Posts

Showing posts from August, 2020

گلوان میں چینی فوجیوں کی ہلاکت کے ثبوت

جب دو ملکوں کے سرحدی علاقوں میں کوئی ٹکراؤ یا جھڑپ ہوتی ہے تو قدرتی طور پر دونوں طرف سپاہیوں کی جانوں کا زیاں بھی ہوتا ہے اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہوتی ہے۔ چین اور ہندوستان ایشیا کے دو بڑے ملک ہیں اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں پڑوسی ملک ہیں۔ ہندوستان اور چین کے تعلقات گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی میں بہت خراب تھے اور ایک لمبے عرصے تک یہ دونوں پڑوسی ایک دوسرے سے کافی دور رہے ہیں۔ لیکن بہر حال دونوں ملکوں کی قیادت نے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہندوستان چونکہ اس بات کا ہمیشہ سے قائل رہا ہے کہ دوست تو بدلے بھی جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے ۔ اسی لئے وہ تمام پڑوسیوں سے کھلے دل سے بہتر تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں رہا ہے۔ چین سے ہر چند کہ کچھ سرحدی تنازعات موجود ہیں پھر بھی ان تنازعات کی بنیاد پر آپسی تعاون اور اشتراک کے اقدام میں رکاوٹ ڈالنا اور بہتر تعلقات کے سارے دروازے بند کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہوتی۔ اسی خیال سے ہندوستان نے تجارت اور دوسرے شعبوں میں تعاو ن کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حالیہ برسوں میں یہ کوش...

موضوع: دفاعی سازومان کی تیاری میں خودانحصاری

وزیراعظم نریندرمودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ " ڈیفنس مینوفیکچرنگ میں آتم نربھر بھارت" کے موضوع پر ایک سیمنار سے خطاب کیا۔ اس ورچوول سیمینار کااہتمام مشترکہ طور پر سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررس، فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت دفاع نے کیا تھا۔ دفاعی سازوسامان کی مینوفیکچرنگ میں خودانحصار بننے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد دفاعی سازوسامان کی تیاری کو فروغ دینا اورنئی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ دفاع کے شعبہ میں نجی کمپنیوں کو اہم رول دینا بھی ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودانحصاری حاصل کرنے کی رفتار میں جلد ہی تیزی آئے گی۔ جناب مودی نے کہا کہ جب ملک کو آزادی ملی تو اس وقت اس کے پاس دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے کافی صلاحیت تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک اس جانب توجہ نہیں دی گئی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور دفاعی شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کئے گئے متعدد ...

پاکستان کے وزیر خارجہ اور طالبان لیڈروں کی بات چیت سے افغانستان برہم

پاکستان کے بیشتر سنجیدہ سفارت کاروں کا یہ خیال کچھ غلط نہیں ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی خارجہ پالیسی خود اس کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ بالخصوص سینئر سابق سفارتکاروں کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ اگر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر خاطرخواہ توجہ دیتا اور عالمی سیاسی حالات اور بین الاقوامی تعلقات کے تقاضوں کو ذہن میں رکھ کر اپنی پالیسی طے کرتا تو عالمی برادری میں وہ اس طرح بدنام اور رسوا نہ ہوتا کہ آج اس کی بات سننے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ سعودی عرب جو پاکستان کا روایتی طور پر دوست اور اتحادی رہا ہے اور جس سےوقتاً فوقتاً اسے مالی امداد اور قرض بھی ملتا رہا ہے، وہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک اُوٹ پٹانگ بیان سے اس قدر ناراض ہوا کہ خود پاکستان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کرے ۔ اقوام متحدہ سے لے کر ایف اے ٹی ایف تک جیسے عالمی اداروں نے دہشت گردی کے حوالے سے اکثر اس کی سرزنش کی ہے۔ابھی کچھ ہی دن پہلے پاکستان نے اقوام متحدہ کےذریعہ دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں اور افراد کی املاک ضبط کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنےسے متعلق سخت احکامات جاری کئے تھے۔ ان میں القاع...

پاک حکومت سے زیادہ طاقتور پاک فوج کیوں؟

جمہوری نظام ان ملکوں میں کامیاب نہیں ہو پاتا جہاں فوج حکومت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی فوج شروع سے ہی حکومت سے زیادہ طاقتور رہی ہے۔ اسی لیے وہاں جمہوریت کبھی پروان نہیں چڑھ سکی۔ جمہوریت پسند لوگ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریکیں چلاتے رہے ہیں۔ ایک سے زائد بار انتخابات ہوئے، جمہوری طریقے سے حکومتیں منتخب ہوئیں، جمہوریت پسند لوگوں کو یہ امید بندھی کہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی یہ بات نظر آنے لگی تھی کہ اس کے فوجی سربراہ زیادہ طاقتور ہیں، حکومت اورفوج میں رسہ کشی رہے گی۔ دھیرے دھیرے یہ بات عام لوگوں کی فہم سے بالاتر نہیں رہی کہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت اگر حکومت سازی میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو بظاہر ہی وہ حکمراں جماعت رہے گی، اصل میں حکومت فوج کی ہی رہے گی۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی رہی کہ پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیابی منتخب حکومت کے چاہنے سے نہیں ملے گی، دہشت گردی تبھی ختم ہوگی جب پاک فوج چاہے گی مگر سوال یہ ہے کہ فوج ایسا کیوں چاہے گی؟ اس سوال کا جواب نہیں تلاش کیا جا سکا، چنانچہ پاکس...

پاکستان کی، سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوش میں آکر سعودی عرب کو یہ دھمکی تو دے دی تھی کہ اگر تنظیم اسلامی کانفرنس نے کشمیر کے سوال پر وزرائے خارجہ کی کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا تو وہ مجبور ہونگے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں مسلم ملکوں کی الگ سے ایک کانفرنس منعقد کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھائیں گے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان روایتی طور پر دوست اور اتحادی ملک رہے ہیں۔ پاکستان پر جب بھی مصیبت کی کوئی گھڑی آئی، سعودی عرب نے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ مثلاً اقتدار میں آنے کے بعد جب عمران خان نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور یہ کہ غیرملکی قرضوں کی ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے تو انہوں نے دیگر متعدد اقدام کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے بھی خصوصی دورے کئے اور بہت بڑی رقم بطور قرض لینے میں کامیاب ہوگئے۔ قرضوں کی ادائیگی کی شرائط بھی خاصی نرم تھیں۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمت ادا کرنے کے معاملے میں بھی کافی رعایتوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے جہاں رشتے اتنے اچھے ہوں، وہاں اس بات پر بھی نظر رکھنا پڑتی ہے کہ دوسروں کے بھی کچھ مفادات ہوتے ہیں اور ان ملکوں...

ہندوستان کو ایک پاکستانی وزیر کی، نیوکلیائی حملے کی دھمکی

پاکستان میں ایک وفاقی وزیر ہیں شیخ رشید! موصوف کی بعض باتیں، بلکہ اکثر باتیں دلچسپ ہوتی ہیں۔ اس وقت وہ شاید ریلوے کے وزیر ہیں اور پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ مختلف پارٹیوں سے وابستہ رہے ہیں اور جنرل مشرف نے جب بطور صدر، اپنی فوجی طاقت کے زور پر اپنے آپ کو پاکستان پر مسلط کیا تھا تب بھی انہیں کسی وزارت کا قلمدان ملا تھا۔ ان کی ‘‘بیان بازی’’ بہت مشہور ہے اور وہ اپنے بیان کے طفیل اکثر میڈیا کی سرخیوں میں نہیں تو ذیلی سرخیوں میں ضرورت رہتے ہیں۔ البتہ نہ جانے کیوں سنجیدہ اخبارات ان کی باتوں کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیتے اور کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کا مذاق اڑا نے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے خلاف بھی دھمکی آمیز بیان بازی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اپنی انہی خصوصیات کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی انہوں نے بڑے واضح لفظوں میں نیوکلیائی حملے کی دھمکی دی ہے اور نہ صرف دھمکی دی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیائی اسلحوں کی خصوصیت بھی بیان کردی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان جس انداز کے نیوکلیائی اسلحوں کا حامل ہے وہ بڑی ‘‘مختصر لیکن جامع نوعیت’’ کے ہیں ...

موضوع: عمران خان حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان

گزشتہ چند دنوں سے پاکستان سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ملک کے عوام موجودہ حکومت سے اکتا چکے ہیں۔ان کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے ہیں جو انہوں نے عمران خان حکومت کی تشکیل کے بعد د یکھے تھے ۔ نئے پاکستان کا خواب جس کا عمران خان نے وعدہ کیا تھا ،شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ نیا پاکستان تو کیا اب پاکستان پرانا پاکستان بھی نہیں رہا جیسا کہ وہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں تھا۔ ہر طرف بد امنی ہی بد امنی ہے۔مذہبی شدت پسندی کا تو کہنا ہی کیا ۔ وہ تو پاکستانی سماج میں اس قدر سرائت کر چکی ہے کہ اس کے خلاف زبان کھولنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے۔اب تو سیاست داں بھی اس طرح کی زبان بولتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کxہ کسی مدرسہ کا کوئی مولوی بول رہا ہو۔یہ تو اپنی جگہ، معاشی صورت حال پر نظر ڈالیں تو اس کا اتنا برا حال ہو چکا ہے کہ پوچھئے مت۔ اسی صورت حال سے پریشان ہو کر نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ خواص بھی عمران خان حکومت سے نجات چاہتے ہیں لیکن طاقتور حلقہ کو اندیشہ ہے کہ اگر عمران خان حکومت کو رخصت کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ عمران خان اپنا رد عمل دکھائیں اور پشتون علاقہ کے لوگوں سے مل کر مزاحمت کی آواز اٹھائیں۔ یہی اندیشہ ہے...

بالآخر پاکستان کی طرف سے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف

پیرس میں واقع دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادرے ،فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف نے جون2018 کو ایک بار پھر پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے یہ وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے 2019 کے اواخر تک دہشت گرد گروپوں کی مالی لین دین سے متعلق سر گرمیوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں 27نکاتی ایک ایکشن پلان پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت بھی اسے دی گئی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان اس پر پورے طور پر عمل نہیں کر سکتا تھا تا ہم کورونا وائرس وبا کے باعث اسے کچھ مہلت اور مل گئی ۔چونکہ ایف اے ٹی ایف نے سخت وارننگ دی ہے اس لئے پاکستان اس بات کی کوشش ضرور کر رہا ہے کہ کسی صورت وہ اپنے آُپ کو ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچانے کے لئے اس کی ہدایت پر عمل کر سکے۔ حکومت پاکستان نے 18 اگست کو دو نوٹیفکیشن جاری کئے جن کے تحت 88ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان میں جماعت الدعوہ کے سر براہ حافظ سعید ،جیش محمد کا سر غنہ مسعود اظہر اور 1993 کے ممبئی بم دھما...

پشتو ن نسلی اقلیت کی، بابڑہ قتل عام کی دل دہلا دینے والی یادیں

اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ، یعنی پی ٹی ام کو دبانے اور کچلنے میں مصروف ہے، لیکن یہ کہانی پشتون اقلیت کی ایک الگ کہانی ہے اور اس کی تاریخ بالکل نئی ہے۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی فوج نے جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو مقامی قبائلی آبادی کا بہت بڑا حصہ اپناگھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا۔ اس سے بھی پہلے ان قبائلی علاقوں میں افغانستان سے بہت سے پشتون نسل کے لوگ وہاں کے حالات سے مجبور ہو کر یہاں آ گئے تھے۔ کیونکہ یہاں پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ملتی ہیں، پھر جب طالبان کے خلاف امریکہ نے جنگ شروع کی تو دہشت گردوں کے ایک بہت بڑے حلقے نے یہاں آ کر پناہ لی تھی اور یہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ پھر پاکستان کے اپنے طالبان بھی پیدا ہوئے جو تحریک طالبان کے نام سے جانے گئے۔ جب انھوں نے خود پاکستانی مفادات اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسیز پر بھی حملے شروع کئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستانی فوج نے اسی کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا ۔ آپریشن ضرب عضب کے تحت کتنے دہشت گرد مارے گئے یا اس علاقے سے دہشت گردی کا کس حد تک صفایا ...

ممبئی حملوں سے متعلق چھان بین کے لئے پاکستان کے جوڈیشیل کمیشن کے ہندوستان آنے کی توقع

چھبیس نومبر 2008 کو لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے ممبئی میں جو تباہی مچائی تھی ، اس میں ملوث جو ملزم خود پاکستان میں گرفتار کئے گئے تھے اور جن کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا ، ان کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا ہے۔ پہلے تو پاکستان نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا تھا کہ ان حملوں میں پاکستانی شہری یا وہاں کی کوئی دہشت گرد تنظیم ملوث تھی۔ لیکن اس کی تردید کرنا پاکستان کے بس کی بات نہیں تھی کیونکہ شواہد کو جھٹلانا قطعی نا ممکن تھا۔ خود پاکستانی میڈیا نے بھی اجمل قصاب کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔ ممبئی آکر جن دہشت گردوں نے تباہی پھیلائی تھی ان میں اجمل قصاب زندہ گرفتار کیا گیا تھا۔ باقی سب کے سب ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان نے ان حملوں کی سازش اور منصوبہ سازی میں ملوث سات ملزموں کو 2009 میں گرفتار کیا تھا۔ یہ سب کے سب براہ راست ملوث تھے اور ان میں لشکر طیبہ کا کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی بھی شامل تھا۔ تب سے اب تک اس مقدمے کی کارروائی آگے بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ کئی جج ٹرانسفر کئے گئے کیونکہ ججوں اور گواہوں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ خود حکومت ...

پشتو ن نسلی اقلیت کی،  بابڑہ قتل عام کی دل دہلا دینے والی یادیں

اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ، یعنی پی ٹی ام کو دبانے اور کچلنے میں مصروف ہے، لیکن یہ کہانی پشتون اقلیت کی ایک الگ کہانی ہے اور اس کی تاریخ بالکل نئی ہے۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی فوج نے جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو مقامی قبائلی آبادی کا بہت بڑا حصہ اپناگھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا۔ اس سے بھی پہلے ان قبائلی علاقوں میں افغانستان سے بہت سے پشتون نسل کے لوگ وہاں کے حالات سے مجبور ہو کر یہاں آ گئے تھے۔ کیونکہ یہاں پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ملتی ہیں، پھر جب طالبان کے خلاف امریکہ نے جنگ شروع کی تو دہشت گردوں کے ایک بہت بڑے حلقے نے یہاں آ کر پناہ لی تھی اور یہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ پھر پاکستان کے اپنے طالبان بھی پیدا ہوئے جو تحریک طالبان کے نام سے جانے گئے۔ جب انھوں نے خود پاکستانی مفادات اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسیز پر بھی حملے شروع کئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستانی فوج نے اسی کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا ۔ آپریشن ضرب عضب کے تحت کتنے دہشت گرد مارے گئے یا اس علاقے سے دہشت گردی کا کس ح...

موضوع: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط ہوتے رشتے

خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا حال ہی میں بنگلہ دیش کےدو روزہ دورےپر تھے۔ وہ اپنے ساتھ وزیراعظم شیخ حسینہ کیلئے وزیراعظم نریندرمودی کا پیغام لے کر گئے تھے۔ ہوائی اڈے پر جناب شرنگلا کا استقبال کرنےکیلئے شیخ حسینہ خود موجود تھیں۔ کووڈ۔19 وبا پھیلنے کے بعد جناب شرنگلا پہلے غیرملکی مہمان تھے جن کا وزیراعظم شیخ حسینہ نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ اس سےقبل کورونا وائرس کے باعث دونوںملکوں کے درمیان تبادلۂ خیال ورچوول میٹنگوں کے ذریعہ ہی ہورہا تھا۔ اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ کووڈ۔19 کے باعث جنوبی ایشیاء کے ملکوں کی معیشت کا حال اچھا نہیں ہے، جناب شرنگلا کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستانی خارجہ سکریٹری نے بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ اے کے عبدالمومن، خارجہ امور کے وزیرمملکت شہر یار عالم اور خارجہ سکریٹری مسعود بن مومن سے بھی ملاقات کی۔  وزیراعظم شیخ حسینہ اور ہندوستانی خارجہ سکریٹری کے درمیان ایک گھنٹے کی میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں نے موجودہ کنکٹویٹی نیٹ ورک کو دوبارہ شروع کرنے کے طور طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کےعلاوہ کووڈ۔19 کےٹیکے کی کھوج میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر بھی...

بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات

بھارت اور متحدہ عرب امارات کا امن و خوشحالی کے لئے ایک وژن ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اور ولیعہد شہزادہ محمد بن زید النہیان کی قیادت میں دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع،سیکیورٹی، تعلیم، ثقافت اور سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ فریقین نے مشترکہ کمیشن میٹنگوں جیسے دو طرفہ میکینزم کے ذریعہ اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک پارٹنر شپ تک لے جانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ حال ہی میں تجارت، معاشی اور تکنیکی تعاون کے بارے میں ہند۔متحدہ عرب امارات مشترکہ کمیشن کی میٹنگ کا 13 واں ورچوول اجلاس ہوا جس کی صدارت بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور متحدہ عرب امارات کے ان کے ہم منصب عبداللہ بن زید النہیان نے مشترکہ طور پر کی۔ کووڈ۔ 19 وبا کے باعث مشترکہ کمیشن کی پہلی بار ورچوول میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے خیالات ساجھا کرنے کے جذبے کا اظہار کیا تاکہ دوطرفہ تعاون کو فروغ حاصل ہوسکے۔ دونوں ممالک کورونا وائرس جیسی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے مل کر کام کررہے ہیں۔ اپریل میں بھارت نے کووڈ۔ 19 کے مریضوں کے علاج کے لئے ہائڈرو...

پاکستان میں خاتون صحافیوں پر چوطرفہ حملے اور غیر شائستہ تبصرے

زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے۔ صرف دو سال اور چند ماہ قبل کی بات ہے جب عام انتخابات کے نتائج آرہے تھے اور عمران خان نے اپنی پارٹی کے جیتنے کے امکانات کا اندازہ کرکے میڈیا والوں کو مخاطب کیا تھا۔ ویسے تو انھوں نے بڑے لمبے چوڑے دعوے کئے تھے اور یہ کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی کہ وہ ایک نئے پاکستان کا خواب لے کر آئے ہیں اور اس ملک کو کرپشن سے پاک ایک خوشحال اور آیڈیل ریاست بنائیں گے۔ لوگ یہ بات بھی نہیں بھولے ہوں گے کہ انھوں نے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر چہ ان عام انتخابات کے بارے میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی برادری میں بھی عام تاثر یہ تھا کہ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں عمران خان کی پارٹی کو برسراقتدار لانے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کررہی ہیں اور صحافیوں کو خاص طور سے خوفزدہ کررہی ہیں تاکہ وہ اپوزیشن لیڈروں کو کوریج نہ دیں۔تاہم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک بڑے حلقے میں یہ امید ضرور پیدا ہوئی تھی کہ وہ اپنے کچھ وعدوں کو نبھائیں گے اور آگے چل کر صورت حال میں کچھ بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اب جبکہ دوسال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تو ہر طرف یہی مح...

وزیراعظم کا خود انحصاری پر زور

وزیراعظم نریندر مودی نے یوم جمہوریہ کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم اپنی آبادی کے 75 ویں سال میں داخل ہورہے ہیں۔ آج ہمارے 130 کروڑ ہندوستانیوں کو آئندہ دو برسوں کے لئے ایک عہد کرنا ہوگا اور جب ہم آزادی کے 75 سال پورے کررہے ہوں گے تو اس وقت آج کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی خوشی بھی منا رہے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے عظیم قربانیاں دیکر یہ آزادی حاصل کی ہے۔ ہمیں مادر وطن کی آزادی کے لئے دی گئی ان کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ غلامی کے ایک لمبے اور اندھیرے دور میں ان لوگوں نے ملک کی آزادی کی چاہت کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے دل سے نہیں نکالا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں عوامی بیداری کی تحریک شروع ہوئی، اس نے تحریک آزادی کو کافی تقویت بخشی۔ ہم آزادی کے ان متوالوں کے ممنون ہیں کہ انہیں کے باعث آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور اس جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی منا رہے ہیں۔ بھارت اتحاد کی اپنی طاقت کے ساتھ جنگ آزادی میں سر اونچا کرکے آگے بڑھتا رہا اور اس نے عہد کررکھا تھ...

موضوع: بھارت کا 74 واں یوم آزادی

بھارت آج اپنا 74واں یوم آزادی منارہا ہے۔ اس موقع پر صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے قوم کے نام اپنے پیغام میں ملک اور بیرون ملک رہنے والے تمام ہندوستانیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمیں اپنے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو ممنونیت کے ساتھ یاد کرنے کا دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آزادی کے آدرشوں کی بنیاد پر ہی جدید ہندوستان کی تعمیر ہورہی ہے۔ ہمارے صاحب بصیرت قومی رہنماؤں نے اپنے متنوع خیالات کو قومیت کے ایک دھاگے میں پرودیا تھا، ان سب نے یہ عہد کیا تھا کہ ملک کو ظالم غیر ملکی طاقت سے آزاد کرانا ہے اور مادر وطن کے نونہالوں کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔ انھوں نے اپنی کوششوں سے جدید ملک کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو عملی شکل دی۔ بابائے قوم مہاتماگاندھی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ہماری تحریک آزادی کے رہنما تھے، ان کی شخصیت میں ایک سَنت اور ایک سیاسی رہنما کا جو تال میل دکھائی دیتا ہے وہ ہندوستان کی مٹی میں ہی ممکن تھا۔ سماجی کشیدگی، اقتصادی مسائل اور ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان حال آج کی دنیا کو گاندھی جی کی تعلیمات میں ان سب کا حل ملتا ہے۔ مساوات اور...

پاکستان اور عرب دنیا کے تعلقات میں کشیدگی

بھارت کی جانب سے دفعہ 370 ختم کئے جانے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو کافی کھری کھوٹی سنائی تھی کیونکہ ریاض نے مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ طلب کرنے سے انکار کردیاتھا۔ اسلام آباد نے اس سلسلے میں اس سال فروری کے اوائل میں سعودی عرب سے میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم نے اگر کشمیر کے مسئلہ پر اپنے وزرائے خارجہ کی میٹنگ طلب نہیں کی تو خود پاکستان یہ میٹنگ بلانے کیلئے مجبور ہوجائے گا کیونکہ تمام اسلامی ممالک کشمیر کے ایشو پر نہ صرف پاکستان کیساتھ ہیں بلکہ وہ کشمیری مسلمانوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ وہ جذبات میں اس قدر بہہ گئے کہ وہ اپنی حد پار کرگئے اور انہوں نے کہا کہ ‘‘ان پاکستانیوں کو جومکہ اور مدینہ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، انہیں آج مسئلہ کشمیر پر قائدانہ کردار ادا کرنے کیلئے سعودی عرب کی ضرورت ہے۔ اگر ریاض یہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے تو مجھے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرنی پڑے گی کہ وہ سعودی عر...

ہیومن رائٹس واچ کا پاکستان سے مطالبہ، احتساب بیورو کی غیرقانونی سرگرمیوں پر لگے روک

جب سرکاری سطح پر کوئی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز پر روک لگائے گی، اپنے تمام مخالفین کو جیل بھیجے گی اور انھیں اذیتیں دے گی، بغیر کسی ثبوت کے کسی کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگاکر اس کی زندگی اور کریئر برباد کردے گی تو پھر بھلا اس ملک میں کوئی انصاف مانگنے کہاں جاسکتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے یہی سب کچھ ہورہا ہے۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر نے ایک آرڈیننس جاری کرکے باقاعدہ انسانی حقوق کی پامالی کرنے اور حکومت کی تنقید کرنے والوں کی زندگی برباد کرنے کیلئے ایک ادارہ قائم کیا جو قومی احتساب بیورو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1999 میں قائم کیا جانے والا یہ ادارہ تب سے اب تک لگاتار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا رہا ۔ اس کا آرڈیننس تو فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے جاری کیا تھا لیکن اس کی سرگرمیوں پر روک کسی بھی حکومت کے زمانے میں نہیں لگی اور نہ ہی اس کا کردار بدلا۔ عدلیہ نے بھی کبھی ازخود اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں بطور خاص عمران خان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس کے سیاہ کارناموں میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا اور اس کے بعض فیصلوں کا بہت سخت...

افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستانی طالبان کے طاقتور ہونے کا امکان

طالبان اور امریکہ کے مابین سمجھوتہ ہوجانے کے بعد امریکی فوجیوں کی واپسی کی بات خیر اب یقینی ہوہی چکی ہے لیکن اس کے بعد افغانستان کا سیاسی منظر نامہ کیسا ہوگا، اس کے بارے میں کچھ پیش قیاسی کرنا مشکل ہی نظر آتا ہے کیونکہ خود افغانستان میں متعدد حلقے ایسے ہیں جو ابھی کسی طرح کی الجھن کا شکار ہیں۔ ادھر امریکہ میں نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ حالات ایسے بن جائیں کہ امریکی فوجیں جلد سے جلد واپس آجائیں۔ لیکن افغانستان پر اس کا کیا اثر پڑنے والا ہے، اس سوال سے قطع نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک نئی طرح کی الجھن پیدا ہوگئی ہے اور شمالی وزیرستان سے لے کر جنوبی وزیرستان تک میں تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ماحول صرف قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ عملاً ایسا نظر بھی آنے لگا ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کی تیاریوں کے ساتھ پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں۔ قبائلی علاقوں، بطور خاص پاکستان کی سرحد پر واقع افغانستان کے جن علاقوں میں ٹی ٹی پی نے اپنی خفیہ کمین گاہیں بنا رکھی تھیں ان سے وہ باہر آنے لگے ہیں اور وزیرستان میں ...

پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور مذہبی شدت پسندی

پاکستانی سماج میں مذہبی شدت پسندی اس قدر سرائت کرگئی ہے کہ وہاں کی سیاسی پارٹیاں بھی اب اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہیں کہ مذہب کا سہارا لئے بغیر اب کوئی بھی الیکشن جیتنا تقریباً ناممکن ہے۔ انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ اب اچھی حکمرانی اور ملک و قوم کی ترقی کی باتیں کرنا فضول ہے۔ تعلیم و معیشت کا ذکر کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ آپسی بھائی چارہ، محبت اور دوستی کی باتیں کوئی سننے والا نہیں۔ سیکولرزم کی باتیں تو آپ بھول جایئے۔ وہ تو گناہ کبیرہ ہے۔ اگر لوگ کچھ سننا چاہتے ہیں تو وہ ہیں آپسی منافرت کی باتیں، مذہبی انتہاپسندی کی باتیں۔ ایسی باتیں جو اسلام کے نام پر سماج کو بانٹتی ہوں۔ لہذا اب اہم سیاسی پارٹیاں اچھی حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایسے بلوں کی حمایت کرنے میں اپنی طاقت صرف کررہی ہیں جنہیں اسلامی شدت پسندوں نے پیش کیا ہے تاکہ یہ پارٹیاں شدت پسندوں کا ووٹ حاصل کرسکیں۔ پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کا آغاز 1949 میں آئین ساز اسمبلی میں ایک قرار داد کی منظوری کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں تمام مسلمانوں کو اسلامی...