Posts

Showing posts from January, 2021

دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہند افغان اشتراک

قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال گزشتہ دنوں افغانستان کےدو روزہ دورے پر کابل گئے تھے۔ جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی، اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ ، اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی اور دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے نیز جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کے علاوہ اسٹریٹیجک امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دوحہ میں جاری افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین افغان امن مذاکرات کے آغاز کے بعد یہ ہندوستان کے کسی اعلی عہدیدار کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا ۔ اس سے قبل گزشتہ برس فروری میں دوحہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کے دوران بھی ہندوستان نے شرکت کی تھی جب کہ گزشتہ ستمبر میں بین افغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں بھی ہندوستانی وفد موجود تھا اور وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکاء سے خطاب کیا تھا۔ اجیت ڈوبھال کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور ملک میں قیام امن کی کوششوں کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا ۔ دوسری طرف اجیت ڈو...

پاکستان اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتا!

کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا داخلی اتحاد ہوتا ہے۔جس کا دارو مدار سیاسی،سماجی اور معاشی مساوات اور نسلی و لسانی غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ اگر ملک میں حکومت اور نظام انصاف پرور ہوتا ہے تو ملک کے لیے ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں ورنہ انتشار اور خانہ جنگی کے لیے خود بخود دروازے کھل جاتے ہیں۔ایسے ملک پھر اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لئے دوسروں پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔ حال ہی میں پاک فوج کے تر جما ن جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اور انھوں نے اقلیتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔یہ بیان حکومت کی ناکامی کیلئے فوجی پردہ پوشی بھی ہے اور الزام تراشی کا ایک اور نمونہ بھی۔ در اصل جن وجوہات کی بنا پر پاکستان میں علاحدگی پسندی کی تحریکیں پروان چڑھیں، پاکستان ان پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کو متحد رکھنے میں ناکامی کا ذمہ دا ر خود پاکستان ہے کوئی اور ملک یا طاقت نہیں۔پاکستان کی جانبدارانہ پالیسیاں ہیں، پاکستان کی نسلی سیاست ہے اور سب سے اہم پاکستان کی فوج اور سرکاری ایجنسیاں ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے صوبوں...

افغانستان میں طالبان کی نئی حکمت عملی

ہر نیا سال کچھ تازہ امیدیں کچھ نئی امنگیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لاتا ہے اور دنیا کی جھولی میں ڈال کر رخصت ہو جاتا ہے۔ دنیا ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا جتن کرتی ہے اور ایسی حکمت عملی تیار کرتی ہے کہ ہر سال گزشتہ سال سے بہتر اور پر سکون ہو۔ ایسے ہی خواب افغانستان کے حصے میں آئے جن کی تعبیر وہ دہائیوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ کشت و خون کا ایک طویل سلسلہ وہاں جاری ہے حالانکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہاں جلد ہی زندگی معمول پر آ جائے گی اور عوام سکون کی سانس لے سکیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کے باوجود وہاں مستقل امن کی بحالی کی راہ ہموار نہیں ہو سکی ہے۔ طالبان پہلے خودکش حملہ آوروں کا استعمال کرتے تھے اور بڑے شہروں میں اہم شخصیات یا مراکز کو نشانہ بنایا کرتے تھے لیکن اب انھوں نے اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کر لی ہے۔ اب انھوں نے عام شہریوں، سرکاری ملازمین، صحافیوں، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں، اعتدال پسند مذہبی رہنماؤں اور عوامی مقبولیت کی حامل خواتین کو بھی اپنے ہدف میں شامل کر لیا ہے۔ وہ اب خودکش حملوں کے ...

افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی  امکانات کو بروئے کار لانے  کے حق میں  بھارت 

افغانستان کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے والے ہندوستان نے افغانستان میں کسی بھی طرح کی غیر ضروری مداخلت کے بغیر افغان قیادت، افغان ملکیت اور افغان امنگوں کی عکاسی کرنے والے ماحول میں قیامِ امن اور مفاہمت کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے اورآج بھی وہ افغانستان میں مل کر کام کرنے کے تمام سیاسی امکانات کو بروئے کار لانے کے حق میں ہے۔ ہند ۔افغانستان دوستانہ ہمسائیگی کا یہی وہ پیمانہ ہے جس نے 2014 میں ہندستان کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک افغان صدر حامد کرزئی نے اُسی دوران افغان صوبہ ہرات میں ہندستان کے سفارتخانے پر حملے پر اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں دوٹوک کہہ دیا تھا کہ اُن کی حکومت کو یقین ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے ہرات میں ہندستانی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔ بر سبیل تذکرہ اس واقعے کے پس منظر میں افغانستان کے رُخ پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی جس جذبے کی ترجمانی کرتی ہے اُس سے بجا طور پر بہتر ہمسائیگی کے حق میں یہ خواہش کی جا سکتی ہے کہ بیرونی مداخلتوں س...

عمران خان کی رعونت اور ہزارہ فرقے کی بے بسی

آمریت کے سائے میں پنپنے والی جمہوریت کی وہی شکل و شباہت ہوتی ہے جو ہمیں برسوں سے پاکستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چاہے وہ فوجی حکمرانوں کی جمہوری قدریں رہی ہوں یا پھر جمہوریت کی پاسداری کے نام پر سیاست کی کمان سنبھالنے والے سیاسی قائدین کے جمہوریت والے نعرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم و بیش ہر دور اُسی آمریت کی تیزی و تندی کا شکار رہا جس کی نہایت خوفناک شکل اِس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے اور اِس کی اصل وجہ وہ مذہبی منافرت ہے جس نے شروع سے پاکستانی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رہا ہو یا مسلکی گروہوں کے ساتھ تعصبانہ تصویر ہمیشہ افسوسناک اور ہیبت ناک ہی نظر آئی ہے۔ حالیہ دونوں میں دو بڑے واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جنہوں نے اِس پاکستانی معاشرے کے تضادات کو اور بھی کریہہ بناکر رکھ دیا ہے اور اِن دونوں واقعات میں عوامی فکری انتشار اور انتظامیہ کے ذہنی تضادات کی ایک حیرت انگیز تصویر سامنے آتی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے خیبر پختونخوا کے کرک ضلع کے ٹیری گاؤں میں واقع شری پریم ہنس جی مہاراج کی سمادھی اور اس سے متصّل کرشن دوارہ مندر کو انتظ...

پاکستان میں مذہبی اور مسلکی تشدد

پاکستان میں آج جس طرح سے اقلیتی فرقہ پر ظلم وزیادتی ہورہی ہے اور مسلکی تشددکا دوردورہ ہے اس سے اس بات کا ذرہ برابر بھی اشارہ نہیں ملتاکہ اس ملک کے قیام کے وقت جو بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے اس پر سنجیدگی سے عمل بھی کیاگیا۔کہاگیاتھا کہ ‘‘آپ آزاد ہیں اپنے مندروں اور مسجدوں میں جانے کےلیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کےلیے ۔ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب ،ذات یانسل سے ہے ۔’’ پاکستان نے آج یہ باتیں فراموش کردی ہیں ۔دیگر مذاہب کو برداشت کرنے کی تو دورکی بات اکثریتی فرقہ میں مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایاجاتاہے ۔حال ہی میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کی ہلاکت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ واقعہ بلوچستان کے مچھ علاقہ میں پیش آیا جہاں کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 10کان کنوں کو محض ان کی مسلکی وابستگی کی وجہ سے بے رحمی سے قتل کردیاگیا۔ بلوچستان ویسے بھی شورش پسندی اور پرتشددواقعات کے لیے بدنام ہے ۔پاکستان نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے شدت پسند اور دہشت گرد پیداکیے اور انھیں دوسرے مل...

دہشت گردوں کی گرفتاری اور پاکستان کی نیت

لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر اور 2008 کے ممبئی حملوں کے خاص ہدایت کار، ذکی الرحمان لکھوی کی عین ایسے وقت میں گرفتاری جب ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسیفک مشترکہ گروپ جنوری میں میٹنگ کر کے یہ سفارش کرنے والا تھا کہ پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جانا چاہئے ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔ ورنہ دل سے اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اگر واقعی پاکستان ان ملزموں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے تو کم سے کم اس مقدمے کا کوئی فیصلہ اب تک ہو جاتا جو پاکستان میں ان کے خلاف چل رہا ہے۔ اسی مقدمے میں اب سے چار پانچ سال قبل لکھوی جیسے خطرناک مجرم کو ضمانت نہ ملتی۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان نے کئی ایسی کارروائیاں کی ہیں جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی سے لڑنا یا اسے ختم کرنا نہیں بلکہ عالمی برادری کو یہ تاثر دینا ہے کہ واقعی پاکستان سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ جب بھی کبھی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہونے والی ہوتی ہے جس میں پاکستان کا معاملہ زیر غور ہو تو پاکستان سے ایسی ہی پیش...

پاکستان نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھ

نائن الیون کے واقعہ کےبعد افغانستان سے بڑی تعداد میں لوگ سرحد پار کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپ گئے تھے۔ پاکستان نے ان علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جو فوجی آپریشن شروع کیا تو اس میں اصل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی بلکہ عام اور معصوم پشتون شہریوں کو پریشان کیا جانے لگا۔ پورے پاکستان میں یہ تاثر دیا گیا کہ پشتون دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہی کام بنگالیوں کے لئے مسٹر بھٹو نے کیا تھا۔ پاکستان میں پشتون آبادی کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ پشتون علاقوں سے دہشت گردی اور انتہاپسندی تو ختم نہیں ہو سکی لیکن حکومت پاکستان نے معصوم پشتونوں کو ہراساں اور پریشان کرنا شروع کردیا ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے نام پر فوج اصل دہشت گردوں کو بچارہی ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے جن کا دہشت گردی سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔ انہیں اذیتیں دی جاتی ہیں اور انہیں ہلاک بھی کیا جاتا ہے۔ میڈیا کو بھی مجبور کیاگیا ہے کہ وہ پشتون تحریک کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ نہ کریں۔ زیادتی کا یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو ٹکراؤ کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ 1971 جیسی صورتحال پی...

چین کے ناپاک عزائم

اس میں کوئی شک نہیں کہ لداخ میں سرحد پر جاری کشیدگی چین کے ناپاک عزائم کا نتیجہ ہے۔ یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں چین نے سرحد پر ایسی کارروائیاں کی ہیں، جن سے دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپ تک کی نوبت آئی اور جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ سرحد پر تا حال چین کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں۔ وہیں دوسری جانب ہندوستان شروع سے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر اشتعال انگیزی جاری رہی تو پھر ہندوستان بھی ملک کی سالمیت اور خود مختاری سے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ویسے چین نے ہندوستان کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرکے اپنے پیروں پر ہی کلہاڑی ماری ہے۔ کسی ممکنہ ٹکراؤ کے نتیجے میں تو اسے انجام بھگتناہی ہوگا، اس سے پہلے ہی اقتصادی محاذ پر ہندوستان نے چین کو معقول جواب دیا ہے۔ کشیدگی سے پہلے چین ہندوستان کے سب سے بڑے کاروباری دوست ممالک میں شامل تھا۔گلوان واقعہ کے بعد ہندوستان نے مواصلات کے شعبہ میں چین کو بہت بڑی اقتصادی چوٹ پہنچائی ہے۔ ہندوستان ہی نہیں، دنیا کے کئی دوسرے ملک بھی چین کی چال بازیوں ک...

پاکستان میں ہزارہ قوم پھر تشدد کی زد میں

پاکستان میں مسلکی اختلافات نے ایک عرصے سے خون خرابہ مچا رکھا ہے ۔ 2021 کی شروعات ہی اسی مسلکی خون خرابے سے ہو ئی۔ اتوار 3 جنوری کو کوئٹہ کے قریب مچھ میں گیارہ ہزارہ شیعہ دن دہاڑے قتل کر دیے گئے۔ یہ کان کن مزدور تھے ۔ کام پر جا رہے تھے۔ کہ بندوق بردار انتہا پسندوں نے پندرہ ہزارہ شیعوں کو مزدوروں کے درمیان سے چن کر الگ کیا گیا اور پھر زمین انسانی خون سے لال ہوگئی۔ چھ نے وہیں دم توڑ دیا۔ پانچ اسپتال پہنچتے پہنچتے۔ سوال یہ کہ یہ مارنے والے کون تھے۔ داعش نے مجرمانہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مارا۔ انہوں نے نہیں تو طالبان نے مارا ہو گا، طالبان نے نہیں تو لشکر جھنگوی کے انتہا پسندوں نے یہ خوفناک کھیل انجام دیا ہو گا۔ بلوچستان میں سکونت پذیر لاکھوں ہزارہ برادری کے لوگ ان تینوں ہی انتہا پسند جماعتوں کے خوف میں ہمہ وقت جیتے ہیں بلکہ مرتے ہیں۔ مچھ کا سانحہ ہو گیا تو پھرحکومت بھی اپنا فرض ادا کرنے کے لئے سامنے آ گئی جیسا اس سے پہلے بے شمار بار ہو چکا ۔ پاکستان میں ہر بار جب شیعوں کو مارا جاتا ہے ، احمدیوں کو قتل کیا جاتا ہے، ہندوؤں اور عیسائییوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔حکومت ظاہری طور پر مذمتی بیان جاری...

پاکستان میں لکھوی کی گرفتاری یا پاکستانی حکمت عملی کا تسلسل

دہشت گردی مہذب دنیا کے لیے ایک ایسی بیماری ہے جس سے عالمی برادری ہر حال میں نجات حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو دہشت گردی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ مانتے ہیں اور دہشت گردوں کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے اخبارات نے خبر دی ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کوٹیرر فائننسنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہندوستان ایک عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی اور حافظ سعید جیسے لوگوں کو پاکستان سزا دے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کے مطالبے کی تردید کی ہے اور اس ضمن میں یہاں تک کہتا رہا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات خود ہندوستان کی سازش ہیں۔ ممبئی حملے کے اس ملزم کے لیے پاکستان کے دل میں ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی دباو بڑھنے پر لکھوی اور حافظ سعید جیسے لوگوں کو گرفتار یا نظر بند کیا جاتا ہے اور جیسے ہی ایف اے ٹی ایف یا کسی اور پلیٹ فارم پر پاکستان کا کام پورا ہوتا ہے وہ پھر انھیں آزاد کر دیتا ہے۔ حافظ سعید کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اگر انھیں اپنی ایجنسیوں کی خفیہ معلومات کی ...

پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی

سال 2020 ختم ہوا اوردنیا پر ایک نیا سال سایہ فگن ہو گیا ہے۔ گزرا ہوا سال پوری دنیا کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک رہا۔ کورونا کی عالمی وبا نے لاکھوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا۔لاکھوں افراد اب بھی اس کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔اس وبا نے جہاں انسانوں کے لیے کئی سبق چھوڑے ہیں، وہیں ایک بہت بڑا سبق یہ ہے کہ انسانی جان تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی اور افضل ہے، اسے بچانا ہر شخص کی ذمہ داری ہے اور یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت بھی ہے۔ انسانی جانوں کے اتلاف سے بڑا کوئی اور خسارہ نہیں۔لہٰذا اس خسارے کو کم کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کی جانی چاہیے۔ نئے سال میں دنیا نئی امنگوں، نئے حوصلوں اور نئے ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ وہ اب پیچھےمڑ کر دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ کائنات کی سب سے قیمتی شے یعنی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ لیکن اسی دنیا میں ایسے ملک یا ایسی طاقتیں بھی موجود ہیں جو انسانی جانوں کے احترام کے جذبے سے خالی ہیں اور ان کے نزدیک اگر اپنے مقصد کے حصول کے لیے لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں...

پاکستان 2020 میں الگ تھلگ پڑا

یوں تو سال 2020کے دوران کورونا کی عالمی وبا اور دیگر اسباب کی بنا پر جہاں دنیا کے تقریباً تمام ممالک کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے وہیں ایک اہم بات یہ بھی رہی کہ عالمی برادری نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی اور اس کے مصائب کو کم کرنے کی کوشش کی تاہم انسانی ہمدردی کے اس ماحول میں بھی پاکستان الگ تھلگ پڑتا دکھائی دیا۔حتی کہ اس کے انتہائی قریبی دوستوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا شرو ع کردیا۔اس کی بڑی وجہ پاکستان کا اپنا رویہ اور قول و فعل میں پایا جانے والا تضاد ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بلند بانگ دعوے ہوں یا اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا معاملہ، عالمی سفارت کاری ہو یا داخلی سیاست، پاکستان کے ارباب حل و عقدتقریباً ہر معاملے میں دوہری پالیسی پر گامزن رہے۔ جس کا خمیازہ اسے اور اس کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ دوسری طرف برادر ملک اور روایتی حلیف اور دوست بھی اس سے ناراض ہوگئے۔ اس کی سب سے واضح مثال سعودی عرب ہے۔روایتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں۔ اور سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی پریشانیوں اور مالی مشکلات سے نکالنے میں ہمیشہ مدد کی۔ اس نے ...

پاکستان میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان تلخی میں اضافہ

سیاست میں کامیابی اگر عوام کی خوشنودی سے ملی ہو، اگر حکومت خدمت خلق سے کی جائے اور دیگر لیڈروں کو طاقت کے زور پر دبانے کے بجائے اپنی بہتر کارکردگی سے شکست دینے کی جدوجہد کی جائے تو پھر حالات ناسازگار نہیں ہوتے۔ پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو مسئلے اس لیے درپیش ہیں، کیونکہ عام خیال یہی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں اس کی کامیابی عوام کی محبت کا نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا اظہار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لیے غیر جمہوری اور غلط طریقے سے کامیابی کی راہیں ہموار کی گئی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف لکھنے والے صحافیوں کو متنبہ اور اغوا کیا گیا تھا اور حالات اس طرح بنا دیے گئے تھے کہ حکومت صرف پاکستان تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی ہی کی بن پائے، چنانچہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ فوج ان کے ساتھ ہے، پاکستان کا پورا سسٹم ان کی مرضی کے مطابق ہی چلے گا، وہ اپنے ہر حریف کی آواز دبا دیں گے۔ بدعنوانی مخالف مہم کا استعمال عمران حکومت نے حزب اختلاف کے لیڈروں کے خلاف کرنا شروع کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حزب اختلاف کے...

شبہات اور پیچیدگیوں سے پر بین افغان امن مذاکرات

حکومت افغانستان اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ تو 12 ستمبر کو ہی دوحہ میں شروع ہوا تھا لیکن فی الحال یہ الجھا ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ۵ جنوری کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ افغان صدر اشرف غنی چاہتے تھے کہ بات چیت کا دوسرا دور افغانستان میں ہی منعقد ہو لیکن طالبان اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ بہرحال افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مصالحت کا یہی فیصلہ ہے کہ5 جنوری کے بعد دوحہ میں ہی دونوں فریقین کے مابین بات چیت شروع ہوگی۔ افغانستان سے جو خبریں مل رہی ہیں ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات کا کسی مثبت نتیجے تک پہنچنا بہت دشوار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ طالبان اپنی شرطوں پر سمجھوتا چاہتے ہیں۔ چند دنوں قبل طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا غنی برادر کی قیادت میں طالبان کا ایک وفد پاکستان گیا تھا اور وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق طالبان کا وفد حکومت پاکستان کے بلاوے پر وہاں گیا تھا اس کے چند ہی روز بعد ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں ملا برادر یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ طالبان کی پوری قیادت پاکستان ...