فوجیوں کی گرفت پھر مضبوط، عمران خان کی گرتی ساکھ
پاکستان میں فوجیوں کی گرفت مضبوط ہونے کی کہانی کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے سن کر کوئی چونکے۔ جہاں تک عمران خان کےدور اقتدار میں فوج کے رول کی بات ہے تو پہلے ہی سے یہ بات سب کے علم میں ہے کہ فوج کی خصوصی کوششوں او ر داؤ پیچ کے طفیل ہی عمران خان مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔ وہ بھی اس طور پر کہ پارلیمنٹ میں ان کی سیٹیں 46 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں اور بعض چھوٹے چھوٹے اتحادیوں کے سہارے ان کی حکومت ٹکی ہوئی ہے۔2017 میں جب الیکشن کی تیاریاں ہورہی تھیں اور ہر طرف سے یہی کہا جارہا تھا کہ عمران خان فوج کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں تو وہ بہت گرجے برسے تھے اور کہا تھا کہ اس طرح کی باتیں کرنے والے ایک گندی سازش رچ رہے ہیں لیکن گزشتہ سال مقامی پریس والوں کے سامنے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
بہر حال ان کی حکومت کی دو سال کی کارکردگی کے درمیان فوج کا عمل دخل حکومت کے انتظام وانصرام میں کتنا بڑھ گیا ہے وہ اب صاف نظر آنے لگاہے اور عام گفتگو کا موضوع بھی بن رہا ہے۔ خاص طور پر عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پس منظر میں تو گویا بیشتر معاملات میں فوجی افسران ہی نے مورچہ سنبھال لیا ہے اس وقت سابق اور ریٹائرڈ فوجی افسران حکومت کے انتہائی اہم عہدوں پر فائز ہیں اور ان کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔ وہی افسران سرکاری ہوائی سروس پاور ریگولیٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ جیسے محکمے چلا رہے ہیں۔ صحت سے متعلق قومی ادارہ ہی کورونا سے متعلق تمام معاملات کی دیکھ بھال کررہا ہے۔ ان تین محکموں کا جو یہاں بطور خاص ذکر کیا گیا ان میں فوجی افسران کی بحالی گزشتہ دو مہینوں کے اندر عمل میں آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے خود بھی محسوس کرنا شروع کردیا ہےکہ معیشت کے شعبے میں ان کی حکومت کی گری ہوئی ساکھ، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور کرپشن میں ملوث ہونے کے باعث ان کے معاونین کے خلاف ہونے والی چھان بین کے معاملات کے سبب ان کی مقبولیت کا گراف بہت گرگیا ہے۔ جہاں تک سرکاری کام کاج میں فوج کی دخل اندازی کا سوال ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سیکورٹی سے متعلق تمام امور تقریبا ہمیشہ ہی فوج کے ہاتھ میں رہے ہیں لیکن کم سے کم پچھلی حکومتوں نے سویلین اتھاریٹی قائم کرنے میں کچھ پہل کی تھی اور کچھ کامیابی بھی انہیں ملی تھی لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ کہ عمران خان نے نیا پاکستان کا ڈھنڈورا تو خوب پیٹا لیکن ان کے دور اقتدار میں اعلی اور کلیدی عہدوں پر ریٹائرڈ اور موجودہ فوجی جنرلوں کی جو بحالی ہورہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلی سویلین حکومتوں نے جو تھوڑے بہت اختیارات سویلین حکام کے لیے حاصل کیے تھے، انہیں عمران حکومت پھر فوج کے حوالے کرتی جارہی ہے۔ایٹلانٹک کونسل میں ایک سینئر فیلو کی حیثیت سے وابستہ غیر مقیم پاکستانی عزیر یونس کاکہنا ہے کہ حکومت کے کام کاج میں خفیہ طور پر اور کھلے عام دونوں سطحوں پر فوج کی مداخلت بڑھتی ہی جارہی ہے۔
ٹیلی ویژن پر کووڈ انیس سے متعلق حکومت کی طرف سے جو بریفنگ پیش کی جاتی ہے تو عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی موجودہ فوجی افسر اس میں معاونت کررہا ہوتا ہے جب کہ اسے خود تفصیلات کی واقفیت نہیں ہوتی۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا کو عمران خان نے اپنا کمیونی کیشن مشیر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے ایک حصہ کے طور پر پاکستان میں 80 بلین ڈالر کی جو سرمایہ کاری ہورہی ہے اس کی دیکھ بھال کا کام بھی وہی انجام دیں۔ اور بھی کچھ باتیں قابل ذکر ہیں۔ عمران خان کی کابینہ میں بارہ افراد ایسے ہیں جو سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے انتہائی وفادار کارکن رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ سے کسی نہ کسی طور پر جڑ ے ہوئے تھے۔ ان میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور عبدالحفیظ شیخ بھی شامل ہیں جو اس وقت خان کے مشیر مالیات ہیں۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عمران خان کی حکومت میں فوجی افسروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہےکہ حکومت کے بعض سویلین ایڈوائزر بھی فوجیوں کی حمایت اور تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ مثلا خان کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے اہم رکن ضیغم رضوی کا کہنا یہ ہے کہ عام احساس یہ ہے کہ فوجیوں کو قائدانہ رول اس لیے دینا چاہیے کہ فوج کا سسٹم بہت اچھا ہوتا ہے اور وہ بہت سلیقے سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔
پالیسی سازی میں فوج کا رول پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے شعبوں سے آگے بڑھ کر اب تجارت اور کاروبار کے شعبے میں بھی فوج کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ سال نہ صرف یہ کہ پارلیمنٹ نے آرمی چیف جنرل باجواکو تین سال ایکسٹینشن دینے کا قانون پاس کیا بلکہ حکومت نے انہیں اکنامکس بورڈ کا ممبر بھی بنایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمہوری ملکوں میں کسی فوجی افسر کو کسی اہم عہدے پر بحال کرنا کوئی عجیب بات نہیں ہوتی لیکن جمہوریت کو خطرہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب فوجی افسر سویلین کو نظر انداز کرکے خود اپنے آرڈر جاری کرنے لگتا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا کے سینئر ایسوسی ایٹ میکائیل کوگیل مین نے کہا ہے کہ جمہوریت اس وقت خطرے میں پڑجاتی ہے جب ریٹائرڈ فوجی جنرل اپنے نئے بوس کے مقابلے اپنے سابق بوس سے زیادہ متاثر ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں دراصل یہی ماحول ہے۔ فوجی افسروں کا پلہ ہمیشہ بھاری ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment