پاکستان میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری
اپنی نا کامیوں اور خامیوں کی پردہ پوشی کے لئے یوں تو دنیا کی بہت سی حکومتیں طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ کوئی بھی ان پر انگلی نہ اٹھائے اور نہ ہی تنقید کرے۔ پاکستان میں اس کا چلن کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد سے وہاں کے حکمرانوں نے جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔ جب جب جمہوریت کو مستحکم ہونے کا موقع ملا تو فوجی آمروں نے مارشل لا نافذ کر کے اس کے امکانات کو ختم کر دیا اور کبھی نام نہاد جمہوریت آئی بھی تو وہ فوجی جنرلوں کی مرہون منت رہی۔ پاکستان میں سول حکومتیں از خود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ہر فیصلے میں فوج کا عمل دخل رہتا ہے۔ پاکستان میں تازہ معاملہ میڈیا کی ایک اہم شخصیت اور جنگ اور جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو خوف زدہ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ میڈیا کو اس طرح سے فروغ دیا جائے کہ وہ ملک و سماج کی تعمیر میں بہتر رول ادا کر سکے۔ میڈیا حکومت اور سماج کی خامیوں اور برائیوں کو نمایاں کر کے ان کے تدارک کی کوششوں میں معاون ہوتا ہے۔ بد عنوانی کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ حکومت اس کا خاتمہ کر کے سماج اور اپنے محکمہ کو صحت مند بنا سکے۔ لیکن حکومت میڈیا کی صلاحیتوں اور امکانات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کا گلا گھونٹنے کے در پے ہے۔ پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں پر کئی طرح کا دباؤ ہوتا ہے ۔ صحافی حضرات حکومت اور بر سر اقتدار طبقے کے افراد کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔ دوسری طرف دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیمیں ہیں جو اپنے مزاج کے برخلاف کچھ بھی سننا نہیں چاہتیں۔ پاکستان میں فوج کا بھی کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ صحافیوں کی کسی بھی تحریر کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ اور حساس قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان تمام دشواریوں کے باوجود پاکستانی صحافی کسی طرح سے اپنا دامن بچا کر یا یوں کہہ لیجئے کہ تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے صحافت کے بنیادی اصولوں پر کار بند رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن کئی بار اس کوشش میں بھی انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چھ برسوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران 33 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔یہ اعداد و شمار انتہائی مایوس کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ میر شکیل الرحمٰن کو قومی احتساب بیورو یا نیب نے ایک 34 سال پرانے معاملے میں گرفتار کیا ہے جس کا تعلق ایک پرائیویٹ اراضی کے سودے میں لین دین سے ہے۔ اتنے پرانے معاملے میں گرفتاری گڑے مردے اکھاڑ نے کے مترادف ہے۔اس عرصے میں کتنی حکومتیں آئیں اور گئیں کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہوئی ، اس لئے اس تعلق سے حکومت کی نیت پر شک ہونا فطری بات ہے۔ عمران خان کی حکومت نے نیب کو آلہ کار کے طور پر استعمال کر کے کئی اپوزیشن رہنماؤں کو بد عنوانی کے الزام میں جیل میں ڈال دیا ہے اور جب میڈیا نے ایک ادارے کے بے جا استعمال پر سوال اٹھائے تو نتیجہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی شکل میں بر آمد ہوا۔ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ میڈیا پر تو قدغن ہے ہی دیگر ادارے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ سماجی کارکنوں،دانشوروں،پروفیسر حضرات اور روشن خیال افراد کو بھی اکثر و بیشتر نشانہ بنایا جاتا رہ اہے۔ ان میں سب سے سنگین معاملہ توہین مذہب یا قومی سلامتی کا ہے۔یہ ایسے معاملات ہیں جن میں انتہا پسند افراد جھوٹے الزام عائد کر کے کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے معاملوں میں حکومت بھی رضاکارنہ طور پر یا مجبور ی میں ان کا ساتھ دیتی ہے۔ آسیہ بی بی اور جنید حفیظ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف کارروائی پر کسی کوحیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پی ایم ایل ۔این سے انتخاب ہارنے کے بعد عمران خان نے باقاعدہ طور پر یہ کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو میر شکیل اور ان کے گروپ کے خلاف سخت کارروائی کریں گے ۔جس ملک میں اہم پرائیویٹ اداروں کے مالکان اور بڑے افسران محفوظ نہیں ہیں وہاں عام آدمی کے تحفظ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بند سماج کی شناخت ہے جہاں نئی روشنی اور روشن خیالی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں زندگی کے ہر شعبے کا تعاون لازمی ہوتا ہے۔ عصری تقاضوں کے مطابق صحت مند خیالات کو اپنا کر ہی سماج کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتاہے ۔ پاکستان نے اپنی توانائی دہشت گردی کی اعانت اور اپنے سماج کو جدید خیالات اور رجحانات سے محروم رکھنے پر صرف کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ایک بے چینی کی فضا ہے اور سماج میں انتشار نظر آتا ہے۔ پاکستان اگر کامیاب ملکوں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے مثبت خطوط پر سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی ، جس میں آزادی رائے کو فوقیت حاصل ہے۔
******
Comments
Post a Comment