پاکستانی خواتین بس انصاف چاہتی ہیں
بین الاقوامی یوم خواتین ہر سال آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ آج کی مہذب دنیا میں عورت نے ہر محاذ پر مرد کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کی اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن عورت آج بھی برابری کے حق سے محروم ہے۔ وہ سماجی اور نفسیاتی ہر سطح پر مردوں کی محکوم بنی ہوئی ہے۔ بالخصوص ان ممالک میں جہاں پدرسری نظام کی جڑیں زیادہ گہری ہیں۔ ایسے ممالک کی فہرست بنائی جائے تو پاکستان کچھ زیادہ نیچے نہیں نظر آئے گا۔ پاکستان میں عورتیں طرح طرح کے گھریلو تشدد، سماجی جبر اور جنسی تفریق کا شکار ہیں۔ لوگ بھولے نہ ہوں گے کہ مذہبی انتہاپسندوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف کیسی مسلح جنگ چھیڑ رکھی تھی جب اس کا مقابلہ ملالہ یوسف زئی نامی ایک کم سن لڑکی نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کیا تھا ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ دوہزار بیس کو یوم خواتین منایا گیا لیکن افسوس کہ خواتین کی آزادی و مساوات کے مخالفین نے، بالخصوص مذہبی جماعتوں نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ توبہ ہی بھلی۔ مساوات اور اپنے انفرادی حقوق کی حامی خواتین یوم خواتین سے چند روز قبل ‘میرا جسم میری مرضی’ کا نعرہ لگاکر ایک بھونچال پیدا کردیا۔ گرچہ یہ کوئی ایسی فحش بات نہیں ہے بلکہ صرف اپنے انسانی حق کی بازیابی کا اعلان ہے لیکن اس پر جو رد عمل دیکھنے میں آیا وہ حیران اور پریشان کردینے والا تھا۔ ہر طرف تیز تیکھی بحثیں ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ ایک ٹیلی ویژن مباحثہ کے دوران ٹیلی ویژن سیریل کے مشہور اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمن قمر نے عورتوں کے بارے میں ایسی نازبیا باتیں کہیں کہ پاکستانی معاشرہ کے بے شمار مردوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ عورت مارچ جس کا آغاز پاکستان میں دوہزار اٹھارہ میں ہوا تھا، اس بار اس قدر شدید مخالفت کی زد میں رہا کہ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کے خلاف عرضیاں دائر کی گئیں۔ خیر سے یہ عرضیاں تو خارج ہوگئی مگر بعض مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس کی پرتشددمخالفت جاری رہی۔ جنونی مذہبی بھیڑ نے عورت آزادی مارچ کے لئے بنائی گئی تصویروں کو برباد کردیا۔ حکومت پاکستان کا رویہ بھی اس پورے عرصے میں جانبدارانہ رہا اور اس کا جھکاؤ ان جماعتوں کی طرف تھا جو عورت مارچ کی مخالفت شد و مد سے کررہے تھے۔ اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ عورت مارچ سے پہلے پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے، جسے عرف عام میں پیمرا کہا جاتا ہے، ٹیلی ویژن چینلوں کےلئے ہدایت جاری کی کہ وہ غیر اخلاقی نعرے، فحش اور نامناسب مواد اور قابل اعتراض مواد پر مشتمل، تختیاں نہ کھائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا اصطلاحات کی کوئی خصوصی تعریف نہیں متعین کی گئی۔ عموی طور پر تو بہرحال ذمہ دار صحافت ان امور کا یوں بھی خیال رکھتی ہے۔ پھر ٹیلی ویژن چینلوں کے لئے ہدایت نامہ کیوں جاری کیا گیا۔جاننے والے جان گئے کہ اس میں حکومت کا دخل کتنا اور کیسا اور کیوں ہے۔
پاکستانی سماج میں عورتوں کی تعلیم عام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مرد انہیں جو سکھاتے اور سمجھاتے ہیں وہ اسی پر آمناً و صدقتاً کہتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ جوعورتیں مساوات کے لئے جدو جہد کررہی ہیں وہ خود سے زیادہ ان ناخود آگاہ عورتوں کی فلاح و بہتری کے لئے ہے۔ ان سادہ لوح خواتین کا استعمال مذہبی جماعتوں نے اس طرح کیا کہ اسلام آباد میں جہاں عورت مارچ کا جلسہ ہونا، طے تھا اس کے عین مقابل عورت مارچ مخالف جلسہ پورے شدو مد سے کیا گیا۔ یہاں تک کہ عورت مارچ پر پتھراؤ بھی ہوا۔ مگر مارچ میں شامل خواتین کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں دیکھنے میں آئی۔ ہنگامہ تو گزر گیا لیکن اس بار کے یوم خواتین نے پاکستانی معاشرہ کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک پتھر ماردیا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے اثرات خوش کن ہوں گے۔پاکستان کے ارباب حل و عقد کو سمجھنا ہوگا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں عورتین آگے نہیں بڑھ رہی ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی ہر محاذ پرعورت کو مساوی درجہ دینے کی خلوص کوششیں جارہی ہیں۔ اس ضمن میں وہ اپنے پروسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے سیکھ لے سکتا ہے جہاں عورتیں ہر محاذ پر اپنی قابل رشک موجودگی درج کراتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستان کی عورتیں اپنا حق چاہتی ہیں، انصاف چاہتی ہیں، مساوات چاہتی ہیں، سماج اور حکومت کو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، مخالفت نہیں۔
پاکستانی سماج میں عورتوں کی تعلیم عام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مرد انہیں جو سکھاتے اور سمجھاتے ہیں وہ اسی پر آمناً و صدقتاً کہتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ جوعورتیں مساوات کے لئے جدو جہد کررہی ہیں وہ خود سے زیادہ ان ناخود آگاہ عورتوں کی فلاح و بہتری کے لئے ہے۔ ان سادہ لوح خواتین کا استعمال مذہبی جماعتوں نے اس طرح کیا کہ اسلام آباد میں جہاں عورت مارچ کا جلسہ ہونا، طے تھا اس کے عین مقابل عورت مارچ مخالف جلسہ پورے شدو مد سے کیا گیا۔ یہاں تک کہ عورت مارچ پر پتھراؤ بھی ہوا۔ مگر مارچ میں شامل خواتین کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں دیکھنے میں آئی۔ ہنگامہ تو گزر گیا لیکن اس بار کے یوم خواتین نے پاکستانی معاشرہ کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک پتھر ماردیا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے اثرات خوش کن ہوں گے۔پاکستان کے ارباب حل و عقد کو سمجھنا ہوگا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں عورتین آگے نہیں بڑھ رہی ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی ہر محاذ پرعورت کو مساوی درجہ دینے کی خلوص کوششیں جارہی ہیں۔ اس ضمن میں وہ اپنے پروسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے سیکھ لے سکتا ہے جہاں عورتیں ہر محاذ پر اپنی قابل رشک موجودگی درج کراتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستان کی عورتیں اپنا حق چاہتی ہیں، انصاف چاہتی ہیں، مساوات چاہتی ہیں، سماج اور حکومت کو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، مخالفت نہیں۔
Comments
Post a Comment