Posts

Showing posts from October, 2020

چین کی نیوکلیائی توسیع پسندی اور سنکیانگ

پچھلی دو تین دہائیوں میں چین دنیا کی ایک بہت بڑی معیشت بن کر ابھرا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس کے سامراجی عزائم سے دنیا میں نقص امن کا کتنا بڑاخطرہ ہے۔ چین اپنی سامراجیت قائم کرنے کے لئے اپنے پڑوسی ممالک سے بھی ہمیشہ بر سر پیکار رہتا ہے۔ ساؤتھ چائنا سی (South China Sea) پر قبضہ جمانے کے لئے اس نے فلپائین، کوریا یہاں تک کہ امریکہ سے بھی دشمنی مول لےرکھی ہے ۔ وہیں بیٹھے بٹھائے وہ بھارت جیسے ایک ملک، جسے اپنی سرحدیں بڑھانے کا کوئی شوق نہیں ہے، اور جو دنیا میں امن و امان چاہتا ہے، اس کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں گلوان ویلی میں چینی فو جیوں نے جس طرح ہندوستانی فوجیوں پر بے وجہ حملہ کیا اور جس جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوئے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی طاقت کا بھونڈا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ اور بات کہ ہندوستانی فوجیوں نے بھی منہ توڑ جواب دیا اور چین کو جتا دیا کہ بھارت اب اس سے دبنے والا نہیں ہے۔ اس کی فوج چین سے لوہا لینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ بھارت کے اس موقف کی دنیا بھر میں حمایت ہوئی ہے۔ اب سے صرف چند روز پہلے امریکی وزیر خارجہ...

موضوع: ہندوستانی معیشت میں بہتر ی کے آثار

وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ تہوار کے مہینوں میں اشیائے صرف کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں اکتوبر سے لے کر مارچ تک کی مدت کو تہوارں کا موسم تصور کیا جاتا ہے۔ نکّی مینوفیکچرنگ پرچیز منیجر کےاشاریہ پی ایم آئی کا حوالہ دیتےہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ کووڈ-19 وبا پھیلنے کے بعد عائد کی گئی پابندیوں میں چھوٹ دینے اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے متعدد اقدامات کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ایم آئی ریڈنگ (Reading)اگرپچا س سےاوپر ہےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے اور اگر ریڈنگ پچاس سے نیچے ہوئی تو سمجھ لیجئے کہ اس میں گراوٹ آرہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ جائزوں کے مطابق اگست میں پی ایم آئی کی ریڈنگ 52 تھی جو ستمبر میں بڑھ کر 56 اعشاریہ آٹھ ہوگئی۔ یہ ریڈنگ جنوری 2020 سے لے کر اب تک سب سے زیادہ تھی۔  تہوار کے موسم میں کاروں کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ملک کے کچھ حصوں میں دو پہیاں گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ برآمدات خاص طور پر زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ زرمباد...

پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی نئی لہر

گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا میں دہشت گردی ایک لعنت بنی ہوئی ہے ۔دہشت گردی کے واقعات کہیں بھی پیش آئیں وہ قابل مذمت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے بیشتر بے قصور افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور معاشی سطح پر نقصان بھی ہوتاہے ۔لیکن ایسے وقت یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے جب دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ایک ملک خود اس کا شکار ہوجائے ۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخوا کی راجدھانی پشاور کے ایک مدرسہ میں پیش آنے والا دہشت گردی کا واقعہ انتظامیہ اور دہشت گردوں کے مابین طویل عرصہ تک جاری گہرے روابط کا شاخسانہ ہے ۔اس واقعہ میں آٹھ افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے ہیں جن میں طلبا اور اساتذہ شامل ہیں ۔پی ڈی ایم کے سربراہ اور قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے بالکل صحیح کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دہشت گردی کو ختم کر دینے کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے معنی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی خیبر پختو نخوا میں دھماکے ہوئے تھے اور ان میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔29 ستمبر کو صوبہ خیبر پختو نخوا میں 24 گھنٹے کے اندر دودھماکے ہوئے تھے...

موضوع: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹوپلس ٹو مذاکرات

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹو پلس ٹو کی تیسری میٹنگ کل نئی دہلی میں ہوئی ۔ اس ڈائیلاگ کے تحت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکہ کے وزیر دفاع مائک اسپیر اور وزیر خارجہ مائک پومپیو سے ملاقات کر کے سیکیورٹی سے متعلق اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات میں شرکت کرنے کی غرض سے امریکی وزراء کا نئی دہلی کا یہ دورہ ہند –امریکہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب دونوں ممالک کووڈ19- جیسی وبا کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں اور اسی وباء کے درمیان چند روز بعد امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان مذاکرات کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بات چیت کے دوران جو موضوعات زیر بحث آئے وہ کافی اہمیت کے حامل تھے۔ بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے دفاعی شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے جسے بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ہند- بحر الکاہل میں سلامتی کی بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہندوستان اور امریکہ کووڈ-19 سے سب سے ز...

افغان طالبان کے لئے اب بھی پاکستان محفوظ پناہ گاہ

مسئلے اچھی بیان بازیوں سے نہیں، مثبت اقدامات سے ختم ہوتے ہیں۔ مسئلوں کو ختم کرنے کے لئے اچھا نظر آنے والا اتحادی نہیں، وہ پر خلوص معاون کارآمد ہوتا ہے جو باتوں سے بہلائے نہیں۔ افعانستان کے موجودہ حالات اسی لئے بدتر ہیں، کیونکہ وہاں سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو اتحادی بنایا۔ پاک لیڈر امریکہ کے لیڈروں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دہشت گردی کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، پاک فوجی افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بظاہر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہے مگر اس سچائی سے انکار کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ پاکستان نے طالبان کی معاونت کبھی چھوڑی ہی نہیں۔ طالبان کو پاکستان نے ہی پیدا کیا ہے، ان سے اس کا جدا ہونا آسان نہیں۔ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ افغانستان کے حالات میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی مگر امید بر نہیں آئی۔ گزشتہ چند ہفتوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ ہلمند اور دیگر افغان صوبوں پر طالبان کے قبضے کی لڑائی میں 35,000 کنبوں کو گھروں کو چھوڑنا پڑا ہے۔ امن کی تلاش میں گھر چھوڑنے و...

موضوع:پاکستان میں اغوا اور رہائی کا کھیل جاری

پاکستانی صحافی علی عمران کے 22گھنٹے تک لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس لوٹ آنے پر ان کے اہل خانہ اور صحافتی برادری نے راحت کی تھوڑی سانس لی ہے۔ لیکن یہ خوف بہر حال برقرار ہے کہ پتہ نہیں اگلی مرتبہ کس صحافی کے مبینہ لاپتہ ہوجانے کی خبر آجائے۔ پاکستان کےسینئر صحافی مبشرزیدی نے لکھا کہ علی عمران نے فلسطین اوربرماجاکررپورٹنگ کی لیکن اسرائیلی فوج نے انھیں اغوا نہیں کیا اور برما سےبھی بچ نکلے تاہم انہیں اپنے شہر میں رپورٹنگ کی سزایہ ملی کہ پیشہ وراغواکاروں نےاغواکرلیا۔ علی عمران جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو بنالی تھی جسے جیو ٹیلی ویزن پر نشر کیا گیا تھا۔ اس خبر کے نشر ہونے کے کچھ دیر بعد ہی علی عمران لاپتہ ہوگئے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ علی عمران تھوڑی دیر میں گھر آنے کا کہہ کر باہر گئے تھے۔ وہ اپنی گاڑی اور موبائل فون بھی گھر پر ہی چھوڑ گئے تھے لیکن کئی گھنٹے بعد تک ان کا کوئی اتاپتہ نہیں چلا۔ جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر زبردست طور پر گشت کرنے لگی۔ بہر حال 22گھنٹے کے بعد جب علی عمران گھر لوٹے تو ان کی ذہنی کیفیت ایس...

اقلیتوں کو جبری تبدیلیٔ مذہب سے تحفظ دینے میں حکومت پاکستان کی ناکامی

اسلام رواداری محبت اور خیر سگالی کا مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہر شخص اپنے مذہب اور دین پر قائم رہ سکتا ہے۔ کلام پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تمہارا دین تمہارے ساتھ اور ہمارا دین ہمارے ساتھ۔ ایک اور آیت کریمہ ہے جس کا مطلب ہے دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ لہذا اسلامی نقطۂ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی پر زبردستی اپنے دین کو ترک کر کے اسلام میں داخل کرنا غلط ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور جسے اسلامی مملکت قرار دیا گیا وہاں غیر مسلموں کو جبریہ مسلمان بنانے کی ایک مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ یعنی اسلام کے پیروکار اسلامی تعلیم کی ہی نفی کر رہے ہیں۔ اس جبریہ تبدیلیٔ مذہب کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندو اور عیسائی برادری کی کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں مسلمان بنا کر شادی کر لی جاتی ہے اور لڑکی کے گھر خاندان والے جب قانون اور عدالت کی مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں تو عدالت میں لڑکی سے یہ کہلوا کر کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہے بات ختم کر دی جاتی ہے۔ بلکہ بعض موقعوں پر تو یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ لڑکیاں جو ابھی سن بلوغت کو بھی نہیں ...

پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر

پاکستان جوڑ توڑ کے ذریعے بھلے ہی ہر بار ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جاتا ہو لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر بار دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور۔ پاکستانی حکومت کہتی ہے کہ اس نے مضبوط اقدامات کے ذریعہ دہشت گرد گروپوں پر قدغن لگانے کا کام کیا ہے۔ دہشت گردوں کے بینک اکاؤنٹس تک منجمد کئے گئے ہیں۔ اپنے دعوؤں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے، مطلوبہ دستاویز فراہم کرتے ہوئے عالمی نگرانوں کے سامنے حکومت واہ واہی لوٹنا چاہتی ہے جبکہ اصلیت یہ ہے کہ حکومت دوسری طرف دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست رشتہ قائم رکھے ہوئے ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان میں شیعہ مخالف مظاہرےہوئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں سپاہ صحابہ پاکستان جھنڈے لہرائے گئے تھے۔ یہ وہی سنی تنظیم ہے، جس پر سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کردی تھی۔یہ تنظیم دوبارہ حرکت میں آئی تو 2012 میں دوبارہ پابندی عائد کی گئی۔لیکن آج بھی یہ تنظیم دوبارہ مستحکم ہوکر اپنی کارکردگی انجام دے رہی ہے۔متعدد دوسری دہشت گرد...

پاکستان میں سلیکٹیڈ اورسلیکٹرزکو آزمائش کا سامنا

فوجی اورسیاسی کشاکش میں الجھی پاکستانی جمہوریت ایک بار پھر سخت آزمائشوں سے گزر رہی ہے جہاں پاکستانی رینجرز کی جانب سے سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولس کو مبینہ طور پراغوا کرنے کے اقدام اور پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صفدر اعوان کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے اگرچہ وزیر داخلہ بریڈیگیر اعجاز شاہ نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی ہے کہ جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی رہنما کو اظہار رائے کی آزادی کا نام پرقومی اداروں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، لیکن حالات روز افزوں بگڑتے جا رہے ہیں ۔صورتحال کی سنگیی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ نے واقعے پر عوامی غم و غصے کے بعد مبینہ اغوا کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اِس بیچ پاکستانی ایوان بالا میں اپوزیشن نےکراچی کےہوٹل میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے ان کے خاوند کی گرفتاری اور سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولس کےاغوا کی تفتیش کے لیے ایوان کی کمیٹی بنانے کی مطالباتی قرارداد پیش کردی ہے۔صوبہ سندھ میں حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی عوام ک...

ایغور مسلمانوں کے تعلق سے پاکستان کا شرمناک رویہ

پاکستان چین سے اپنی دوستی پر اکثر و بیشتر فخر کا اظہار کرتا رہتا ہے۔پاکستان اس خوش فہمی کا بھی شکار ہے کہ چین پاکستان کا سچّا ہمدرد اور مددگار ہے۔چین سے اپنے کاروباری اور تجارتی رشتوں کو بھی پاکستان اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیے کافی اہمیت دیتا ہے،لیکن یہ عجیب بات ہے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے تعلق سے چین کے رویے پر پاکستان نے کبھی ایک لفظ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، بلکہ یہ بات شاید زیادہ صحیح ہے کہ ایسا کہنے کی اس میں ہمّت نہیں ہے اور مسلمانوں کے تئیں اس کی مبینہ ہمدردی بھی اس کی سیاست کا ہی حصہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے قومی سیکورٹی مشیر کا ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ایغور مسلمانوں سے متعلق سوال پر اس ایشو کو غیر اہم و ناقابل ذکر ماننا درحقیقت عمران خان اور ان کی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ و غیر انسانی طرز فکر کا ہی ثبوت ہے۔ ایغور مسلمانوں کے تعلق سے حال ہی میں سامنے آئی ایک رپوٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین کی اس مظلوم اقلیت کو کس طرح حکومت کے ذریعہ ستایا جا رہا ہے اور اس کے تہذیب و تمدن کو مٹانے کے ساتھ ساتھ ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔چین میں ایغور مظالم کی داستان ن...

پاکستان کی، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہنے کی مدت میں توسیع کا امکان

پیرس سے ملنے والی خبروں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فی الحال پاکستان کی ،فنانشیئل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر آنے کی توقع بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ27 نکاتی ایکشن پلان کی جو فہرست ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے حوالے کی تھی اور معینہ مدت میں پورے طور پر اس پر عمل کرنے کی تاکید کی تھی، اس پر پاکستان نے اب تک پورے طور پر عمل نہیں کیا۔ حالانکہ مقررہ مدت کئی ماہ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی جس میں کچھ توسیع بھی کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایف اے ٹی ایف کے ذرائع کےمطابق چھ نکات ایسے رہ گئے ہیں جن پر پاکستان نے ابھی تک عمل نہیں کیا۔ اس میں ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ جن نکات پر ابھی تک عمل نہیں ہوا وہ بڑے اہم نکات ہیں۔ ان میں ہندوستان کے دو انتہائی مطلوبہ دہشت گرد، جیش محمد کا مولانا مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کا بانی حافظ سعید بھی شامل ہے۔ ان دونوں مطلوبہ ملزموں کے خلاف ابھی تک سخت قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے واچ ڈاگ کے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اچانک چار ہزار سے زیادہ دہشت گردوں کےنام سرکاری فہرست سے غائب ہو گئے ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر، ذر...

موضوع :پاکستان میں قوی تر ہوتی بحالئ جمہوریت کی تحریک

پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بحالئ جمہوریت کے لئے جو نئی تحریک شروع ہوئی ہے اس نے ابتدائی مرحلے میں ہی خاصہ زور پکڑ لیا ہے اور مختلف شہروں میں جو ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام ہو رہا ہے ان میں عوام بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں۔ تحریک کا خاص ایشو یہ ہے کہ پاکستانی فوج آئین کا پورے طور پر پاس کرے اور صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے سروکار رکھے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پاکستانی فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کر کے آئین کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ادھر ۲۰۰۸ کے بعد سے یعنی جنرل مشرف کے زوال کے ساتھ ہی جمہوریت کی جو بحالی ہوئی اس کے بعد سے فوج نے براہ راست تو اقتدار پر شبخون نہیں مارا لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے سے وہ کبھی باز نہیں آئی۔ گزشتہ جنرل الیکشن میں مبینہ طور پر اس نے پردے کے پیچھے سے ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے کہ عمران کو برسر اقتدار لایا جا سکے۔ بہر حال اس تحریک سے فوری طور پر فوج کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان فوج کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن اندازہ یہی ہوتا ہے کہ فوج کی حمایت میں وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا الٹا...

پاکستانی فوج ہی ہے پاکستان کے مسائل کی جڑ

پڑوسی ملک پاکستان میں اس وقت بظاہر ایک سویلین حکومت قائم ہے، لیکن اس کے قیام سے لے کر اب تک کے عرصہ میں وہاں نصف سے زائد مدت تک فوج براہ راست اقتدار پر قابض رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منتخب حکومت کے دوران بھی پاکستانی فوج کا سلامتی اور خارجہ پالیسی میں پورا دخل رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انتخابات کے دوران بھی انتخابی عمل اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پاکستانی فوج گہری نظر رکھتی ہے۔ اس عرصے میں پاکستان میں خاص طور پر چار فوجی حکمرانوں نے حکمرانی کی۔ جن میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کےنام قابل ذکر ہیں۔ جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک فوجی حکمرانی کا سبب سویلین حکومت کی نااہلی، بد عنوانی اور ملک کو لاحق خطرات کو ہی بتایا جاتا رہا۔ موجودہ وقت میں اگر چہ کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران خان وزیر اعظم ہیں، لیکن ان کے انتخاب لڑنے سے لے کر ان کی کامیابی اور پھر وزیر اعظم بننے تک کے سفر میں بھی فوج کا کردار سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی مضبوطی کے ساتھ پروان نہیں چڑھ سکی یہی وجہ ہے کہ مختلف سطحوں پر پاکستان اور وہاں کی افواج کو تنقید کا سامنا کرنا پڑت...

کامن ویلتھ کی میٹنگ میں پاکستان خود اپنی زبان درازی کا نشانہ

کبھی کبھی اندھی دشمنی کے جوش میں کچھ لوگ خود اپنی ہی زبان درازی یا اوٹ پٹانگ باتوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ چند روز قبل کامن ویلتھ ممالک کی وزرائے خارجہ کی ورچوئل میٹنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہندوستان کے خلاف بیان داغتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کہہ گئے جو خود پاکستان پر صادق آتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے بارے میں یہ کہنا چاہا تھا کہ ہندوستان اپنی مذہبی اقلیتوں کے خلاف برے سلوک کررہاہے۔ اور بھی انہوں نے ہندوستان کا نام لیے بغیر بہت کچھ کہا۔ مثلاً دہشت گردی پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہندوستان کے لیے جنوبی ایشیا کا ایک ملک کہا۔ اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) وکاس سوروپ نے کہا کہ حیرت ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ ملک خود اپنے ہی ملک کی صورت حال کے بارے میں اس کثیر قومی پلیٹ فارم پر یہ باتیں بتارہا ہے! جہاں تک مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کا سوال ہے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں پر کیا گزررہی ہے۔ وہاں ہندو، عیسائی اور سکھ اقلیتوں کو تو نشانہ بنایا ہی جاتا ہے لیکن احمدیوں کے ساتھ بھی کچھ کم زیادتیاں نہیں ہوتیں جنہیں خ...

پاکستانی فوج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عمران خان کی اندھی ہند دشمنی 

ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے فوج کے سیاسی رول کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سے وزیر اعظم عمران خان کچھ اتنے گھبراگئے ہیں کہ انہیں ہندوستان دشمنی کے علاوہ زیر آسمان کوئی اور چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ ان کی ہر تقریر اور ہر بیان کی تان ہندوستان دشمنی پر ہی ٹوٹ رہی ہے۔ جب سے اپوزیشن پارٹیوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نام کا اتحاد قائم کیا ہے، اسی وقت سے فوج اور عمران حکومت دونوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہندوستان دشمنی کےجذبے کو گویا اپنی سب سے بڑی ’’پناہ گاہ‘‘ بنالیا ہے۔ انہیں شاید یہ لگنے لگا ہے کہ اپوزیشن کی اس تحریک کو دبانے اور اسے بدنام کرنے کا بس ایک ہی ذریعہ رہ گیا ہے کہ پاکستان میں رونما ہونے والے ہر ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار ہندوستان کو قرار دے دیا جائے تاکہ عوام کی توجہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور ہر محاذ پر ملنے والی ناکامی کی طرف سے دوسری طرف مبذول کرائی جاسکے۔ یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نے ملک گیر تحریک اس لیے شروع کی ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے غیر جمہوری فعل کی مرتکب ہوئی ہے اور اس طور پر جمہوریت کو نقصان پہنچارہی ہے...

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ چند ماہ قبل میڈیا کی سرخیوں میں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت پاکستان نے ان کے خلاف ایک ریفرنس پیش کیا تھا کہ انہوں نے اپنی فیملی کی غیرممالک میں املاک کی اطلاع حکومت کو نہیں دی تھی، اس پر خود سپریم کورٹ کے حلقوں میں شدید ردّ عمل ہوا تھا اور بعض اعلیٰ عہدیداروں نے بطور احتجاج استعفیٰ بھی دے دیاتھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جسٹس فائز عیسیٰ ایک انتہائی دیانت دار جج کے طور پر جانے جاتے ہیں اس کے باوجود ان کی دیانتداری پر اس لئے شک کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک مقدمہ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ بعض فوجی افسران، اپنے حلف کا پاس نہیں کرتے اور سیاسی امور میں بیجا مداخلت کرکے غیرآئینی فعل کے مرتکب ہوتے ہیں چونکہ یہ فیصلہ فوجی افسران کے خلاف تھا اس لئے فوج یہ برداشت نہ کرسکی کہ کوئی جج اس کے افسران کے خلاف کوئی فیصلہ سنائے۔ اسی لئے جج کی شخصیت کو داغدار بنانے کیلئے ان کےخلاف ریفرنس لایا گیا تھا۔ بہرحال! جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو عدالت عظمیٰ کی بنچ نے اسے ردّ کردیا تھا اور حکومت کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ بہرحال اب وہی جسٹس فائز عیسیٰ سپریم کور...

پاکستان کا فوجداری نظام انصاف عالمی معیار کے مطابق نہیں

کسی بھی ملک کے نظام جمہوریت میں عدل وانصاف کی کافی اہمیت ہوتی ہے ۔اگر وہاں کے سماج میں اس کافقدان ہویا اس طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی جائے تو سماج انتشار کا شکار ہونے لگتاہے اور ملک کا استحکام متزلزل ہوجاتاہے ۔یوں تو دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں کا نظام انصاف تسلی بخش نہیں ہے لیکن ایسے ممالک بھی ہیں جن کی اس تعلق سے خامیاں بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں ۔پاکستان بھی ایسا ہی ایک ملک ہے جہاں کا نظام انصاف اور خاص طورسے فوجداری نظام انصاف انتہائی خستہ حال ہے ۔ حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 56ملکوں میں سے ایک ہے جہاں سزائے موت کے لیے قانون ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کیاجاتاہے ۔2019میں پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ ایسے افراد تھے جنھیں سزائے موت سنائی گئی تھی ، ان کی تعداد 4225سے زیادہ تھی ۔تنظیم کے مطابق اسی سال پاکستان میں 632 سے زیادہ افراد کو سزائے موت سنائی گئی جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔یہ تعداد پوری دنیا میں موت کی سزاسنائے جانے والے افراد کی کل تعداد کا 27اعشاریہ 3فیصد ہے ۔ تعزیرات پاکستان کے تحت کم...

موضوع : ہندوستان کی تابکاری ۔مخالف میزائل کا کامیاب تجربہ  

ہندوستان نے پچھلے ہفتے نئی نسل کی جدید ترین تابکاری مخالف میزائل ’’رودرم۔ایک‘‘ کے کامیاب تجربہ کے ساتھ اپنی دفاعی تیاری میں ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ اس میزائل کو ملک کی دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم نے تیار کیا ہے۔ جس کا مقصد جنگ کی صورت میں فضائیہ کو دشمن کے مقابلہ بر تری حاصل کرانا ہے۔ میزائل کا تجربہ اوڈیشہ کے بالا سور ضلع میں چاندی پور کے انٹیگریٹیڈ ٹسٹ رینج میں ایک سکھوئی۔30ایم کے آئی لڑاکا طیارے کے ذریعہ کیا گیا ۔ میزائل نے اوڈیشہ میں ڈاکٹر ابو الکلام جزیرے جسے اس سے قبل وہیلر آئی لینڈ کے نام سے جانا جاتا تھا، پر واقع ہدف کو بڑی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ ا رودرم میزائل کے اس کامیاب تجربے کے ساتھ ہی ہندوستان ان منتخب ملکوں کے گروپ میں شامل ہو گیا جن کے پاس تابکاری مخالف میزائل تیار کرنے کی صلاحیت ہے ۔ جس سے ان کی فضائیہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیاب تجربے پر ڈی آر ڈی او کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے ۔ ایک تابکاری مخالف میزائل وہ میزائل ہے جس کی مدد سے دشمن کے سرویلانس رڈار، ٹریکنگ اور مواصلاتی نظام کو آسانی س...

مقبوضہ  کشمیر میں پاکستانی فوج کے ساتھ چین کی نئی مہم جوئی

شروع شروع میں بیشتر ممالک کا یہی خیال تھا کہ اندو پیسفک علاقے میں چین کو جو تھوڑی بالادستی حاصل ہو رہی ہے وہ کوئی تشویش کی بات نہیں ہے کیونکہ عام تاثر یہی تھا کہ چین کے استحکام سے بین الاقوامی ضابطوں اور تجارت سے مشرقی ایشیائی ممالک کی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا لیکن اب رفتہ رفتہ یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ چین کے ارادے نیک نہیں ہیں اور وہ بے لگام توسیع پسندی کی طرف مائل ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرے اور سیکورٹی سے متعلق اپنے طور پر نئے ضابطے وضع کرے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کے باعث بیک وقت متعدد ملکوں میں چین کے تئیں بیزاری بڑھتی جا رہی ہے۔ شاید چینی قیادت محسوس کرنے لگی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا دبدبہ قائم کر کے قریبی پڑوسیوں کو اپنا ہمنوا بنا لے گی اور اس طرح اسٹریٹیجک اعتبار سے فائدہ حاصل کرے گی۔ اسی مقصد کے تحت چین ساؤتھ چائنا سی میں دوسرے ملکوں کے آبی علاقوں میں ماہی گیری والی کشتیاں لانے اور ڈبونے لگا ہے۔ غرضیکہ پوری دنیا میں اس کی بد نیتی طشت از بام ہو چکی ہےاور متعدد ملکوں کو اس سے شکایت پیدا ہو گئی ہے۔ چند روز قبل جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں کواڈ گروپ میں...

ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ پاکستان پر گرےلسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ اسی ماہ متوقع

چند روز قبل اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے گھریلو جھگڑوں سے متعلق معاملات پر بولتے ہوئے ہندوستان کا نام بھی گھسیٹ لائے تھے اور یہ کہاتھا کہ پاکستان کے اپوزیشن لیڈرز بطور خاص نواز شریف ہندوستان کے اشارے پر پاکستانی فوج کو بدنام کررہے ہیں اور اسے کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بڑی بےشرمی سے انھوں نے ہندوستان پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ہندوستان پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور پاکستانی فوج اس سے ملک کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ مضحکہ خیز بیان عمران خان کا تو ہوسکتا ہے لیکن عالمی برادری اور خود پاکستان کے صائب حلقے ایسا قطعی نہیں محسوس کرتے ۔ پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا مضبوط قلعہ بنانے والا کوئی حلقہ یا ادارہ ہے تو وہ خودپاکستانی فوج ہے جس نے افغانستان میں سوویت فوجوں کی موجودگی میں پورے پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری میں تبدیل کردیا تھا۔ پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کے تعاون سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک نے افغانستان کو مقتل میں تبدیل کردیا اور اب بھی ان کے رابطے خاصےمضبوط ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان میں لشکر طیبہ اور جیش مح...

مولانا فضل الرحمٰن نئے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مقرر

حال ہی میں پاکستان میں جو نیا اپوزیشن اتحاد قائم ہوا ہے اور جس کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے سے روکا جائے۔ اس کے سربراہ اتفاق رائے سے جمعیۃ العلماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن کومقرر کیا گیا ہے۔ جمعیۃ العلماء اسلام اور جماعت اسلامی در اصل پاکستان کی اہم مذہبی جماعتیں ہیں جو سیاست میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں۔ جنرل مشرف کے زمانے میں، جو سیاسی صف بندیاں ہوئی تھیں ان میں ایک سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے نام سے بھی قائم ہوا تھا جس میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والی چھہ مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔ اس وقت جنرل مشرف نے کچھ ایسے انتخابی ضابطے وضع کئے تھے جن کے تحت مین اسٹریم پارٹیوں مثلاً پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کےامیدوار کم سے کم تعداد میں آسکیں۔ اس ضابطے کے تحت متحدہ مجلس عمل کے امیدوار بڑی تعداد میں منتخب ہوکر آئے تھے اور اسےپارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ صوبۂ خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت بھی قائم ہوئی تھی۔ بہرحال یہ اتحاد کچھ عرصہ بعد ٹوٹ بھی گیا تھا اور تمام مذہبی جماعتیں ایک دوسرے سےالگ بھی ہوگئیں۔ موج...

ایغور مسلمانوں پر ڈھائےجارہے ظلم وستم پر عالمی برادری کو توجہ دینے کی ضرورت

دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی نے اپنے زیرقبضہ یوروپ میں تقریبا ساٹھ لاکھ یہودیوں کاقتل عام کرکے یوروپ کے دوتہائی یہودیوں کا صفایا کردیا تھا کیوں کہ جرمنی کا ڈکٹیٹر اڑولف ہٹلر انہیں کم تر درجے والی نسل کا سمجھتا تھا۔ کچھ اسی طرح سے آج کل چین کے شمال-مغربی صوبے شنجیانگ میں بھی ہورہا ہے جہاں لاکھوں ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھ کر ان پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں۔ ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت مٹائی جارہی ہے۔ ان کے بچوں کو بورڈنگ اسکولوں میں رکھ کر نہ صرف چینی زبان کا درس دیا جارہا ہےبلکہ وہ سب کچھ سکھایا جارہا ہے جو وہاں کی کمیونسٹ حکومت سکھانا چاہتی ہے۔ کیمپوں میں جبری نسبندی کرائی جاتی ہے۔ خبروں کے مطابق پیئر اَپ اینڈ بی کم اے فیملی پروگرام کے تحت جن لوگوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے ان کے گھروں پر نگرانی رکھنے کے لیے چینی شہریوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان کی مسجدوں اور دوسرے مقدس مقامات کو مسمار کیا جارہا ہے تاکہ ان کی شناخت ہی پوری طرح سے ختم ہوجائے۔مقامی لوگوں کو اندیشہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب ایغور مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوجائےگا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے ...

کواڈ ملکوں کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ

کواڈ ملکوں یعنی بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ منگل کے روز ٹوکیو میں ہوئی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر، امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو، آسٹریلیا کے وزیر خارجہ میرائزپین اور جاپانی وزیر خارجہ موتیگی توشیمتسونے اپنی ملاقات کے دوران کووڈ۔19 کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجوں اور مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔ دنیا کی غیریقینی معاشی صورتحال، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، بڑھتے علاقائی تناؤ اور موجودہ عالمی وبا کے پیش نظر یہ میٹنگ کافی اہمیت کی حامل ہے۔ ان ملکوں کی پہلی وزارتی میٹنگ پچھلے سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگوں سے ہٹ کر امریکہ میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد ہند۔بحرالکاہل علاقہ میں معاشی خوشحالی کو فروغ دینا تھا۔ میٹنگ کےدوران اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ کس طرح بحرالکاہل کےعلاقہ میں اصول وضوابط پر مبنی نظام کو یقینی بنایا جائے۔ منگل کے روز ٹوکیو کی میٹنگ میں ایجنڈہ یہ تھا کہ وبا کے بعد پیدا ہونے والےچیلنجوں کا ساتھ مل کر مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ایسے ٹیکے کس طرح تیار کئے جائیں جسے عام لوگ آسانی کےساتھ خرید سکیں اور اسی کے ساتھ ...

موضوع: تائیوان کے ساتھ تعلقات ہندوستان کیلئے کافی اہم

چین کی توسیع پسندانہ پالیسی اور اس کا جارحانہ رویہ دنیا کے اکثر ملکوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے ۔ چین کے امریکہ اور ہندوستان کے ساتھ اس وقت جو تعقات ہیں اسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں تائیوان وہ ملک ہے جو چین کے بڑھتے قدموں کو روکنے یا اسے نشانہ بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔  تائیوان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات چین کیلئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ کے متعدد سینئر حکام نے تائپئی کا دورہ کیا ہے۔ معاشی معاملات کے نائب وزیر کیتھ کریچ جس دن تائپئی کے دورے پر تھے اسی روز چین کے جنگی طیاروں نے تائیوان کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کی اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ امریکہ کے ساتھ تائیوان کے بڑھتے تعلقات اسے منظور نہیں۔ تائیوان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے چینی طیاروں کو روکنے کیلئے اپنے جنگی طیارے روانہ کر دیئے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیجنگ نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ آبنائے تائیوان میں فوجی مشقیں شروع کررہا ہے۔ شاید اتنا کافی نہ تھا اس لئے چین کی فضائیہ نے ایک ویڈیو بھی جاری کیا جس میں دکھایا گیا کہ نیوکلیائی صلاحیت والے ایچ-6 طیارے امریکہ بحر...