کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو عالمی بینک اور ایشیائی بینک سے 588 ملین ڈالر کی امداد

‘کووڈ-19’ یا کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنےکے لیے دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے طور پر ممکنہ حد تک اپنے وسائل اور طریقۂ کار کو بروئے کار لارہے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم یعنی ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس وائرس کو عالمی وبائی بیماری قرار دیے جانے کے بعد بعض ملکوں نے زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کیا ہے۔ ویسے بیشتر ممالک چین میں اس وبا کے پھیلتے ہی ہوشیار ہوگئے تھے اور مناسب قدم اٹھانا شروع کردیا تھا۔ دراصل اچانک اس طرح کی وبا کے پھیل جانے سے صورت حال پیچیدہ ہوہی جاتی ہے اور فوری طور پر ہر حلقے میں فکر لاحق ہوئی کہ ایسی کیا صورت اختیار کی جائے کہ اس طرح کے موذی مرض پر قابو پانے میں آسانی ہو۔ یہ وقت ایسانہیں ہوتا کہ ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائےاور بے وجہ غیر ضروری باتوں پر وقت ضائع کیا جائے۔ ایسا نازک وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام حلقے مل کر اس سے لڑنے اور اس کے قہر کو پھیلنے سے روکنے کے ممکنہ جتن کریں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی آفت اور مصیبت کی گھڑی میں لوگ اپنی اپنی قیادت یعنی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ مسائل کا حل تلاش کرے گی اور اسی لیے حکومتیں اکثر تنقید کا نشانہ بھی بن ہی جاتی ہیں۔ تنقید کرنے والوں میں اپوزیشن حلقے تو ہوتے ہی ہیں لیکن میڈیا اور صحافی بھی بعض کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں متعدد ملکوں میں یہ بھی ہورہا ہے کہ اس وائرس سے لڑنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی بعض کوتاہیوں کی جانب انگلی بھی اٹھائی جارہی ہے۔ جہاں تک جنوب ایشیائی ممالک کی بات ہے اگرچہ ان ملکوں میں اس وائرس نے اتنی تباہی تو ابھی تک نہیں مچائی ہے جتنی اس نے اٹلی، چین، جنوبی کوریا، ایران یا بعض یوروپی ممالک میں مچائی۔ لیکن بہرحال ان ملکوں میں بھی اس کا اثر پڑا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ ایران میں اس وائرس نے زیادہ تباہی مچائی ہے اور تازہ صورت حال کے مطابق وہاں ہر دس منٹ پر ایک متاثرہ فرد کی موت واقع ہورہی ہے۔ اخبار ‘ڈان’ میں شائع ہونے والے زاہد حسین کی ایک مضمون کے مطابق بیشتر ممالک میں اس صورت حال میں وہاں کے لیڈران براہ راست اس پر توجہ صرف کررہے ہیں لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے۔ مضمون کے مطابق وزیراعظم عمران خاں کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال کا براہ راست مشاہدہ کررہےہیں ۔ انہوں نے ایسو سی ایٹیڈ پریس کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ہر لمحہ ماہرین سے تبادلہ ٔ خیال کررہے ہیں اور ان کے مشورے طلب کررہے ہیں لیکن اخبار کے مضمون کے مطابق یہ کافی نہیں ہے۔ ابھی تک صوبائی وزرائے اعلی کے ساتھ وزیراعظم نے کوئی میٹنگ تک نہیں کی اور وہ اپنے اپنے طور پر صورت حال سے نمٹ رہے ہیں۔ حالانکہ صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پورے رابطے کے ساتھ کوئی مربوط قدم نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔

مضمون میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر جتائی گئی ہے کہ اگرچہ کافی پہلے آہٹ سنائی دی تھی لیکن اس وقت مریضوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ چکی ہے لیکن حکومت حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نظر نہیں آرہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک عالمی صحت تنظیم نے اسے عالمی وبا قرار نہیں دیا پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس وقت تک سنجیدہ توجہ ہی نہیں دی تھی اور اب بھی اس کا رویہ کچھ بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ متاثرہ افراد میں سے بیشتر کا تعلق ایران اور دوسرے ملکوں سے واپس آنے والے زائرین کا ہے۔ ایران سے آنے والے زائرین کو شروع میں تفتان سرحد پر آبزرویشن میں رکھا گیا۔ ان کی تعداد ہزاروں میں تھی لیکن صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ سب کی جانچ کرپاتی۔ ایسے زائرین جو تفتان سرحد کے کیمپوں میں ٹھہرائے گئے تھے ان کی جانچ کے بعد متعدد افراد کی رپورٹ پوزیٹیو پائی گئی۔ اس وقت تک دیر ہوچکی تھی کیوں کہ خود تفتان میں جانچ کرنے کی آسانیاں دستیاب نہیں تھیں۔ زاہد حسین کے اس مضمون میں صوبہ ٔسندھ حکومت کی زبردست ستائش کی گئی ہے جس نے کراچی ایئرپورٹ پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کی جانچ کرنے کے لیے بہتر سہولیات مہیا کرائی تھیں۔ اسی لیے سندھ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کا بھی اندازہ ہوسکا ہے۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وقت رہتے بہتر تال میل قائم ہوتا تو صورت حال بہتر ہوتی۔

بہر حال جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ الزامات اور جوابی الزامات کے سلسلے کوآگے بڑھاکر وقت برباد کیا جائے بلکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعہ صورت حال پر قابوپانے کی کوشش کی جائے۔ کہاں کس سے کوتاہی ہوئی اس کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہوئے یہ دیکھا جائے کہ اس کے اثرات کو محدود سے محدود تر کیا جائے۔ عالمی پیمانے پر ہونے والی اموا ت 9 ہزار سے تجاوز کررہی ہے۔ چین میں صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور وہاں مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت کچھ اچھی نہیں ہے۔ ایسے میں یہ بات خوش آئند ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو مجموعی طورپر 588 ملین ڈالر کی رقم مہیا کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اس وبا سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے میں کامیاب ہوسکے۔

پوری دنیا اس وقت شدید قسم کے بحران سے گزر رہی ہے۔ نہ صرف انسانی جانوں کا زیاں ہورہا ہے بلکہ اقتصادی سطح پر بھی بیشتر ملکوں کے لیے سنگین قسم کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ گزشتہ صدی میں اسپینش (Spanish) فلو نے عالمی سطح پر زبردست تباہی مچائی تھی۔ اس کی زد میں آکر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ کورونا وائرس نے بھی کچھ ویسا ہی خوف پھیلایا ہے تاہم امید یہی کی جاتی ہے کہ یہ اسپینش فلو جیسا مہلک ثابت نہیں ہوگا اور جلد اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ احتیاط بہت ضروری ہے ، ان ہدایات پر عمل کیا جانا چاہیے جو ماہرین کی طرف سے جاری ہورہی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ