چین کے خلاف ایغور باشندوں کے قتل عام کے الزام کی یوروپ میں چھان بین

اردو کا ایک گھسا پٹا مصرعہ ہے جسے مختلف مواقع پر لوگ استعمال کرتے ہیں:

جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا

واقعی بعض معاملات میں پورے طور پر یہی صادق آتا ہے۔ مثلاً چین کے ایک مغربی صوبے شِن جیانگ میں ایغور مسلم باشندوں کی حالت زار کا ذکر اب ہر طرف ہونے لگا ہے۔ اقوام متحدہ نے بہت پہلے ہی چین کو وارننگ دی تھی کہ وہ ایغور مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کررہا ہے، اسے آج کا مہذہب سماج قطعی برداشت نہیں کرسکتا۔ وہاں ایغور نسل کے باشندوں کی نہ صرف مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے اقدام کئے جارہے ہیں اور انہیں حراستی کیمپوں میں رکھ کر طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں بلکہ اب یہ بھی الزام لگ رہا ہے کہ ان کے قتل عام یا نسل کشی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اپنی توسیع پسندانہ ذہنیت اور کچھ معاملات میں طاقتور ہونے کے زعم میں، وہ عالمی رائے عامہ کو بھی لگاتار نظر انداز کرتا رہا ہے۔ صوبۂ شن جیانگ میں جو کارنامے وہ انجام دے رہا ہے، اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کی آواز کو جس طرح دبا اور کچل رہا ہے، اس کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے۔ ہانگ کانگ میں کچھ عرصہ قبل تک جو سسٹم رائج تھا جس کے لئے چین عہد بند بھی تھا لیکن اب اس نے یکطرفہ کارروائی کرکے وہاں بھی وہی ظالمانہ نظام رائج کردیا جو چین میں نافذ ہے۔ اس کے علاوہ تائیوان اور تبت میں بھی اس کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ پوری دنیا کے الزامات کو جھٹلانے اور اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے ایک اتحادی پاکستان کو اپنی ڈھال بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسے غلط فہمی یہ ہے کہ پاکستان کو قرض اور دوسری رعایتیں دے کر اس کی حمایت سے عالمی رائے عامہ کو بدلنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اس حوالے سے اس سے بڑا لطیفہ اور کیا ہوسکتا ہے کی اس نے پاکستان سے یہ مفاہمت کرلی ہے کہ کشمیر کے معاملے میں وہ پاکستان کے موقف کی تائید کرے گا جس کے عوض پاکستان، شن جیان، ہانگ کانگ، تائیوان اور تبت میں چین کے اقدامات کی حمایت کرے گا۔ حالانکہ خود پاکستان میں چین۔ اقتصادی راہداری یعنی سی پی ای سی اتھارٹی کے چیئرمین سابق لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوا، کرپشن کے ایک بہت بڑے معاملے میں حالیہ دنوں میں ملوث پائے گئے جس کا پاکستان میں اس وقت کافی چرچہ ہے۔ اس سباق میں چین یہ بھی محسوس کررہا ہے کہ پاکستان کے گھریلو معاملات میں اس کا نام اس طرح اچھل رہا ہے جو اس کے لئے فال نیک نہیں ہے۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنا دورہ پاکستان رد کردیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فی الحال یہ دورہ رد کیا گیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اصل وجہ یہی ہے کہ چین اس مرحلے میں یہ دورہ کرنے سے بچ رہا ہے۔

بہرحال اسی دوران یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ صوبہ شن جیانگ میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے، اس کا چرچہ عالمی پیمانے پر زور و شور سے ہورہا ہے۔ لندن سے موصول ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے ایک مشہور برطانوی وکیل نے ایک آزاد اور غیر جانبدار ٹریبونل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس الزام کی چھان بین کرے گا کہ ایغور مسلمانوں کی کیا صورت حال ہے۔چین پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ایغور مسلمانوں ک خلاف متعدد نوعیت کی ظالمانہ کارروائیاں کررہا ہے جن میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ خبروں کے مطابق یہ ٹریبونل، امید ہے کہ نئے شواہد اور گواہیاں بھی حاصل کرے گا۔ اگلے سال اس کی سماعت شروع ہوگی جو کئی دنوں تک چلے گی۔ یہ ٹریبونل پورے طور پر آزاد ہوگا، کسی بھی حکومت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کو عالمی پیمانے پر جوابدہ بنانے کے لئے یہ تازہ ترین کوشش ہوگی کیونکہ ہر طرف یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ 2017 سے ہی ایغور اور دوسرے مسلم باشندوں کو ناقابل بیان مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ بیرسٹر جوفرے نائس وہی عالمی شہرت یافتہ وکیل ہیں جنہوں نے سربیا کے سابق صدر سلوبودان ميلوشيفيتش کو سزا دلوانے میں بلقان جنگ کے معاملے میں نمایاں رول ادا کیا تھا اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ساتھ تعاون کرکے سارے ثبوت فراہم کرائے تھے اور اب عالمی ایغور کانگریس نے ان سے کہا ہے کہ ایغور باشندوں پر ہونے والے مظالم کی چھان بین کرنے اور شواہد مہیا کرانے کے عمل میں وہ پیش رفت کریں۔ چین پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ ایغور باشندوں کی نسل کشی جیسے جرم کا بھی ارتکاب کررہا ہے لیکن عالمی پیمانے پر اس الزام کی ابھی تک چھان بین نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی چین سے کوئی پوچھ تاچھ ہوئی ہے۔ بہرحال اب اس سلسلے میں پیش رفت ہونے جارہی ہے۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بیرسٹر نائس نے بتایا ہے کہ اس تنظیم سے وابستہ لوگ شواہد جمع کرنے کے کام سے وابستہ ہوچکے ہیں اور ابھی ابتدائی مرحلےکا کام ہورہا ہے۔ انہیں امید ہے کہ مطلوبہ شواہد معقول حد تک حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے لئے اگلے چند ماہ کے اندر اندر جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ان ایغور باشندوں سے رابطہ قائم کیا جائے گا جو مختلف ملکوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ جو نئے شواہد اکٹھا کئے جائیں گے ان میں ان سابق سکیورٹی گارڈز سے بھی پوچھ گچھ ہوگی جو شن جیانگ کے حراستی کیمپوں میں ہونے والی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ فوری طور پر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ممکنہ طور پر جبری نس بندی کے بارے میں کچھ ثبوت حاصل ہوسکتے ہیں۔ ایسو سی ایٹیڈ پریس کی ایک حالیہ چھان بین سے پتہ چلا ہے کہ چینی حکومت اضافہ آبادی پر روک لگانے کےلئے منظم طور پر ایغور اور دوسرے مسلم باشندوں میں جبری نس بندی کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ واضح طور پر اس بات کی کوشش ہے کہ ان کی آبادی پر روک لگائی جائے۔ اسی رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چینی حکام لگاتار اقلیتی فرقے کی خواتین پر زیادتی کرتے ہیں اور ایام حمل میں مختلف آلات کی مدد سے اسقاط حمل کے لئے مجبور کرتے ہیں اور نس بندی بھی کرتے ہیں۔ حراستی کیمپوں میں ایغور باشندوں کو مختلف الزامات کے تحت بھیجا جاتا ہے۔ مثلاً کسی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسندی کے راستے پر چل رہا ہے، کسی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا خاندان بہت بڑا ہے۔ بہرحال جبری نس بندی اور اسقاط حمل کے واقعات بہت عام ہیں اور یہ بلاشبہ نسل کشی کی شعوری کوشش کے زمرے میں آتے ہیں اور اس کے لئے چین سے جواب مانگا جانا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ