پاکستان کا فوجداری نظام انصاف عالمی معیار کے مطابق نہیں
کسی بھی ملک کے نظام جمہوریت میں عدل وانصاف کی کافی اہمیت ہوتی ہے ۔اگر وہاں کے سماج میں اس کافقدان ہویا اس طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی جائے تو سماج انتشار کا شکار ہونے لگتاہے اور ملک کا استحکام متزلزل ہوجاتاہے ۔یوں تو دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں کا نظام انصاف تسلی بخش نہیں ہے لیکن ایسے ممالک بھی ہیں جن کی اس تعلق سے خامیاں بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں ۔پاکستان بھی ایسا ہی ایک ملک ہے جہاں کا نظام انصاف اور خاص طورسے فوجداری نظام انصاف انتہائی خستہ حال ہے ۔
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 56ملکوں میں سے ایک ہے جہاں سزائے موت کے لیے قانون ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کیاجاتاہے ۔2019میں پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ ایسے افراد تھے جنھیں سزائے موت سنائی گئی تھی ، ان کی تعداد 4225سے زیادہ تھی ۔تنظیم کے مطابق اسی سال پاکستان میں 632 سے زیادہ افراد کو سزائے موت سنائی گئی جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔یہ تعداد پوری دنیا میں موت کی سزاسنائے جانے والے افراد کی کل تعداد کا 27اعشاریہ 3فیصد ہے ۔
تعزیرات پاکستان کے تحت کم ازکم 33جرائم میں سزائے موت دی جاتی ہے جن میں قتل ، اجتماعی عصمت دری ، اغوا ، توہین رسالت ، زنا کاری ، ملک سے غداری اور منشیات سے متعلق مختلف الزامات شامل ہیں ۔
پاکستان میں جھوٹے الزام میں گرفتاری عام بات ہے ۔اصل مجرم تو انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کرکے بچ جاتے ہیں لیکن غریب افراد جن کا کوئی یارومددگار نہیں ہوتا انھیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جیلوں میں اپنی باقی زندگی گزارنی پڑتی ہے ۔پاکستان کا بلوچستان علاقہ اس تعلق سے زیادہ سرخیوں میں رہتا ہے ، جہاں برسوں سے جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے ۔قانون وانصاف کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور جب لوگ اپنے عزیزوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو انھیں بھی جیلوں میں ڈال دیاجاتاہے ۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اراکین کو بھی عتاب کاشکار بنایاجاتاہے اور انکی آوازیں دبادی جاتی ہیں ۔اور معاملہ پولیس سے ہوتے ہوئے عدالت تک پہنچ بھی جاتاہے تو انصاف کی امید نہ کے برابر رہتی ہے ۔وکلا اور ججوں تک کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب انھیں موت کے گھاٹ اتار دیاگیاہے ۔
امریکہ کے ایک ادارہ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لحاظ سے پاکستان اس وقت دنیا کے 128ملکوں میں 118ویں مقام پر ہے ۔ اس سے وہاں کے نظام انصاف کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے ۔
پاکستان میں بیشتر قوانین انگریزوں کے دور کے ہیں جو موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔مقدموں میں کافی وقت لگتاہے ، ججوں کی تعداد بھی بہت کم ہے جس کی وجہ سے زیرالتوا مقدموں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔پاکستان میں عام آدمی کے لیے انصاف کاحصول بہت مشکل ہے ۔جہاں مقدمہ کا فیصلہ آنے میں برسوں لگ جاتے ہیں ۔ لوگ انصاف کے انتظار میں اس دارفانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔اسی سال جون میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محمد اقبال 21 سال جیل میں رہنے کے بعد رہاہوئے ہیں۔17سال کی عمر میں انھیں ڈاکہ زنی اور قتل کے ایک معاملہ میں سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن بالآخر سپریم کورٹ نے انھیں بے قصور قراردیتے ہوئے بری کردیا۔ محمد اقبال نے جو اپنی داستان سنائی وہ آنکھیں کھول دینے والی ہے۔ پاکستان میں ایک غریب انسان کو انصاف کے لیے کس طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا تصور بھی انتہائی کرب ناک ہے ۔محمد اقبال کو، جو اب 39سال کے ہیں، سرکاری وکیل سے ملنے نہیں دیاجاتا تھا، یا خود وکیل ان سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے بقول برسوں تک انھیں اپنے وکیل کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے مقدمہ کی پیروی کون کررہاہے ۔پاکستان میں غریب اور پسماندہ لوگوں کے لیے سرکاری وکیل کا نظام ہے، لیکن سرکاری وکلا ایسے ملزمان کے مقدموں میں تساہلی سے کام لیتے ہیں اور یوں اس میں کافی وقت گزرجاتاہے ۔پاکستان میں محمد اقبال کا واحد معاملہ نہیں ہے ۔ وہاں ایسے بے شمار معاملے ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔حقوق انسانی کی تنظیمیں وقفہ وقفہ سے اپنی آواز بلند کرتی رہتی ہیں ۔پاکستان میں اکثر وبیشتر قانون کا بے جا استعمال ہوتاہے ان میں سب زیادہ غلط استعمال توہین مذہب کا ہوتا ہے ۔حالیہ دنوں میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی اور بہاؤالدین زکریایونیورسٹی کے لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا ۔پاکستان اور عالمی سطح پر حقوق انسانی کی تنظیموں کے ذریعہ آواز بلند کیئے جانے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کرنے کا حکم دیدیاتھا اور اب وہ پاکستان سے باہر جاچکی ہیں ۔پاکستان میں اسی طرح کے جھوٹے مقدمات میں جیل میں بند بہت سے قیدی آسیہ بی بی جتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ نہ توان سے ہمدری رکھنے والا حقوق انسانی کا کوئی کارکن ہے اور نہ ہی پیروی کرنے والا کوئی وکیل ۔
پاکستان میں آزادی کے بعد سے ہی سیاسی اور عدالتی نظام کو مستحکم ہونے کا موقع نہیں دیاگیا۔آمریت نے جمہوریت کو باربار پیروں تلے روندا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کا کوئی بھی ادارہ خودمختار نہیں ہے کیونکہ بااثر لوگوں نے اپنے مفاد کے لیے ہمیشہ ان کا استعمال کیاہے ۔پاکسان میں عدالتی نظام اور خاص طور سے فوجداری نظام انصاف اسی وقت بہتر ہوسکتا ہے جب اس میں اصلاحات اور ترامیم کی جائیں اور شفافیت کویقینی بنایاجائے ۔
Comments
Post a Comment