پاکستان کی، سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوش میں آکر سعودی عرب کو یہ دھمکی تو دے دی تھی کہ اگر تنظیم اسلامی کانفرنس نے کشمیر کے سوال پر وزرائے خارجہ کی کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا تو وہ مجبور ہونگے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں مسلم ملکوں کی الگ سے ایک کانفرنس منعقد کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھائیں گے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان روایتی طور پر دوست اور اتحادی ملک رہے ہیں۔ پاکستان پر جب بھی مصیبت کی کوئی گھڑی آئی، سعودی عرب نے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ مثلاً اقتدار میں آنے کے بعد جب عمران خان نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور یہ کہ غیرملکی قرضوں کی ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے تو انہوں نے دیگر متعدد اقدام کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے بھی خصوصی دورے کئے اور بہت بڑی رقم بطور قرض لینے میں کامیاب ہوگئے۔ قرضوں کی ادائیگی کی شرائط بھی خاصی نرم تھیں۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمت ادا کرنے کے معاملے میں بھی کافی رعایتوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے جہاں رشتے اتنے اچھے ہوں، وہاں اس بات پر بھی نظر رکھنا پڑتی ہے کہ دوسروں کے بھی کچھ مفادات ہوتے ہیں اور ان ملکوں کے تعلقات تیسرے ملک یا ملکوں سے بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا ایسا کوئی موقف نہ اختیار کیا جائے جو دوست ملک کے لئے قابل قبول نہ ہو۔ لیکن بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا باواآدم ہی نرالا ہے۔ جہاں ہندوستان کا سوال آتا ہے، پاکستان اپنے دوست ملکوں سے یہی توقع کرتا ہے کہ وہ ہرحال میں پاکستان کے موقف کی حمایت کریں۔ پاکستان کو اصل غصہ اس بات پر تھا کہ گزشتہ سال اگست کے مہینہ میں کشمیر میں انتظامی سطح پر کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں جو ظاہر ہے پورے طور پر ہندوستان کا اندرونی معاملہ تھا، لیکن پاکستان یہ توقع کررہا تھا کہ عین اس کی مرضی کے مطابق تنظیم اسلامی کانفرنس یعنی او آئی سی ہنگامی طور پر ایک میٹنگ بلاتی، اس میں ہندوستان کی پالیسیوں کی مذمت کی جاتی اور اس کے خلاف قرارداد منظور کی جاتی۔ لیکن ایساہوا نہیں۔ لہٰذا فرسٹریشن کے عالم میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ایسی بات کہہ دی جو ظاہر ہے سعودی عرب کو ناگوار گزری۔ سعودی عرب یا دوسرے ممالک پاکستان کے دوست اور اتحادی تو ہوسکتے ہیں لیکن ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ہر فیصلہ پاکستان کی مرضی کے مطابق ہی طے کریں۔ سو کشمیر سے متعلق پاکستان کے اس موقف کے تئیں تنظیم اسلامی کانفرنس نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ شاہ محمود قریشی کے مذکورہ بیان کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اس کے موقف کی حمایت اور تائید نہیں کی گئی تو وہ اسلامی ملکوں یا مسلم اکثریتی ملکوں کی ایک متوازن تنظیم کھڑی کرسکتا ہے۔ پاکستان کے بعض تجزیہ کاروں نے اس وقت ہی یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ شاہ محمود قریشی کا بیان سعودی عرب کی برہمی کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی ناراضگی بہت مہنگی ثابت ہوسکتی ہے، اس لئے بہت ممکن ہے کہ حکومت پاکستان جلد از جلد اس کی ناراضگی دور کرنے کے لئے اپنا کوئی وفد ریاض روانہ کرے یا وزیراعظم خود وہاں جائیں اور سعودی حکمرانوں کو منانے کی کوشش کریں۔ یہ قیاس آرائی کچھ غلط نہیں تھی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے حال میں خلیجی ممالک کا دورہ کیا۔ ظاہر ہے ان کا اولین مقصد سعودی عرب سے تعلقات سدھارنا یا دوسرے لفظوں میں اسے منانا تھا۔

باجوا نے خلیجی ممالک کا دورہ سعودی عرب سے ہی شروع کیا لیکن ولی عہد محمد بن سلمان نے انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ حالانکہ ایسا عام طور سے ہوتا نہیں تھا کہ پاکستان کا آرمی چیف ریاض جائے اور اس سے ملنے کا وقت وہاں کے حکمراں نہ دیں۔ بہرحال! محمد بن سلمان نے تو جنرل باجوا کو وقت نہیں دیا لیکن باجوا کو ان کے چھوٹے بھائی 34سالہ ڈپٹی وزیردفاع شیخ خالد بن سلمان اور سعودی عرب کے جنرل اسٹاف کے سربراہ میجر جنرل فیاض آل رویلی سے ملاقات کرنے پر اکتفا کرنا پڑا۔ خبروں کے مطابق جنرل باجوا نے سعودی حکام کے سامنے اس بات کیلئے افسوس ظاہر کیا ہے کہ وزیرخارجہ پاکستان کے بیان سے سعودی عرب میں بددلی پیدا ہوئی ہے۔ دراصل شاہ محمود قریشی یہ چاہتے تھے کہ تنظیم اسلامی کانفرنس، جس پر سب سے زیادہ اثر سعودی عرب کا ہے، وہ کشمیر کے سوال پر قائدانہ رول ادا کرے۔ لیکن ان کے اس بیان سے سعودی عرب اس قدر ناراض ہوا کہ اس نے اپنے قرضے کی واپسی تک کا مطالبہ کیا اور تیل کی سپلائی کے معاملے میں بھی روک لگانے کی بات کہی۔ریاض میں اپنے قیام کے دوران جنرل باجوا نے جن سعودی حکام سے بات کی، ان کے سامنے انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ کشمیر کے سلسلے میں ایک رابطہ گروپ کی میٹنگ بلائی جائے۔ ان کی تجویز کے مطابق یہ میٹنگ اس وقت بلائی جائے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تمام ممالک اکٹھاہوں۔جنرل باجوا کی تجویز کے مطابق یہ میٹنگ ترکی کی قیادت میں منعقد ہونی چاہئے۔ لیکن ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہوسکا ہے کہ آیا سعودی عرب ایسی کسی میٹنگ کے لئے تیار ہوگا بھی یا نہیں! حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور ترکی کے مابین تعلقات میں کافی تلخی پیداہوئی ہے۔ سعودی حکومت کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہےکہ پاکستان کی کوششوں سے ترکی، ملیشیا اور ایران کے ساتھ ایک نیا مسلم ملکوں کا بلاک قائم کیا جائے اور ان خیالات سے باجوا کو باخبر بھی کردیاگیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے سعودی عرب کے جذبات کو نہیں سمجھا تو ہوسکتا ہے کہ گوادر پورٹ میں بہت بڑی رقم صرف کرنے کا جو اس نے منصوبہ بنایا تھا اسے وہ ردّ کردے اور ہوسکتا ہے اس کے بعد پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہ رہے کہ اس کا جھکاؤ ترکی کی جانب اور بڑھ جائے۔ یعنی صورتحال اب کچھ ایسی ہونے والی ہے کہ پاکستان اور خلیجی ممالک پر مشتمل بلاک کے درمیان دوریاں زیادہ بڑھ جائیں جس کی قیادت متحدہ عرب امارات کررہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کریگا جب تک کہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوجاتا۔ اس کی وجہ سے پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان آنے والے دنوں میں اور زیادہ دراڑ پڑسکتی ہے کیونکہ اسرائیل کے تئیں ان ملکوں کے موقف میں واضح طور پر تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ دراصل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا جھول یہی ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرنے سے اکثر گریزاں رہتا ہے اور ہر چیز کو ہند۔ پاک تنازعہ کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ