Posts

Showing posts from September, 2019

موضوع: اقوام متحدہ میں عمران خان کی نفرت آمیز تقریر

2018 میں پاکستان کے تمام انتخابات کے رجحان کے نتائج دیکھ کر جب عمران خان نے یہ اندازہ رکرلیا تھا کہ ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے امکانات موجود ہیں تو انہوں نے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے بڑے لمبے چوڑے اور خوش ا ٓئند وعدے بھی کئے تھے۔ انہوں نے نئے پاکستان کا تصور پیش کرتے ہوئے ایک آئیڈیل نظام کی تشکیل کی بات بھی کہی تھی۔ بیشتر باتیں تو پاکستان کے گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے بھی بعض سنجیدہ باتیں کہی تھیں۔ اس وقت یہ امید ضرور کی گئی تھی کہ وہ پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات کو فروغ دینے میں سنجیدہ رویہ اختیار کریں گے اور ایسا انہوں نے اپنی تقریر میں کہا بھی تھا۔ حالانکہ عمران خان کی سیاسی پارٹی بہت معمولی اکثریت سے ہی حکومت بنا سکی لیکن بہر حال اس کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ کم از کم پر امن طور پر اقتدار کی منتقلی عمل میں آئی تھی۔ بہر حال وہ وزیر اعظم بنے اور ان کو اقتدار میں آئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ پاکستان سے ملنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ان کی مقبولیت کا گراف دن بدن گرتا ہی جا رہا ہے...

موضوع: اہانت دین قانون کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثالیں

کسی بھی مذہب یامذہبی پیشواؤں کی شان میں گستاخی کرنا ہر معاشرے میں برا تصور کیا جاتا ہے۔ مذہب یا مذہبی شخصیتوں کی بات تو چھوڑ یے کسی عام آدمی کو بھی برا بھلا کہنا یا ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنا اخلاق سے گری ہوئی بات کے زمرے میں آتا ہے۔ مذہب کی شان میں گستاخی کرنا تو انتہائی گھناؤنی بات ہوتی ہے۔ اس سے لوگوں کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں اور سماج میں تشدد کو بھی بڑھاوا مل سکتا ہے۔ لہٰذا مختلف ملکوں میں اس قسم کی باتوں کی روک تھام کے لیے مناسب قانون بھی نافذ ہیں۔ برصغیر ہندوپاک میں بھی بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ایسا قانون نافذ کیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان میں جنرل ضیأالحق کے زمانے میں جب مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی شعوری کوششیں شروع ہوئیں تو اس قانون میں ترمیم کرکے اسے بہت سخت بنادیا گیا اور پھانسی تک کی سزا کی گنجائش پیدا کی گئی۔ بہرحال قانون کوئی بھی اس کا مقصد لاقانونیت کو روکنا اور سوسائٹی میں امن وامان بحال کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاقانونیت کو مزید بڑھاوا دینا۔ پاکستان میں اس قانون کا اتنا غلط استعمال ہورہا ہے کہ اس کی وجہ سے انتشار اور تشدد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ چونکہ پاکستان میں ب...

موضوع: دہشت گردی کے بارے میں ہندوستان کا موقف

وزیرخارجہ ایس جے شنکر فنلینڈ کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا اس ملک کا پہلا دورہ تھا حالانکہ انیس سو پچاس سے دونوں ملکوں کے اعلیٰ رہنما ایک دوسرے ملک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان اور فنلینڈ کے درمیان رشتے کافی خوشگوار ہیں۔ اس حقیقت کےپیش نظر کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک کی جانب سے بڑھتی دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور فنلینڈ یوروپی یونین کا موجودہ چیئرمین بھی ہے، جناب جے شنکر کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جناب جے شنکر نے اپنے دورے کے دوران فنلینڈ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ سرحد پار کی دہشت گردی پر تفصیل کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔ حکومت ہند کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے تین جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد پاکستان نے من گڑھت کہانیاں سنانا شروع کردی تھی۔ پاکستان کی اس مذموم کوشش کے تناظر میں جناب جے شنکر اور فنلینڈ کے رہنماؤں کے درمیان ہلسنکی میں یہ بات چیت ہوئی۔ جناب جے شنکر نے فن لینڈ کے وزیراعظم آنٹی رینے اور اپنے ہم منصب پیکا ہاوسٹو سے بھی دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ملاقا...

 تبدیلیٔ آب و ہوا کے مسئلہ سے نمٹنے کےلئے ہندوستان کی اپیل قابل غور

کہتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل ولیج یعنی عالمی نوعیت کے ایک گاؤں کی شکل اختیار کررہی ہے۔یہ بات درست بھی ہے کیونکہ جدید سائنسی ایجادات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی نے اتنی آسانیاں پیدا کردی ہیں کہ لمبے فاصلے اب زیادہ طویل نظر نہیں آتے۔ قومیں جدید ذرائع اور وسائل کے سہارے ایک دوسرے کے بہت قریب آگئی ہیں اور آرہی ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ہمیں صاف نظر بھی آرہے ہیں، لیکن جیسا کہ ہر اچھی ایجاد یا پیش رفت کے دو پہلو ہوتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال نیک مقاصد اور بنی نوع انسان کی بھلائی کےلئے بھی ہوسکتا ہے اور اس کی تباہی اور تاراجی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں صدیوں میں انسان نے غیر ارادتاً ہی سہی اپنی تعمیر و ترقی کےلئے قدری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا اور جدید مشینوں کے سہارے صنعتی ترقی کا پرچم بلند کیا، لیکن ان عوامل کے مضر اثرات کا احساس اسے بہت بعد میں ہوا۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر سے آلودگی اور تبدیلیٔ آب و ہوا کے احساس نے عالمی پیمانے پر اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانی شروع کی۔ رفتہ رفتہ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ اگر آلودگی اور تبدیلیٔ آب ...

ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا امکان

عالمی مالیاتی نظام کو بہتر،شفاف اور ریگولر بنانے کے لئے کثیرقومی ادارہ فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ مالی لین دین میں غیر قانونی طریقے اختیار نہ کئے جائیں اور دہشت گرد گروپوں اور افراد کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ناجائز طور پر فنڈ اکٹھا کریں اور منی لانڈرنگ کو بڑھاوا دیں۔چونکہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان دنیا کا ایک بد نام ملک ہے جہاں بے شمار دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہیں اور نیٹ ورک قائم ہیں۔ اس لئے ایف اے ٹی ایف پاکستان پر کڑی نظر رکھتا ہے۔پاکستان کے بعض گروپ تو ایسے بھی ہیں جن کی دولت اور املاک کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور وہ اکثر غیرقانونی طریقوں سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور منی لانڈرنگ کے کام میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کڑی نظر رکھ رہا ہے کیونکہ اس کی بار بار کی وارننگ اور ہدایت کے باوجود حکومت پاکستان نے ایسے مناسب قدم نہیں اٹھائے ہیں جن کے تحت دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ جیسی لعنتوں پر روک لگ سکے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے کئی سال تک گرے لسٹ پر رکھا۔پاکستان کی درخواست اور مستقبل میں موثر کارروائی کرنے کے وعدو...

ہندوستان میں حملے کرنے کا جیش محمد کا نیا منصوبہ

پاکستان نہ صرف یہ کہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان کے خلاف سفارتی سطح پر جھوٹا پروپگنڈا کرنے اور ہندوستان کے ایک گھریلو معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی شر انگیز کوشش کر رہا ہے بلکہ پاکستان میں سر گرم ہند مخالف دہشت گرد گروپوں کو نئے سرے سے ٹریننگ اور اسلحے مہیا کرانے کی بھی بھر پور کوشش کر رہا ہے تاکہ یہ گروپ کشمیر اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں تخریبی سر گرمیاں انجام دے سکیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ فروری کے وسط میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد ہندوستان نے عالمی پیمانے پر دہشت گرد قرار دیئے گئے اس گروپ کے خلاف پہلی بار پاکستان کے اندر گھس کر کارروائی کی تھی۔ فروری کے اواخر میں ہندوستانی فضائیہ کے جیٹس نے صوبہ خیبر پختون خوا میں واقع بالا کوٹ میں جا کر جیش کے ٹریننگ سینٹر اور فیسلیٹی پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد نہ صرف جیش محمد بلکہ دوسرے بعض گروپوں کو بھی پاکستان نے یہ ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی سر گرمیاں محدود کر دیں ۔ در اصل حکومت پاکستان نے اس بات پر خاص زور دیا تھا کہ انتہا پسند گروپ سنبھل کر کام کریں تاکہ عا...

اور اب کشمیر پر بات چیت کرنے کے لئے عمران خان کا دورۂ سعودی عرب

شاید پاکسان کے لئے اقتصادی بدحالی ، افراط زر،ناخواندگی، غریبی اور بیماری کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس سے وہاں کے حکمرانوں کو کوئی فکر لاحق ہوسکتی ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے ، یہاں کی اندرونی صورتحال کیا ہے۔ چنانچہ حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کے تعلق سے دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد پاکستانی حکمراں ایکدم حرکت میں آگئے اور سب کچھ چھوڑ کر دنیا بھر کی راجدھانیوں کے چکر لگانے لگے تاکہ ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اس سے باز پرس کی جائے کہ اس نے اپنے ملک کی ایک ریاست میں انتظامی تبدیلی کیوں کی؟ سفارتی سطح پر اس نے زمین آسمان کے قلابے ملائے کہ کوئی ہندوستان سے پوچھے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ امریکی صدر ٹرمپ سے پاکستان کے وزیر اعظم نے گزارش کی کہ وہ ہندوستان کو سمجھائیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہا کہ اگر دونوں ملک چاہیں تو وہ ثالثی کا رول انجام دے سکتے ہیں۔ ہندوستان نے ان سے اور دوسرے تمام لوگوں سے یہی کہا کہ ہندوستان کا ایک اٹل موقف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو آپسی معاملات ہیں وہ صرف باہمی گفتگو کے ذریعہ ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔ کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجا...

موضوع: معیشت سے توجہ ہٹانے کی پاکستانی کوشش

آج جناب عمران خان اور ان کی سرکار کے اراکین کچھ زیادہ ہی مصروف نظر آرہے ہیں۔ موصوف نے اگر پاک مقبوضہ کشمیر میں ریلی کرکے یہ بتلانے کی سعی کی کہ ان کو کشمیری عوام کی فکر کس قدر لاحق ہے، وہیں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بھی کوشش کی، یہ اور بات ہے کہ ان کی ایسی ہر کوشش ناکام ہورہی ہے، بلکہ اس نے صرف یہ سچ سامنے لانے کا فریضہ انجام دیا ہے کہ پاکستان آج عالمی برادری سے کس قدر کٹا ہواہے لیکن جو بات لگتا ہے اکثر صحافیوں اور سیاسی مبصروں کی نظروں سے اوجھل رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ناکامی کے تمام امکانات سے بخوبی واقف رہتے ہوئے بھی عمران سرکار اگر کشمیر کا راگ الاپے جارہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج پاکستان اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، ملک میں عوام کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور معیشت کو پٹری پرلانے کی تمام کوششیں ایک کے بعد ایک ناکام ہوتی جارہی ہیں۔ لہذا ملک کیلئے بحران کی اس گھڑی میں کشمیر کا ایشو ان سیاست دانوں کیلئے ایک طرح سے فضل الہٰی بن کر نازل ہوا ہے جس کے سہارے پاکستان کے دبے کچلے عوام کی توجہ ان کے حقیقی مسائل سے ہٹانے کی کو...

موضوع: ہندوستان کا اندرونی معاملات پر اقوام متحدہ میں گفتگو نہ کرنے کا فیصلہ

ہندوستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ اقو ام متحدہ جنرل اسمبلی میں دفعہ تین سو ستر پر کوئی بات نہیں کرے گا کیوں کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ روانہ ہونے سے قبل ہندوستانی خارجہ سکریٹری وجے کیشو گوکھلے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقو ام متحدہ کی جنرل اسمبلی کثیر جہتی مسائل پر بات چیت کا پلیٹ فارم ہے اوروہاں دفعہ تین سو ستر پر بحث ہمارا ایجنڈا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے۔ ہندوستانی خارجہ سکریٹری نے واضح لفظوں میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اقو ام متحدہ اور امریکہ کے اپنے دورے میں کشمیر اور دفعہ 370 کے معاملہ کو کوئی توجہ نہیں دیں گے بلکہ وہ اپنی تقریر میں بدلتی ہوئی دنیا کے اہم امور بالخصوص کثیر جہتی عالمی نظام کے معاملات پر ہندوستان کی توقعات اور کردار کو نمایاں کریں گے۔اس میں دہشت گردی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کو کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی ہندوستانی آئین کے دفعہ تین سو ستر کوگذشتہ ماہ ختم کئے جانے بعد سے ہی پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر مختلف پلیٹ فارموں پر اٹھانے کی کوشش کررہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اقو ام م...

امریکہ طالبان مذاکرات کی ناکامی میںISI کا رول

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا منقطع ہو جانا ایک افسوسناک امر ہے اور چونکہ خطے میں امن پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اس لیے وہ مذاکرات کے دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے بقول اگر بات چیت کا دوبارہ آغاز نہیں ہوتا ہے تو یہ ایک المیہ ہوگا اور پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہوگا۔ چونکہ افغانستان کے عوام گزشتہ چالیس برسوں سے مشکلات سے دوچار ہیں اس لیے پاکستان کوشش کرے گا کہ مذاکرات کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان عوام عشروں سے مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ان مشکلات کا سبب کیا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پہلو پر بھی غور کرے اور اس کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لے۔ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات بڑی مشکل سے شروع ہوئے تھے۔ امریکہ اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ قیام امن کی شرط پر وہ اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لے جائے گا۔ بات چیت کافی آگے تک جا چکی تھی بلکہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدہ کے نکات کو حتمی شکل دیا جانا تھا۔ لیکن اسی درمیان طالبان نے کابل میں حمل...

افغانستان کی نئی صورتحال اور پاکستان کی بے چینی

حالانکہ اس مرحلےمیں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کیا ہوگا یا مستقبل قریب میں کس کی طرف سے کیا قدم اٹھایا جانے والا ہے لیکن ایک بات صاف نظر آ رہی ہے کہ پاکستان کی بے چینی صدر ٹرمپ کی جانب سے اچانک امن مذاکرات کا سلسلہ منسوخ کئے جانے کے بعد کافی بڑھ گئی ہے۔اس کی وجہ بھی سمجھ میں آئی ہے ۔ در اصل امریکی اور طالبانی نمائندوں کے مابین امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد اس خطے میں سب سے زیادہ اطمینان پاکستان کو ہوا تھا۔اسکے اطمینان اور خوشی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مذاکرات کے ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملے بھی جاری تھے لیکن ایسا لگتا تھا کہ انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یعنی تاثر یہ ابھر رہا تھا کہ امریکی انتظامیہ کو صرف افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی جلدی ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ صرف طالبان سے یہ گارنٹی مل جائے کہ امریکی فوجوں کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے نیز یہ کہ افغانستان غیر ملکی دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ کاکام نہیں کرےگا۔ جیسے جیسے مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے سمجھوتے کے امکانات کی امید بھی بڑھ رہی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملے بھی بڑھ رہے ت...

موضوع: عمران کی جنگ کی دھمکی

پاکستانی حکمرانوں کو جنگ لڑنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ خاص طور پر ہندوستان سے لڑنے جھگڑنے کا بہانہ تلاش کرنا اور براہ راست یا بالواسطہ جنگ کی دھمکی دینا ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ روایتی طرز کی جنگ تو وہ کئی بار لڑ بھی چکے ہیں اور ان جنگوں کے فائدے اور نقصان کا تجربہ بھی کرچکے ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی محسوس کرچکے ہیں کہ ایسی جنگیں جوڑگھٹاکر پاکستان کو ہربار تباہی اور پسماندگی سے آشنا کراتی ہیں لہذا انہوں نے اس حکمت عملی میں قدرے تبدیلی پیدا کی اور درپردہ جنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس حکمت عملی کا خاص اور بنیادی عنصر یہ ہے کہ دراندازی کو بڑھاوا دے کر دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ کشمیر میں یہ کھیل وہ برسوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے کھیل رہے ہیں، لیکن ان کا یہ کھیل کشمیرہی تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی انہوں نے تباہی مچانے کی کوئی کم کوشش نہیں کی ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی خارجہ پالیسی کے اہم عنصر کے طور پر دہشت گردی کو اپنا سب سے بڑا Tool بنایا ۔لہذا حالیہ دنوں میں جب ہندوستان نے ریاست جموں وکشمیر میں کچھ انتظامی اور قانونی تبدیلیاں کیں تو پاکستانی حکمراں بدحواس ہواٹھ...

جماعت الدعوہ پر لاکھوں روپئے خرچ کرنے کا پاسکتان کے وزیر داخلہ کا دعویٰ 

کشمیر کے تعلق سے ہندوستان کے کچھ فیصلوں کی بنیاد پر پرپاکستان نے ہندوستان کے خلاف اپنے خیال میں ایک فیصلہ کن سفارتی جنگ چھیڑی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ عالمی برادری میں ہندوستان کے خلاف ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے کہ دنیا کی نظر پاکستان کی پشت پناہی سے فروغ پانے والی دہشت گردی کی طرف سے ہٹ جائے ۔ لیکن جب پاکستانی حکمرانوں کو ہرطرف سے مایوسی ہوئی اور انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور دنیا اب بھی پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہی تصور کرتی ہے تو انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کئی طرح کی صفائی پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ جولائی کے مہینہ میں وزیراعظم پاکستان امریکہ کے دورے پر گئے ۔ اس کا خاص مقصد امریکہ سے بگڑتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔ اتفاق سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا چرچہ بھی تھا اور اس میں امریکہ کو کسی حد تک پاکستان کا تعاون بھی چاہئے تھا۔ سو عمران خان نے دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان کی اچھی امیج بنانے کی کوشش کی۔ وہاں ایک موقع پر انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستان میں اب بھی 30سے 40...

موضوع: کلبھوشن جادھو معاملہ: پاکستان کا رویہ آئی سی جے کی توہین کے مترادف

ہندوستان سے پاکستان کی عداوت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے وہ طرح طرح کی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ اس نے ہندوستان کے خلاف طویل عرصہ سے درپردہ جنگ چھیڑرکھی ہے۔ جس میں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے دہشت گردوں اور خفیہ ایجنسیوں کا استعمال شامل ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں رکھنا اس کی تازہ مثال ہے۔ اس کا علم پوری دنیا کو ہے کہ کلبھوشن جادھو ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر ہیں جو تجارت کی غرض سے ایران میں تھے جہاں پاکستانی خفیہ ایجنسی نے انھیں اغوا کرکے پاکستان منتقل کردیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے صوبۂ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا ہے او ریہ کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کے تعلق سے جس طرح سے جھوٹ کا تانا بانا بنا وہ عالمی برادری کو ہضم نہیں ہوا۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو حراست میں رکھ کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے سال 2016 میں کلبھوشن جادھو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے قونصلر رسائی تک نہیں دی تھی۔ ہندوستان کے بین الاقوامی عدالت انصاف یعنی آئی س...

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

وزیر خارجہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جنوب مشرقی ایشیاء کے دو ملکوں ، انڈونیشیاء اور سنگاپور کا دورہ کیا۔ جنوب مشرقی ایشیاء کے اپنے دورے کے پہلے مرحلہ کے دوران انہوں نے انڈونیشیاء کے اپنے ہم منصب ریٹنو مرسودی سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحری معاملات کے کوآرڈینٹنگ وزیر جنرل لوہوت بنسار پنجیتان سے بھی ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران دونوں وزراء نے بھارت کے انڈمان اینڈ نکوبار جزیرے اور انڈونیشیاء کے آسے جزیرے کے درمیان مزید تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ انڈونیشیاء بھارت کا ایک قریبی بحری پڑوسی ہے۔ بھارت کے جنوب کا آخری حصہ شمالی انڈونیشیاء کے آخری پوائنٹ سے صرف 90 میل دور ہے۔ بھارت اور انڈونیشیاء کے درمیان بحری تعاون کافی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کی ‘‘ ایکٹ ایسٹ پالیسی’’ اور انڈونیشیا کی گلوبل میری ٹائم فلکرم فطری طور پر ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ دونوں ممالک آسیان کی مرکزیت اور اس کے اتحاد کی نہ صرف قدر کرتے ہیں بلکہ انھیں فروغ دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر ہند-بحرالکاہل کے مقاصد اور ویژن کو فروغ دینے کی ضمن میں کافی اہم ہے کیونکہ اس ...

موضوع:طالبان کی ،امریکی فوجوں پر حملہ جاری رکھنے کی دھمکی

امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے امن مذاکرات میں آخری لمحوں میں جو اچانک بریک لگا وہ بھلے ہی کسی حد تک بعض حلقوں میں چونکانے والا رہا ہے لیکن غیرمتوقع نہیں تھا۔ دراصل جس ڈرامائی انداز میں مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، اسی ڈرامائی انداز سے ردّ کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔ شروع میں جب امن مذاکرات کے لئے کوئی بات ہوتی تھی تو امریکہ کا موقف یہ ہوتا تھا کہ طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنی چاہئے جبکہ طالبان اس بات سے قطعی اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ شروع سے آخر تک ان کا یہی کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے جبکہ براہ راست امریکہ سے بات چیت کرنے میں انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ پھر اچانک یہ سننے میں آیا کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے زلمے خلیل زاد کو اپنا خصوصی سفیر مقرر کیا ہے۔ بہرحال دوحہ میں امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ گزشتہ سال کے اواخر سے بات چیت شروع ہوئی لیکن اس بات چیت کے تعلق سے بڑی عجیب بات یہ تھی کہ طالبان بات چیت میں تو حصہ لے رہے تھے لیکن اپنے عمل سے یہی ظاہر کررہے تھے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرنے کیلئے...

موضوع:مودی اور اولی کے ہاتھوں پہلی سرحد پار تیل پائپ لائن کا افتتاح

وزیراعظم نریندر مودی اور نیپال کے ان کے ہم منصب کے پی شرما اولی نے منگل کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جنوبی ایشیاء کی پہلی سرحد پار تیل پائپ لائن کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ اس پائپ لائن کے افتتاح کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک اور سنگ میل کا اضافہ ہوگیا۔ یہ پائپ لائن بہار کے موتیہاری اورنیپال کے املیکھ گنج کے درمیان بچھائی گئی ہے جس کی لمبائی تقریباً 70 کلو میٹر ہے اور جس کے ذریعے نیپال کو سالانہ بیس لاکھ ٹن صاف تیل سپلائی کیا جاسکتا ہے۔  اس پائپ لائن کو ہندوستان اور نپیال کے درمیان قریبی تعلقات کی ایک علامت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ موتیہاری اور املیکھ گنج کے درمیان اس پائپ لائن سے علاقہ میں توانائی کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور ٹینکروں کے ذریعے تیل سپلائی کرنے میں جو لاگت آتی ہے اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کے درمیان برابر ہورہی بات چیت سے ہندوستان اور نیپال کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے ایک ترقی پسند ایجنڈہ تیا رکرنے میں مدد ملی ہے۔ نئی دہلی س...

موضوع: چندریان پر پاکستانی وزیر کا بچکانہ تبصرہ بنا پاکستان ہی میں مذاق کا موضوع

جو کچھ کرتے ہیں، وہی ناکام ہوتے ہیں اور کامیاب بھی وہی ہوتے ہیں۔ کبھی مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی جزوی ناکامی کا لیکن ہندوستان کے خلائی مشن ’چندریان-2‘ کو ناکام نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اسے جو کام کرنا تھا، 95 فیصد کام وہ کر چکا تھا، البتہ لینڈر وکرم چاند کی سطح سے صرف 2.1 کلومیٹر کی دوری پر تھا کہ زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ رابطہ منقطع نہ ہوتا، لینڈر چاند کی سطح پر اترجاتا تو خلائی سائنس میں یہ ایک بڑی کامیابی ہوتی مگر اس مشن کا ذکر کرتے وقت یہ بات نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ آربیٹر اپنے پے لوڈ کے ساتھ اب بھی کام کر رہا ہے اور خلائی سائنس کے ہندوستانی ادارے اِسرو نے یہ جاننے میں کامیابی حاصل کر لی ہے کہ لینڈر چاند کی سطح پر اتر کیوں نہیں سکا۔ خلائی سائنس کے امریکی ادارے ناسا نے اس مشن کے حوالے سے اِسرو کی تعریف کی ہے لیکن پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، فواد چودھری نے لینڈر سے رابطہ منقطع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہندوستان کے خلائی مشن کو ناکام قرار دے دیا تھا اور سوشل میڈیا پر اس مشن کے سہارے ہندوستان پر تنقیدوں کی بوچھاڑ شروع کردی تھی۔ اب انہیں...

موضوع:ٹرمپ کا طالبان سے امن مذاکرات رد کرنے کا فیصلہ

حالیہ ہفتوں سے مسلسل یہ خبر یں آرہی تھیں کہ امریکہ اور طالبان کے مابین افغانستان میں قیام امن سے متعلق دوحہ میں مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے اور گفتگو کے کئی مراحل بحسن و خوبی طے ہوچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں تو یہ خبر بھی آئی کہ گفتگو تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور سمجھوتہ کا مسودہ تیار ہورہا ہے۔ لیکن ان خبروں کے درمیان مسلسل یہ خبریں بھی گشت کرتی رہیں کہ طالبان کے حملے بھی اسی تواتر کے ساتھ جاری ہیں جس رفتار سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ طالبان ایک طرف گفتگومیں ایک فریق تھے لیکن دوسری طرف تشدد آمیز کارروائیوں میں بھی ملوث تھے اور نہ صرف ملوث تھے بلکہ بڑے فخر سے ان حملوں کی ذمہ داری بھی لے رہے تھے۔ یہ بوالعجبی نہیں تو پھر اور کیا تھی کہ ان ہی لوگوں سے امن کی امید کی جارہی تھی جو بد امنی پھیلا کر امن کی بات میں شریک ہورہے تھے۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ خود افغانستان کے عوامی حلقوں میں ان مذاکرات کے تعلق سے طرح طرح کے سوال اٹھ رہے تھے جن کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ ایک سوال تو یہی تھا کہ طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر کبھی آمادہ کیوں نہیں ہوئے؟ پھر صدارتی الیکشن بھی اسی ماہ کے اوا...

موضوع: کرتاپور پر پاکستان کا معاندانہ رویہ

کرتار پور صاحب راہداری معاہدے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان دونوں ملکوں کے افسروں اور نمائندوں کی بات چیت کے تیسرے دور میں بھی معاہدے کو آخری شکل نہیں دی جاسکی ہے جس کا سب سے بڑا سبب یہ مانا جا رہا ہے پاکستان کی حکومت ایک خالص مذہبی ثقافتی اور سماجی معاملے کااچانک سیاسی فائدہ اٹھانےکے بارے میں سوچنے لگی ہے۔ماضی کے ورق پلٹے جائیں توکرتار پور صاحب راہداری کی تجویز پہلی بار 1999کے اوائل میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم جناب اٹل بہاری باجپئی اور میاں نواز شریف کی ملاقات کے دوران سامنے رکھی گئی تھی۔برسوں تک یہ تجویز صرف تجویز بنی رہی۔بالآخر گزشتہ سال راہداری کا سنگِ بنیاد26نومبر کو ہندوستانی علاقے میں اور دو روزبعد پاکستانی علاقے میں رکھا گیا۔کرتار پور صاحب گوردوارہ سکھ مذہب کے بانی اور سکھوں کے سب سے بڑے گرو، بابا نانک دیو جی سے منسوب ہے جن کا اِس سال نومبر میں 550 واں یومِ پیدائش منایا جائے گاچنانچہ اس راہداری کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے ۔ یہ سیدھی راہداری سکھ زائرین کے لیے زیارت کے سفر کا فاصلہ بڑی حد تک کم کردے گی۔ راہداری بنانے کے پاکستانی فیصلے کا بھارتی عوام اورخاص طور سے سکھ...

امریکہ۔طالبان سمجھوتہ اور افغان حکومت کی تشویش

آج کل افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کا بڑا چرچہ ہے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ گزشتہ سال کے اواخر سے شروع ہوا تھا اور آخری مرحلوں سے گزر کر یہ سننے میں آرہا ہے کہ سمجھوتہ کی تفصیلات ممکنہ طور پر طے کر لی گئی ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان جو بات چیت ہو رہی تھی، اس میں ایک بات شروع سے آخر تک بیشتر حلقوں کو کھٹکتی رہی کہ افغانستان کی آئینی طور پر منتخب حکومت کا آخر کیا رول ہوگا؟ طالبان نے اول دن ہی سے یہ موقف اختیار کر رکھا تھا کہ وہ اشرف غنی حکومت اور ان کے نمائندوں سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی سطح پر بات چیت نہیں کرے گا۔ اس کا جواز اس کی طرف سے یہ پیش کیا گیا کہ یہ حکومت امریکہ کی پٹھو حکومت ہے۔ لیکن خود امریکہ سے بات چیت کرنے میں طالبان کو پس وپیش نہیں تھا۔ شروع میں تو امریکہ یہی چاہتا تھا کہ طالبان امریکہ کی بجائے افغان حکومت ہی سے بات کریں اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں، امریکہ بعد میں اس عمل میں شریک ہوسکتا ہے۔ لیکن پھر اچانک صدر ٹرمپ کی پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔کہاں تو انہوں نے افغانستان کے حوال...

موضوع: ہند-روس اسٹریٹجک شراکت داری

وزیراعظم نریندرمودی ولادی ووستک میں مشرقی معاشی فورم کی پانچویں سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے روس کے دو روزہ دورےپر تھے۔ سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ انہوں نے صدر ولادیمیرپوتن سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ معاملات سمیت عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ان کے دورے کے دوران ہندوستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ معاشی فورم کے دوران ہندوستان نے اپنی ایکٹ فارایسٹ پالیسی سے بھی متعارف کرایا۔ وزیراعظم مودی نے وسائل سے مالامال مشرق بعید کی ترقی کیلئے ایک ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان کیا۔ نئی دہلی کی اس پالیسی سے ہندوستان کے علاقہ میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان یہاں ہیرے، کوئلے اور سونے کی کان کنی میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ہندوستان اور روس کے درمیان تعلقات کافی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی تہذیبی قدریں ایک جیسی ہیں۔ دونوں کی دوستی ہر موقع پر کھری اتری ہے، دونوں کے درمیان آپسی سمجھ بوجھ زبردست ہے۔ ترقی اور معاشی پیش رفت کے بنیادی مسائل کے بارے میں ایک دوسرے کی سمجھ ایک جیسی ہے اور اس...

موضوع: عمران کے بیان سے پاکستان کا انحراف

پاکستان فوج اور سیاسی قیادت کی رسہ کشی کا کس حد تک شکار ہے اس کا اندازہ چند روز قبل آئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ایک بیان اور بعد میں اس سے منحرف ہونے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک اہم اجلاس سے خطاب میں عمران نے یہ کہتے ہوئے سب کو چونکا دیا کہ ان کا ملک ایٹمی حملے کے معاملے میں پیش قدمی نہیں کریگا ۔عمران کا یہ بیان حالیہ تناظر میں اس اعتبار سے باعث حیرت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے باعث اطمینان بھی تھا کہ وہ جموں کشمیر سے دفع 370ہٹاے جانے کے بعد جنگی جنون کا شکار ہیں، اور بار بار بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں. اس سے بھی آگے جا کر وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کشمیر معاملے پر بھارت کے خلافت اپنی ایٹمی طاقت کا بھی استعمال کر سکتا ہے ۔حالانکہ اپنے اس غیر دانشمندانہ بیان میں انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں جیت کسی کی بھی نہیں ہوگی ۔لیکن ان تمام منفی بیانات کے درمیان جب انہوں نے ایٹمی حملے میں سبقت نہ کرنے کی بات کہی تو بشمول بھارت پوری دنیا کو حیرت ہوئی ۔حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ دنیا اب پاکستان کے کسی دعوے یا وعدے پر بھروسہ نہیں...

موضوع: کشمیر پر پاکستان کی بے تکی اور غیرذمہ دارانہ بیان بازی

حکومت ہند کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستانی رہنماؤں نے بےتکے اور غیرذمہ دارانہ بیانات دینے شروع کردیئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ پاکستانی قیادت اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ہندوستان کو ڈرانے دھمکانے کا کوئی بھی موقع چھوڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے تو نیوکلیائی جنگ کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے ہندوستان کو کشمیر کے بارے میں اپنے فیصلے نافذ کرنے سے نہیں روکا تو دونوں ملکوں میں جنگ چھڑسکتی ہے۔ حالانکہ ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ راشد اپنا الگ راگ الاپ رہے ہیں۔ ابھی کچھ روز پہلے ایک پبلک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونو ں ملکوں کے درمیان اکتوبر یا نومبر میں جنگ چھڑ جائیگی۔ ان تمام متضاد بیانات سے پاکستان کی مایوسی صاف نظر آتی ہے۔  مسئلہ کشمیر میں پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ ان تمام ملکوں نے واضح طور پر کہا کہ ج...

موضوع: عمران خان کے لہجے میں اچانک تبدیلی کیوں؟

جموں وکشمیر کے حوالے سے دفعہ 370 کا ہٹایا جانا ہندوستان کا خالص اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان نے گزشتہ ایک مہینے سے جو ہندوستان کے خلاف لفظی یلغار شروع کی تھی اور عالمی پیمانے پر سفارتی کوششوں کے ذریعے ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے جو ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اس کا عبرتناک انجام دیکھ کر عمران خان نے یا شاید ان کے بعض مشیروں نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان کی اب تک کی تمام سفارتی کوشش اور کشمیر کے سوال پر کی جانے والی اشتعال انگیزی خود پاکستان کی تصویر خراب کررہی ہے اور عالمی برادری میں رائے عامہ اس کے خلاف ہورہی ہے۔ لہٰذا وزیراعظم عمران خان او ران کے رفقائے کار نے اپنی تقریروں کے لہجے میں تلخ نوائی اور دھمکی کا عنصر کم کردیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی کے بارے میں عالمی برادری محسوس کررہی ہے کہ ابھی تک پاکستان نے دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کرنا بند نہیں کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تو حال ہی میں اس وقت سامنے آیا جب غیرقانونی مالی لین دین اور منی لانڈرنگ پر کڑی نظر رکھنے والے واچ ڈاگ، ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے اپنی حالیہ م...