موضوع: کشمیر پر پاکستان کی بے تکی اور غیرذمہ دارانہ بیان بازی
حکومت ہند کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستانی رہنماؤں نے بےتکے اور غیرذمہ دارانہ بیانات دینے شروع کردیئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ پاکستانی قیادت اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ہندوستان کو ڈرانے دھمکانے کا کوئی بھی موقع چھوڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے تو نیوکلیائی جنگ کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے ہندوستان کو کشمیر کے بارے میں اپنے فیصلے نافذ کرنے سے نہیں روکا تو دونوں ملکوں میں جنگ چھڑسکتی ہے۔ حالانکہ ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ راشد اپنا الگ راگ الاپ رہے ہیں۔ ابھی کچھ روز پہلے ایک پبلک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونو ں ملکوں کے درمیان اکتوبر یا نومبر میں جنگ چھڑ جائیگی۔ ان تمام متضاد بیانات سے پاکستان کی مایوسی صاف نظر آتی ہے۔
مسئلہ کشمیر میں پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ ان تمام ملکوں نے واضح طور پر کہا کہ جموں وکشمیر کے بارے میں حکومت ہند کی جانب سے لیا گیا فیصلہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ چین پاکستان کا ہر موسم کا ساتھی تصور کیا جاتا ہے لیکن اس معاملے میں اس نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ ان تمام باتوں کے باوجود عمران خان نے پچھلے جمعہ کو لوگوں سے ایک گھنٹے کیلئے احتجاجاً کھڑے رہنے کی اپیل کی۔ تاہم ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی کیونکہ اکثر پاکستانیوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ عمران خان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالت میں بھی اس معاملے کو لے جانے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان نے واضح طور پر ہندوستانی اقدام کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کی الجھن اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہاں کی قیادت ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے موضوع پر بھی بٹی ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ نئی دہلی کیساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے جبکہ ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے۔ قریشی کے بیان کے بعد عمران خان کو میڈیا میں آئی ان خبروں کی تردید کرنی پڑی کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے۔ جہاں تک اسلام آباد سے مذاکرات کا تعلق ہے تو نئی دہلی نے واضح کردیا ہے کہ بات چیت تبھی ہوسکتی ہے جب پاکستان ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے خلاف دہشت گردی کو حکومت کی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا بند کردے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی سے پاک ماحول میں ہندوستان پاکستان کیساتھ جموں وکشمیر کوچھوڑ کر تمام دو طرفہ مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔
پاکستان اس معاملہ میں مسلم ممالک سمیت دوسرے ملکوں سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں لگاہوا ہے۔ حال ہی میں اس نے کشمیر میں مبینہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے نام پر سعودی عرب اور کویت سے رابطہ کیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر پر فیصلہ لینے کے بعد بھی کچھ بااثر اسلامی ملکوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا۔ متحدہ عرب امارات نے انہیں اعلیٰ ترین ایوارڈ آرڈر آف زید عطا کیا اور پاکستان کو بتادیا کہ ہندوستان کیساتھ اس کے رشتے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور اسلام آباد کی بیان بازی کا ان رشتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم کی جانب سے کشمیر معاملہ پر خاموشی پر پاکستان کے ایک سینئر قانون ساز نے کہا کہ اسلامی امہ کا بلبلہ پھوٹ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے پر او آئی سی کے کچھ ملکوں خاص طور پر خلیجی ممالک کی خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ انہیں اس مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
پاکستان کشمیر میں حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزی کی بات کرتا ہے جبکہ وہ خود بلوچستان، خیبرپختونخوا اور مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ وہاں لوگوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو زمینی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے ہند۔ مخالف بیان بازیوں کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔ اس وقت اسے اپنی حرکتیں سدھارنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت تبھی ممکن ہوگی جب وہ راہ راست پر آجائے گا۔
Comments
Post a Comment