Posts

Showing posts from September, 2020

شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدیں اور مزارات چین کے ہاتھوں مسمار

چین پر پچھلے کئی برسوں سےایغور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔لیکن پچھلے کچھ مہینوں میں جو ثبوت سامنے آئےہیں ان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ بیجنگ اپنی اقلیتوں کی مذہبی اورثقافتی شناخت مٹادینا چاہتا ہے۔ اپنی اس مہم کے تحت چینی حکام نے شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اس بات کا خلاصہ آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو گزشتہ جمعہ کے روز منظر عام پر آئی۔ رپورٹ میں اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے کہ چین کس طرح ایغور مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت اور ان کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شنجیانگ صوبےمیں تقریباً 16 ہزار مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا گیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں جو کارروائی کی گئی اس کے تحت نہ صرف دس لاکھ سےزیادہ ایغوروں کو حراست میں لیا گیا بلکہ ان کی شناخت پر بھی حملہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق2016 میں آکسو پر یفیکٹرکےڈپٹی سکریٹری نےسرکاری محکموں سے کہا تھا کہ لوگوں ...

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے آن لائن خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے مستقبل کے لئے ایک وژن پیش کیا تاکہ امن و سلامتی اور ترقی کے مقاصد حاصل ہو سکیں لیکن اس وژن کی تکمیل کے لئے اقوام متحدہ میں اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 1945 کی دنیا یقیناً آج کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ جوعالمی ادارہ فلاح و بہبود کے احساس کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا وہ اس وقت کے مطابق تھا۔ آج ہم بالکل مختلف دور سے گزر رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہمارے مستقبل کی ضروریات اور چیلنجز کچھ اور ہیں۔ اس لئے آج پوری عالمی برادری کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے کی نوعیت جو اس وقت کے حالات میں تھی آج بھی ویسی ہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج اقوام متحدہ میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہوئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت ساری جنگیں ہوئیں۔ دنیا کو بہت سے ملکوں میں خانہ جنگی بھی دیکھنے کو ملی۔ کتنے ہی دہشت گردانہ حملوں سےدنیا لرز اٹھی،خون کی ندیاں بہ...

گلگت۔بلتستان کا درجہ تبدیل کرنے کا پاکستان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں

گلگت۔بلتستان پر قبضہ کرنے کے تقریباً 70 سال بعد پاکستان اس علاقہ کو ایک مکمل صوبے کا درجہ دینے جارہا ہے۔ یہ علاقہ جموں وکشمیر رجواڑےکا ایک حصہ تھا جس پر ہندوستان کادعویٰ برقرار ہے۔اکتوبر 1947 میں پہلی ہند۔پاکستانی جنگ کے دوران پاکستان نے شمالی علاقوں سمیت جموں وکشمیر کے 78,114 مربع کلو میٹر کے رقبہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ گلگت۔بلتستان کا دوسرا نام ‘‘ناردن ایریاز’’ یعنی ‘‘شمالی علاقے’’ بھی ہے جسے پاکستان انتظامی وجوہات کی بنا پر استعمال کرتا ہے کیونکہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ 28 اپریل 1949 کو پاکستان نے اس علاقہ کو مقبوضہ کشمیر سے علاحدہ کرکے اس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعدمقامی لوگوں کے احتجاج کے باوجود دو مارچ 1963 کو پاکستان نے علاقے کا 5180 مربع کلو میٹر کا علاقہ چین کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس کا نام بدل کر ‘‘مرکز کے زیر انتظام شمالی علاقے’’ کردیا گیا۔ 2009 میں پاکستان نے گلگت۔بلتستان امپارومنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کو منظوری دی جس نے شمالی علاقوں کو خودحکومت کرنے کا اختیار دے دیا۔ اس آرڈر کے خلاف مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج...

پاکستان کا اہانت اسلام قانون اس کے مخالفین اور اقلیتوں کے خلاف بہترین ہتھکنڈہ

پاکستان کے شہر پشاور میں اس سال جولائی میں طاہر احمد نسیم نام کے ایک شخص کو اہانت اسلام کے الزام میں قتل کردیا گیا۔ اس سے پہلے کہ اس معاملہ میں عدالت کوئی فیصلہ سناتی ایک جنونی شخص نے عدالت کے اندر ہی طاہر کو گولی ماردی۔ طاہر احمد نسیم خود کو پیغمبر بتاتا تھا جس کے الزام میں وہ 2018 سے پشاور کی سینٹرل جیل میں قید تھا۔ اس واقعہ کے بعد طاہر کے قاتل کو ہیرو بنادیاگیا۔ جن لوگوں نے طاہر کے قاتل کے قصیدے پڑھے ان میں حکمراں پارٹی کے لیڈر حلیم عادل شیخ بھی شامل تھے۔ پاکستان کے حقوق انسانی کے علمبردار 65 سالہ بشپ جان جوژف اس قانون میں اصلاح کے لیے دہائیوں سے کام کررہے تھے۔ چھ مئی 1998 کو وہ ساہیوال کی ایک عدالت کے سامنے کچھ لوگوں کے ساتھ مظاہرہ کررہے تھے جہاں چند روز قبل ایوب مسیح نام کے ایک شخص کو اہانت اسلام کا مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت سنادی گئی تھی۔ جوژف عدالت کے دروازے تک گئے جہاں انہوں نے مسیح کے لیے دعا مانگنے کے بعد اپنی جیب سے ریوالور نکال کر خود کو گولی مارلی۔ بشپ جوژف کی یہ خودکشی پاکستانی سماج کے دامن پر آج بھی ایک بدنما داغ ہے۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011 کو ...

پاکستان اپوزیشن کا اعلان: سیاسی امور میں فوج کی مداخلت ناقابل برداشت

اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ پاکستان میں اس بار اپوزیشن پارٹیوں کا جو اتحاد قائم ہوا ہے اس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اب سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سے پہلے فوجی حکومتوں کےخلاف اتحاد قائم ہوتے تھے اور ان میں کلیدی مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ جمہوریت بحال کی جائے لیکن جمہوریت بحال ہونے کے بعد بھی پردے کے پیچھے سے فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی تھی اور ریاست کے مختلف آئینی اداروں کی مدد سے سیاسی امور میں دخل اندازی کرکے حالات کو اپنے حق میں یا اپنی مرضی کے مطابق سازگار بنالیتی تھی۔ پاکستان میں فوج کی کارگزاریوں اور کارستانیوں پر تنقید کرنا ‘‘وطن دشمنی’’ کے زمرے میں شامل کیا جاتا تھا لیکن شاید اب اس کی بھی انتہا ہوچکی تھی اور اسی لئے تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے جس کا کلیدی مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت نہیں برداشت کی جائے گی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ 2008 سے یعنی جب سے جنرل مشرف کے بعددوبارہ جمہوریت بحالی ہوئی ہے تب سے براہ راست تو فوجی حکومت نہیں قائم ہوسکی لیکن یہ بھی درست ہے کہ سیویلین حکومتوں کے کاموں میں روکاو...

پاکستان میں جبراً تبدیلئ مذہب کو قانونی سرپرستی

جبراً تبدیلی مذہب کرانے کے لیے پہلے ہی سے بدنام پاکستان میں اب اس مذموم فعل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔حالانکہ عمران خان کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے مذہبی و مسلکی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ قدم اٹھائے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی مختلف طریقوں سے ان اقلیتوں کی مذہبی،سماجی اور شہری آزادی کو غصب کرنے کی کوششیں سرکاری سطح پر جاری ہیں۔انتہا پسند مذہبی تنظیموں کی کارگزاریوں پر بھی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے ایسے معاملوں میں پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔نابالغ لڑکیوں سے جبراً مذہب تبدیل کراکے ان سے نکاح کرنے کے واقعات ملک میں عام ہیں۔دوسری طرف پاکستان کی دو اہم اقلیتوں یعنی احمدی اور شیعوں کے خلاف پاکستان میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینا محال ہو گیا ہے۔یوروپ اور امریکہ یا پھر بھارت میں معمولی واقعات کو بھی اقلیتوں پر مظالم کے طور پر دیکھنے والا پاکستان خود مذہبی و مسلکی تعصب کا بری طرح شکار ہے۔بدقسمتی سے عمران خان کے لیے یہ مسائل اہم نہیں ہیں بلکہ پڑوسی ممالک پر الزام تراشی کرکے پاکستانی حکومت اپنی خامیوں اور کو...

میڈیا کی آزادی اور حکمرانی میں شفافیت پاکستان کی معتبریت کیلئے لازمی

میڈیا کو کسی بھی جمہوری ملک کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی معتبریت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہاں کی حکومت کے کاموں اور فیصلوں میں کتنی شفافیت ہے نیز وہاں کی میڈیا کتنی آزاد ہے۔ میڈیا حکومت کی کارروائیوں پر نظر رکھتی ہے اور اس کے ذریعہ کئے گئے صحیح اور غلط کاموں کی خبر عوام تک پہنچاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں میڈیا اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ میڈیا گھرانوں پر ایسے صحافیوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا سخت دباؤ ہے جو سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کے مطابق کام نہیں کررہے ہیں۔ میڈیا کو سخت سینسرشپ کا سامنا ہے۔ اظہا رائے کی آزادی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو بھی معتبریت کے بحران کا سامنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی اور حکومت اپنی حکمرانی میں شفافیت نہیں برتے گی تو حکومت کی ایمانداری پر سوال تو اٹھیں گے ہی اور جب سوال اٹھیں گے تب اس کی معتبریت کو دھچکا بھی لگے گا اور بین الاقوامی برادری اس نتیجے پر پہنچے گی کہ حکومت حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے۔ حکومت کی کوئی بھی مشینری اگر سماج میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہ...

پاکستان میں پھر بحالی جمہوریت کی تحریک

پاکستان میں بحالی جمہوریت کی تحریک کئی بار چلائی گئی اور تحریک چلانے والوں کو کامیابی بھی ملی یعنی کافی جدوجہد کے بعد فوجی آمریت کا خاتمہ ہوا اورجمہوری حکومت بحال ہوئی لیکن جمہوریت کے فروغ کیلئے صحیح معنوں میں وہاں فضا اس طور پر سازگار نہ ہوسکی، جس طور پر جمہوری معاشرے میں ہونی چاہئے۔ پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان تھے، جنہوں نے 1958 میں فوجی بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور اسے ‘انقلاب’ کا نام دیا تھا۔ انہوں نے دس سال تک حکومت کی۔ ظاہر ہے اس دوران جمہوری قدریں بڑے پیمانے پر پامال ہوئی تھیں لیکن کوئی دس سال بعد عوامی احتجاج کے نتیجہ میں انہیں اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا اور ان کی جگہ ایک دوسرے فوجی جنرل یحییٰ خان مسند اقتدار پر بیٹھے۔ ان کا دورِ اقتدار تو بہت مختصر رہا لیکن انہوں نے 1970 میں انتخابات ضرور کرائے تھے۔ ان عام انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کی پارٹی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کے لئے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں لیکن اسے اقتدار نہیں سونپا گیا جس کی وجہ سے وہاں لوگ مخالف ہوگئےاور یحییٰ خان کی فوج نے آرمی کریک ڈاؤن کے ذریعہ ان کی آواز دبانا چاہی لیکن بالآخر مشرقی پاکستان ...

 موضوع: پاکستان میں دہشت گردی مخالف بلوں کی منظوری اور ایف اے ٹی ایف

گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی مخالف قانون ترمیمی بل اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ سے متعلق دو دوسرے بلوں کو منظور کر لیاگیا۔ اس سے پہلے پچھلے ماہ اپوزیشن کی اکثریت والی سینٹ میں یہ بل نا منظور ہو گئے تھے ۔ ان بلوں کا مقصد فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی کچھ شرائط کو پوری کرنا ہے جنہیں ٹاسک فورس نے پاکستان کوگرے لسٹ سے باہر کرنے کے لئے عائد کر رکھی ہیں۔ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والی پیرس کی اس ٹاسک فورس نے پاکستان کو 2018 میں اس وقت گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اسلام آباد دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے خصوصی اجلاس میں ان بلوں کو منظور کرانا بظاہر ایک اچھا قدم ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومت ملک کو ہر حال میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نکالنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹاسک فورس نے کارروائی کرنے کے لئے جووقت دیا ہے حکومت پاکستان نے اس سے پہلے یہ قدم اٹھا لیا ہے ، ہاں اب یہ تو نہیں معلوم کہ عمران خا...

طالبان کے اڈے پر حملہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر متضاد دعوے

ایک طرف قطر کی راجدھانی دوحہ میں بین افغان مذاکرات کے طے شدہ پروگرام کے تحت حکومت افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان سے دونوں فریقوں کے درمیان تصادم اور جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔ ایسی خبریں غیر متوقع بھی نہیں ہیں کیونکہ طالبان کی طرف سے حملوں اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ کبھی رکا ہی نہیں۔بات چیت کا پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ حالانکہ اس مرحلے میں بھی کافی پیچیدگیاں اور رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں، بلکہ بات چیت کا وہ سلسلہ ایک بار ٹوٹ بھی گیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ بات چیت کے دوران بھی طالبان کے حملے جاری تھے اور اندرون افغانستان حملے بڑھتے ہی جارہے تھے۔ ایسے ہی ایک حملے میں ایک امریکی فوجی بھی طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہوا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے درمیان ہی میں بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا تھا۔ بہرحال کچھ مدت بعد وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا اور اس بار امریکہ اور طالبان کے درمیان ضروری سمجھوتہ ہوگیا۔ مذاکرات کا دوسرا اور اہم مرحلہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ طالبان اور ام...

عمران حکومت کو خود پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لینا چاہیے

پاکستان میں سابق کرکٹ کپتان عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں تب سے انہوں نے عجیب قسم کے طرز حکمرانی کو فروغ دینا شروع کیا ہے۔ چوں کہ انہوں نے پاکستان کے عوام سے بڑے لمبے چوڑے وعدے کیے تھے اور یہ دعوی کیا تھا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، کرپشن سے پاک اور ہر اعتبار سے شفاف اور آئیڈیل ملک بنائیں گے لیکن دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ ہر محاذ پر ناکام ہوئے ہیں، اس لیے لوگوں کی توجہ بنیادی مسائل سے مبذول کرانے کے لیے ان کی حکومت طرح طرح کے کرتب دکھانے میں مصروف ہو گئی ہے۔ مثلاََ پاکستانی معیشت بد سے بدترہوگئی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا یہ عالم ہے کہ نہ صرف اپوزیشن لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں ڈالا جارہا ہے بلکہ حکومت کی تنقید کرنے والوں کو بھی طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہیں اور پریس پر تو ایک طرح سے سنسرشپ ہی نافذ کردی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عمران خان کے دور اقتدار میں مذہبی اور مسلکی منافرت کو بھی بڑے پیمانے پر بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اہانت دین قانون کا بھی اتنے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہونے لگا ہے کہ بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ...

پاکستان میں جبری گمشدگی کے بڑھتے معاملات پر عدلیہ کا اظہار تشویش

پاکستان میں جبری گمشدگی کی بڑھتی تعداد پر نہ صرف وہاں کے عوام کو فکر ہے بلکہ وہاں کی عدلیہ نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں ایک معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جبری گمشدگی کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور یہ صورت حال کافی تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق صرف اسلام آباد میں پچاس ایسے لوگ ہیں جو برسوں سے لاپتہ ہیں اور ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق صرف پولیس کو ہی کسی کوگرفتار کرنے کا اختیار ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسری ایجنسیاں بھی گرفتاریاں کررہی ہیں جو خلاف قانون ہے۔ عدالت عالیہ نے مزید کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی بھی ادارہ انسانی حقوق کی حفاظت کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے تو اسے وفاقی حکومت کی ناکامی سمجھا جائے گا۔ عدالت عبدالقدوس نام کے ایک شخص کی اسلام آباد سے جبری گمشدگی کے معاملے کی سماعت کررہی تھی۔  پاکستان میں جبری گمشدگی کے معاملات جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے لیکن بعد کی حکومتوں کے ادورار میں بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔ ...

کراچی میں شیعہ مخالف انتہاپسند تنظیموں کی ریلی

بانی پاکستان محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا اُس ‘‘ہوم لینڈ’’ کا وہ خواب پورا بھی ہوگیا تھا لیکن وہ اپنی ذات سے کوئی ایسے مسلمان نہ تھے جو متقی یا پرہیزگار رہے ہوں۔ نہ شیعہ اور نہ سنی! اگرچہ وہ اس حد تک شیعہ مسلمان ضرور تھے کہ وہ ایک شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن پاکستان میں قائد اعظم کہے جانے وا لے جناح کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ ان کے خوابوں کے پاکستان میں ایسا دن بھی آئے گا کہ شیعوں کو کافر قرار دینے کا بھی مطالبہ ہونے لگے گااور ان کے لئے پاکستان کی سرزمین اتنی تنگ ہوجائے گی کہ کراچی جیسے میٹرو پولیس میں شیعوں کے خلاف پرتشدد ریلیاں نکالی جائیں گی۔ شیعہ-سنی اختلاف کوئی نیا نہیں ہے لیکن پاکستان میں اس بنیاد جو پُرتشدد واقعات ہوتے ہیں وہ حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت تو پاکستان کے حامی بڑے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے کہ اس نئے ملک میں تمام مکتب فکر اور مختلف ممالک کے مسلمان شیروشکر ہوکر رہیں گے لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان بننے کے کچھ ہی دن بعد اختلافات نظر آنے لگے۔ مشرقی اور مغربی پاکستا...

موضوع: عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی شبیہ بہتر بنا کر ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا وعدہ کیاتھا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہ ہو اور جو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰؐ کے رہنما اصولوں کے مطابق ہو جیسا کہ شہر مدینہ تھا۔ لیکن یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ملک کی خستہ حال معیشت، اتحادیوں کی مخلوط حکومت سے رخصتی اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا خدشہ، یہ وہ باتیں ہیں جو عمران خان حکومت کی کارکردگی کی داستان بیان کرتی ہیں۔ اپنی حکومت کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عمران خان نے اپنی پچھلے دو سال کی حصولیابیوں کو گنوانے کیلئے ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز کا کئی بار دورہ کیا۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی پسند کی خارجہ پالیسی کے ذریعہ پاکستان کی شبیہ کو بہتر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس وبا سے مقابلہ کرنے میں ان کی حکومت نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے، جو ان کی سب اہم حصولیابی ہے۔ ٹیلی ویژن پرایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ ایک ایس...

پاکستان میں پریس کی آزادی

پاکستان میں پریس کی آزادی پر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ابھی چند روز قبل سینئر صحافی ابصار عالم اور بلال فاروقی کے خلاف بغاوت اور سائبرکرائم کے معاملات درج کرکے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ابصارعالم پاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین ہیں، جنہیں نواز شریف کے دور حکومت میں یکم دسمبر 2015 کو اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا لیکن 18دسمبر 2017 کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ان کی تقرری کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہیں عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بلال فاروقی ایکسپریس ٹریبیون میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ انہیں نفرت پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر ان کے حراست میں لئے جانے کے خلاف احتجاجات کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔  ابصار عالم اور بلال فاروقی کی گرفتاری کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ہے۔ جولائی میں ایک دوسرے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے اس وقت اغوا کرلیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے۔ 12 گھنٹے کی اذیت رسانی کے بعد مطیع ...

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین گفتگو کا آغاز

لمبے انتظار کے بعد قطر کے شہر دوحہ میں موجود ہ افغان حکومت اور شورش پسند طالبان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا جس کا خاص مقصد جنگ زدہ ملک افغانستان میں پائیدار نوعیت کے امن کا قیام ہے ۔ گفتگو تو شروع ہو رہی ہے اور امید بھی کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے حالات میں بہتری آئے لیکن امید کے ساتھ ساتھ بہت سارے شبہات اور وسوسے بھی موجود ہیں۔ گذشتہ سنیچر یعنی 12 ستمبر کو گفتگو کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ کم و بیش دو دہائیوں سے تشدد اور خون خرابے کے شکار افغانستان میں حالات بدلیں اور امن کے لئے راہ ہموار ہو۔ افغانستان میں جنگ اور خانہ جنگی کا ماحول تو کم و بیش چار دہائیوں سے چلا آ رہا ہے لیکن2001 کے ستمبر کے مہینہ میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی تھی اسی کے خاتمے کی علامت کے طور پر ان مذاکرات کو دیکھا جا رہا ہے ۔اس سلسلے کا پہلا مرحلہ وہ تھا جس میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی جو اسی سال فروری میں ایک سمجھوتے پر ختم ہوئی تھی۔ لیکن دوسرا اور انتہائی اہم مر...

پاکستان کی سرحد پار پراکسی وار جاری

   امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک لمبی بات چیت کے بعد افغانستان میں قیام امن کے بارے میں اس سال فروری میں ایک سمجھوتہ ہوا۔اس معاہدے میں دوسری باتوں کے علاوہ ایک اہم بات یہ تھی کہ امریکہ نے اس بات سے اتفاق کرلیا تھا کہ افغانستان حکومت کی زیر حراست سینکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا اور حکومت کے جو لوگ طالبان کے قبضے میں ہیں انہیں وہ رہا کردیں گے۔ معاہدے کے مطابق افغان حکومت نے زیادہ تر طالبان قیدیوں کو رہا کردیا ہے لیکن وہ ان تقریباً تین سو قیدیوں کو رہا نہیں کرنا چاہتی جن پر دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا اور فرانس نے بھی ان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی ہے کیونکہ یہ ان ملکوں کے شہریوں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔ معاہدے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا بھی ذکر ہے اور یہ بات چیت انہیں قیدیوں کی رہائی کو لیکر ابھی تک شروع نہیں ہوسکی تھی لیکن سنیچر کے روز یہ امن مذاکرات بالآخر دوحہ میں شروع ہوگئے۔ اس تاریخی امن مذاکرات کی افتتاحی تقریب کا آغاز قطرکے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نےکیا جس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو اور...

انسانی حقوق پر حملہ کرنے والے ہانگ کانگ کے نئے قانون کے خلاف اقوام متحدہ کا احتجاج

چین ایک نہیں بلکہ متعدد معاملات میں عالمی برادری کی طرف سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور بیشتر معاملات میں اس لیے اس کی نکتہ چینی ہورہی ہے کہ انسانی حقوق اور وقار کے تئیں چین ایک انتہائی غیر حساس ملک ثابت ہورہا ہے۔ ابھی حال ہی میں یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ چین ایغور نسل کے مسلمانون پر شدید ظلم وستم ڈھا رہا ہے اور کچھ ایسے ہتھکنڈے بھی استعمال کررہا ہے جن کے ذریعہ وہ ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ ترتیب دے رہا ہے۔ ان الزامات کی چھان بین کے لیے لندن میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون نے ایک ٹرائبونل قائم کرکے حقیقت کا پتہ لگانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ یہ ٹرائبونل عالمی ایغور کانگریس کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے جس نے ابتدائی مرحلے کا کام شروع بھی کردیا ہے۔ لیکن چین صرف صوبۂ سنگیانگ ہی میں زیادتیاں نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے ظلم وستم کا دائرہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ہانگ کانگ کے لیے اس نے جو نیا قانون وضع کیاہے، وہ انتہائی سفاکانہ نوعیت کا ہے اور پوری دنیا کے ماہرین قانون اسے انسانی حقوق پر زبردست حملے سے تعبیر کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے چین سے بڑے واضح لفظوں میں کہاہے ک...

چین کے خلاف ایغور باشندوں کے قتل عام کے الزام کی یوروپ میں چھان بین

اردو کا ایک گھسا پٹا مصرعہ ہے جسے مختلف مواقع پر لوگ استعمال کرتے ہیں: جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا واقعی بعض معاملات میں پورے طور پر یہی صادق آتا ہے۔ مثلاً چین کے ایک مغربی صوبے شِن جیانگ میں ایغور مسلم باشندوں کی حالت زار کا ذکر اب ہر طرف ہونے لگا ہے۔ اقوام متحدہ نے بہت پہلے ہی چین کو وارننگ دی تھی کہ وہ ایغور مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کررہا ہے، اسے آج کا مہذہب سماج قطعی برداشت نہیں کرسکتا۔ وہاں ایغور نسل کے باشندوں کی نہ صرف مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے اقدام کئے جارہے ہیں اور انہیں حراستی کیمپوں میں رکھ کر طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں بلکہ اب یہ بھی الزام لگ رہا ہے کہ ان کے قتل عام یا نسل کشی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اپنی توسیع پسندانہ ذہنیت اور کچھ معاملات میں طاقتور ہونے کے زعم میں، وہ عالمی رائے عامہ کو بھی لگاتار نظر انداز کرتا رہا ہے۔ صوبۂ شن جیانگ میں جو کارنامے وہ انجام دے رہا ہے، اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کی آواز کو جس طرح دبا اور کچل رہا ہے، اس کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں اس کے خلاف صدائے ...