کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہندوستان کا قائدانہ کردار
عالمی صحت تنظیم نے ناول کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔ اس سےپوری دنیا میں اب تک ساڑھے سات ہزار اموات ہوچکی ہیں اور ممالک نے لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ بحران کی اس گھڑی میں ہندوستان نے ایک بار پھر بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ چین سے شروع ہونے والے اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں نئی دہلی حکومت نے جس تیز رفتاری اور دانشمندی کا ثبوت دیا ہے اس سے اس کے فوری ردعمل کا اظہار ہوتا ہے۔
کووڈ۔19 سے متاثرہ ممالک سے ، ہندوستانی شہریوں کی فوری واپسی اور سہولیات سے آراستہ خصوصی مقامات پر ان واپس آئے افراد کو الگ تھلگ ٹھہرانے کے انتظامات سے، وائرس کے فوری انسداد کے لئے ہندوستان کے تیز رفتار اقدامات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی نہیں ،انسانی جذبہ کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان نے اس وائرس کے بدترین شکار ممالک سے بھی بہت سے دیگر شہریوں کو نکالا ہے۔ ہندوستان کے وزیر صحت، ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ اس وائرس کی روک تھام کے لیے، ملک جیٹ طیارے کی رفتار سے کام کررہا ہے۔چین کے قریبی پڑوسی اور ایک اعشاریہ تین بلین آبادی والے ملک میں صرف 120 متاثرین کی قلیل تعداد سے ہندوستان کے تیز رفتار اقدامات کا برملا اظہار ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بجا طور پر، سارک کے رہنماؤں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ وسط جنوری سے ہی ہندوستان نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جنگی پیمانے پر کام شروع کردیا تھا ۔وہ یہ کہنے میں بھی حق بجانب تھے کہ جنوبی ایشیا کو اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرنا چاہئے۔ ہندوستان کی جانب سے ابتدائی طور پر 10 ملین ڈالرامداد کا اعلان، اُس وبا کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم ہے جو سرحدوں کی قیود سے پرےہے۔
اس وائرس کے مشتبہ متاثرین کی عام نگرانی کے ذریعے یقیناً ہندوستان نے ایک مؤثر طریقہ اپنایا ہے نیز یہ کہ ممکنہ متاثرین کے بیک ورڈ مینجمنٹ سے پورے ملک میں صحت سے متعلق عملے کے مثالی ردعمل کا اظہار ہوتا ہے۔ چونکہ اس متعدی بیماری کی روک تھام میں مواصلات کا اہم کردار ہوتا ہے اس لئے، عوام کو بیدار کرنے کے لئے وزیر اعظم نے اس سلسلے میں بھی قیادت کی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نہیں ہوسکا ہے اور وہ افواہوں کا شکار نہیں ہورہے ہیں۔ اس اقدام کی پوری دنیا میں ستائش ہورہی ہے۔
عالمی صحت تنظیم نے بھی اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ ناول کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے ہندوستان ازحد کوششیں کررہا ہے۔ اس نےخاص طور پر زور دے کر کہا ہے کہ وزیر اعظم، کابینہ سکریٹری اور تمام مرکزی و ریاستی ادارے، اس خطرناک وائرس کی وجہ سے پیدا صورتحال سے نپٹنے میں بڑی شدومد سے مصروف ہیں۔
ہندوستان نے سفارتی، سرکاری، اقوام متحدہ اور روزگار سے وابستہ اہلکاروں کے استثنیٰ کے ساتھ، تمام ویزوں پر فوری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ ، حکومت نے ہندوستانیوں سمیت چین، اٹلی، ایران، جنوبی کوریا، فرانس، اسپین ، جرمنی اور برطانیہ سے آنے والے تمام افراد پر اس کو لازم قرار دیا۔
ترکی اور خلیجی ممالک کو 14 فروری کے بعد سے 14 دن کے لئے الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد، ہندوستان نے چین سے تمام پروازوں کو منسوخ کردیا ہے جو یقیناً ایک جرأت مندانہ فیصلہ ہے۔
اس وبا کی روک تھام کے لئے تمام ہوائی اڈوں اور نیپال نیز بھوٹان کے سرحدی چیک پوائنٹس پر یونیورسل اسکریننگ شروع کردی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نےسارک رہنماؤں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اس وائرس کے ممکنہ متاثرین، ان کے تعلق میں آنے والے افراد اور متعلقہ چین کی شناخت کے لئے انٹگریٹیڈ سرویلینس پورٹل بے حد ضروری ہے۔ اس وائرس کی روک تھام کے لئے انھوں نے سارک کے ساتھ سافٹ ویر کے اشتراک کی بھی پیش کش کی۔
کووڈ۔19 کے خلاف جنگ میں ہندوستان کا رہنما منتر ہے، تیاری نہ کہ خوف۔ ہمہ جہت کورینٹائن سہولیات نیز مزید پیتھالوجیکل لیباریٹریز تیز رفتار قیام، صحت عملے کی تربیت، اور متحد اقدامات کو یقینی بنانا یہ سب اس وائرس کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ لوگوں نے خود کو الگ تھلگ کرنے میں مثالی جرٔات کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وائرس کے خاتمے کی کوششوں میں صحت عملے سے پوری طرح تعاون کیا ہے۔
ہندوستان کو پوری طرح اعتراف ہے کہ دنیا کے پاس کووڈ۔19 کی شدت کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ وسیع و عریض ساحلی علاقوں اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے شہریوں والے ہندوستان نے اپنی سرزمین پر اس وبا کی روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ بحری جہازوں کو پوری طرح اسکریننگ تک دور سمندر میں روک دیا گیا ہے۔ ایک مشن کے طور پر، توقع ہے کہ ہندوستان کوووڈ۔19 کے خلاف جنگ جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
Comments
Post a Comment