کوروناوائرس کے خلاف سارک کی مشترکہ حکمت عملی

گذشتہ اتوار 15 مارچ کو، وزیر اعظم نریندر مودی نے تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک وائرس، کووڈ۔انیس کے خلاف ایک زبردست مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے لئے، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سارک رکن ممالک سے رابطہ قائم کیا تھا۔ اب تک اس وائرس سے پوری دینا میں نو ہزار 881 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اور دو لاکھ سے زائد افراد اسپتالوں کے الگ تھلگ مخصوص وارڈز میں صحتیاب ہورہے ہیں۔

کووڈ۔انیس کے خلاف جنگ کے لئے وزیر اعظم مودی کی ایک مشترکہ حکمت عملی کی پیش قدمی کا سارک کے تما م آٹھ ا رکان نے مثبت جواب دیا اور اس کانفرنس میں سری لنکا، مالدیپ اور افغانستان کے صدور اور ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال اوربھوٹان کے وزرائے اعظم نے سرگرمی سے حصہ لیا جبکہ پاکستان نے صرف صحت سے متعلق وزیر اعظم کے خصوصی معاون ظفر مرزا کے ذریعے ہی اپنے ملک کی نمائندگی پر اکتفا کیا۔ تمام رہنماؤں نے اس وبا کے خلاف متحد ہوکر مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا۔ ان کو بخوبی علم تھا کہ یہ ایک بڑا انسانی معاملہ ہے اور وزیر اعظم کی اس بلند بانگ اپیل کا کہ یہ خطہ مشترکہ کوششوں اور ایک زبردست مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی اس وبا کا مقابلہ کرسکتا ہے، سارک کے سربراہان مملکت اور حکومتوں نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا تاہم پاکستان نے اس موقع کو مسئلہ کشمیر اٹھانے کے لئے استعمال کیا۔

حالانکہ اس کانفرنس میں کسی بھی سطح پر شرکت کا پاکستان کو خود مختارانہ حق حاصل تھا، مگر کثرت سے پڑھے جانے والے روزنامہ ڈان کے اداریئے میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر اپنے بنگلہ دیشی اور ہندوستانی ہم منصبوں کی طرح، وزیر اعظم عمران خاں بھی اس ویڈیو کانفرنس میں شرکت کرتے تو شاید پاکستان کے ذریعے اس وائرس کے خلاف جنگ کی کوششوں کے سلسلے میں زیادہ بیداری کا اظہار ہوتا۔ اخبار نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں، اس مشترکہ دشمن نے تمام ممالک کو،کم از کم وقتی طور پر ہی سہی، اپنے اختلافات کو بھلانے اور جنگی پیمانے پر اس وائرس کے خلاف کوششیں کرنے کا ایک موقع فراہم کیا تھا۔

پاکستا ن میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اس وبا کو ملک کے لئے بڑا خطرہ نہیں سمجھ رہی ہے۔

سارک گھنی آبادی والا خطہ ہے جہاں دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ایک پانچواں حصہ رہتا ہے۔ یہ وبا انفرادی نوعیت سے نکل کر برادری کی تیسری سطح پر پھیلنے کے لئے ان تمام آٹھوں ارکان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ تاہم، صحت کے شعبے میں وسائل، افرادی قوت، بنیادی ڈھانچے اور تحقیق کے لحاظ سے ہندوستان کے علاوہ کوئی دیگر ملک اس صورتحال سے نپٹنے کا متحمل نہیں ہے جبکہ ہندوستان نے بڑے پیمانے پر جانچ کے انتظامات اور دیگر سہولیات بہم پہونچا لی ہیں۔ اس خطے میں کووڈ۔ انیس کی روک تھام کے لئے وسائل، افرادی قوت اور آلات کی فوری فراہمی کے لئے وزیر اعظم نے ہنگامی فنڈ کی تشکیل کی جو تجویز پیش کی اس کی بھی تمام رہنماؤں نے ستائش کی ہے۔ اس فنڈ کے لئے نئی دہلی حکومت نے فوری طور پر دس ملین امریکی ڈالر کی ابتدائی رقم کا بھی اعلا ن کردیا ہے۔خود ہندوستان کو امداد کے لئے سارک ارکان کی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے میں، گذشتہ پانچ روز کے دوران، نئی دہلی حکومت نے اس ہنگامی فنڈ کے لئے عطیہ کردہ دس ملین ڈالر میں سے ایک ملین ڈالرکے آلات، سینیٹائزرس اور دیگر ضروری ساز و سامان نیپال، سری لنکا، مالدیپ ، افغانستان اور بنگلہ دیش بھیج دیا ہے۔

یہ وبا ہندوستان اور پاکستان میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور سارک خطے کے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں ان دونوں ممالک میں متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔روزنامہ ڈان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں چارسو پچاس معاملات کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صرف صوبہ سندھ میں ہی سب سے زیادہ دوسو چالیس افراد کے متاثر ہونے کی خبر ہے۔ہندوستان میں متاثرہ افراد کی تعداد دوسو سے زیادہ ہے اور چار افراد اس بیماری سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

تیزی سے پھیلتی ہوئی کووڈ ۔ انیس وبا پوری دنیا کے لئے ایک بڑاچیلنج بن چکی ہے۔یہاں تک کہ گروپ۔7 جیسی ترقی ترقی پذیر معیشتیں بھی اس سے نپٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کررہی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ