Posts

Showing posts from March, 2020

غیر معمولی ورچوئل جی۔20 سربراہ کانفرنس

26 مارچ 2020 کو گروپ 20 سربراہان مملکت کی ایک غیر معمولی ورچوئل کانفرنس ہوئی جس کا مقصد کووڈ۔19 وبا سے پیدا چنوتیوں سے نپٹنے کے طریقۂ کار پر تبالۂ خیال کرنا تھا۔سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندرمودی کی درخواست پر یہ کانفرنس بلائی تھی۔ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ،برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن، فرانسیسی صدر امینوئل میکرون، چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پتن اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے سمیت گروپ۔20 کے تمام رہنماؤں نے اس غیر معمولی ورچوئل کانفرنس میں شرکت کی۔ اس وبا سے پڑنے والے معاشی اور سماجی اثرات کو کم کرنے کے لیے گروپ کے رہنماؤں نے تمام دستیاب پالیسی طریقۂ کاروں کو استعمال کرنے سے اتفاق کیا۔ انھوں نے عالمی نموکی بحالی، منڈی کے استحکام اور لچک کو مستحکم کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ اور عالمی معیشت کو 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی مدد کی فراہمی کا عزم بھی ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ گروپ کے رہنما، ڈبلیو ایچ او کووڈ سالیڈیریٹی فنڈ میں اپنا تعاون دینے پر بھی متفق ہوئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نےگروپ۔20 کا غیرمعمولی اجلاس بلانے کے لئے سعودی شا...

ہندوستان میں کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات

ایک ہفتے کے اندر دوسری بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے، ہندوستانی شہریوں سے کووڈ۔19 کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ نہ ہونے کی بھی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم نے 22 مارچ، بروز اتوار کو جنتا کرفیو میں بڑی تعداد میں شریک ہونے کے لئے ایک اعشاریہ تین ملین ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے آزمائش کی اس سخت گھڑی میں اپنی بیش قیمت اور انتھک خدمات کی فراہمی پر ڈاکٹروں، نرسوں، نیم طبّی عملے، پیتھالوجسٹس، پولیس و نیم فوجی دستوں کو مبارکباد بھی دی۔ عالمی صحت تنظیم کے حوالے سے ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ اس ناول کورونا وائرس سے متاثرہ کوئی فرد ایک ہفتے کے اندر سینکڑوں لوگوں میں اس بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس عالمی تنظیم کے مطابق، کووڈ۔19 نے 67 دن کے اندر ایک لاکھ لوگوں کو متاثر کیا۔ تاہم، یہ وائرس صرف 11 دن کے اندر ہی دو لاکھ افراد میں پھیل گیا اور اس وبانے اگلے چار دن میں تین لاکھ لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا جو اس خطرناک وائرس کے تعلق سے سنگین حقیقت ہے۔ زبردست وسائل اور اعلیٰ تری...

کووِڈ۔19 وبا کے تعلق سے اہم پہلوؤں کے موضوع پر وزیر اعظم کے ملک سے خطاب کا متن

نمسکار ! میرے پیارے اہل وطن، میں آج ایک مرتبہ پھر، کورونا عالمی وبا پر بات کرنے کے لئے آپ کے درمیان آیا ہوں۔ 22 مارچ کو جنتا کرفیو کا جو عزم ہم نے کیا تھا، ایک قوم کی حیثیت سے اس کرفیو کو کامیاب بنانے کے لئے ہر بھارتی شہری نے پورے صبر و تحمل کے ساتھ، پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا تعاون دیا۔ بچے۔ بزرگ، چھوٹے۔بڑے، غریب۔ متوسط طبقہ، اعلیٰ طبقہ، ہر کوئی امتحان کے اس لمحے میں ساتھ آیا۔ جنتا کرفیو کو ہر بھارتی شہری نے کامیاب بنایا۔ ایک دن کے جنتا کرفیو سے بھارت نے دکھا دیا کہ جب ملک پر کوئی مصیبت آتی ہے، جب انسانیت پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کس طرح ہم سبھی بھارتی مل کر، متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ سبھی جنتا کرفیو کو کامیاب بنانے کے لئے لائق ستائش ہیں۔ ساتھیو، آّپ کورونا عالمی وبا پر پوری دنیا کی صورتحال کو خبروں کے توسط سے سن بھی رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ آپ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ممالک کو بھی کیسے وبا نے بالکل بے بس کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ ممالک کوشش نہیں کر رہے ہیں ی ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ لیکن کورونا وائرس اتنی ت...

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ پر حکومت کا عتاب

ان دنوں ساری دنیا سخت بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ مادی ترقی اور عیش و آرام کے لئے قابل رشک سمجھے جانے والے ممالک ایک مہلک وبا کے سائے میں بے بسی کے شب و روز گزارنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کی تباہ کاریاں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی جانب سفر کر رہی ہیں۔ افراتفری اور کسمپرسی کے اس عالم میں سخت احتیاطی تدابیر کا ہی واحد راستہ بچا ہے۔ اس مرض سے متعلق تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دراصل اس وبا کے پیچھے انسان کی اپنی خود غرضی کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس نے حرص و ہوس کے دام میں پھنس کر ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے قدرتی وسائل پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے ان بنیادی شرائط کی بھی پروا نہیں کی جو انسانی وجود کی معاون بھی ہیں اور ضامن بھی۔ ترقی پذیر ممالک کی بات کریں تو ان کی نا عاقبت اندیشی کی مثالیں بھی کم نہیں۔ جہاں توجہ انسان کی بنیادی ضروریات پر ہونی چاہئے وہاں بھی غیر ضروری اور مضحکہ خیز اقدام اور بیانات کی گرم بازاری سے کسی کا بھلا نہیں ہونے والا۔ گزشتہ دنوں پاکستان میں مشیر اطلاعات کے پی اجمل وزیر نے فرمایا کہ...

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو عالمی بینک اور ایشیائی بینک سے 588 ملین ڈالر کی امداد

‘کووڈ-19’ یا کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنےکے لیے دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے طور پر ممکنہ حد تک اپنے وسائل اور طریقۂ کار کو بروئے کار لارہے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم یعنی ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس وائرس کو عالمی وبائی بیماری قرار دیے جانے کے بعد بعض ملکوں نے زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کیا ہے۔ ویسے بیشتر ممالک چین میں اس وبا کے پھیلتے ہی ہوشیار ہوگئے تھے اور مناسب قدم اٹھانا شروع کردیا تھا۔ دراصل اچانک اس طرح کی وبا کے پھیل جانے سے صورت حال پیچیدہ ہوہی جاتی ہے اور فوری طور پر ہر حلقے میں فکر لاحق ہوئی کہ ایسی کیا صورت اختیار کی جائے کہ اس طرح کے موذی مرض پر قابو پانے میں آسانی ہو۔ یہ وقت ایسانہیں ہوتا کہ ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائےاور بے وجہ غیر ضروری باتوں پر وقت ضائع کیا جائے۔ ایسا نازک وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام حلقے مل کر اس سے لڑنے اور اس کے قہر کو پھیلنے سے روکنے کے ممکنہ جتن کریں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی آفت اور مصیبت کی گھڑی میں لوگ اپنی اپنی قیادت یعنی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ مسائل کا حل تلاش کرے گی اور ...

کوروناوائرس کے خلاف سارک کی مشترکہ حکمت عملی

گذشتہ اتوار 15 مارچ کو، وزیر اعظم نریندر مودی نے تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک وائرس، کووڈ۔انیس کے خلاف ایک زبردست مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے لئے، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سارک رکن ممالک سے رابطہ قائم کیا تھا۔ اب تک اس وائرس سے پوری دینا میں نو ہزار 881 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اور دو لاکھ سے زائد افراد اسپتالوں کے الگ تھلگ مخصوص وارڈز میں صحتیاب ہورہے ہیں۔ کووڈ۔انیس کے خلاف جنگ کے لئے وزیر اعظم مودی کی ایک مشترکہ حکمت عملی کی پیش قدمی کا سارک کے تما م آٹھ ا رکان نے مثبت جواب دیا اور اس کانفرنس میں سری لنکا، مالدیپ اور افغانستان کے صدور اور ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال اوربھوٹان کے وزرائے اعظم نے سرگرمی سے حصہ لیا جبکہ پاکستان نے صرف صحت سے متعلق وزیر اعظم کے خصوصی معاون ظفر مرزا کے ذریعے ہی اپنے ملک کی نمائندگی پر اکتفا کیا۔ تمام رہنماؤں نے اس وبا کے خلاف متحد ہوکر مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا۔ ان کو بخوبی علم تھا کہ یہ ایک بڑا انسانی معاملہ ہے اور وزیر اعظم کی اس بلند بانگ اپیل کا کہ یہ خطہ مشترکہ کوششوں اور ایک زبردست مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی اس وبا کا مقابلہ کرسکتا ہے، سارک کے سر...

پاکستانی خواتین بس انصاف چاہتی ہیں

بین الاقوامی یوم خواتین ہر سال آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ آج کی مہذب دنیا میں عورت نے ہر محاذ پر مرد کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کی اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن عورت آج بھی برابری کے حق سے محروم ہے۔ وہ سماجی اور نفسیاتی ہر سطح پر مردوں کی محکوم بنی ہوئی ہے۔ بالخصوص ان ممالک میں جہاں پدرسری نظام کی جڑیں زیادہ گہری ہیں۔ ایسے ممالک کی فہرست بنائی جائے تو پاکستان کچھ زیادہ نیچے نہیں نظر آئے گا۔ پاکستان میں عورتیں طرح طرح کے گھریلو تشدد، سماجی جبر اور جنسی تفریق کا شکار ہیں۔ لوگ بھولے نہ ہوں گے کہ مذہبی انتہاپسندوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف کیسی مسلح جنگ چھیڑ رکھی تھی جب اس کا مقابلہ ملالہ یوسف زئی نامی ایک کم سن لڑکی نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کیا تھا ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ دوہزار بیس کو یوم خواتین منایا گیا لیکن افسوس کہ خواتین کی آزادی و مساوات کے مخالفین نے، بالخصوص مذہبی جماعتوں نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ توبہ ہی بھلی۔ مساوات اور اپنے انفرادی حقوق کی حامی خواتین یوم خواتین سے چند روز قبل ‘میرا جسم میری مرضی’ کا نعرہ لگاکر ایک بھ...

پی ٹی آئی نے پاکستانی عوام کے اعتماد کو مجروح کیا

بین الاقوامی یزائد از ڈیڑھ سال قبل کرکٹر سے سیاستداں بننے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے جب پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیاتھا تو یکے بعد دیگرے ناکام حکومتوں سے اوبے ہوئے پاکستانیوں کے ایک بڑے حلقے نے اُن سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ بے روزگارنوجوانوں نے تو انہیں ایک بہترین آپشن کے طور پر دیکھاتھا اور معاشرتی جبر کی شکار عورتوں اور لڑکیوں میں وہ ایک مسیحا نظر آنے لگے تھے۔اس طرح مسٹر خان کی حکومت نے اپنے دو پیش رو 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو اور 1990 میں نواز شریف سے بھی بہترعوامی تائید کے ساتھ حکمرانی کا آغاز کیا۔اُنہیں مملکت کے تمام طاقتور اداروں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ اپوزیشن پارٹیاں موجود ضرور ہیں لیکن نئی حکومت بننے کے بعد سبھی عوام کی توقعات کی نئی بلندیوں کے سامنے خود کو بونامحسوس کرنے لگی تھیں۔ کسی حد تک سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا متوسط پاکستانی حلقہ جن میں دانشوران بھی شامل ہیں بہر حال خاموش تھا۔ ایک کروڑ روز گار فراہم کرنے اورمعقول رہائش کیلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے ساتھ ملک کو ریاست مدینہ میں بدل کر رکھ دینے کے بلند بانگ دعووں ک...

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہندوستان کا قائدانہ کردار

عالمی صحت تنظیم نے ناول کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔ اس سےپوری دنیا میں اب تک ساڑھے سات ہزار اموات ہوچکی ہیں اور ممالک نے لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ بحران کی اس گھڑی میں ہندوستان نے ایک بار پھر بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ چین سے شروع ہونے والے اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں نئی دہلی حکومت نے جس تیز رفتاری اور دانشمندی کا ثبوت دیا ہے اس سے اس کے فوری ردعمل کا اظہار ہوتا ہے۔ کووڈ۔19 سے متاثرہ ممالک سے ، ہندوستانی شہریوں کی فوری واپسی اور سہولیات سے آراستہ خصوصی مقامات پر ان واپس آئے افراد کو الگ تھلگ ٹھہرانے کے انتظامات سے، وائرس کے فوری انسداد کے لئے ہندوستان کے تیز رفتار اقدامات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی نہیں ،انسانی جذبہ کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان نے اس وائرس کے بدترین شکار ممالک سے بھی بہت سے دیگر شہریوں کو نکالا ہے۔ ہندوستان کے وزیر صحت، ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ اس وائرس کی روک تھام کے لیے، ملک جیٹ طیارے کی رفتار سے کام کررہا ہے۔چین کے قریبی پڑوسی اور ایک اعشاریہ تین بلین آبادی والے ملک میں صرف 120 متاثرین کی قلیل تعداد سے ہندوستان کے تیز رفتار اقدامات ...

پاکستان میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری

اپنی نا کامیوں اور خامیوں کی پردہ پوشی کے لئے یوں تو دنیا کی بہت سی حکومتیں طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ کوئی بھی ان پر انگلی نہ اٹھائے اور نہ ہی تنقید کرے۔ پاکستان میں اس کا چلن کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد سے وہاں کے حکمرانوں نے جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔ جب جب جمہوریت کو مستحکم ہونے کا موقع ملا تو فوجی آمروں نے مارشل لا نافذ کر کے اس کے امکانات کو ختم کر دیا اور کبھی نام نہاد جمہوریت آئی بھی تو وہ فوجی جنرلوں کی مرہون منت رہی۔ پاکستان میں سول حکومتیں از خود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ہر فیصلے میں فوج کا عمل دخل رہتا ہے۔ پاکستان میں تازہ معاملہ میڈیا کی ایک اہم شخصیت اور جنگ اور جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو خوف زدہ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ میڈیا کو اس طرح سے فروغ دیا جائے کہ وہ ملک و سماج کی تعمیر میں بہتر رول ادا کر سکے۔ میڈیا حکومت اور سماج کی خامیوں اور برائیوں کو نمایاں کر کے ان کے تدارک کی کوششوں میں معاون ہو...

کورونا وائرس سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس

اس وقت پوری دنیا ایک عجیب صورت حال سے گزر رہی ہے۔ کورونا وائرس نے دنیا کے بہت سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ وائرس چین کے ایک خطے ووہان میں شروع ہوا لیکن اس کے بعد جنوبی کوریا، ایران، اٹلی اور یوروپ کے متعدد ممالک سمیت امریکہ، ایشیا اور دوسرے براعظموں کے کئی ممالک بھی اس کی زد میں آگئے۔ یہ تاریخ کا ایک نازک موڑ ہے اور ہر شخص یہی چاہے گا کہ دنیا جلد از جلد اس موذی وائرس سے نجات پاجائے۔ سب کی یہی دعا ہے کہ کورونا وائرس گزشتہ صدی کے اسپینش فلو جیسی تباہی نہ مچائے۔ یا د رہے کہ 100 سال قبل 19-1918میں اسپینش فلو نے عالمی پیمانے پر کروڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جن میں سے 5کروڑ افراد لقمۂ اجل بھی بنے تھے۔ خود ہندوستان میں بھی یہ وبا بڑے پیمانے پر پھیلی تھی اور کئی لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انسانی جانوں کا اتنا بڑا زیاں پہلی جنگ عظیم میں بھی نہیں ہوا تھا۔ اسپینش فلو کا اس وقت تک کوئی علاج یا دوا بھی نہیں ایجاد کی جاسکی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب یہ وبا خود بخود رک گئی تو دنیا نے امن کا سانس لیا ہوگا۔ اس وقت کورونا وائرس کے تعلق سے بھی کچھ یہی صورت حال ہے۔ امید یہی کی جاتی ہ...

سلامتی کونسل میں افغان امن معاہدے کی توثیق

توقع کے مطابق سلامتی کونسل نے بھی امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوئے امن معاہدے کی توثیق کی ہے۔اس سلسلے کی ایک قراردادامریکہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی جس کی تمام ممبران نے توثیق کی۔اس قرار داد میں جنگ سے تباہ حال افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیاہے۔قرار داد میں جامع امن مذاکرات کی بھی حمایت کی گئی ہے،اور اس عمل میں سیاسی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے افراد و خواتین کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔کونسل کے ممبران نے خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دے کر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عالمی ادارہ امن مذاکرات یا امن معاہدے کے نام پر طالبان کو حقوق نسواں کے معاملے میں بے لگام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور افغان خواتین کو خواتین کے تعلق سے پائی جانے والی طالبان کی دقیانوسی سوچ پر فکرمند بھی ہے۔حالانکہ جہاں تک امن معاہدے یا مستقبل میں بھی امن مذاکرات جاری رکھنے کا تعلق ہے تو وہ اس پر اصولی اور عملی طور پر تیار ہے۔افغان امن مذاکرات میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اقوام متحدہ کے مذکورہ فیصلے پر ٹویٹ کرکے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا...

مارچ کے اوائل سے افغانستان میں تاریخ ساز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جنگ سے

متاثرہ اس ملک میں، طویل مدت سے متوقع امن کی بحالی کے لئے، 29 فروری کوامریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد، توقع تھی کہ افغان معاشرے کے انتہا پسند عناصر،طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کی جمہوری حکومت متحد ہو کر امن کے خواہاں افغان عوام کی نمائندگی کرے گی۔ تاہم،افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد، وہاں شدید اختلافات ظاہر ہورہے ہیں۔ان کی وجہ سے نہ صرف افغان عوام بلکہ ان بیرونی طاقتوں کے درمیان بھی نا امیدی پیدا ہوگئی ہے جو کابل میں موجودہ سیاسی تنازعے کے جلد از جلد پرامن حل کےتلاش کی کوشش میں ہیں۔ گذشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں، افغانستان کے انتخابی کمیشن نے موجودہ صدر اشرف غنی کی فتح کا اعلان کیا تھا۔لیکن اشرف غنی کی فتح کے سرکاری اعلان کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک دوسری طاقتور جماعت نے چیلنج کردیا۔ دوسری مدت کے لئے، اشرف غنی کو بطور صدر مسترد کرتے ہوئے، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے آپ کو ملک کا اگلا صدر قرار دیتے ہوئے ایک متوازی حلف برداری تقریب بھی منعقد کرڈالی۔ اس سے کابل کی برسراقتدار حکومت کو نہ صرف دھچکا پہونچا بلکہ ...

جزیرہ نماکوریا میں کشیدگی میں اضافہ

شمالی کوریا نے اس ہفتہ کے اوائل میں تین نامعلوم پروجیکٹائلس داغے۔ کم جونگ ان حکومت کا پچھلے دو ہفتے میں اس طرح کا یہ دوسرا اقدام ہے، جو پیونگ یانگ کی اس دھمکی کے دو دن بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی پچھلی مشقوں کی مذمت کے خلاف فوری کارروائی کرے گا۔ ساؤتھ کوریا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے کوریا جزیرہ نما اور جاپان کے درمیان سمندروں میں شمالی کوریا کی مشرقی ساحل سے داغے جانے والے قلیل دوری کےمختلف اقسام کے پروجیکٹائلس کا پتا لگایا تھا۔ان پروجیکٹائلس کی زیادہ سے زیادہ پرواز دوسو کلو میٹر اورزیادہ سے زیادہ بلندی پچاس کلومیٹر تھی۔ساؤتھ کوریا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج اپنی مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ اس قسم کی مزید کسی لانچ کی مانیٹرنگ کررہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ 2018 میں طے پائے معاہدوں کی یہ صریحا خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد کوریا جزیرہ نما میں فوجی کشیدگی کم کرنا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اس نے 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی مشقیں کی ہیں جو ہنوئی میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے ساتھ کِمْ کی سربراہ ملاقات کے ایک سال مکمل ہونے پر ...

افغانستان سے موصول ہونے والی تشویشناک خبریں

گزشتہ ماہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے سمجھوتے کے باوجود افغانستان سے امید افزا خبریں موصول نہیں ہورہی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات تو یہی لگتی ہے کہ آئین کو ماننے والے دو بڑے گروپ ہی آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ یہ دو بڑے گروپ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور افغان یونیورسٹی گورنمنٹ کے سی ای او ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ہیں۔ یہ دونوں گروپ طالبان کی تشدد پسند ذہنیت اور ان کے طریقہ کار کے سخت خلاف رہے ہیں۔ لیکن خود آپس میں بھی ان میں شدید اختلاف ہیں۔ حالیہ الیکشن سے پہلے جو 2014 میں الیکشن ہوئے تھے، ان کے بعد بھی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں دونوں لیڈر متفق نہیں تھے اور اقتدار کی خاطر دونوں میں شدید رسہ کشی ہوئی تھی۔ بالآخر امریکہ نے بیچ بچاؤ کرکے دونوں گروپوں کو اس بات کے لئے راضی کرلیا تھا کہ حکومت میں دونوں لیڈر ساجھیدار ہوں گے اور ڈاکٹر اشرف غنی صدر اور ڈاکٹر عبداللہ یونیٹی گورنمنٹ کے سی ای او کے طور پر کام کریں گے۔ سو اسی طور پر اس حکومت نے اپنا ٹرم پورا کیا۔ اب جو گزشتہ سال ستمبر میں انتخابات ہوئے تو اس موقع پر طالبان نے کافی رکاوٹیں پیدا کیں اور تشدد کا...

افغانستان میں غیر یقینی صورتحال برقرار

مارچ کے اوائل سے افغانستان میں تاریخ ساز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جنگ سے متاثرہ اس ملک میں، طویل مدت سے متوقع امن کی بحالی کے لئے، 29 فروری کوامریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد، توقع تھی کہ افغان معاشرے کے انتہا پسند عناصر،طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کی جمہوری حکومت متحد ہو کر امن کے خواہاں افغان عوام کی نمائندگی کرے گی۔ تاہم،افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد، وہاں شدید اختلافات ظاہر ہورہے ہیں۔ان کی وجہ سے نہ صرف افغان عوام بلکہ ان بیرونی طاقتوں کے درمیان بھی نا امیدی پیدا ہوگئی ہے جو کابل میں موجودہ سیاسی تنازعے کے جلد از جلد پرامن حل کےتلاش کی کوشش میں ہیں۔ گذشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں، افغانستان کے انتخابی کمیشن نے موجودہ صدر اشرف غنی کی فتح کا اعلان کیا تھا۔لیکن اشرف غنی کی فتح کے سرکاری اعلان کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک دوسری طاقتور جماعت نے چیلنج کردیا۔ دوسری مدت کے لئے، اشرف غنی کو بطور صدر مسترد کرتے ہوئے، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے آپ کو ملک کا اگلا صدر قرار دیتے ہوئے ایک متوازی حلف بر...

پاکستان میں حزب مخالف کی خاموشی مسئلہ کا حل نہیں

کسی جمہوری ملک میں اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہاں ایک فعال حزب مخالف ہو جو برسراقتدار طبقہ کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو زوردار طریقہ سے اٹھائے اور بتائے کہ حکومت میں بیٹھے افراد عوام کے مسائل پر آنکھ بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے۔ حزب مخالف کی یہ بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ روز مرہ کے مسائل سے عوام کو آگاہ کرتا رہے اور برسراقتدار طبقہ کی ناقص کارکردگیوں کو اجاگر کرنے کے لیے جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کرے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں دیکھا گیا ہے کہ حزب مخالف نے ایک طرح کی پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خاں ایک شطر بے مہار کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ہر بات قانون کا درجہ رکھنے لگی ہے جہاں تک اپوزیشن لیڈروں کا سوال ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو ایک طرح سے عوام پر اپنی گرفت کھوچکے ہیں ایک عرصہ سے انہوں نے کوئی ایسی عوام تحریک نہیں چلائی جس کا تعلق عوام کے مسائل سے ہو یہی وجہ ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ ان سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ جہاں تک تعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کا ہے تو وہ عدالتی حکم اور اپنی بیماری کے باعث لندن میں ایک طرح سے مقید ہوکررہ گئے۔ ا...

افغانستان کی تازہ صورتحال پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

پاکستان ان دنوں اپنے ہی بنے ہوئے جال میں الجھتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی بدنیتی کی پول دھیرے دھیرے کھلتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی سے لڑائی کے نام پر دہشت گردوں کی پوری فوج طالبان کی شکل میں کھڑا کرنے والا پاکستان ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ ذرائع ابلاغ پر ہزاروں بندشوں کے باوجود حقیقت کی پرتیں کھلتی جا رہی ہیں اور پاکستانی عوام اسٹیبلشمنٹ سے مشکل سوالات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ احسان اللہ احسان اور مسعود اظہر کے فرارنے ان کے آنکھوں کی پٹیاں کھول دی ہیں۔ عوام کو لگنے لگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اسٹیبلشمنٹ کا کھلا فریب ہے جو خود پاکستان کی تباہی کا اعلامیہ ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بمشکل خود کو بچا پایا ہے لیکن عمران خان کو بخوبی یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ بار بار دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہ ہو گا۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب پاکستان کی دوستی کا دم بھرنے والے یا خود پاکستان جن کی دوستی کا دم بھرتا ہے وہ بھی شرمندگی سے بچنے کے لئے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔ امریکہ میں انتخابات کے پیش نظر افغانستان سے کسی طرح بچ نکلنے ک...

دوحہ سمجھوتے کے بعد افغانستان کے حالات

گزشتہ ہفتہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں سمجھوتہ تو ہوگیا لیکن سچ پوچھئے تو کم ہی حلقے ایسے ہیں جو اس بات سے پرامید ہیں کہ افغانستان میں مستقبل قریب میں پائیدار امن قائم ہوسکے گا۔ بہت بڑے حلقے کا تو یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان میں امن کی بجائے ایک بار پھر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ بیک وقت دو معاہدے ایسے ہوئے ہیں جو اگلے چودہ مہینوں کے پروگرام کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، غیرملکی فوجوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جانا اور بین افغانستان مذاکرات کا آغاز جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ ان دو معاہدوں کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے معاہدے کو یہ نام دیا گیا ہے کہ ‘‘افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے اسلامی امارات افغانستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا ہے لیکن امریکہ اسلامی امارات افغانستان کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسے طالبان کہتا ہے’’۔ دوسرا معاہدہ دراصل مشترکہ اعلامیہ کی شکل میں کابل سے جاری ہوا ہے اور اس کے دونوں فریقوں کے نام ہیں اسلامی جمہوریہ افغانستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ اس کا مقصد بھی اف...

اسرائیل کے تازہ عام انتخابات تعطل کے خاتمے میں ناکام

اسرائیل میں 23 ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے 2 مارچ کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ایک سال کے اندر ہونے والے تیسرے عام انتخابات، من وسلوی کے لیے پرامید اسرائیلیوں کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ ووٹنگ کے چند گھنٹوں بعد فتحیابی کے دعوے کے باوجود لیکوڈ پارٹی کے رہنما اور وزارت عظمی کے عہدے پر طویل ترین مدت تک فائز رہنے والے بنجامن نتن یاہو، 120 رکنی کنسیٹ(Knesset ) میں 61 کا کرشماتی عدد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ چھ ملین ووٹوں کی 99 فیصد گنتی کے بعد لیکوڈ پارٹی 36 سیٹیں حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑی پارٹی رہی اور مذہبی گروپ ساش (Shas) اور یونائٹیڈ۔ تورہ جوڈازم (Torah Jodasim) کو بالترتیب 9 اور 7 نشستیں ہی حاصل ہوئیں۔جب کہ دائیں بازو صرف 6 سیٹوں پر ہی فتحیاب ہوئی۔ اس طرح بائیں بازو کے مذہبی بلاک کو کل 58 نشستیں ہی حاصل ہوئی ہیں اور ایوان میں اکثریت کے لیے نتن یاہو کو تین سیٹوں کی کمی کا سامنا ہے۔ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی ایسا نہیں لگتا کہ ان کو اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ معاشی نمو اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات بھی لیکوڈ پارٹی کو زبردست فتح دلانے میں ناکام رہے جس کے لیے وہ امید کررہی تھی۔ اسی ...