نہیں ملتی اور ہر اس عہدیدار اور بااثر شخص کو گھوم پھرکر شکست کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی فوجی ٹولے کا ٹکراؤ کسی نہ کسی سے اکثر ہوتا ہی رہتا ہے۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ فوج براہ راست تو یہ نعرہ نہیں بلند کرتی کہ ‘‘جو ہم سے ٹکرائے گا وہ مٹی میں مل جائے گا’’ لیکن زمینی حقیقت عین یہی ہے۔ زیادہ نہیں ابھی کوئی دو ڈھائی سال قبل کی بات ہے کہ غالب اکثریت سے حکومت بنانے والی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور اس کے وزیراعظم نواز شریف سے فوج کا اختلاف ہوگیا۔اختلاف کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومت بعض معاملات میں اپنے آئینی حقوق کا استعمال کرکے فوج کوکچھ ہدایتیں دینے لگی تھی۔ اس پر فوج کچھ اتنی برہم ہوئی کہ اس نے تہیہ کرلیا کہ نواز شریف کو نہ صرف اقتدار سے ہٹانا ہے بلکہ انہیں جیل بھی بھیجنا ہے۔ سو، اسی کے مطابق منصوبہ بندی کی گئی اور پھر ریاست کے مختلف آئینی اداروں کے اشتراک سے ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ بالآخر نواز شریف کو باحسرت و یاس اپنا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں بل...

ہندوستان ترقی کی راہ پر دوبارہ ہوگا گامزن، وزیراعظم کو اعتماد

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مزید ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ہی ہندوستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے اس سفر میں نجی شعبہ کو شامل کیا جائے گا تاکہ کووڈ -19سے پیدا چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں کنفڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے 125 ویں سالانہ اجلاس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ ہم سب مل کر دوبارہ ترقی حاصل کریں گے۔ موجودہ حالات سے پریشان ملک کے صنعت کاروں میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ملک کی صلاحیتوں، بحران سے نکلنے کی اس کی طاقت، اس کی ٹیکنالوجی اور متضاد صلاحیتوں، ملک کے کسانوں اور تمام درمیانہ اور چھوٹے درجے کی صنعتوں پر غیر متزلزل اعتماد ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ ہم جلد ہی ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوجائیں گے۔ ملک کی کل گھریلو پیداوار میں درمیانہ، اور بہت چھوٹی صنعتوں کا حصہ 30 فیصد ہے۔ اب جب کہ حکومت نے 200 کروڑ روپے تک کے سازوسامان کے لیے عالمی ٹینڈر ختم کردیا ہے، امید ہے کہ اس شعبہ کو جلاء ھاصل کرنے میں کافی مدد ملےگی او...

امریکہ میں حالات ابتر ۔ بیشتر بڑے شہروں میں کرفیو

امریکہ میں نسلی منافرت کے خلاف احتجاج کی سخت لہر دکھائی دے رہی ہے۔ احتجاج کچھ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا کہ کئی روز سے یہ سلسلہ جاری ہے اور شہر شہر اور قریہ قریہ ایک طوفان سا نظر آتا ہے۔ اس پوری ہنگامہ آرائی کی اصل جڑ یہ ہے کہ ایک سیاہ فام افریقی امریکی شہری جارج فلائڈ کو ایک غیر ذمہ دار سفید فام امریکی پولس نے بے دردی سے مار کر ہلاک کر دیاظاہر ہے یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا جو دب کر رہ جاتا۔ امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت بھی ہے جہاں آئین کو بالادستی حاصل ہے اور جہاں ہر شخص کے بنیادی اور انسانی حقوق کی گارنٹی موجود ہے۔ سو اس طرح کے واقعات پر شدید ردعمل کا آنا ایک قدرتی امر تھا۔ بلا شبہ احتجاج بہت بڑے پیمانے پر ہوا اور سیاسی حلقوں نے ایک دوسرے پر الزام لگانا بھی شروع کیا۔ جمہوریت میں بہت ساری اچھائیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جہاں کسی بات پر معمولی سا اختلاف پیدا ہوتا ہے تو یہ معاملہ سیاست سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس سال امریکہ میں صدارتی انتخابات بھ...

ہانگ کانگ سے ایک ملک اور دو سسٹم کا فارمولہ رخصت

گزشتہ دنوں چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ کے تعلق سے قومی سلامتی سے متعلق قانون میں ایک نئی ترمیم منظور کی ہے۔ یاد رہے کہ ہانگ کانگ ایک پورٹ سٹی ہے، جس پر چین کا قبضہ ہے اور یہ چین ہی کا ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن یہاں جو سیاسی اور انتظامی نظام اب تک قائم تھا وہ چین کے باقی تمام حصوں سے مختلف تھا۔ یہاں چین کے باقی ماندہ حصوں کی طرح انتہائی سخت قانون نہیں نافذ تھے، بلکہ کچھ آزادیاں بھی حاصل تھیں اور سیاسی سرگرمیاں بھی جاری تھیں، اسی لیے کہا جاتا تھا کہ چین میں ایک ملک اور دوسسٹم کا فارمولا نافذ ہے۔ اب چینی پارلیمنٹ نے جو نئی ترمیم منظور کی ہے اس کے تحت ہانگ کانگ میں اب پہلے جیسی آزادیاں حاصل نہیں ہوں گی، اگر چہ نئے قانون کی پوری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، جن کے لیے چند ہفتے تک انتظار کرنا پڑے گا، لیکن اس پیش رفت کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ پرانے سسٹم کے تحت جو آزادیاں حاصل تھیں، ان پر پابندی عائدکی جائے۔ چین کا خیال ہے کہ ان آزادیوں کےلیے خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ چین کا یہ بھی خیال ہے کہ ہانگ کانگ کے لوگوں کو ملی ہوئی آزادی کے تحت نہ صرف علیحدگی پسندی کے رجحانات نے زو...

پاکستانی حکومت میں فوج کا عمل دخل

قیام پاکستان کے بعد 1958 میں جب جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرکے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا تو پاکستانی عوام کو فوجی حکومت کا پہلی بار تجربہ ہوا۔ جنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ سارے سیاستداں بدعنوان اور نااہل ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہزاروں سیاستدانوں کو انتخاب لڑنے کیلئے نااہل قرار دے دیا۔ وہ تقریباً دس سال تک اقتدار پر قابض رہے۔ اس کے بعد تو فوج کو حکومت کرنے کی جیسے عادت سی پڑ گئی تھی۔ جنرل ایوب سے لیکر اب تک جتنے بھی فوجی سربراہ آئے انہوں نے ملک کی منتخبہ حکومت کو کبھی بھی آزادی کے ساتھ کام کرنے نہیں دیا۔ اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔  کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے بھی فوج کی حمایت سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ فوج کو شاید پہلے سے ہی اس بات کا یقین تھا کہ اگر عمران خان وزیراعظم بنے تو اسے حکومت میں اپنا کردار ادا کرنے کا پورا موقع ملے گا اور ہوا بھی یہی۔ عمران خان حکومت نے فوج کو بالکل مایوس نہیں کیا اور مختلف عہدوں پر فوج کے افسروں کی تعیناتی کردی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو پچھلے سال نومبر میں سی پی ا...