پاکستان میں لکھوی کی گرفتاری یا پاکستانی حکمت عملی کا تسلسل



دہشت گردی مہذب دنیا کے لیے ایک ایسی بیماری ہے جس سے عالمی برادری ہر حال میں نجات حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو دہشت گردی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ مانتے ہیں اور دہشت گردوں کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے اخبارات نے خبر دی ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کوٹیرر فائننسنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہندوستان ایک عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی اور حافظ سعید جیسے لوگوں کو پاکستان سزا دے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کے مطالبے کی تردید کی ہے اور اس ضمن میں یہاں تک کہتا رہا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات خود ہندوستان کی سازش ہیں۔ ممبئی حملے کے اس ملزم کے لیے پاکستان کے دل میں ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی دباو بڑھنے پر لکھوی اور حافظ سعید جیسے لوگوں کو گرفتار یا نظر بند کیا جاتا ہے اور جیسے ہی ایف اے ٹی ایف یا کسی اور پلیٹ فارم پر پاکستان کا کام پورا ہوتا ہے وہ پھر انھیں آزاد کر دیتا ہے۔ حافظ سعید کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اگر انھیں اپنی ایجنسیوں کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر گرفتار کرتا ہے تو پھر کچھ دنوں بعد ہی عدالتیں انھیں آزاد کیوں کر دیتی ہیں۔ گرفتاری کے وقت کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے یہ کام دہشت گردی کے خاتمے کی نیت سے نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا مقصد صرف ایف اے ٹی ایف کو یہ جتانا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، اس لیے اسے بلیک لسٹ میں نہ ڈالا جائے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ذکی الرحمٰن لکھوی کے ساتھ گرفتار کیے گئے لوگ جنھیں اس کا ساتھ دینے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا، اب بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، تو پھر ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت کس طرح مل گئی تھی۔ پاکستان کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ حیرت یہ بھی ہے کہ پاکستان ہر بار بین الاقوامی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور پھر کام نکل جانے کے کے بعد ان ہی لوگوں کا استعمال ہمسایہ ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے کرتا ہے۔ پاکستانی فوج ان جیسے دہشت گردوں کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے۔ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل حمید گل اکثر ٹی وی انٹرویوز میں ان لوگوں کی حب الوطنی کے قصیدے پڑھتے رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج پاکستان جیسے ملک میں اپنی ممتاز حیثیت کو قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے زیادہ تر وسائل پر قبضہ کیے بیٹھی ہے۔ عوام اس جانب متوجہ نہ ہو ں،اس کے لیے وہ دشمنی کے قصے گڑھتی رہتی ہے اور ان کی ان کہانیوں کی رو سے ہندوستان ان کا روایتی حریف ہے۔ اس نام نہاد روایتی حریف کو پریشان کرنے کے لیے انھیں کبھی حافظ سعید تو کبھی مسعود اظہر جیسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پالیمان کے اندر بھی ان دہشت گردوں کی کارروائی کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ پلوامہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی جو پذیرائی فواد چوہدری نے پارلیمان کے اندر کی تھی وہ دنیا کے سامنے ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی گرفتاری کسی وفاقی ادارے کی کارروائی کے تحت نہیں ہوئی ہے بلکہ پنجاب پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے تحت ہوئی ہے۔ صوبائی پولیس کے ذریعہ اس طرح کے دہشت گردوں کے خلاف نہ تو ثبوت حاصل کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی عدالت میں مقدمہ ہی بہتر طور پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ پچھلی بار بھی لکھوی کے خلاف مقدمہ سی آئی ڈی نے قائم کیا تھا جس میں عدالت کے سامنے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور لکھوی کو ضمانت دے دی گئی۔ اس بار بھی گرفتاری کا یہ کھیل کچھ اسی طرح کا ہے۔

بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے اس رویے کو ذہن میں رکھ کر اس کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں۔ پاکستان سے مطالبہ کریں کہ وہ جن دہشت گردوں کو گرفتار کرتا ہے انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عدالتوں کے سامنے ثبوت پیش کرے، کیونکہ اگر پاکستان ہر بار عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ متاثر ہوگی، جو نہ تو اس خطے میں قیام امن کے لیے بہتر ہوگا اور نہ ہی اقوام عالم کے لیے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ