پی ٹی آئی نے پاکستانی عوام کے اعتماد کو مجروح کیا
بین الاقوامی یزائد از ڈیڑھ سال قبل کرکٹر سے سیاستداں بننے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے جب پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیاتھا تو یکے بعد دیگرے ناکام حکومتوں سے اوبے ہوئے پاکستانیوں کے ایک بڑے حلقے نے اُن سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ بے روزگارنوجوانوں نے تو انہیں ایک بہترین آپشن کے طور پر دیکھاتھا اور معاشرتی جبر کی شکار عورتوں اور لڑکیوں میں وہ ایک مسیحا نظر آنے لگے تھے۔اس طرح مسٹر خان کی حکومت نے اپنے دو پیش رو 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو اور 1990 میں نواز شریف سے بھی بہترعوامی تائید کے ساتھ حکمرانی کا آغاز کیا۔اُنہیں مملکت کے تمام طاقتور اداروں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ اپوزیشن پارٹیاں موجود ضرور ہیں لیکن نئی حکومت بننے کے بعد سبھی عوام کی توقعات کی نئی بلندیوں کے سامنے خود کو بونامحسوس کرنے لگی تھیں۔ کسی حد تک سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا متوسط پاکستانی حلقہ جن میں دانشوران بھی شامل ہیں بہر حال خاموش تھا۔
ایک کروڑ روز گار فراہم کرنے اورمعقول رہائش کیلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے ساتھ ملک کو ریاست مدینہ میں بدل کر رکھ دینے کے بلند بانگ دعووں کے ساتھ پانچ سال کے لئے اقتدارمیں آنے والی پی ٹی آئی حکومت کے ڈیڑھ سال گزر چکے ہیں، لیکن عام پاکستانیوں کو کسی طرح کی راحت نہیں ملی البتہ اُن کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں پی ٹی آئی حکومت نے اگر خود کچھ حاصل کیا ہے تو وہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے عوام کے ساتھ مسٹر خان شیئر نہیں کر سکتے۔یعنی وہ عوام کو یہ نہیں بتا سکتے کہ انہیں اپنی بساط کا علم ہو چکا ہے اور حالات کے تازہ موڑ پر وہ مزید جھوٹے وعدے کرنے کے متحمل نہیں رہ گئے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی دوڑ میں عمران خان نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ان کی پارٹی کی حکومت بنی تو معیشت کی بحالی کیلئے کوئی بیرونی قرضہ نہیں لیا جائے گا۔انتظامی معیشت پر نظر رکھنے والوں کو اُسی وقت اندازہ ہو گیا تھا یہ اعلان محض عوام کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔یہ اندازہ اگلے ہی لمحے اُس وقت درست ثابت ہو گیا جب عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف سے قرض لے لیا۔ اس کے بعد ملک کے لئے ریونیو جمع کرنے میں مسلسل ناکامی کا ایک سلسلہ چل پڑا جس نے ڈیڑھ سال میں مہنگائی کے طوفان کو شدید سے شدید تر کر دیا۔ سرِ دست پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کو مہنگائی کے طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ معیشت میں بگاڑ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ برآمدات میں اضافہ تو درکنار درآمدات بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔
اگرچہ عمران حکومت کے نمائندوں کا اب بھی استدلال یہ ہے کہ ملک کو مجموعی طور پر خوشحال بنانے کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پانچ سال میں پورے کرنے ہیں اور ابھی تو ڈیڑھ سال ہی ہوئے ہیں۔ یہ استدلال اپنی جگہ لیکن منظرنامے پر حکومتی اقدامات رفتار زمانہ سے ہم آہنگ نظر نہیں آتے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا باقی ساڑھے تین برسوں میں واقعی 33 لاکھ روزگار کے موقع پیدا کر دیئے جائیں گے! وہ بھی ایسے حالات میں جب اگست 2018 سے جولائی 2020 تک تقریباً 25 لاکھ افراد کی روزگار سے محرومی سامنے آ چکی ہو گی۔ اس لحاظ سے تو حکومت کو باقی ماندہ برسوں میں روزگار کے ایک نہیں سوا کروڑ مواقع پیدا کرنے ہوں گے، یعنی ہر سال تقریباً چالیس لاکھ روزگار۔فوج سمیت ایک سے زیادہ سرکاری مشینریوں کی زبردست تائید والی عمران خان کی حکومت اگر حالات کے تازہ موڑ پر بھی ریاست مدینہ کے خواب ہی بیچتی ہے تو یہ عوام کے ساتھ پہلے سے زیادہ بھونڈا مذاق ہو گا جس کی کسی جمہوری معاشرے میں قطعی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔پاکستان کی معیشت 2018 کے وسط کے مقابلے میں آج زیادہ خراب ہے۔دوسال قبل پاکستانی معیشت نسبتا ً اچھی ضرور تھی لیکن اتنی بھی اچھی نہیں تھی کہ ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ملک کے پریشان حال عوام کو رجھانے کے لئے ایک کروڑ روزگار کا وعدہ کرتا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جوشرح نمو2018 میں 5.8 فیصد تھی اور پچھلے سال چھ فیصدہو جانے کی توقع تھی، وہ سال کے شروع ہونے سے پہلے ہی گھٹنے لگی تھی اور اب تو اندیشہ ہے کہ اس سال یہ مزید دو ڈھائی فی صد گھٹ سکتی ہے۔ایسے میں کیا کسی حکومت کو پانچ سال کے وعدے کے ابتدائی برسوں کو اس طرح ضائع کرنے کا حق پہنچتا تھا، جس طرح ضائع کیا گیا۔ عمران خان کی حکومت اس سوال کی تاب لانے کی قطعی متحمل نظر نہیں آتی۔غلطی کہاں ہوئی! اس کی نشاندہی مشکل نہیں لیکن کسی بھی تکلیف کے ازالے کے لئے جس اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی اُس کا پاکستان کے موجودہ حکومتی ڈھانچے میں زبردست فقدان ہے۔موجودہ حکومت کو اپنی اہلیت کے بارے میں اگر کچھ پتہ ہے تو وہ بس یہ ہے کہ وہ اپنی میعاد کی تکمیل کے مر حلے میں بھی ملک کے بے گھروں کوایک لاکھ گھر بھی بنا کر دینے کی متحمل نہیں ہو سکے گی۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کے اِس پس منظر میں بھی وزیر اعظم پاکستان کو حقائق کا سامنا کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں اور بظاہر وہ عوام کو یہ یقین دلانے پر بضد ہیں کہ سال 2020 ملک کیلئے اقتصادی ترقی کا سال ہوگا جس سے روزگار کے مواقع بڑے پیمانے پر پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔میڈیا شاہد ہے کہ مسٹر خان اِس تاثر کو پورے ملک میں گھوم گھوم کر عام کر رہے ہیں اور عوام کو سبز باغ دکھانے کا اُن کا انداز بالکل وہی ہے جو الیکشن کے دنوں میں تھا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے صرف ایک کروڑ روزگار اور پچاس لاکھ گھر تیار کرنے کا جھوٹا وعدہ کرنے کا ہی اخلاقی جرم نہیں کیا بلکہ تعلیم، صحت، عوامی نقل و حمل، صنعت و تجارت، زراعت، سرکاری زمرے کے اداروں، ریلوے، عوامی نظام تقسیم اور دیگر کئی شعبوں میں بھی وہ کسی پیش رفت میں ناکام رہی۔ اب جبکہ مسٹر خان کو اپنی حدوں کا ادراک ہو گیا ہے تو کیا وہ کم سے کم اخلاقی جرات کا مظاہر کرتے ہوئے اتنا کر سکتے ہیں کہ قوم سے اب اور ایک کروڑروزگار اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے کی تجدید سے باز آجائیں۔
ایک کروڑ روز گار فراہم کرنے اورمعقول رہائش کیلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے ساتھ ملک کو ریاست مدینہ میں بدل کر رکھ دینے کے بلند بانگ دعووں کے ساتھ پانچ سال کے لئے اقتدارمیں آنے والی پی ٹی آئی حکومت کے ڈیڑھ سال گزر چکے ہیں، لیکن عام پاکستانیوں کو کسی طرح کی راحت نہیں ملی البتہ اُن کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں پی ٹی آئی حکومت نے اگر خود کچھ حاصل کیا ہے تو وہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے عوام کے ساتھ مسٹر خان شیئر نہیں کر سکتے۔یعنی وہ عوام کو یہ نہیں بتا سکتے کہ انہیں اپنی بساط کا علم ہو چکا ہے اور حالات کے تازہ موڑ پر وہ مزید جھوٹے وعدے کرنے کے متحمل نہیں رہ گئے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کی دوڑ میں عمران خان نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ان کی پارٹی کی حکومت بنی تو معیشت کی بحالی کیلئے کوئی بیرونی قرضہ نہیں لیا جائے گا۔انتظامی معیشت پر نظر رکھنے والوں کو اُسی وقت اندازہ ہو گیا تھا یہ اعلان محض عوام کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔یہ اندازہ اگلے ہی لمحے اُس وقت درست ثابت ہو گیا جب عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف سے قرض لے لیا۔ اس کے بعد ملک کے لئے ریونیو جمع کرنے میں مسلسل ناکامی کا ایک سلسلہ چل پڑا جس نے ڈیڑھ سال میں مہنگائی کے طوفان کو شدید سے شدید تر کر دیا۔ سرِ دست پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کو مہنگائی کے طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ معیشت میں بگاڑ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ برآمدات میں اضافہ تو درکنار درآمدات بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔
اگرچہ عمران حکومت کے نمائندوں کا اب بھی استدلال یہ ہے کہ ملک کو مجموعی طور پر خوشحال بنانے کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پانچ سال میں پورے کرنے ہیں اور ابھی تو ڈیڑھ سال ہی ہوئے ہیں۔ یہ استدلال اپنی جگہ لیکن منظرنامے پر حکومتی اقدامات رفتار زمانہ سے ہم آہنگ نظر نہیں آتے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا باقی ساڑھے تین برسوں میں واقعی 33 لاکھ روزگار کے موقع پیدا کر دیئے جائیں گے! وہ بھی ایسے حالات میں جب اگست 2018 سے جولائی 2020 تک تقریباً 25 لاکھ افراد کی روزگار سے محرومی سامنے آ چکی ہو گی۔ اس لحاظ سے تو حکومت کو باقی ماندہ برسوں میں روزگار کے ایک نہیں سوا کروڑ مواقع پیدا کرنے ہوں گے، یعنی ہر سال تقریباً چالیس لاکھ روزگار۔فوج سمیت ایک سے زیادہ سرکاری مشینریوں کی زبردست تائید والی عمران خان کی حکومت اگر حالات کے تازہ موڑ پر بھی ریاست مدینہ کے خواب ہی بیچتی ہے تو یہ عوام کے ساتھ پہلے سے زیادہ بھونڈا مذاق ہو گا جس کی کسی جمہوری معاشرے میں قطعی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔پاکستان کی معیشت 2018 کے وسط کے مقابلے میں آج زیادہ خراب ہے۔دوسال قبل پاکستانی معیشت نسبتا ً اچھی ضرور تھی لیکن اتنی بھی اچھی نہیں تھی کہ ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ملک کے پریشان حال عوام کو رجھانے کے لئے ایک کروڑ روزگار کا وعدہ کرتا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جوشرح نمو2018 میں 5.8 فیصد تھی اور پچھلے سال چھ فیصدہو جانے کی توقع تھی، وہ سال کے شروع ہونے سے پہلے ہی گھٹنے لگی تھی اور اب تو اندیشہ ہے کہ اس سال یہ مزید دو ڈھائی فی صد گھٹ سکتی ہے۔ایسے میں کیا کسی حکومت کو پانچ سال کے وعدے کے ابتدائی برسوں کو اس طرح ضائع کرنے کا حق پہنچتا تھا، جس طرح ضائع کیا گیا۔ عمران خان کی حکومت اس سوال کی تاب لانے کی قطعی متحمل نظر نہیں آتی۔غلطی کہاں ہوئی! اس کی نشاندہی مشکل نہیں لیکن کسی بھی تکلیف کے ازالے کے لئے جس اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی اُس کا پاکستان کے موجودہ حکومتی ڈھانچے میں زبردست فقدان ہے۔موجودہ حکومت کو اپنی اہلیت کے بارے میں اگر کچھ پتہ ہے تو وہ بس یہ ہے کہ وہ اپنی میعاد کی تکمیل کے مر حلے میں بھی ملک کے بے گھروں کوایک لاکھ گھر بھی بنا کر دینے کی متحمل نہیں ہو سکے گی۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کے اِس پس منظر میں بھی وزیر اعظم پاکستان کو حقائق کا سامنا کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں اور بظاہر وہ عوام کو یہ یقین دلانے پر بضد ہیں کہ سال 2020 ملک کیلئے اقتصادی ترقی کا سال ہوگا جس سے روزگار کے مواقع بڑے پیمانے پر پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔میڈیا شاہد ہے کہ مسٹر خان اِس تاثر کو پورے ملک میں گھوم گھوم کر عام کر رہے ہیں اور عوام کو سبز باغ دکھانے کا اُن کا انداز بالکل وہی ہے جو الیکشن کے دنوں میں تھا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے صرف ایک کروڑ روزگار اور پچاس لاکھ گھر تیار کرنے کا جھوٹا وعدہ کرنے کا ہی اخلاقی جرم نہیں کیا بلکہ تعلیم، صحت، عوامی نقل و حمل، صنعت و تجارت، زراعت، سرکاری زمرے کے اداروں، ریلوے، عوامی نظام تقسیم اور دیگر کئی شعبوں میں بھی وہ کسی پیش رفت میں ناکام رہی۔ اب جبکہ مسٹر خان کو اپنی حدوں کا ادراک ہو گیا ہے تو کیا وہ کم سے کم اخلاقی جرات کا مظاہر کرتے ہوئے اتنا کر سکتے ہیں کہ قوم سے اب اور ایک کروڑروزگار اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے کی تجدید سے باز آجائیں۔
Comments
Post a Comment